TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6924 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 10 in this chapter
مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۹۲۴)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ فَزَارَۃَ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلٰی نَعْلَیْنِ فَأَجَازَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِکَاحَہ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۶۴)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور جوتوں کا ایک جوڑا مہر میں دیا، اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔
6924
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۶۹۲۴) اسنادہ ضعیف لضعف عاصم بن عبید اللہ العمری، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۸(انظر: ۱۵۶۷۶)

Related Chapters

235
1
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
2
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
3
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
4
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
7
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
9
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
Sahih Muslim
10
Chapter: It is recommended to get married and arrange marriages in Shawwal, and it is recommended to consummate the marriage in that month
شوال کے مہینے میں شادی کرنا، شادی کرانا اور شوال میں رخصتی ہونا مستحب ہے
Sahih Muslim
11
Chapter: It is recommended for the one who wants to marry a woman to look at her face and hands before proposing marriage to her
مرد کے لیے جس عورت سے وہ شادی کرنا چاہے، اس کا چہرے اور ہتھیلیاں دیکھ لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
12
Chapter: The Permissibility Of Branding Animals Anywhere But On The Face, And This Is Recommended In The Case Of Animals Given As Zakat Ot Jizyah
انسان کے علاوہ حیوانوں کو منہ کے علاوہ جس کے کسی اور حصے پر نشانی ثبت کرنے کا جواز زکاۃ اور جزیے میں ملنے والے جانوروں کو نشانی لگا نا (تا کہ وہ گم نہ ہو جائیں)مستحب ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended For Shrouding
باب: کس رنگ کا کفن مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Hour In Which It Is Recommend To Fight
باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended For A Ring's Fass
باب: انگوٹھی کا کیسا نگینہ مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Whatever A Lot Of It Intoxicates, A Little Of It Is Unlawful
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
Jam e Tirmazi
23
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
24
ہر تکریم و تزئین والے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
25
کلی سے پہلے ہاتھ دھونے کے مستحب ہونے اور رات کی نیند کے لیے تاکیدی طور پر دھونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
27
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
28
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
30
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
31
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
32
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
فرض نماز اور اس کی سنتوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
Musnad Ahmad
39
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
41
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
43
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
44
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
Musnad Ahmad
45
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
46
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
48
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
49
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
50
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

