TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6788 - چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان - شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 8 in this chapter
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
۔ (۶۷۸۸)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ الرَّابِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۲)
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے حد لگائو، اگر وہ پھر پئے تو پھر حد لگائو، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگائو، لیکن اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔
6788
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۷۸۸) اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۴۸۲، والترمذی: ۱۴۴۴، وابن ماجہ: ۲۵۷۳ (انظر:۱۶۸۴۷)

Related Chapters

72
1
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Drinks Wine Then Lash Him, And Whoever Does It A Fourth Time, Then Kill Him
باب: شرابی کو کوڑے لگانے اور چوتھی بار شراب پینے پر اسے قتل کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
5
Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection
نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور (اب) اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے
Sahih Muslim
6
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
7
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
8
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
12
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
13
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
14
(12) CHAPTER. If a killer confesses once, he should be killed.
جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا
Sahih Bukhari
15
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
Sahih Muslim
16
CHAPTER: The Abrogation Of Maintenance For A Widowed Woman Because Of The Inheritance Due To Her.
باب: جس عورت کا شوہر مر جائے اس کو آیت میراث کے حکم سے ایک سال کا خرچ دینا منسوخ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
17
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Legal Punishment For The Drunkard
باب: شرابی کی حد کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Drinking Khamr
باب: شرابی کا بیان
Jam e Tirmazi
21
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
Mishkat
22
سلام کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس کے دو مرتبہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
23
مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
Musnad Ahmad
24
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
Musnad Ahmad
25
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
Musnad Ahmad
26
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
Musnad Ahmad
27
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
Musnad Ahmad
28
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
Musnad Ahmad
30
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
Musnad Ahmad
31
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
32
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
Musnad Ahmad
33
(30) CHAPTER. Repeating one's talk thrice in order to make others understand.
اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے ( ایک ) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے
Sahih Bukhari
34
(4) CHAPTER. Pouring water thrice on one's head.
اس کے بارے میں جو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے
Sahih Bukhari
35
(5) CHAPTER. To wash the body (parts) once only.
اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہوگا
Sahih Bukhari
36
(2) CHAPTER. Pronouncing the wording of Adhan for Salat (prayers) twice (in doubles).
اس بارے میں کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ دہرائے جائیں
Sahih Bukhari
37
(11) CHAPTER. The waking up of the Prophet from his sleep for the night prayer and what (how much) was cancelled from the night prayer.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رات میں اور سوجانا اور رات کی نماز میں سے جو منسوخ ہوا ( اس کا بیان )
Sahih Bukhari
38
(9) CHAPTER. It is desirable to wash (the dead body) for an odd number of times.
میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے
Sahih Bukhari
39
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
Sahih Bukhari
40
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
اسے دیکھنا چاہئے جو نیچے درجہ کا ہے اسے نہیں دیکھنا چاہئے جس کا مرتبہ اس سے اونچاہے
Sahih Bukhari
41
(11) CHAPTER. To inflict the legal punishment on the noble and the weak people (impartially).
کوئی بلند مرتبہ شخص ہو یا کم مرتبہ سب پر برابر حد قائم کرنا ۔
Sahih Bukhari
42
(44) CHAPTER. Whosoever gave the Baia (pledge) twice.
جس نے دو مرتبہ بیعت کی
Sahih Bukhari
43
اس بات کی دلیل کہ موت کے قریب اس وقت تک اسلام لانا صحیح ہے جب تک حالت نزع (جان کنی) طاری نہیں ہوئی اور مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کی اجازت منسوخ ہے ، اور اس بات کی دلیل کہ شرک پر مرنے والا جہنمی ہے اور جہنم سے اسے کوئی ’’وسیلہ‘‘ بھی نجات نہیں دلوا سکے گا
Sahih Muslim
44
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
Sahih Muslim
45
Chapter: Abrogation of “water is for water”, and that it is obligatory to perform ghusl when the two circumcised parts meet
’’پانی ، صرف پانی سے ہے ‘‘ منسوخ ہے اور ختنے کے مقاماتے کےملنے سے غسل ضروری ہے
Sahih Muslim
46
Chapter: The recommendation to place the hands on the knees when bowing, and the abrogation of tatbiq
رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا افضل ہے، تطبیق (ہتھیلیوں کو جوڑ کر، انگلیوں کو پیوستہ کر کے، انہیں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) منسوخ ہے
Sahih Muslim
47
Chapter: The prohibition of speaking during the prayer, and the abrogation of its former permissibility
نماز کے دوران میں بات چیت کی حرمت اور پہلے جواز کا منسوخ ہونا
Sahih Muslim
48
Chapter: Abrogation of standing for funerals
جنازے کے لیے قیام کا منسوخ ہو جانا
Sahih Muslim
49
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
50
Chapter: Rejection of wrong rulings and of newly-invented matters
باطل فیصلوں کو منسوخ اور دین میں نئے نکالے گے امور کو مسترد کرنا
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

