TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6815 - کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان - جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۸۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہ، بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۹۵۳۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل کی گئی۔
6815
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۸۱۵) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الحاکم: ۱/۸ (انظر: ۹۵۳۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… کاہن اور عَرَّاف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ ہوتا ہے، جو مستقبل کے حوادث و واقعات کی معرفت کے درپے ہوتا ہے اور عَرَّاف وہ ہوتا ہے جو چوری کی ہوئی چیز اور گم شدہ چیز کے موقع کی خبر دیتا ہے اور مختلف اسباب کے ذریعے مختلف امور کی معرفت کا دعوی کرتا ہے۔

Related Chapters

825
1
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
2
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: The Prohibition Of Being Alone With A Non-Mahram Woman Or Entering Upon Her
تنہائی میں اجنبی عورت کے پاس رہنے اور اس کے ہاں جانے کی ممانعت
Sahih Muslim
4
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
5
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
6
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
7
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
8
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
9
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
12
گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
Musnad Ahmad
13
جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
Musnad Ahmad
14
جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
15
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
16
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
Musnad Ahmad
17
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
Musnad Ahmad
18
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
19
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
20
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
21
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
Musnad Ahmad
22
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
Sahih Bukhari
23
Chapter: The Prohibition Of Preceding The Imam In Saying The Takbir Or Anything Else
تکبیر وغیرہ میں امام سے سبقت لے جانے کی ممانعت
Sahih Muslim
24
Chapter: Prohibiting one who has eaten garlic, onions, or leeks, and other things that have an offensive odor from coming to the masjid, until that smell has gone away, and such a person should be expelled from the masjid
جس شخص نے لہسن ، پیاز ، گندنا یا ان جیسی کوئی نا گوار بو والی چیز کھائی ہو تو اس کے لیے بوختم ہونے تک مسجد میں جانے کی ممانعت اور اسے مسجد سے نکالنا
Sahih Muslim
25
Chapter: Prohibition of women attending funerals
عورتوں کےلیے جنازے کے پیچھے (ساتھ)جانے کی ممانعت میت کو غسل دینا
Sahih Muslim
26
Chapter: The prohibition of travelling with the Mushaf to the land of the disbelievers if there is the fear that it may fall into their hands.
کفار کے ہاتھ لگنے کا ڈر ہو تو کفار کی سر زمین میں قرآن پاک ساتھ لے جانے کی ممانعت
Sahih Muslim
27
CHAPTER: Severe Reprimand For Whoever Memorized The Qur’an And Then Forgot It.
باب: قرآن یاد کر کے بھول جانے والے پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: Regarding A Slave That Is Sold While He Has Wealth.
باب: بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا ؟
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Regarding Fortunetellers.
باب: غیب کی باتیں بتانے والے ( کاہن ) کے پاس جانا ۔
Sunnan Abu Dawood
30
آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے
Sunnan Ibn e Maja
31
دشمن کے ملک میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
32
ایک ہی غسل میں ساری عورتوں کے پاس جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: محرم کے مر جانے پر اس کا منہ اور سر ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: صلح کرانے کے لیے حاکم کے رعایا کے پاس جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
36
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
37
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
38
24)Chapter: What Has Been Related About Wiping The Head, That It Is To Begin With The Front Of The Head To Its Rear.
