TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان - نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 17 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۸۲۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِتْیَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ فَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۴۱۱)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہیہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Takhreej
(۶۸۲۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/۱۷۱(انظر: ۴۱۱)
Explanation
فوائد:… طاقت رکھنے سے مراد مہر اور بیوی کے نان ونفقہ کی قدرت ہے۔ ’’وِجَائ‘‘ کا معنی خصی کرنا ہے، چونکہ روزہ شہوت کو کمزور کرتا ہے، اس لیے اس کو خصی کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ خصی ہونے سے بھی نکاح کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
6828
Sahih
۔ (۶۸۲۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِمِنًی فَلَقِیَہ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَہ، یُحَدِّثُہُ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! اَلَّا نُزَوِّجُکَ جَارِیَۃً شَابَّۃً لَعَلَّہَا أَنْ تُذَکِّرَکَ مَا مَضٰی مِنْ زَمَانِکَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابَ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۲)
۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میںیہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ںکی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشکیہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Takhreej
(۶۸۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۰۵، ۵۰۶۵، ومسلم: ۱۴۰۰ (انظر: ۳۵۹۲)
Explanation
فوائد:… ’’اَلْبَائَ ۃ‘‘ سے مراد حق زوجیت اور شادی کے اخراجات کی قدرت ہے۔
6829
Sahih
۔ (۶۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَعِنْدَہُ عَلْقَمَۃُ وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ حَدِیْثًا لَا أَرَاہُ حَدَّثَہُ اِلَّا مِنْ أَجْلِی کُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَیْئًا فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ!…۔)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۴۰۳۵)
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! …۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۶۸۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۶۶، ومسلم: ۱۴۰۰ (انظر: ۴۰۳۵)
Explanation
فوائد:… ہم ایسے نوجوان تھے جن کے پاس نکاح کے اخراجات نہ تھے تو آپ a نے فرمایا: ’’، اے نوجوانو کے گروہ! شادی کرو۔ اگر شادی کی طاقت نہیں تو پھر روزہ رکھُوَ اس سے شہوت اعتدال پر رہتی ہے۔
6830
Sahih
۔ (۶۸۳۱)۔ ) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: لَقِیَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَزَوَّجتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، ثُمَّ لَقِیَنِی بَعْدَ ذَالِکَ فَقَالَ: تَزَوَّجَتَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ کَانَ أَکْثَرَھَا نِسَائً۔ (مسند احمد: ۲۰۴۸)
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے، میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔
Takhreej
(۶۸۳۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۳۱۳(انظر: ۲۰۴۸)
6831
Sahih
۔ (۶۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَنَا کَانَ أَکْثَرَنَا نِسَائً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند احمد: ۳۵۰۷)
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا : شادی کرو کیونکہ جو ہستی ہم میں بہتر تھی، اس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔
Takhreej
(۶۸۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6832
Sahih
۔ (۶۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۱۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابویعلی: ۳۴۸۲، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۵۱۹۹، والبیھیقی: ۷/ ۷۸(انظر: ۱۲۲۹۳)
Explanation
فوائد:… آپ a کی عورتوں سے محبت ہونے کی وجوہات یہ ہیں کہ وہ خواتین آپ کی بیویاں ہی تھیں، جنہوں نے آپ a کے مخفی امور کو امت تک پہنچایا اور بروز قیامت آپ a جس کثرت پر فخر کریں گے، اس کو خواتین نے ہی جنم دیا ہو گا۔
6833
Sahih
