TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب - شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب - Book 116 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 116 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 33 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

33 Hadith · 6 Chapters
شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
۔ (۶۷۷۰)۔ ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْخَمْرَ وَالْمَیسِرَ وَالْکُوْبَۃَ۔))، وَقَالَ: کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور نرد (یا شطرنج یا آلۂ موسیقی) کو حرام قرار دیا ہیَ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
Takhreej
(۶۷۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۲۲۱ (انظر: ۲۶۲۵)
Explanation
فوائد:… ’’کُوْبَۃ‘‘اس لفظ کے تین معانی کیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی مراد ہو سکتا ہے۔ ارشاد ِربانی ہے : ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْس’‘ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ } (المائدہ:۹۰) ’’اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب، جوا، تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر،یہ سب گندی چیزیں، شیطانی کام ہیں، ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔‘‘ شراب کی حرمت قطعی اور ابدی ہے، قرآن و حدیث کے کئی دلائل موجود ہیں، شراب کی تعریف سمجھنے کے لیے درج ذیل بحث کا مطالعہ کریں: عربی لغت اور عرف عام میں ہر نشہ آور چیز اور مشروب کو ’’خَمْر‘‘ کہتے ہیں، احادیث ِ صحیحہ میں بھی ہر نشہ آور اور چیز کو ’’خَمْر‘‘ کہا گیا ہے۔ حَرَامٌ۔)) (مسلم) … ’’ہر نشہ آور چیز ’’خَمْر‘‘ ہے اور ہر ’’خَمْر‘‘ حرام ہے۔‘‘ نیز سیدنا عمر b نے کہا: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔ (بخاری، مسلم) … ’’خَمْر‘‘ا س چیز کو کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔ سیدنا ابو موسیb کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلٰی الْیَمَنِ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ بِھَا أَشْرِبَۃً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ؟ قَالَ: ((وَمَا ھِیَ؟)) قُلْتُ: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ۔ قَالَ: ((وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ؟)) قَالَ: أَمَّاالْبِتْعُ، فَنَبِیْذُ الْعَسَلِ، وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِیْذُ الذُّرَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((لَاتَشْرَبْ مُسْکِراً فَإِنِّی حَرَّمْتُ کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) … رسول اللہ a نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپa نے فرمایا: ’’وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟‘‘ میں نے کہا: وہ’’بتع‘‘ اور ’’مزر‘‘ ہیں۔ آپ a نے پوچھا: ’’بتع‘‘ اور ’’مزر‘‘ کسے کہتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: شہد کی نبیذ کو ’’بتع‘‘ اور مکئی کی نبیذ کو ’’مزر‘‘ کہتے ہیں۔ رسول اللہa نے فرمایا: ’’بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا، کیونکہ میں نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (نسائی: ۲/ ۳۲۶، صحیحہ: ۲۴۲۴، وأخرج مسلم نحوہ) احناف نے اس مسئلے میں ساری امت سے اختلاف کیا ہے اور ’’خَمْر‘‘ سے مراد صرف وہ شراب لی ہے، جو انگور سے تیار کی جائے، بلکہ مزید قیود بھی لگا دی ہیں کہ انگور کا نچوڑا ہوا پانی آگ پر گرم کیے بغیر دو ثلت سے کم خشک ہو جائے، اس میں جھاگ پیدا ہو جائے اور وہ نشہ دے تو اسے ’’خَمْر‘‘ کہا جائے گا۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا نشہ آور مشروب خمر نہیں کہلاتا، مثلا: انگور کے علاوہ کسی اور پھل کا نچوڑ ہو یا نچوڑ تو انگور کا ہو مگر اسے آگ پر گرم کر کے خشک کیا گیا ہو یا دو ثلث سے زائد خشک ہو جائے، خواہ آگ کے بغیر ہی ہو، ان تمام صورتوں میں ان کے نزدیک اسے ’’خَمْر‘‘ نہیں کہا جائے گا، خواہ وہ نشہ دیتا ہو، البتہ اسے مُسْکِر (نشہ دینے والا) کہا جائے گا۔احناف کے ہاں اس مخصوص ’’خَمْر‘‘ کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے، مگر عام مسکرات نشے کی حد سے کم پینا جائز ہیں، احناف کی اس توجیہ کا ثبوت شریعت تو کجا عقل سلیم بھی اس انکار کرتی ہے، کیونکہ شراب کی حرمت کی وجہ تو نشہ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ شراب اور دیگر نشہ آور مشروبات کے حکم میں فرق کیا جائے؟ سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے باپ سیدنا عبد اللہ b سے روایت کرتے ہیںکہ نبی کریمaنے فرمایا: ((حَرَّمَ اللّٰہُ الْخَمْرَ، وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔)) …’’اللہ تعالیٰ نے شراب اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘(نسائی: ۲/ ۳۳۳، صحیحہ: ۱۸۱۴، وروی مسلم: ۶/ ۱۰۰ وغیرہ نحوہ) امام البانیk نے کہا: یہ حدیث ان قطعی دلائل میں سے ہے جو ہر نشہ دینے والی چیز کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ انگور سے بنائی گئی ہو یا کھجور اور مکئی وغیرہ سے یا اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مختلف چیزوں سے تیار کی جانے والی شراب اور اس کی معمولییا غیر معمولی مقدار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (صحیحہ: ۱۸۱۴) امام البانیk نے (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ)میں اس ضعیف حدیث کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا: ((حرمت الخمر لعینِھا قلیلھا و کثیرھا، والسُّکر من کل شراب۔)) … ’’شراب اپنی ذات کی بنا پر حرام ہے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور ہر مشروب سے نشہ حرام ہے۔‘‘ احناف نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ انگوروں سے بنائی جانے والی نشہ آور چیز کو صرف شراب کہتے ہیں،جس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے اور کثیر بھی۔ جو نشہ آور مشروبات گندم، جو، شہد اور مکئی سے تیار کیے جاتے ہیں، وہ حلال ہیں۔ صرف ان کی اتنی مقدار پینا حرام ہے، جس سے نشہ پیدا ہو جائے۔ (معمولی مقدار پی لینے میں کوئی حرج نہیں)۔ لیکنیہ مذہب باطل ہے اور صحیح و صریح اور یقینی و قطعی احادیث کے مخالف ہے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس b بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ۔)) (مسلم) … ’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘ اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں، امام زیلعی وغیرہ نے ان کا ذکر کیا ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۸/۴۰۔۴۵) میں بعض کا ذکر کیا ہے۔ بلکہ شیخ علی قاری حنفی نے تو (شرح مسند الامام ابی حنیفۃ: صـ ۵۹) میں کہا: قریب ہے کہ یہ حدیث متواتر ثابت ہو جائے۔ آپ کو صاحب ِ ہدایہ کے اس قول سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے: (اس حدیث پر یحییٰ بن معین نے طعن کیا)۔ کیونکہیہ قول بے بنیاد ہے اور ابن معین سے اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جیسا کہ امام زیلعی نے کہا اور ابن معین کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ اس حدیث کی صحت ان سے مخفی رہ جائے۔ نیز ارشادِ نبوی ہے: ((مَا اَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ۔)) … ’’جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے، اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہو جاتی ہے۔‘‘ یہ حدیث تقریبا آٹھ صحابہ سے مروی ہے، امام زیلعی نے (نصب الرایۃ: ۴/ ۳۰۱۔۳۰۶) تمام سندوں کا تذکرہ کیا ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۳۷۵، ۲۳۷۶) میں بعض کا ذکر کیا ہے اور امام نسائی نے اپنی سنن میں بعض روایات کا ذکر کیا اور پھر کہا: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نشہ کی کثیر مقدار بھی حرام ہے اور قلیل بھی۔ لیکن اپنے حق میں بعض دھوکہ بازوں نے کہا: جس شراب کی زیادہ مقدار سے نشہ پیدا ہوتا ہے، تو اس کی اتنی کم مقدار حلال ہوتی ہے، جس سے نشہ پیدا نہیں ہوتا۔ تنبیہ:… ہم نے شراب کے بارے میں احناف کا جو مسلک بیان کیا ہے، اس کو امام ابوحنیفہ اور صاحبین سے بیان کرنے والے امام طحاوی ہیں، امام محمد نے بھی (الآثار: صـ ۱۴۸) میںیہ مسلک بیان کیا اور اس کو برقرار رکھا۔ لیکن علامہ ابو الحسنات لکھنوی نے (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد) میں کہا کہ امام محمد ہر نشہ آور چیز کی قلیل اور کثیر مقدار کے حرام ہونے کے قائل ہیں، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے ۔ شاید اس مسئلہ میں امام محمد کے دو اقوال ہوں، جن میں سے دوسرا قول احادیث ِ صحیحہ کے موافق ہونے کی وجہ سے درست ہے۔ اس ضعیف حدیث سے احناف نے جو استدلال کر کے شراب کے بارے میں اپنا مسلک پیش کیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شراب انگوروں کے علاوہ کسی اور چیز سے تیار کی جائے، اس کی اتنی مقدار پینا جائز ہے جس سے نشہ پیدا نہیں ہوتا، نیز اگر ایسی شراب سے نشہ آ بھی جائے تو پینے والے کو حدّ نہیں لگائی جا سکتی۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کا یہی مسلک ہے، جیسا کہ (الھدایہ: ۸/ ۱۶۰) سے معلوم ہوتا ہے، لیکن صاحب ِ ہدایہ نے کہا: زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کو حدّ لگائی جائے گی، جیسا کہ امام محمد کا خیال ہے، جن کا دوسرا قول جمہور کے مسلک کے موافق ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۲۲۰)