باب: سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کرنے اور پچھلے حصہ تک لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
39
(56)Chapter: What Has Been Related About Wudu For Breaking Wind
باب: ہوا خارج ہونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
(84)Chapter: [What Has Been Related] About Al-Madhi That Touches The Garment
باب: کپڑے میں مذی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
(85)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mani That Touches The Garment
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Al-Isfar In Fajr
باب: فجر اجالا ہو جانے پر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Forgetting The rime Of Asr
باب: عصر کے وقت کو بھول جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Sleeping Past The Salat
باب: نماز سے سو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For The Subh [(Fajr) Prayer]
باب: نماز فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For Zuhr And Asr
باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For The Isha Prayer
باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

24
Jam e Tirmazi
656
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الضُّبَعِيُّ السَّدُوسِيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ أَصَدَقَةٌ هِيَ أَمْ هَدِيَّةٌ ؟ فَإِنْ قَالُوا:‏‏‏‏ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ قَالُوا:‏‏‏‏ هَدِيَّةٌ أَكَلَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عَمِيرَةَ جَدِّ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ وَاسْمُهُ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَدُّ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Bahz bin Hakim narrated from his father, from his grandfather who said: When something was brought to him, the Messenger of Allah would ask: 'Is this charity or a gift?' If they said: 'Charity.' He would not eat it, and if they said, 'A gift' he would eat it.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: ”صدقہ ہے یا ہدیہ؟“ اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، ابوہریرہ، انس، حسن بن علی، ابوعمیرہ ( معرف بن واصل کے دادا ہیں ان کا نام رشید بن مالک ہے ) ، میمون ( یا مہران ) ، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ابورافع اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نیز یہ حدیث عبدالرحمٰن بن علقمة، سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن أبي عقيل سے اور عبدالرحمٰن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
1121
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي الْمُتْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمْرُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Ali bin Abi Talib narrated: The Prophet prohibited the Mut'ah with women, and the meat of domestic donkeys during (the campaign of) Khaibar.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ۱؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1181
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا عِتْقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏رُوِيَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَرُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الْمَنْصُوبَةِ إِنَّهَا تَطْلُقُ وَقَدْ رُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعْبِيِّ وَغَيْرِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا وَقَّتَ نُزِّلَ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ إِذَا سَمَّى امْرَأَةً بِعَيْنِهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ وَقَّتَ وَقْتًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ تَزَوَّجْتُ مِنْ كُورَةِ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ إِنْ تَزَوَّجَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَطْلُقُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ فَشَدَّدَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ فَعَلَ لَا أَقُولُ هِيَ حَرَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِنْ تَزَوَّجَ لَا آمُرُهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَنَا أُجِيزُ فِي الْمَنْصُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏لِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَزَوَّجَهَا لَا أَقُولُ تَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَوَسَّعَ إِسْحَاق فِي غَيْرِ الْمَنْصُوبَةِ وَذُكِرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سُئِلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ بِالطَّلَاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ لَا يَتَزَوَّجُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ هَلْ لَهُ رُخْصَةٌ بِأَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ رَخَّصُوا فِي هَذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ يَرَى هَذَا الْقَوْلَ حَقَّا، ‏‏‏‏‏‏مِنْ قَبْلِ أَنْ يُبْتَلَى بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِمْ فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَذَا فَلَمَّا ابْتُلِيَ أَحَبَّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِمْ فَلَا أَرَى لَهُ ذَلِكَ.
