TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان

Chapter 1 of مہر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 6 · 10 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۹۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ صَدَاقُنَا إِذَ کَانَ فیِنْاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃَ اَوَاقٍ وَطَبَّقَ بِیَدَیْہِ وَذَالِکَ أَرْبَعُمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۸۷۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اندر موجود تھے تو ہمارا حق مہر دس اوقیہ ہوتا تھا،پھر انہوں نے اپنی انگلیوں میں تطبیق دی اور کہا: یہ کل چار سو درہم بن جاتے ہیں۔
Takhreej
(۶۹۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۱۷ (انظر: ۸۸۰۷)
Explanation
فوائد:… دس کے عدد کی وضاحت کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔
6919
Sahih
۔ (۶۹۲۰)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلٰی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: فَکَانَ الْحَکَمُ یَأْخُذُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۰۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی،حکم اسی کو لیتے تھے۔
Takhreej
(۶۹۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۳۷، ۵۰۷۲، ومسلم: ۱۴۲۷ (انظر: ۱۳۹۶۲)
Explanation
فوائد:… مشہور قول اور اکثر اہل علم کی رائے کے مطابق ’’نواۃ‘‘ سے مراد سونے کا وہ سکہ ہے، جس کی قیمت پانچ درہم چاندی تھی، اس رائے کی تائید سنن بیہقی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَۃَ دَرَاھِمَ۔‘‘ … نواۃ کے وزن کے برابر سونے کے عوض، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
6920
Sahih
۔ (۶۹۲۱)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأٰی عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَۃٍ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا؟)) قَالَ: اِنِّیْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً عَلٰی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، فَقَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۰۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر زردی کا نشان دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت نازل کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کا ہی ہو۔
Takhreej
(۶۹۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۵۵، ۶۳۸۶، ومسلم: ۱۴۲۷ (انظر: ۱۳۳۷۰)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ زعفران وغیرہ کا زرد رنگ دلہن کی خوشبو ہے اور اسی سے یہ رنگ سیدنا عبد الرحمن b کو لگ گیا تھا، نہ کہ انھوں نے بارادہ یہ کام کیا تھا، کیونکہ نبی کریمa نے مردوں کو زعفران سے منع فرمایا ہے، اسی طرح مردوں کو خلوق خوشبو سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی عورتوں کی خوشبو ہے۔ نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ aنے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ’’مَھْیَمْ؟‘‘ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن b کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔ ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ a کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ a نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن b کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔ اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔
6921
Sahih
۔ (۶۹۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ حَدْرَدٍ الْاَسْلَمِیِّ أَنَّہ، أَتَّی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَفْتِیْہِ فِی امْرَأَۃٍ، فَقَالَ: ((کَمْ أَمْہَرْتَہا؟)) قَالَ: مائْتَیْ دِرْھَمٍ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتُمْ تَغْرِفُوْنَ مِنْ بَطَحَانَ مَازِدْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۷)
۔ سیدنا ابو حدرد اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور ایک عورت کے بارے میںپوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟ انھوں نے کہا : دو سو درہم، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم مدینہ کی بطحان وادی سے چلوؤں سے چاندی بھرو تو پھر بھی اس مقدار سے زیادہ نہ کرو۔
Takhreej
(۶۹۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، محمد بن ابراہیم التیمی لم یسمع من ابی حدرد، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۸۸۲، والطیالسی: ۱۳۰۰، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۱۸۹ (انظر: ۱۵۷۰۶)
6922
Zaeef
۔ (۶۹۲۳)۔ عَنْ اَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُوْلُ: أَلَا لَا تُغْلُوْا صُدُقَ النِّسَائِ، فَاِنَّہَا لَوْ کَانَتْ مَکْرُمَۃً فِی الدُّنْیَا أَوْ تَقْوٰی فِی الْآخِرَۃِ لَکَانَ أَوْلَاکُمْ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، مَا أَنْکَحَ شَیْئًا مِنْ بَنَاتِہِ وَلَا نِسَائِہِ فَوْقَ اثْنَتَیْ عَشَرَۃَ أُوْقِیَّۃً، وَأُخْرٰی تَقُوْلُوْنَہَا فِیْ مَغَازِیْکُمْ: قُتِلَ فُلَانٌ شَہِیْدًا، مَاتَ فُلَانٌ شَہِیْدًا، وَلَعَلَّہُ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِہِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتَہُ ذَھَبًا وَفِضَّۃًیَبْتَغِی التِّجَارَۃَ فَـلَا تَقُوْلُوْا ذَاکُمْ، وَلٰکِنْ قُوْلُوْا کَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَہُوَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۵)
۔ ابو العجفاء سلمی کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر میں غلوّ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کا باعث ہوتی تو تم میں اس کے سب سے زیادہ مستحق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہوتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اپنی بیٹیوں اور بیویوں کا نکاح بارہ اوقیوں سے زیادہ میں نہیں کیا، ایک اور بات بھی ہے، تم اپنے غزووں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاںشہید ہو گیا ہے، فلاں نے شہادت پائی ہے، اس میں بھی احتیاط برتو، ہو سکتا ہے اس نے اپنے جانور کی پشت یا اس کے پالان کا کنارہ سونے اور چاندی کی طلب میں اور تجارت میں بوجھل کیا ہو، اس لئے اس طرح نہ کہا کرو کہ فلاں شہید ہو گیا، بلکہ اس طرح کہا کرو جس طرح محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے کہ جو اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا، وہ جنتی ہے۔
