مسنداحمد

Musnad Ahmad

جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب

کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان

۔ (۶۸۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہ، بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۹۵۳۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل کی گئی۔

۔ (۶۸۱۶)۔ (عَنْ صَفِیَّۃَ) عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ، لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۵۵)

۔ سیدنا صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔

۔ (۶۸۱۷)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَرَأَیْتَ اَشْیَائً کُنَّا نَفْعَلُہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، کُنَّا نَتَطَیَّرُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَالِکَ شَیْئٌ تَجِدُہُ فِی نَفْسِکَ فَـلَا یَصُدَّنَّکَ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَأْتِی الْکُہَّانَ، قَالَ: ((فَـلَا تَأْتِ الْکُہَّانَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۸)

۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میںکرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکنیہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