Amr bin Shu'aib narrated from his grandfather, from his father, that: The Messenger of Allah said: There is no vow for the son of Adam over what he has no control, and there is no emancipating he can do for one whom he does not own, and there is no divorce for him regarding that which he has no control over.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، معاذ بن جبل، جابر، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور یہ سب سے بہتر حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ۳- یہی صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا قول ہے۔ اور علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، سعید بن المسیب، حسن، سعید بن جبیر، علی بن حسین، شریح، جابر بن زید رضی الله عنہم، اور فقہاء تابعین میں سے بھی کئی لوگوں سے یہی مروی ہے۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ۴- اور ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے منصوبہ ۱؎ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ طلاق ہو جائے گی، ۵- اور اہل علم میں سے ابراہیم نخعی اور شعبی وغیرہ سے مروی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی وقت کی تحدید کرے ۲؎ تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور یہی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا بھی قول ہے کہ جب اس نے کسی متعین عورت کا نام لیا، یا کسی وقت کی تحدید کی یا یوں کہا: اگر میں نے فلاں محلے کی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے۔ تو اگر اس نے شادی کر لی تو اسے طلاق واقع ہو جائے گی، ۶- البتہ ابن مبارک نے اس باب میں شدت سے کام لیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس پر حرام ہو گی، ۷- اور احمد کہتے ہیں: اگر اس نے شادی کی تو میں اسے یہ حکم نہیں دوں گا کہ وہ اپنی بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے، ۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی حدیث کی رو سے منسوبہ عورت سے نکاح کی اجازت دیتا ہوں، اگر اس نے اس سے شادی کر لی، تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی عورت اس پر حرام ہو گی۔ اور غیر منسوبہ عورت کے سلسلے میں اسحاق بن راہویہ نے وسعت دی ہے، ۹- اور عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے طلاق کی قسم کھائی ہو کہ وہ شادی نہیں کرے گا، پھر اسے سمجھ میں آیا کہ وہ شادی کر لے۔ تو کیا اس کے لیے رخصت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے؟ تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: اگر وہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ان کے رخصت کے قول کو درست سمجھتا ہو تو اس کے لیے ان کے قول پر عمل درست ہے اور اگر وہ پہلے اس قول سے مطمئن نہ رہا ہو، اب آزمائش میں پڑ جانے پر ان کے قول پر عمل کرنا چاہے تو میں اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا۔
Jam e Tirmazi
1794
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَالْحَسَنِ هما ابنا محمد ابن الحنفية، ‏‏‏‏‏‏وعبد الله بن محمد يكنى أبا هاشم، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali: Fromt their father, that 'Ali said: During the time of Khaibar, the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Mut'ah with women and eating the meat of domesticated donkeys. Another chain and 'Abdullah bin Muhammad's Kunyah is Abu Hisham. Az-Zuhri said: Al-Hasan bin Muhammad was the more acceptable of the two. And he mentioned similarly. Others besides Sa'eed bin 'Abdur-Rahman narrated from Ibn 'Uyainah: Abd 'Abdullah bin Muhammad was the more acceptable of the two. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد الله والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی، عبداللہ و حسن دونوں محمد بن حنیفہ کے بیٹے ہیں، اور عبداللہ بن محمد الحنفیہ کی کنیت ابوہاشم ہے، زہری کہتے ہیں: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ حسن بن محمد بن حنفیہ ہیں، پھر انہوں۔ ابن عیینہ سے روایت کرنے والے سعید بن عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے کہا ہے: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ ہیں۔
Jam e Tirmazi
3870
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَليٍّ،‏‏‏‏ وَفَاطِمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَسَنِ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنِ:‏‏‏‏ أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَصُبَيْحٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.
Narrated Zaid bin Arqam: that the Messenger of Allah (ﷺ) said to 'Ali, Fatimah, Al-Hasan and Al-Husain: I am at war with whoever makes war with you, and peace for whoever makes peace with you.
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم سے فرمایا: ”میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔
Mishkat
6154
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ، فاطمہ اور حسن اور حسین ؓ کے بارے میں فرمایا :’’ جس نے ان سے لڑائی کی میں اس سے لڑنے والا ہوں ، اور جس نے ان سے مصالحت کی میں اس سے مصالحت کرنے والا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Musnad Ahmad
10989
۔ (۱۰۹۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ وَالْحَسَنِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُتَوَکِّئًا عَلٰی اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ وَعَلَیْہِ ثَوْبُ قُطْنٍ، قَدْ خَالَفَ بَیْنَ طَرَفَیْہِ فَصَلّٰی بِہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آسرا لے کر تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سوتی کپڑا زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے دونوں پلوں کو آگے پیچھے ڈالا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر نماز پڑھائی۔
Sahih Bukhari
4216
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ .
Narrated `Ali bin Abi Talib: On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the Mut'a (i.e. temporary marriage) and the eating of donkey-meat.
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ اور حسن نے جو دونوں محمد بن علی کے صاحبزادے ہیں ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کی ممانعت کی تھی اور پالتو گدھوں کے کھانے کی بھی۔
Sahih Bukhari
5523
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ عَامَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ لُحُومِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ .
Narrated `Ali: Allah's Apostle prohibited Al-Mut'a marriage and the eating of donkey's meat in the year of the Khaibar battle.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں محمد بن علی کے بیٹے عبداللہ اور حسن نے اور انہیں ان کے والد نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع فرما دیا تھا۔