۔ (۶۸۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: عَکَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِیْمِیُّ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَکَّافُ! ھَلْ لَکَ مِنْ زَوْجَۃٍ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((وَلَا جَارِیَۃٌ؟)) قَالَ: وَلَا جَارِیَۃٌ، قَالَ: ((وَاَنْتَ مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ؟)) قَالَ: وَاَنَا مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ، قَالَ: ((اَنْتَ اِذًا مِنْ اِخْوَانِ الشَّیَاطِیْنَ، لَوْکُنْتَ فِی النَّصَارٰی کُنْتَ مِنْ رُھَبَانِہِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّکَاحُ، شِرَارُکُمْ عُزَّابُکُمْ وَاَرَاذِلُ مَوْتَاکُمْ عُزَّابُکُمْ، أَبِالشَّیْطَانِ تَمَرَّسُوْنَ، مَالِلشَّیْطَانِ مِنْ سَلَاحٍ اَبْلَغُ فِی الصَّالِحِیْنَ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا الْمتَزَوِّجَوْنُ، اُوْلٰئِکَ الْمُطَہَّرُوْنَ مِنَ الْخَنَا، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! اِنَّہُنَّ صَوَاحِبُ اَیُّوْبَ وَدَاوُدَ وَیُوْسُفَ وَکُرْسُفَ۔)) فَقَالَ لَہُ بِشْرُ بْنُ عَطِیَّۃَ: وَمَنْ کُرْسُفُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَۃِ عَامٍ یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، ثُمَّ اِنَّہُ کَفَّرَ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ فِی سَبَبِ امْرَأَۃٍ عَشِقَہَا، وَتَرَکَ مَا کَانَ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَکَ اللّٰہُ بِبَعْضِ مَا کَانَ مِنْہُ فَتَابَ عَلَیْہِ، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! تَزَوَّجْ وَاِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِیْنَ۔)) قَالَ: زَوِّجْنِییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((قَدْ زَوَّجْتُکَ کَرِیْمَۃَ بِنْتَ کُلْثُوْمٍ الْحِمْیَرِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۸۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عکاف بن بشیر تمیمی نامی ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مالدار نہیں ہو؟ اس نے کہا : جی میں مالدار ہوں۔ پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تم راہب ہوتے، ہماری سنت تو نکاح ہے، تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے سب سے زیادہ رذیل وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو، نیک لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے شیطان کے پاس سب سے زیادہ موثر ہتھیار عورت ہے،ما سوائے شادی شدہ افراد کے، کہ وہ اس ہتھیار سے محفوظ رہتے ہیں،وہ لوگ فحش باتوں سے پاکیزہ ہیں، اے عکاف! یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔ بشر بن عطیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کرسف کون تھے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی تھے، اس نے سمندر کے ساحل پر تین سو سال عبادت کی،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر دیا اور عبادت کو ترک کر دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض اعمال کی وجہ سے کمی پوری کر دی اور اس پر رجوع کیا، اے عکاف! افسوس ہے تجھ پر، شادی کر، وگرنہ متردد اور مذبذب رہے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ میری شادی کر لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تیری شادی کر دی ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الراوی عن ابی ذر وللاضطراب الذی وقع فی اسانیدہ، أخرجہ عبدالرزاق: ۱۰۳۸۷، وابویعلی: ۶۸۵۶(انظر: ۲۱۴۵۰)
Explanation
فوائد:… ’’کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو؟‘‘ یعنی شہوت پورا کرنے کے لیے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہو۔ ’’یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔‘‘ اس سے عورتوں کے مکر و فریب کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ یہ انبیاء و رسل کو پھسلانے کے لیے کوشش کرنے سے بھی باز نہ رہ سکیں۔
6834
Zaeef
۔ (۶۸۳۵)۔ عَنْ اَبِی أَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنُنِ الْمُرْسَلِیْنَ، التَّعَطُّرُ وَالنِّکَاحُ وَالسِّوَاکُ وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔
Takhreej
(۶۸۳۵) اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعن، ومکحول عن ابی ایوب مرسل، بینھما فی ھذا الحدیث ابو الشمال بن ضباب وھو مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰ (انظر: ۲۳۵۸۱)
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ’’الْحَیَائ‘‘ کے بجائے ’’الحِنائ‘‘ کے اور ایک میں ’’اَلْخِتَان‘‘ کے الفاظ ہیں، مؤخر الذکر الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں،یعنی ختنہ کروانا۔ نبی کریمa نے ہر صاحب ِ استطاعت کو نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے، امام احمد نے آپ a کے حکم کی روشنی میںنکاح کو واجب سمجھا ہے، جبکہ جمہور اہل علم اس کے استحباب کے قائل ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نکاح کا وجوب و استحباب مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، مثلا جو شخص نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے گناہ میں پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو اس کے لیے نکاح واجب اور فرض ہے۔ وافر اور اچھا کھانا پینا شہوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روزہ بھوک اور پیاس کا نام ہے اور خوراک کی کمی شہوت کو توڑتی ہے، اس لیے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے روزہ مفید ہے، ویسے بھی روزہ گناہ سے بچاتا ہے۔ گویا روزے دار آدمی خصی انسان کی طرح پرسکون رہتا ہے۔
6835
Zaeef

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.