TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟ - جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟ - شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 2 Hadith
۔ (۶۷۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَقِتْ فِی الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَکَرَ فَلَقِیَیَمِیْلُ فِیْ فَجٍّ، فَانْطُلِقَ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا حَاذٰی بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلیٰ عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَحِکَ وَقَالَ: ((قَدْ فَعَلَہَا۔)) ثُمَّ لَمْ یَأْمُرْ ھُمْ فِیْہِ بِشَیئٍ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔
Takhreej
(۶۷۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن علی بن یزید بن رکانۃ فی عداد المجھولین، وفی متن حدیثہ مخالفۃ للأحادیث الصحیحۃ التی فیھا ان حد شارب الخمر کان علی زمن النبیV اربعین، أخرجہ ابوداود: ۴۴۷۶(انظر: ۲۹۶۳)
6795
Zaeef
۔ (۶۷۹۶)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّہ، قَرَأَ سُوْرَۃَیُوْسَفَ بِحِمْصَ فَقَالَ رَجُلٌ: مَاھٰکَذَا أُنْزِلَتْ، فَدَنَا مِنْہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَجَدَ مِنْہُ رِیْحَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: أَتُکَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ؟ لَا أَدَعُکَ حَتّٰی أَجْلِدَکَ حَدًّا، قَالَ: فَضَرَبَہُ الْحَدَّ، وَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَھٰکَذَا أَقْرَأَنِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حمص میں سورۂ یوسف پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب اس کے قریب ہوئے تو اس سے شراب کی بو محسوس کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: کیا تو حق کو جھٹلاتا ہے اور یہ گندی چیز پیتا ہے، میں تجھے حد لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا، پھر انھوں نے اسے حد لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سورت مجھے اسی طرح پڑھائی تھی۔
Takhreej
(۶۷۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۰۱، ومسلم: ۸۰۱(انظر: ۳۵۹۱)
Explanation
فوائد:… شرابی کو تین صورتوں میں سزا دی جائے گی: (۱) جب دو عادل گواہ گواہی دے دیں۔ (۲) جب وہ خود اقرار کرے۔ (۳) سیدنا عثمان b نے ولید بن عقبہ کو شراب کی حدّ اس بنا پر لگائی کہ ایک آدمی نے کہا: میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا اور دوسرے نے کہا: میں نے اس کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا، سیدنا عثمان b نے کہا: جب تک شراب نہ پی ہو، قے کیسے کر سکتا ہے، پھر انھوں نے اس کو حدّ لگائی۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷) بہرحال تیسری صورت میں واضح علامت کا ہونا ضروری ہے، جیسے قے، بو وغیرہ، جبکہ یہیقین ہو کہ یہ بو معدے سے آ رہی ہے اور واقعی شراب کی ہے، جیسے تمباکو نوشی کرنے والے کے منہ سے آنے والی بد بو سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے تمباکو نوشی کی ہے۔
6796
Sahih