6770
Sahih
شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
۔ (۶۷۷۱)۔ ) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَتَانِی جِبْرِیْلُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَھَا وَمُعْتَصِرَھَا وَشَارِبَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُوْلَۃَ إِلَیْہِ وَبَائِعَہَا وَمُبْتَاعَہَا وَسَاقِیَہَا وَمُسْتَقِیَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! بے شک اللہ تعالی نے شراب کے معاملے میں پر لعنت کی ہے: خود شراب پر، اس کو نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر،پینے والے پر،اٹھانے والے پر،جس کی طرف اٹھاکر لے جائی جائے اس پر، فروخت کرنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور پینے کا مطالبہ کرنے والے پر۔
Takhreej
(۶۷۷۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۵۳۵۶، والحاکم: ۴/ ۱۴۵، والطبرانی: ۱۲۹۷۶(انظر: ۲۸۹۷)
Explanation
فوائد:… شراب کے سلسلے میں اصل گنہگار تو شراب پینے والا ہے، اسی کے لیے شراب بنائی جاتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے مزید اُن افراد پر لعنت کی گئی ہے، جو متعلقہ آدمی تک شراب پہنچانے میں تعاون کرتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ شرّ اور برائی میں تعاون بھی گناہ کا کام ہے۔
6771
Sahih
شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
۔ (۶۷۷۲)۔ ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا لَمْ یَشْرَبْہَا فِی الْآخِرَۃِ اِلَّا أَنْ یَتُوْبَ۔)) (مسند احمد: ۴۷۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی، وہ اسے آخرت میں نہیں پئے گا، الّا یہ کہ وہ توبہ کر لے۔
Takhreej
(۶۷۷۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۰۳ (انظر: ۴۷۲۹)
Explanation
فوائد:… جنت کی شراب، دنیا کی شراب سے یکسر مختلف ہے، لیکن اس حرام شراب کی وجہ سے جنت کی شراب سے محروم کیا جا رہا ہے۔
6772
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۳)۔ ) عَنْ حُضَیْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَۃَ أَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ صَلّٰی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ: أَزِیْدُکُمْ فَرُفِعَ ذَالِکَ إِلٰی عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُجْلَدَ، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ: قُمْ یَاحَسَنُ! فَاجْلِدْہُ، قَالَ: وَفِیْمَ اَنْتَ وَذَاکَ؟ فَقَالَ عَلِیٌّ: بَلْ عَجَزْتَ وَوَھَنْتَ، قُمْ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَعْفَرٍ! فَاجْلِدْہُ، فَقَامَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَجَلَدَہ، وَعَلِیٌّیَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِیْنَ، قَالَ: أَمْسِکْ، ثُمَّ قَالَ: ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ أَرْبَعِیْنَ وَضَرَبَ أَبُوْ بَکْرٍ أَرْبَعِیْنَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خَلَافَتِہِ ثُمَّ أَتَمَّہَا عُمَرُ ثَمَانِیْنَ وَکُلٌّ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰)
۔ حضین بن منذر سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا میں تم کو مزید نماز پڑھاؤں؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، انھوںنے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہااے حسن! کھڑے ہو جائو اور اس کو کوڑے مارو، انہوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم عاجز آ گئے ہو اور کمزور پڑ گئے ہو، پھر انھوں نے کہا: اے عبد اللہ بن جعفر! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، پس سیدنا عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شمار کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ چالیس تک پہنچ گئے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رک جائو۔ پھر کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے پورے دور میں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی خلافت کے شروع میں چالیس چالیس کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر نے شراب کی سزا اسی (۸۰) کوڑے پورے کر دیئے۔
Takhreej
(۶۷۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۰۷(انظر: ۱۲۳۰)
6773