540
Musnad Ahmad
2896
۔ (۲۸۹۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَیْسَ بِرَاکِعٍ ثُمَّ رَکَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ،ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِی الْأَرْضِ وَیَبْکِی وَھُوَ سَاجِدٌ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْھِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَقَضٰی صَلَاتَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کَسَفَ أَحَدُھُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ أَشَائُ لَتَعَاطَیْتُ بَعْضَ أَغْصَانِہَا وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ حَتّٰی اِنِّی لَأُطْفِئُہَا خَشْیَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ، وَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً مِنْ حِمْیَرَ سَوْدَائَ طُوَالَۃً تُعَذَّبُ بِہِرَّۃٍ لَھَا تَرْبِطُھَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا وَلَا تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ کُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَہَشَتْہَا، وَکُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَھَشَتْہَا وَرَأَیْتُ فِیْہَا أَخَابَنِی دَعْدَعٍ وَرَأَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّکِئًا فِی النَّارِ عَلٰی مِحْجَنِہِ کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ، فَاِذَا عَلِمُوا بِہِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُکُمْ، اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیاکہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع ہی نہیں کرنا، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور قریب نہیں تھا کہ رکوع سے سر اٹھائیں، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے، قریب نہیں تھا کہ اس سے بھی سر اٹھاتے، بالآخر سر اٹھایا اور (جلسہ میں) بیٹھ گئے (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتااورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔
Musnad Ahmad
2911
۔ (۲۹۱۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَصْحَابِہِ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی جَعَلُوْا یَخِرُّوْنَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَعَلَ یَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْئٍ تُوْعَدُوْنَہُ فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا قِطْفًا أَخَذْتُہُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیَ عَنْہُ شَکَّ ھِشَامٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَھْبَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ فَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً حِمْیَرِیَّۃً سَوْدَائَ طَوِیْلَۃً تُعَذَّبُ فِی ھِرَّۃٍ لَھَا رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا، وَلَمْ تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَیْتُ أَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ، وَاِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُرِیْکُمُوْھَا، فَاِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوْا حَتّٰی تَنْجَلِیَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سخت گرمی والے دن سورج بے نور ہوگیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا اورلمبا قیام کیا، اس کے بعد طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے اور کھڑے ہو گئے اور(دوسری رکعت بھی) اسی طریقے سے ادا کی، اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو بڑھے تھے اور پھر پیچھے ہٹ آئے تھے، یہ چار رکوع اور چار سجدوں والی (دو رکعت) نماز تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مجھ پر جنت پیش کی گئی اور (اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں اس سے خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا: میں نے اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ کو روک دیا گیا۔ مجھ پر آگ بھی پیش کی گئی اور میں اس ڈرسے پیچھے ہونے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ کہ وہ تم کو ڈھانپ لے، پھر میں نے اس میں حمیر اس نے قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی لمبی عورت دیکھی، اس کو اُس بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا، جس کو اس نے باندھ دیا تھا، نہ اسے خود کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو بھی دیکھا وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھنچ رہا تھا۔ یہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پس جب یہ بے نور ہوجائے تو تم نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔
Musnad Ahmad
3202
۔ (۳۲۰۲) حَدَثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ ثَنَا الْہَجَرِیُّ قَالَ: خَرَجْتُ فِی جَنَازَۃِ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ عَلٰی بَغْلَۃٍ لَہٗ حَوَّائَ یَعْنِی سَوْدَائَ، قَالَ فَجَعَلَ النِّسَائُ یَقُلْنَ لِقَائِدِہِ: قَدِّمْہُ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ فَفَعَلَ، قَالَ: فَسْمِعْتُہُ یَقُوْلُ لَہُ: أَیْنَ الْجَنَازَۃُ؟ قَالَ: قَالَ: خَلْفَکَ، قَالَ: قَالَ: فَفَعَلَ ذَالِکَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ أَنْہَکَ أَنْ تُقَدِّمَنِی أَمَامَ الْجَنَازَۃِ، قَالَ: سَمِعَ امْرَأَۃً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّۃً تَرْثِی(وَفِی رِوَایَۃٍ فَجَعَلَ النِّسَائُ یَبْکِیِْنَ) فَقَالَ: مَہْ، أَلَمْ أَنْہَکُنَّ عَنْ ہٰذَا؟ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْہٰی عَنِ الْمَرَاثِی لِتُفِضْ إِحْدَاکُنَّ مِنْ عَبْرَتِہَا مَا شَائَ تْ۔ فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ تَقَدَّمَ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ ہُنَیَّہً فَسَبَّحَ بِہِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَکْنَتُمْ تَرَوْنَ أَنِّیْ اُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ إِذَا کَبَّرَ الرَّابِعَۃَ قَامَ ہُنَیَّۃً فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا فَسُئِلَ عَنْ لَحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَہْلِیَّۃِ فَقَالَ: تَلَقَّانَا یَوْمَ خَیْبَرَ حُمُرٌ أَہْلِیَّۃٌ خَارِجًا مِنَ الْقَرْیَۃِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِیْہَا فَذَبَحُوْہاَ فَإِنَّ الْقُدُوْرَ لَتَغْلِی بِبَعْضِہَا إِذَ نَادٰی مُنَادِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَہْرِیْقُوْہَا، قَالَ فَأَھْرَقْنَاہَا، وَرَأَیْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی اَوْفٰی مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳۷)
ابو اسحاق ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں:میں سیّدناعبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صاحبزادی کے جنازہ میں شریک ہوا، وہ خود اپنے سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے، عورتوں نے ان کے کوچوان سے کہا : ان کو جنازہ سے آگے لے چلو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: جنازہ کہاں ہے؟ کوچوان نے بتایا کہ وہ تو پیچھے ہے، انہوں نے ایک دو مرتبہ یہ سوال کر کے کہا: کیامیں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ تو مجھے جنازے سے آگے لے آئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک عورت کو چہرہ پیٹتے ہوئے سنا، ایک روایت میں مرثیہ پڑھنے اور ایک روایت میں رونے کا ذکر ہے، بہرحال انھوں نے کہا: چپ ہو جاؤ،کیا میں نے تمہیں اس کام سے روکا نہیں تھا؟ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرثیوں سے منع کیا ہے،ہاں تم جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ آگے بڑھے اور چار تکبیرات کہیں، اس کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چوتھی تکبیر کہتے تو اسی طرح تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے۔ پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس وقت ان سے پالتو گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: خیبر کے موقع پر ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان کو ذبح کر دیا، ابھی ہنڈیوں میں کچھ گوشت ابلنے ہی لگا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ان کو بہا دو، پس ہم نے ان کو بہا دیا۔ اس دن میں نے سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر ایک اونی چادر دیکھی جس کے کناروں پر ریشم کی کڑھائی تھی۔
Musnad Ahmad
5392
۔ (۵۳۹۲)۔ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شَکْوٰی، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ فَتَجَہَّزَتْ تُرِیدُ الْخُرُوجَ، فَجَائَ تْ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَأَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِی فَکُلِی مَا صَنَعْتُ وَصَلِّی فِی مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((صَلَاۃٌ فِیہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۳)
۔ ابراہیم بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون بیمار ہو گئی اور اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں ضرور جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز ادا کروں گی، جب وہ شفایاب ہو گئی اور روانہ ہونے لگی تو سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی، اس نے ام المومنین کو سلام کہا اور اپنی ساری بات بتلائی، سیدہ نے کہا: تو بیٹھ جا، میں نے جو کھانا تیار کیا، وہ کھا اور مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری مسجد میں ایک نماز، دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے، ما سوائے مسجد ِ حرام کے۔
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
79
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