۔ (۶۸۲۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلٰی فِتْیَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ فَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۴۱۱)
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہیہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Takhreej
(۶۸۲۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/۱۷۱(انظر: ۴۱۱)
Explanation
فوائد:… طاقت رکھنے سے مراد مہر اور بیوی کے نان ونفقہ کی قدرت ہے۔
’’وِجَائ‘‘ کا معنی خصی کرنا ہے، چونکہ روزہ شہوت کو کمزور کرتا ہے، اس لیے اس کو خصی کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ خصی ہونے سے بھی نکاح کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
6828
Sahih