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّہُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَھْلِ الْکُوْفَۃِ عَلٰی عُثْمَان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَخْبَرُوْہُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِیْدِ أَیْ بِشُرْبِہِ الْخَمْرَ فَکَلَّمَہُ عَلِیٌّ فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ: دُوْنَکَ ابْنَ عَمِّکَ، فَأَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ، فَقَالَ: یَا حَسَنُ قُمْ! فَاجْلِدْہُ، قَالَ: مَا أَنْتَ مِنْ ھٰذَا فِی شَیْئٍ، وَلِّ ھٰذَا غَیْرَکَ، قَالَ: بَلْ ضَعُفْتَ وَوَھَنْتَ، الْحَدِیْثُ بِنَحْوِالطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۶۲۴)
۔ (دوسری سند) اہل کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ولید کے بارے میں شراب پینے کی اطلاعات دیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس موضوع پر بات کی، انھوں نے کہا: تم خود اپنے چچے کے بیٹے کو پکڑو اور اس پر حدّ قائم کرو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، انھوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، یہ معاملہ کسی اور کے سپرد کر دو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بلکہ تم کمزور پڑ گئے ہو اوربزدل ہو گئے ہو، …۔ پھر پہلی روایت کی طرح کی روایت بیان کی۔
Takhreej
(۶۷۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عثمانb نے ولید کو سیدنا علیbکے چچا کا بیٹا اس لئے قرار دیا تھا کہ سیدنا علیb، ہاشم کی اولاد میں سے تھے اور ولید، عبد شمس کی اولاد میں سے تھے اس اعتبار سے یہ اوپر جا کر چچا کے بیٹے ثابت ہوئے ہیں، ہاشم اور عبد شمس دونوں عبد ِ مناف کے بیٹے تھے۔ سنن ابو داود (۴۴۸۹) کی ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عمر b خلیفہ بنے تو سیدنا خالد بن ولیدb نے ان کی طرف یہ خط لکھا: لوگ بہت زیادہ شراب پینے لگ گئے ہیں اور انھوں نے موجود حدّ اور سزا کو کم سمجھ لیا ہے، پس سیدنا عمر b نے اوّلین مہاجرین سے مشورہ کیا اور اُن سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں۔ سیدنا علیb نے کہا: جب آدمی شراب پیتا ہے تو وہ بہتان تراشیاں کرتا ہے اور تہمتیں لگاتا ہے، لہذا میرا خیالیہ ہے کہ اس کو تہمت والی حدّ لگائی جائے۔ (ابوداود: ۴۴۸۹) سنن ابو داود (۴۴۸۸) میں ہے: رسول اللہ a کے پاس ایک شرابی لایا گیا، جبکہ آپ a حنین میں تھے، آپ a نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، پس انھوں نے جوتوں کے ساتھ اور جس کے ہاتھ میں جو چیز تھی، اس کے ساتھ اس کی پٹائی کی،یہاں تک کہ آپ a نے فرمایا: ’’اب بس کر دو۔‘‘ پس وہ رک گئے، رسول اللہ a کی وفات تک ایسے معاملہ چلتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر b شراب کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا عمر b نے ابتدائے خلافت کے ایام میں چالیس اور پھر اسی (۸۰) کوڑے شروع کیے، سیدنا عثمان b اپنے زمانۂ خلافت میں (۴۰ اور ۸۰) دونوں سزائیں جاری رکھیں اور سیدنا امیر معاویہb نے اسی (۸) کی حدّ کو نافذ کر دیا۔
6774
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اضْرِبُوْہُ۔)) قَالَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِیَدِہِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِہِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِہِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاکَ اللّٰہُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْلُوْا ھٰکَذَا لَا تُعِیْنُوْا عَلَیْہِ الشِّیْطَانَ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا: رَحِمَکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ پھر ہم میں سے کسی نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، بلکہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔
Takhreej
(۶۷۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۷، ۶۷۸۱ (انظر: ۷۹۸۵)
Explanation
فوائد:… جس آدمی کو حد لگائی جا رہی ہو، اس کے لیے بد دعا نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
6775
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّہ، فِی شَرَابٍ، فَضَرَبَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۹۷)
۔ سیدنا ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا،اس نے شراب پی ہوئی تھی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دو جوتوں سے مارتے ہوئے چالیس جوتے مارے۔
Takhreej
(۶۷۷۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۴۴۲(انظر: ۱۱۲۷۷)
6776
