مسنداحمد

Musnad Ahmad

نکاح کے مسائل

اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے

۔ (۶۸۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا کُلَّہَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔

۔ (۶۸۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ النِّسَائُ لِأَرْبَعٍ، لِمَالِھَا وَجَمَالِھَا وَحَسَبِہَا وَدِیْنِہَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔

۔ (۶۸۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی اِحْدٰی خِصَالٍ ثَلَاثَۃٍ، تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی مَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی جَمَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی دِیْنِہَا، فَخُذْ ذَاتَ الدِّیْنِ وَالْخُلُقِ، تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۷)

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔

۔ (۶۸۴۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَرْأَۃَ تُنْکَحُ لِدِیْنِہَا وَمَالِھَا وَجَمَالِھَا، فَعَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۸۶)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین والی کو لازم پکڑ۔

۔ (۶۸۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَنْکِحُوْا اُمَّہَاتِ الْأَوْلَادِ، فَاِنِّی أُبَاھِی بِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۹۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ بچے جنم دینی والی خواتین سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت کی وجہ سے فخرکروں گا۔

۔ (۶۸۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ بِالْبَائَۃِ وَیَنْہٰی عَنِ التَّبَتُّلِ نَہْیًا شَدِیْدًا، وَیَقُوْلُ: ((تَزَوَّجُوْا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاَنْبِیَائَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۰)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے اور تبتّل سے سختی کے ساتھ منع کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیار کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت ِ تعداد کی وجہ سے دیگر انبیائے کرام پر فخر کروں گا۔

۔ (۶۸۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ النِّسَائِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((الَّتِیْ تَسُرُّہُ، اِذَا نَظَرَ، وَتُطِیْعُہ اِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُہُ فِیْمَایَکْرَہُ فِی نَفْسِہَا وَمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۵)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ فرمانبرداری کرے اور خاوند اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتا ہے، وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔

۔ (۶۸۵۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ یُمْنِ الْمَرْأَۃِ تَیْسِیْرُ خِطْبَتِہَا وَ تَیْسِیْرُ صَدَاقِہَا وَتَیْسِیْرُ رَحِمِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۸۳)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسانی سے ہوئی ہو، مہر آسان ہو اور جلدی حاملہ ہونے والی ہو۔

۔ (۶۸۵۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْسَلَ أُمَّ سُلَیْمٍ تَنْظُرُ اِلٰی جَارِیَۃٍ، فَقَالَ: ((شُمِّی عَوَارِضَہَا وَانْظُرِیْ اِلٰی عُرْقُوْبِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۵۷)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ایک لڑکی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اس لڑکی کے سائیڈوں والے دانت سونگھنا اور اس کی ایڑھی کے اوپر کا پٹھا دیکھنا۔