TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نکاح کے مسائل - نکاح کے مسائل - Book 118 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 118 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 91 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

91 Hadith · 17 Chapters
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۲۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِتْیَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ فَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۴۱۱)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہیہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Takhreej
(۶۸۲۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/۱۷۱(انظر: ۴۱۱)
Explanation
فوائد:… طاقت رکھنے سے مراد مہر اور بیوی کے نان ونفقہ کی قدرت ہے۔ ’’وِجَائ‘‘ کا معنی خصی کرنا ہے، چونکہ روزہ شہوت کو کمزور کرتا ہے، اس لیے اس کو خصی کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ خصی ہونے سے بھی نکاح کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
6828
Sahih
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۲۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِمِنًی فَلَقِیَہ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَہ، یُحَدِّثُہُ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! اَلَّا نُزَوِّجُکَ جَارِیَۃً شَابَّۃً لَعَلَّہَا أَنْ تُذَکِّرَکَ مَا مَضٰی مِنْ زَمَانِکَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابَ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۲)
۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میںیہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ںکی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشکیہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
Takhreej
(۶۸۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۰۵، ۵۰۶۵، ومسلم: ۱۴۰۰ (انظر: ۳۵۹۲)
Explanation
فوائد:… ’’اَلْبَائَ ۃ‘‘ سے مراد حق زوجیت اور شادی کے اخراجات کی قدرت ہے۔
6829
Sahih
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَعِنْدَہُ عَلْقَمَۃُ وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ حَدِیْثًا لَا أَرَاہُ حَدَّثَہُ اِلَّا مِنْ أَجْلِی کُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَیْئًا فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ!…۔)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۴۰۳۵)
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! …۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۶۸۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۶۶، ومسلم: ۱۴۰۰ (انظر: ۴۰۳۵)
Explanation
فوائد:… ہم ایسے نوجوان تھے جن کے پاس نکاح کے اخراجات نہ تھے تو آپ a نے فرمایا: ’’، اے نوجوانو کے گروہ! شادی کرو۔ اگر شادی کی طاقت نہیں تو پھر روزہ رکھُوَ اس سے شہوت اعتدال پر رہتی ہے۔
6830
Sahih
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۳۱)۔ ) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: لَقِیَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَزَوَّجتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، ثُمَّ لَقِیَنِی بَعْدَ ذَالِکَ فَقَالَ: تَزَوَّجَتَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ کَانَ أَکْثَرَھَا نِسَائً۔ (مسند احمد: ۲۰۴۸)
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے، میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔
Takhreej
(۶۸۳۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۳۱۳(انظر: ۲۰۴۸)
6831
Sahih
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَنَا کَانَ أَکْثَرَنَا نِسَائً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند احمد: ۳۵۰۷)
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا : شادی کرو کیونکہ جو ہستی ہم میں بہتر تھی، اس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔
Takhreej
(۶۸۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6832
Sahih
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۱۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابویعلی: ۳۴۸۲، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۵۱۹۹، والبیھیقی: ۷/ ۷۸(انظر: ۱۲۲۹۳)
Explanation
فوائد:… آپ a کی عورتوں سے محبت ہونے کی وجوہات یہ ہیں کہ وہ خواتین آپ کی بیویاں ہی تھیں، جنہوں نے آپ a کے مخفی امور کو امت تک پہنچایا اور بروز قیامت آپ a جس کثرت پر فخر کریں گے، اس کو خواتین نے ہی جنم دیا ہو گا۔
6833
Sahih