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جُلِدَ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ، فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ کُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۴)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں دو جوتوں سے شراب کی حد لگاتے ہوئے چالیس جوتے مارے جاتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا زمانۂ خلافت تھا تو انھوں نے ہر جوتے کے عوض ایک کوڑا مارا۔
Takhreej
(۶۷۷۷) اسنادہ ضعیف لضعف زید العمی، والمسعودی قد اختلط، وسماع یزید منہ بعد الاختلاط، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۹/ ۵۴۷، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۳/۱۵۷ (انظر: ۱۱۶۴۱)
6777
Zaeef
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَلَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ بِالْجَرِیْدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُوْبَکْرٍ، قَالَ یَحْیٰی فِی حَدِیْثِہِ: أَرْبَعِیْنَ، فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّیْفِ وَالْقُرٰی، قَالَ لِأَصْحَابِہِ: مَا تَرَوْنَ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰن: اجْعَلْہَا کَأَخَفِّ الْحُدُوْدِ، فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے شراب کی لگائی، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھییہی حد لگائی،یحییٰ کی حدیث کے مطابق چالیس ضربیں لگائی جاتی تھیں، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت شروع ہوئی تو لوگ فتوحات کی کثرت سے خوش حال ہوئے تو شراب نوشی میں اضافہ ہوا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ سب سے ہلکی حد مقرر کر دیں، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شرابی کی حد اسی کوڑے مقرر کر دیئے۔
Takhreej
(۶۷۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۳، ۶۷۷۶، ومسلم: ۱۷۰۶(انظر: ۱۲۱۳۹)
6778
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۷۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَہُ بِجَرِیْدَتَیْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِیْنَ، قَالَ: وَفَعَلَہُ أَبُوْبَکْرٍ، فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفُّ الْحُدُوْدِ ثَمَانُوْنَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۳۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس ضربیں لگائیں، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھییہی سنت جاری رکھی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں سے مشورہ کیا،سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ سب سے ہلکی حد اسی (۸۰) کوڑے ہے، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۶۷۷۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… شریعت ِ اسلامیہ میں سب سے ہلکی حدّ تہمت لگانے والے کی ہے، یعنی اسی (۸۰) کوڑے، باقی تمام حدود اس سے زیادہ سنگین ہیں۔
6779
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۰)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی بِالشَّارِبِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِی اِمْرَۃِ اَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ اِمْرَۃِ عُمَرَ، فَنَقُوْمُ اِلَیْہِ فَنَضْرِبُہُ بِاَیْدِیْنَا وَ نِعَالِنَا وَ اَرْدِیَتِنَا، حَتّٰی کَانَ صَدْرًا مِنْ اِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِیْھَا اَرْبَعِیْنَ، حَتّٰی اِذَا عَتَوْا فِیْھَا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۰)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ،سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں شرابی کو لاتے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر اس کو ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت کے شروع میںشرابی کی حد چالیس کوڑے کر دی گئی، لیکن جب شرابیوں نے سرکشی کی اور انھوں نے فسق اختیار کر لیا تو شرابی کی سزا اسی کوڑے کر دی گئی۔
Takhreej
(۶۷۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۹ (انظر: ۱۵۷۱۹)
6780
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِالنُّعَیْمَانِ اَوِ ابْنِ النُّعَیْمَانِ وَھُوَ سَکْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَشَقَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَشَقَّۃً شَدِیْدَۃً) وَأَمَرَ مَنْ فِی الْبَیْتِ أَنْ یَضْرِبُوْہُ، قَالَ عُقْبَۃُ: فَکُنْتُ فِیْمَنْ ضَرَبَہُ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) فَضَرَبُوْہُ بِالْأَیْدِی وَالْجَرِیْدِ، فَکُنْتُ فِیْمَنْ ضَرَبَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۵۵)
