مسنداحمد

Musnad Ahmad

نکاح کے مسائل

بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان

۔ (۶۹۰۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ سَلَمَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہ، لَیْسَ مِنْ أَوْلِیَائِیْ تَعْنِیْ شَاھِدًا، فَقَالَ: ((اِنَّہ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِیَائِکِ شَاھِدٌ وَلَا غَائِبٌ یَکْرَہُ ذَالِکَ۔)) فَقَالَتْ: یَا عُمَرُ! زَوِّجْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَتَزَوَّجَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۴)

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اولیاء موجود نہیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی بھی ولی ایسا نہیں ہے، جو اس شادی کو ناپسند کرے، وہ حاضر ہو یا غائب۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے بیٹےسے کہا: اے عمر! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شادی کر دے، پس انہوں نے ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر دی۔