TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان - کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان - جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 3 Hadith
۔ (۶۸۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہ، بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۹۵۳۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل کی گئی۔
Takhreej
(۶۸۱۵) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الحاکم: ۱/۸ (انظر: ۹۵۳۶)
Explanation
فوائد:… کاہن اور عَرَّاف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ ہوتا ہے، جو مستقبل کے حوادث و واقعات کی معرفت کے درپے ہوتا ہے اور عَرَّاف وہ ہوتا ہے جو چوری کی ہوئی چیز اور گم شدہ چیز کے موقع کی خبر دیتا ہے اور مختلف اسباب کے ذریعے مختلف امور کی معرفت کا دعوی کرتا ہے۔
6815
Sahih
۔ (۶۸۱۶)۔ (عَنْ صَفِیَّۃَ) عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۵۵)
۔ سیدنا صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۶۸۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۳۰(انظر: ۱۶۶۳۸)
Explanation
فوائد:… جو آدمی کاہن کے دعوی کی تصدیق کرے گا اور اس کے بارے میںیہ اعتقاد رکھے گا کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے تو وہ واقعی کافر ہو جائے گا، جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن جو آدمی کاہن کے پاس گیا اور اس کے اس دعوی کی تصدیق کی، جس کی معرفت انسان کے بس کی بات ہوتی ہے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
6816
Sahih
۔ (۶۸۱۷)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَرَأَیْتَ اَشْیَائً کُنَّا نَفْعَلُہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، کُنَّا نَتَطَیَّرُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَالِکَ شَیْئٌ تَجِدُہُ فِی نَفْسِکَ فَـلَا یَصُدَّنَّکَ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَأْتِی الْکُہَّانَ، قَالَ: ((فَـلَا تَأْتِ الْکُہَّانَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۸)
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میںکرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکنیہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔
Takhreej
(۶۸۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۳۷ (انظر: ۱۵۶۶۳)
Explanation
فوائد:… کسی چیز کی کراہت انسان کے دل میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے، مثلا ایک آدمی نے صبح صبح سفر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اسی وقت اس کے سامنے اُلّو یا کوّا آ گیا،یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا، تو اس سے اس کو یہ خیال تو آ سکتا ہے کہ اس کو سفر نہیں کرنا چاہیے، لیکن عملی طور پر اس کو اس خیال پر عمل نہ کرتے ہوئے اللہ تعالی پر توکل کر کے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔
6817
Sahih