۔ سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نعیمانیا ابن نعمان کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، وہ نشے میں مست تھے، یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزری، ایک روایت میں ہے: اس صورتحال سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی مشقت ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر میںموجود افراد کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، سیدنا عقبہ کہتے ہیں؟ میں بھی اس کو مارنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو ہاتھوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا تھا۔
Takhreej
(۶۷۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۵(انظر: ۱۶۱۵۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا نعیمانb اسلام کے اولین سپوتوں میں سے تھے، یہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر اور دیگر کئی معرکوں میں شریک ہوئے تھے، یہ خوش طبع انسان تھے، نبی کریم بھیa ان کی خوش طبعی سے مسکراتے تھے، ان جیسے عظیم لوگوں کو شراب سے دور رہنا چاہیے تھا، اسی وجہ سے آپ a کو رنج و ملال زیادہ ہوا۔ اس جگہ اگرچہ شک کے ساتھ ہے کہ نعیمانیا ابن نعیمان کو نبی کریمa کے پاس لایا گیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ میں شک کے بغیر ہے کہ نعیمان کو لایا ہے۔ مزید وہاں یہ بھی ہے اس کو لانے والے حدیث کے راوی عقبہ بن حارث خود ہی تھے۔ (عبداللہ رفیق)
6781
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَدَاۃَیَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَہُمْ فَضَرَبُوْہُ بِمَا فِی أَیْدِیْہِمْ، فَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہ بِعَصًا وَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہُ بِسَوْطٍ وَحَثٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التُّرَابَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۳)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ازہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا ، جبکہ میں نوخیز جوان تھا،آپ لوگوں کے بیچوں بیچ سے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے متعلق دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایاگیا، آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی، انھوں نے اس کو اس سے مارنا شروع کر دیا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے مارا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر چلو بھر مٹی پھینکی۔
Takhreej
(۶۷۸۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۴۸۹(انظر: ۱۶۸۱۰)
6782
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَوْمَ حُنَیْنٍ،یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ مَعَہُ أَنْ یَضْرِبُوْہُ بِمَا کَانَ فِی أَیْدِیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ حنین والے دن لوگوں کے درمیان سے گزرتے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا،پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے، وہ اس کے ساتھ اس کو ماریں۔
Takhreej
(۶۷۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6783
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۴)۔ عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ عَنْ اَبِی الْوَدَّاکِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِیْذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ، قَالَ: جِیْئَ بِرَجُلٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالُوْا: إِنَّہُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِیْبًاوَتَمْرًا فِی دُبَّائَۃٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُہِزَ بِالْأَیْدِی، وَنَہٰی عَنِ الدُّبَّائِ وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ اَنْ یُخْلَطَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۷)
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔
Takhreej
(۶۷۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطیالسی: ۲۱۷۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۵۲۹۲ (انظر: ۱۱۲۹۷)
Explanation
فوائد:… جب شراب حرام ہوئی تھی تو آپ a نے جن برتنوں سے منع کیا تھا، ان میں سے ایک کدو کا برتن تھا، بعد میں آپ a نے اُن تمام برتنوں کے استعمال کو جائز قرار دیا تھا۔ منقّی اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ ان میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
