۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بیوہ تھییا کنواری؟ میں نے کہا: جی جب میں نے اس سے شادی کی تھی تووہ بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہوگئے تھے اور ان کی بیٹیاں پیچھے رہ گئی تھیں، میں نے پسند نہیں کیا کہ ان جیسی نو عمر لڑکی ان میں ملا دوں، بلکہ اس بیوی سے شادی کر لی تاکہ میری بہنوں کی جوئیں صاف کر دیا کرے، اگر ان کی قمیض پھٹ جائے تو سلائی کر دیا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو بہت اچھا فیصلہ کیا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری خاتون تھییا بیوہ؟ میں نے کہا: جی بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے باپ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور سات بیٹیاں پس ماندگان میں چھوڑ گئے تھے،اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان جیسی ایک ناتجربہ کار کا اور اضافہ کر دوں، میں نے ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے کہ جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے درست کیا ہے۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو ، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