TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے - دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 17 · 3 Hadith
۔ (۶۸۵۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا جَابِرُ! أَ لَکَ امْرَأَۃٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَ ثَیِّبًا نَکَحْتَ اَمْ بِکْرًا؟)) قَالَ: قُلْتُ لَہُ: تَزَوَّجْتُہَا وَھِیَ ثَیِّبٌ، قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ((فَہَلَّا تَزَوَّجَتَہَا جُوَیْرِیَۃً؟)) قَالَ: قُلْتُ لَہُ: قُتِلَ اَبِی مَعَکَ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا وَتَرَکَ جَوَارِیَ، فَکَرِھْتُ أَنْ أَضُمَّ اِلَیْہِنَّ جَارِیَۃً کَاِحْدَاھُنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَیِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَۃَ اِحْدَاھُنَّ، وَتَخِیْطُ دِرْعَ اِحْدَاھُنَّ اِذَا تَخَرَّقَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّکَ نِعْمَ مَارَأَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۲۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا بیوہ تھییا کنواری؟ میں نے کہا: جی جب میں نے اس سے شادی کی تھی تووہ بیوہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہوگئے تھے اور ان کی بیٹیاں پیچھے رہ گئی تھیں، میں نے پسند نہیں کیا کہ ان جیسی نو عمر لڑکی ان میں ملا دوں، بلکہ اس بیوی سے شادی کر لی تاکہ میری بہنوں کی جوئیں صاف کر دیا کرے، اگر ان کی قمیض پھٹ جائے تو سلائی کر دیا کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو بہت اچھا فیصلہ کیا۔
Takhreej
(۶۸۵۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۴۰۶، ۲۹۶۷، ۳۶۳۱، ۵۱۶۱، ومسلم: ۷۱۵، ۲۰۸۳، ۵۱۶۱(انظر: ۱۴۸۶۱)
6854
Sahih
۔ (۶۸۵۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ نَکَحْتَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَ بِکْرًا أَمْ ثَیِّبًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: ثَیِّبًا، قال: ((فَہَلَّا بِکْرًا تُـلَاعِبُہَا وَتُلاعِبُکَ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُتِلَ اَبِیْیَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَکَرِھْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَیْہِنَّ خَرْقَائَ مِثْلَہُنَّ وَلٰکِنِ امْرَأَۃٌ تَمْشُطُہُنَّ وَتُقِیْمُ عَلَیْہِنَّ، قَالَ: ((أَصَبْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۹۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری خاتون تھییا بیوہ؟ میں نے کہا: جی بیوہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے باپ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور سات بیٹیاں پس ماندگان میں چھوڑ گئے تھے،اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان جیسی ایک ناتجربہ کار کا اور اضافہ کر دوں، میں نے ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے کہ جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے درست کیا ہے۔
Takhreej
(۶۸۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6855
Sahih
۔ (۶۸۵۶)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) قَالَ: ((لَکُمْ أَنْمَاطٌ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأنیّٰ، فَقَالَ: ((خِفْ أَمَا سَتَکُوْنُ لَکُمْ أَنْمَاطٌ۔)) فَأَنَا الْیَوْمَ أَقُوْلُ لِاِمْرَأَتِیْ: نَحِّی عَنِّی أَنْمَاطَکِ، فَتَقُوْلُ: نَعَمْ، أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّہَا سَتَکُوْنُ لَکُمْ أَنْمَاطٌ، فَأَتْرُکُہَا؟ (مسند احمد: ۱۴۱۷۸)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو ، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟
Takhreej
(۶۸۵۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… آپ a نے کنواری عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دلائی ہے، لیکن جب سیدنا جابرbنے بیوہ سے شادی کرنے کی مصلحت کو واضح کیا تو آپ a نے ان کے اقدام کو سراہا۔
6856
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.