۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہیہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
فوائد:… طاقت رکھنے سے مراد مہر اور بیوی کے نان ونفقہ کی قدرت ہے۔
’’وِجَائ‘‘ کا معنی خصی کرنا ہے، چونکہ روزہ شہوت کو کمزور کرتا ہے، اس لیے اس کو خصی کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ خصی ہونے سے بھی نکاح کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میںیہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ںکی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشکیہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! …۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔
فوائد:… ہم ایسے نوجوان تھے جن کے پاس نکاح کے اخراجات نہ تھے تو آپ a نے فرمایا: ’’، اے نوجوانو کے گروہ! شادی کرو۔ اگر شادی کی طاقت نہیں تو پھر روزہ رکھُوَ اس سے شہوت اعتدال پر رہتی ہے۔
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے، میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : شادی کرو کیونکہ جو ہستی ہم میں بہتر تھی، اس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
فوائد:… آپ a کی عورتوں سے محبت ہونے کی وجوہات یہ ہیں کہ وہ خواتین آپ کی بیویاں ہی تھیں، جنہوں نے آپ a کے مخفی امور کو امت تک پہنچایا اور بروز قیامت آپ a جس کثرت پر فخر کریں گے، اس کو خواتین نے ہی جنم دیا ہو گا۔
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکاف بن بشیر تمیمی نامی ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مالدار نہیں ہو؟ اس نے کہا : جی میں مالدار ہوں۔ پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تم راہب ہوتے، ہماری سنت تو نکاح ہے، تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے سب سے زیادہ رذیل وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو، نیک لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے شیطان کے پاس سب سے زیادہ موثر ہتھیار عورت ہے،ما سوائے شادی شدہ افراد کے، کہ وہ اس ہتھیار سے محفوظ رہتے ہیں،وہ لوگ فحش باتوں سے پاکیزہ ہیں، اے عکاف! یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔ بشر بن عطیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کرسف کون تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی تھے، اس نے سمندر کے ساحل پر تین سو سال عبادت کی،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر دیا اور عبادت کو ترک کر دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض اعمال کی وجہ سے کمی پوری کر دی اور اس پر رجوع کیا، اے عکاف! افسوس ہے تجھ پر، شادی کر، وگرنہ متردد اور مذبذب رہے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ میری شادی کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تیری شادی کر دی ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الراوی عن ابی ذر وللاضطراب الذی وقع فی اسانیدہ، أخرجہ عبدالرزاق: ۱۰۳۸۷، وابویعلی: ۶۸۵۶(انظر: ۲۱۴۵۰)
Explanation
فوائد:… ’’کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو؟‘‘ یعنی شہوت پورا کرنے کے لیے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہو۔
’’یہ عورتیں ایوب، دائود، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔‘‘ اس سے عورتوں کے مکر و فریب کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ یہ انبیاء و رسل کو پھسلانے کے لیے کوشش کرنے سے بھی باز نہ رہ سکیں۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔
Takhreej
(۶۸۳۵) اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعن، ومکحول عن ابی ایوب مرسل، بینھما فی ھذا الحدیث ابو الشمال بن ضباب وھو مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰ (انظر: ۲۳۵۸۱)
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ’’الْحَیَائ‘‘ کے بجائے ’’الحِنائ‘‘ کے اور ایک میں ’’اَلْخِتَان‘‘ کے الفاظ ہیں، مؤخر الذکر الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں،یعنی ختنہ کروانا۔
نبی کریمa نے ہر صاحب ِ استطاعت کو نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے، امام احمد نے آپ a کے حکم کی روشنی میںنکاح کو واجب سمجھا ہے، جبکہ جمہور اہل علم اس کے استحباب کے قائل ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نکاح کا وجوب و استحباب مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، مثلا جو شخص نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے گناہ میں پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو اس کے لیے نکاح واجب اور فرض ہے۔