6784
Sahih
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَضَرَبَہُ الْحَدَّ، فَقَالَ: ((مَا شَرَابُکَ؟)) فَقَالَ: الزَّبِیْبُ وَالتَّمْرُ، قَالَ: ((یَکْفِی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س ایک نشہ میں مست آدمی لایا گیا، آپ نے اس پر حد لگائی اور اس سے پوچھا : تیری شراب کس چیز سے تیار کی گئی ہے؟ اس نے کہا: منقّی اور کھجور سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک چیز دوسری سے کفایت کرتی ہے۔
Takhreej
(۶۷۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ النجرانی الذی روی عنہ ابو اسحاق، أخرجہ ابویعلی: ۵۷۸۳، والطیالسی: ۱۹۴۰(انظر: ۴۷۸۶)
6785
Zaeef
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
۔ (۶۷۸۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَیْہِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِی نَفْسِی اِلَّا الْخَمْرَ، فَاِنَّہُ لَوْ مَاتَ لَوَدَیْتُہُ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَسُنَّہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۴)
۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں کسی آدمی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا، ما سوائے شراب کی حد لگاتے ہوئے، اگر کوئی اس حد کے دوران مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی حدّ کو متعین نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۷۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۸، ومسلم: ۱۷۰۷(انظر: ۱۰۲۴)
Explanation
فوائد:… دوسری حدود کی طرح شراب کی حدّ کا تعین نہیں کیا گیا، اس لیے سیدنا علیb نے یہ رائے دی اور احتیاط کا یہی تقاضا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ نبی کریمa کے زمانے میں شرابی کی حدّ مقرر نہیں تھی۔ چھڑی، جوتوں، کپڑوںسے سزا دے دی جاتی تھی، البتہ یہ بات درست ہے کہ ایک موقع پر زیادہ سے زیادہ چالیس ضربیں لگائی گئیں، اسی چیز کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر b نے چالیس کا قانون جاری رکھا، پھر سیدنا عمر b نے کبار صحابہ کے مشورے سے اسی (۸۰) کوڑوں تک سزا زیادہ کر دی، سیدنا علیb کی رائے بڑی دور اندیشی پر مشتمل تھی کہ شرابی تہمت اور بہتان والی باتیں کرتا ہے، اس لیے اس کو تہمت والی سزا دی جائے۔
6786
Sahih
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۶۷۸۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاقْتُلُوْہُ۔))، قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ائْتُوْنِیْ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الرَّابِعَۃِ فَلَکُمْ عَلَیَّ أَنْ أَقْتُلَہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے مارو، اگر وہ دوبارہ پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ سہ بارہ پئے تو پھر کوڑے مارو اور اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو پھر تم اس کو قتل کر دو۔ وکیع نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبد اللہ نے کہا: میرے پاس اس آدمی کو لائو جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی ہو،مجھ پر یہ تمہارا ذمہ ہوگا کہ میں اسے قتل کر دوں گا۔
Takhreej
(۶۷۸۷) تخریج: صحیح بشواھدہ (انظر: ۶۷۹۱)
6787
Sahih
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۶۷۸۸)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ الرَّابِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۲)
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے حد لگائو، اگر وہ پھر پئے تو پھر حد لگائو، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگائو، لیکن اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔
Takhreej
(۶۷۸۸) اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۴۸۲، والترمذی: ۱۴۴۴، وابن ماجہ: ۲۵۷۳ (انظر:۱۶۸۴۷)
6788
Sahih
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۶۷۸۹)۔ عَنْ شُرَحْبِیْلَ بْنِ أَوْسٍ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۷)
۔ صحابی رسول سیدنا شرحبیل بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے لگائو، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگائو، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگائو، لیکن اگر وہ پھر بھی شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔
Takhreej
(۶۷۸۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۲۰، ۷۲۱۲، والحاکم: ۴/ ۳۷۳ (انظر: ۱۸۰۵۳)
6789
Sahih