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: عَکَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِیْمِیُّ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَکَّافُ! ھَلْ لَکَ مِنْ زَوْجَۃٍ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((وَلَا جَارِیَۃٌ؟)) قَالَ: وَلَا جَارِیَۃٌ، قَالَ: ((وَاَنْتَ مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ؟)) قَالَ: وَاَنَا مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ، قَالَ: ((اَنْتَ اِذًا مِنْ اِخْوَانِ الشَّیَاطِیْنَ، لَوْکُنْتَ فِی النَّصَارٰی کُنْتَ مِنْ رُھَبَانِہِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّکَاحُ، شِرَارُکُمْ عُزَّابُکُمْ وَاَرَاذِلُ مَوْتَاکُمْ عُزَّابُکُمْ، أَبِالشَّیْطَانِ تَمَرَّسُوْنَ، مَالِلشَّیْطَانِ مِنْ سَلَاحٍ اَبْلَغُ فِی الصَّالِحِیْنَ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا الْمتَزَوِّجَوْنُ، اُوْلٰئِکَ الْمُطَہَّرُوْنَ مِنَ الْخَنَا، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! اِنَّہُنَّ صَوَاحِبُ اَیُّوْبَ وَدَاوُدَ وَیُوْسُفَ وَکُرْسُفَ۔)) فَقَالَ لَہُ بِشْرُ بْنُ عَطِیَّۃَ: وَمَنْ کُرْسُفُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَۃِ عَامٍ یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، ثُمَّ اِنَّہُ کَفَّرَ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ فِی سَبَبِ امْرَأَۃٍ عَشِقَہَا، وَتَرَکَ مَا کَانَ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَکَ اللّٰہُ بِبَعْضِ مَا کَانَ مِنْہُ فَتَابَ عَلَیْہِ، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! تَزَوَّجْ وَاِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِیْنَ۔)) قَالَ: زَوِّجْنِییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((قَدْ زَوَّجْتُکَ کَرِیْمَۃَ بِنْتَ کُلْثُوْمٍ الْحِمْیَرِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۸۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عکاف بن بشیر تمیمی نامی ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مالدار نہیں ہو؟ اس نے کہا : جی میں مالدار ہوں۔ پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تم راہب ہوتے، ہماری سنت تو نکاح ہے، تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے سب سے زیادہ رذیل وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو، نیک لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے شیطان کے پاس سب سے زیادہ موثر ہتھیار عورت ہے،ما سوائے شادی شدہ افراد کے، کہ وہ اس ہتھیار سے محفوظ رہتے ہیں،وہ لوگ فحش باتوں سے پاکیزہ ہیں، اے عکاف! یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔ بشر بن عطیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کرسف کون تھے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی تھے، اس نے سمندر کے ساحل پر تین سو سال عبادت کی،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر دیا اور عبادت کو ترک کر دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض اعمال کی وجہ سے کمی پوری کر دی اور اس پر رجوع کیا، اے عکاف! افسوس ہے تجھ پر، شادی کر، وگرنہ متردد اور مذبذب رہے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ میری شادی کر لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تیری شادی کر دی ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الراوی عن ابی ذر وللاضطراب الذی وقع فی اسانیدہ، أخرجہ عبدالرزاق: ۱۰۳۸۷، وابویعلی: ۶۸۵۶(انظر: ۲۱۴۵۰)
Explanation
فوائد:… ’’کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو؟‘‘ یعنی شہوت پورا کرنے کے لیے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہو۔ ’’یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔‘‘ اس سے عورتوں کے مکر و فریب کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ یہ انبیاء و رسل کو پھسلانے کے لیے کوشش کرنے سے بھی باز نہ رہ سکیں۔
6834
Zaeef
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
۔ (۶۸۳۵)۔ عَنْ اَبِی أَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنُنِ الْمُرْسَلِیْنَ، التَّعَطُّرُ وَالنِّکَاحُ وَالسِّوَاکُ وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔
Takhreej
(۶۸۳۵) اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعن، ومکحول عن ابی ایوب مرسل، بینھما فی ھذا الحدیث ابو الشمال بن ضباب وھو مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰ (انظر: ۲۳۵۸۱)
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ’’الْحَیَائ‘‘ کے بجائے ’’الحِنائ‘‘ کے اور ایک میں ’’اَلْخِتَان‘‘ کے الفاظ ہیں، مؤخر الذکر الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں،یعنی ختنہ کروانا۔ نبی کریمa نے ہر صاحب ِ استطاعت کو نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے، امام احمد نے آپ a کے حکم کی روشنی میںنکاح کو واجب سمجھا ہے، جبکہ جمہور اہل علم اس کے استحباب کے قائل ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نکاح کا وجوب و استحباب مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، مثلا جو شخص نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے گناہ میں پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو اس کے لیے نکاح واجب اور فرض ہے۔ وافر اور اچھا کھانا پینا شہوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روزہ بھوک اور پیاس کا نام ہے اور خوراک کی کمی شہوت کو توڑتی ہے، اس لیے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے روزہ مفید ہے، ویسے بھی روزہ گناہ سے بچاتا ہے۔ گویا روزے دار آدمی خصی انسان کی طرح پرسکون رہتا ہے۔