وافر اور اچھا کھانا پینا شہوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روزہ بھوک اور پیاس کا نام ہے اور خوراک کی کمی شہوت کو توڑتی ہے، اس لیے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے روزہ مفید ہے، ویسے بھی روزہ گناہ سے بچاتا ہے۔ گویا روزے دار آدمی خصی انسان کی طرح پرسکون رہتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیںیہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
فوائد:… مسلمان کے لیے خصی ہونا حرام ہے، کیونکہ اس میں ضرر بھی ہے اور نسل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے۔
اس حدیث میں نکاحِ متعہ کی اجازت دی گئی ہے، یہ اجازت عارضی تھی، بعد میں اس نکاح کو مستقل طور پر حرام قرار دیا گیا، تفصیل آگے آئے گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے خصی ہونے کی صورت روزے رکھنا اور رات کا قیام کرنا ہے۔
Takhreej
(۶۸۳۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون ذکر القیام، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحُیَیّ بن عبد اللہ المعافری، أخرجہ الطبرانی (انظر: ۶۶۱۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔
Takhreej
(۶۸۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۰۳۶)
Explanation
فوائد:… یہ بہت خوبصورت جواب ہے، فی الوقت کسی چیز کے اسباب نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے آپ کو مستقل طور پر اس چیز سے محروم کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو کنٹرول کرنے کے لیے عارضی بندوبست کرے اور اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرے، روزہ اپنی جگہ پر مستقل عبادت ہے، لیکن غیر شادی شدہ آدمی کے لیے شہوت کو کنٹرول کرنے کا عارضی بندو بست ہے۔
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے تبتّل کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
فوائد:… جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ حدیث بیان کرنے کے بعد امام قتادہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ و َجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃً } …’’اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیویاں اور اولاد عطا کی۔‘‘ (سورۂ رعد: ۳۸)
امام قتادہ کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ a کو سابقہ انبیاء کی اقتدار کرنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {فَبُہُدٰھُمُ اقْتَدِہْ} … ’’ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ اور سابقہ انبیاء کی بیویاں اور اولادیں تھیں، اس لیے آپ a نے شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے آپ a کو اولاد بھی عطا کی۔
گویا نکاح سنت ِ انبیاءhہے۔
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاںاور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تبتّل سے بچ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی، اللہ تعالی نے فرمایا: البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادیاں بھی کی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئی ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف ، عمر بن عطائ، وھو ابن وراز، لیس ھو بشیئ، وھم یضعفونہ، أخرجہ ابوداود: ۱۷۲۹(انظر: ۲۸۴۴)
Explanation
فوائد:… صرورت کے دو معانی ہیں: (۱) تبتّل، جس کی تفصیل حدیث نمبر ۶۸۳۹ میں گزر چکی ہے اور (۲) حج نہ کرنا، یعنی اسلام میں حج کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بشرطیکہ استطاعت ہو۔
یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۶۷(انظر: ۶۵۶۷)
Explanation
فوائد:… ’’متاع‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے تھوڑا سا فائدہ اٹھایا جائے اور وہ جلد ہی ختم ہو جائے، دنیا اور اس کی ہر چیز متاع ہے، آخرت کے مقابلے میں اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور وہ بھی جلد زائل ہو جانے والا ہے۔
نیک خاتون دنیا کا سب سے بہترین سرمایہ ہے، کیونکہ وہ خاوند کو حرام سے بچاتی ہے اور اس کے دنیوی اور دینی امور کو سرانجام دینے پر اس کا تعاون کرتی ہے اور ہر وہ لذت جو آخرت کی لذتوں کے حصول کے لیے معاون ہو، وہ اللہ تعالی کی محبوب اور پسندیدہ چیز ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔
فوائد:… اسلام میں اللہ کا خوف اور عمل صالح کی سب سے زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی کے ہاں وہی زیادہ معزز ہے، جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے، اس لیے نیک اور دین دار خاتون کو ترجیح دینی چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی خیر و بھلائی ہے۔
تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