Takhreej
(۶۹۲۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۱۰۶، والنسائی: ۶/ ۱۱۷، وابن ماجہ: ۱۸۸۷، والترمذی: ۱۱۱۴م (انظر: ۲۸۵)
Explanation
فوائد:… بارہ اوقیے، چارسو اسی درہم بنتے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہc کو چار ہزار درہم بطور حق مہر دیا گیا تھا، لیکن وہ نجاشی نے دیا تھا، نہ کہ نبی کریمa نے۔ حدیث نمبر (۶۹۲۷) میں سیدہ عائشہ نے ساڑھے بارہ اوقیے مہر بیان کیا ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عمر b نے کسر کا ذکر نہ کیا ہے۔ امہات المؤمنین کے حق مہر کے بارے میں سیدنا عمر b اور سیدہ عائشہ cکے ان اقوال کو آپ a کی اکثر بیویوں پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سیدہ خدیجہ، سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیے نہیں تھا۔ سیدنا عمر b کے قول کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی بظاہر جہادی قافلے کے ساتھ جا رہا ہے، لیکن اس کا ارادہ تجارت کا ہو اور اس نے باقاعدہ اپنی سواریوں پر اسی نیت سے کچھ سامان بھی لادا ہوا ہو، اس لیے ہر ایک کو فوراً شہید کہہ دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
6923
Sahih
۔ (۶۹۲۴)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ فَزَارَۃَ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلٰی نَعْلَیْنِ فَأَجَازَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِکَاحَہ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۶۴)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور جوتوں کا ایک جوڑا مہر میں دیا، اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔
Takhreej
(۶۹۲۴) اسنادہ ضعیف لضعف عاصم بن عبید اللہ العمری، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۸(انظر: ۱۵۶۷۶)
6924
Zaeef
۔ (۶۹۲۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ یُمْنِ الْمَرْأَۃِ تَیْسِیْرُ خِطْبَتِہَا وَتَیْسِیْرُ صَدَاقِہَا وَتَیْسِیْرُ رَحِمِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۸۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت کی ِ برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم آسانی والا ہو۔
Takhreej
(۶۹۲۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البزار: ۱۴۱۷، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۶۳۷، والبیھقی: ۷/ ۲۳۵ (انظر: ۲۴۴۷۹)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۸۵۲) میں اس حدیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
6925
Sahih
۔ (۶۹۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ رَجُلًا أَعْطٰی امْرَأَۃً صَدَاقًا مِلئَ یَدَیْہِ طَعَامًا کَانَتْ لَہُ حَلَالًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۸۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی خاتون کو لپ بھر اناج بطور حق مہر ادا کردے، تو وہ اس کے لئے حلال ہو جائے گی۔
Takhreej
(۶۹۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف صالح بن مسلم، أخرجہ ابوداود: ۲۱۱۰ (انظر: ۱۴۸۲۴)
6926
Zaeef
۔ (۶۹۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَمْ کَانَ صَدَاقُ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: کَانَ صَدَاقُہُ لِأَزْوَاجِہِ اثْنَتَیْ عَشَرَۃَ أُوْقِیَّۃً وِنَشًّا، قَالَتْ: اَ تَدْرِیْ مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: نِصْفُ أُوْقِیَّۃٍ، فِتِلْکَ خَمْسُ مِائِۃِ دِرْھَمٍ، فَہٰذَا صَدَاقُ رَسُوْلِ اللّٰہِ A۔ (مسند احمد: ۲۵۱۳۳)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کتنامہر دیتے تھے، انھوں نے کہا:آپ کی بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیے تھا۔پھر انھوں نے کہا: تجھے نَشّ کا پتہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد نصف اوقیہ ہے، یہ ساڑھے بارہ اوقیے کل پانچ سو درہم بنتے ہیں،یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں کا حق مہر تھا۔
Takhreej
(۶۹۲۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الشافعی فی ’’مسندہ‘‘: ۲/ ۵، والبیھقی فی ’’معرفۃ السنن والآثار‘‘: ۱۴۲۳۲(انظر: ۲۴۶۲۶)
6927
Sahih
۔ (۶۹۲۸)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ وَکَانَ أَتَی النَّجَاشِیَّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِیْبَۃَ وَإِنَّہَا بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ، زَوَجَّہَا إِیَّاہُ النَّجَاشِیُّ وَأَمْہَرَھَا أَرْبَعَۃَ آلَافٍ، ثُمَّ جَہَّزَھَا مِنْ عِنْدِہِ وَبَعَثَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ شُرَحْبِیْلَ بْنِ حَسَنَۃَ، وَجِہَازُھَا کُلُّہُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ وَلَمْ یُرْسِلَ إِلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَیْئٍ، وَکَانَ مُہُوْرُ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ مِائَۃِ دِرْھَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۵۳)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عبیداللہ بن حجش کے عقد میں تھیں،جب وہ نجاشی کے پاس آیا تو وہاں فوت ہو گیا،بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام حبیبہ سے شادی کرلی، جبکہ وہ ابھی تک حبشہ کی سرزمین میں تھیں، نجاشی نے وکیل بن کر ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادیکی اور ان کا حق مہر چار ہزار درہم ادا کیا، پھر اس نے اپنے پا س سے سیدہ کو تیارکیا اور ان کو سیدنا شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیج دیا، ان کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دیگر بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔
Takhreej
(۶۹۲۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۲۱۰۷، والنسائی: ۶/ ۱۱۹ (انظر: ۲۷۴۰۸)
Explanation
فوائد:… حق مہر کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ اگلے باب کے آخر میں وضاحت کی گئی ہے۔
6928
Sahih