6835
Zaeef
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ لَنَا نِسَائٌ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلاَ نَسْتَخْصِیْ؟ فَنَہَانَا عَنْہُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِی أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلٰی أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔} (مسند احمد: ۳۹۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیںیہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۶۸۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۵۷، ومسلم: ۱۴۰۴ (انظر: ۳۹۸۶)
Explanation
فوائد:… مسلمان کے لیے خصی ہونا حرام ہے، کیونکہ اس میں ضرر بھی ہے اور نسل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں نکاحِ متعہ کی اجازت دی گئی ہے، یہ اجازت عارضی تھی، بعد میں اس نکاح کو مستقل طور پر حرام قرار دیا گیا، تفصیل آگے آئے گی۔
6836
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ أَنْ أَخْتَصِیَ، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خِصَائُ أُمَّتِی الصِّیَامُ وَالْقِیَامُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے خصی ہونے کی صورت روزے رکھنا اور رات کا قیام کرنا ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون ذکر القیام، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحُیَیّ بن عبد اللہ المعافری، أخرجہ الطبرانی (انظر: ۶۶۱۲)
6837
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ شَابٌّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ A فَقَالَ: أَ تَأْذَنُ لِی فِی الْخِصَائِ؟ فَقَالَ: ((صُمْ وَ سَلِ اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۰۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔
Takhreej
(۶۸۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۰۳۶)
Explanation
فوائد:… یہ بہت خوبصورت جواب ہے، فی الوقت کسی چیز کے اسباب نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے آپ کو مستقل طور پر اس چیز سے محروم کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو کنٹرول کرنے کے لیے عارضی بندوبست کرے اور اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرے، روزہ اپنی جگہ پر مستقل عبادت ہے، لیکن غیر شادی شدہ آدمی کے لیے شہوت کو کنٹرول کرنے کا عارضی بندو بست ہے۔
6838
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۳۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ أَنْ یَّتَبَتَّلَ، فَنَہَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ أَجَازَ ذَالِکَ لَاخْتَصَیْنَا۔ (مسند احمد: ۱۵۱۴)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تبتّل کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کر دیا، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
Takhreej
(۶۸۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۷۴، ومسلم: ۱۴۰۲(انظر: ۱۵۱۴)
Explanation
فوائد:… ’’تبتّل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور نکاح کو چھوڑ دیا جائے۔
6839
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۴۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ التَّبَتُّلِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۵۵)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبتّل سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۰) صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۴۹، والترمذی: ۱۰۸۲، والنسائی: ۶/ ۵۹(انظر: ۲۰۱۹۲)
Explanation
فوائد:… جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ حدیث بیان کرنے کے بعد امام قتادہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ و َجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃً } …’’اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیویاں اور اولاد عطا کی۔‘‘ (سورۂ رعد: ۳۸) امام قتادہ کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ a کو سابقہ انبیاء کی اقتدار کرنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {فَبُہُدٰھُمُ اقْتَدِہْ} … ’’ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ اور سابقہ انبیاء کی بیویاں اور اولادیں تھیں، اس لیے آپ a نے شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے آپ a کو اولاد بھی عطا کی۔ گویا نکاح سنت ِ انبیاءhہے۔
6840