9
Musnad Ahmad
6792
۔ (۶۷۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ یَزِیْدَ بْنَ اَبِیْ کَبْشَۃَیَخْطُبُ بِالشَّامِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ عَبْدَ الْمٰلِکِ بْنَ مَرْوَانَ فِی الْخَمْرِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْخَمْرِ: ((إِنْ شَرِبَہَا فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۸)
۔ ابو بشر کہتے ہیں: میں نے یزید بن ابی کبشہ سے سنا، وہ شام میں خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک صحابی سے سنا، وہ عبد الملک بن مروان کو شراب کے بارے میں بتارہے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کے بارے میں فرمایا: اگر کوئی آدمی شراب پئے تو اسے کوڑے لگائو، اگر پھر وہ پیئے تو پھر اسے کوڑے لگائو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو اسے قتل کر دو۔
Musnad Ahmad
6787
۔ (۶۷۸۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاقْتُلُوْہُ۔))، قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ائْتُوْنِیْ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الرَّابِعَۃِ فَلَکُمْ عَلَیَّ أَنْ أَقْتُلَہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے مارو، اگر وہ دوبارہ پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ سہ بارہ پئے تو پھر کوڑے مارو اور اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو پھر تم اس کو قتل کر دو۔ وکیع نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبد اللہ نے کہا: میرے پاس اس آدمی کو لائو جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی ہو،مجھ پر یہ تمہارا ذمہ ہوگا کہ میں اسے قتل کر دوں گا۔
Musnad Ahmad
6789
۔ (۶۷۸۹)۔ عَنْ شُرَحْبِیْلَ بْنِ أَوْسٍ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۷)
۔ صحابی رسول سیدنا شرحبیل بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے لگائو، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگائو، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگائو، لیکن اگر وہ پھر بھی شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔
Musnad Ahmad
6790
۔ (۶۷۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہ، قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ،، فَاِنْ شَرِبَہَا فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ شَرِبَہَا فَاجْلِدُوْہُ۔)) فَقَالَ فِی الرَّابِعَۃِ أَوِ الْخَامِسَۃِ: ((فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۶۱۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے اسے کوڑے لگائو، اگر پھر پئے تو تم اسے حد لگائو، اگر وہ پھر پئے تو اسے حد لگائو۔ چوتھییا پانچویں مرتبہ فرمایا: اگر وہ پھر پئے تو تم اس کو قتل کر دو۔
Musnad Ahmad
6791
۔ (۶۷۹۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ حَدَّثَہُ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ اَنَّہٗسَمِعَرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا شَرِبَ الرَّجُلُ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ اِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ اِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، اَرْبَعَ مِرَارٍ اَوْ خَمْسَ مِرَارٍ، ثُمَّ اِذَا شَرِبَ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۹)
۔ سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی شراب پئے تو اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار یا پانچ دفعہ ایسے ہی فرمایا اور پھر فرمایا: اگر وہ پھر شراب پئے تو اس کو قتل کر دو۔
Musnad Ahmad
6793
۔ (۶۷۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فِی الرَّابِعَۃِ فَاقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۴۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اس کو کوڑنے لگاؤ، پھر جب اس نے شراب پی، تو تم پھر اس کو کوڑے لگاؤ، پھر اگر اس نے شرا ب پی تو تم اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب پیتا ہے تو اس کو قتل کر دو۔
Musnad Ahmad
10631
۔ (۱۰۶۳۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھِنْدٍ الْبَجَلِیِّ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ مُعَاوِیَۃَیَعْنِیْ ابْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرِہِ وَقَدْ غَمَّضَ عَیْنَیْہِ فَتَذَاکَرْنَا الْھِجْرَۃَ وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: قَدِ انْقَطَعَتْ، وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: لَمْ تَنْقَطِعْ فََاسْتَنْبَہَ مُعَاوِیَۃُ فَقَالَ: مَا کُنْتُمْ فِیْہِ؟ فَأَخْبَرْنَاہُ وَکَانَ قَلِیْلَ الرَدِّ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: تَذَاکَرْنَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَۃُ حَتَّی تَنْقَطِعَ التَّوْبَۃُ وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۳۰)
۔ ابوہند بَجَلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ اپنی چارپائی پر اونگھ کی وجہ سے آنکھوں کو بند کر کے تشریف فرما تھے، ہم نے وہاں ہجرت کا تذکرہ کیا، کسی نے کہا: ہجرت منقطع ہو چکی ہے اور کسی نے کہا کہ ابھی تک وہ منقطع نہیں ہوئی، اتنے میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جاگ گئے اور کہا: تم لوگ کیا بات کر رہے تھے؟ ہم نے ان کو تفصیل بتائی، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کم احادیث منسوب کرتے تھے، بہرحال اس بار انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک توبہ منقطع نہیں ہو جاتی اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
Musnad Ahmad
6794
۔ (۶۷۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ سَکَرَ فَاجْلِدُوْہُ، ثُمَّ إِنْ سَکَرَ فَاجْلِدُوْہُ، فَاِنْ عَادَ فِی الرَّابِعَۃِ فَاضْرِبُوْا عُنُقَہُ۔)) قَالَ الزُّھْرِیُّ: فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ سَکْرَانٍ فِی الرَّابِعَۃِ فَخَلّٰی سَبِیْلَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۹۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شراب پئے تو اسے حد لگائو، پھر اگر وہ پئے تو اسے حد لگائو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پئے تو اس کی گردن اڑا دو۔ امام زہری کہتے ہیں کہ رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ ایک آدمی کو لایا گیا،وہ نشے میں تھا، لیکن آپ نے اسے چھوڑدیا۔
Musnad Ahmad
8933
۔ (۸۹۳۳)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: کُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی الْمَسْجِدِ، یَخْرُجُ عَلَیْنَا فَجَائَ یَزِیْدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَیَعْنِیْ النَّخْعِیَّ قَالَ: فَقَالَ: اَلاَ اَذْھَبُ فَاَنْظُرُ، فَاِنْ کَانَ فِی الدَّارِ لَعَلِّیْ اَنْ اُخْرِجَہُ اِلَیْکُمْ، فَجَائَ نَا فَقَامَ عَلَیْنَا فَقَالَ: اِنَّہٗلَیُذَکِّرُ لِیْ مَکَانُکُمْ فَمَا آتِیْکُمْ کَرَاھِیَۃَ اَنْ اُمِلَّکُمْ، لَقَدْ کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَۃِ کَرَاھِیَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا۔ (مسند احمد: ۳۵۸۷)
۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میںیزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