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۴۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ أَنَّہ، قَالَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَیْنَ فِیْہِ؟ قَالَتْ: فَـلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃ} فَـلَا تَبَتَّلَ، قَالَ: فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِہَ وَقَدِمَ الْبَصْرَۃَ فَلَمْ یَلْبَثْ اِلَّا یَسِیْرًا حَتّٰی خَرَجَ إِلٰی أَرْضِ مَکْرَانَ فَقُتِلَ ھُنَاکَ عَلٰی أَفْضَلِ عَمَلِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۵۱۶۵)
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاںاور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔
Takhreej
(۶۸۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ مختصرا النسائی: ۳/ ۲۴۲ (انظر: ۲۴۶۵۸)
6841
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۴۲)۔ (وَعَنْھَا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرٰی) قَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، أَمَا تَقْرَأُ! {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ A وَقَدْ وُلِدَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۰۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تبتّل سے بچ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی، اللہ تعالی نے فرمایا: البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شادیاں بھی کی ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد بھی ہوئی ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6842
Sahih
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۶۸۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، کَانَ یَقُوْلُ: ((لَا صَرُوْرَۃَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۴۴)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف ، عمر بن عطائ، وھو ابن وراز، لیس ھو بشیئ، وھم یضعفونہ، أخرجہ ابوداود: ۱۷۲۹(انظر: ۲۸۴۴)
Explanation
فوائد:… صرورت کے دو معانی ہیں: (۱) تبتّل، جس کی تفصیل حدیث نمبر ۶۸۳۹ میں گزر چکی ہے اور (۲) حج نہ کرنا، یعنی اسلام میں حج کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بشرطیکہ استطاعت ہو۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔
6843
Zaeef
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
۔ (۶۸۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا کُلَّہَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۶۷(انظر: ۶۵۶۷)
Explanation
فوائد:… ’’متاع‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے تھوڑا سا فائدہ اٹھایا جائے اور وہ جلد ہی ختم ہو جائے، دنیا اور اس کی ہر چیز متاع ہے، آخرت کے مقابلے میں اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور وہ بھی جلد زائل ہو جانے والا ہے۔ نیک خاتون دنیا کا سب سے بہترین سرمایہ ہے، کیونکہ وہ خاوند کو حرام سے بچاتی ہے اور اس کے دنیوی اور دینی امور کو سرانجام دینے پر اس کا تعاون کرتی ہے اور ہر وہ لذت جو آخرت کی لذتوں کے حصول کے لیے معاون ہو، وہ اللہ تعالی کی محبوب اور پسندیدہ چیز ہے۔
6844
Sahih
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
۔ (۶۸۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ النِّسَائُ لِأَرْبَعٍ، لِمَالِھَا وَجَمَالِھَا وَحَسَبِہَا وَدِیْنِہَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔
Takhreej
(۶۸۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۹۰، ومسلم: ۱۴۶۶ (انظر: ۹۵۲۱)
Explanation
فوائد:… اسلام میں اللہ کا خوف اور عمل صالح کی سب سے زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی کے ہاں وہی زیادہ معزز ہے، جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے، اس لیے نیک اور دین دار خاتون کو ترجیح دینی چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی خیر و بھلائی ہے۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔
6845
Sahih
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
۔ (۶۸۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی اِحْدٰی خِصَالٍ ثَلَاثَۃٍ، تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی مَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی جَمَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی دِیْنِہَا، فَخُذْ ذَاتَ الدِّیْنِ وَالْخُلُقِ، تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔
Takhreej
(۶۸۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۴/ ۳۱۰، والبزار: ۱۴۰۳، وابویعلی: ۱۰۱۲، وابن حبان: ۴۰۳۷، والحاکم: ۲/۱۶۱ (انظر: ۱۱۷۶۵)
6846
Sahih
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
۔ (۶۸۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۰۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۵۱۹۱)
6847
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.