۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر موجود تھے تو ہمارا حق مہر دس اوقیہ ہوتا تھا،پھر انہوں نے اپنی انگلیوں میں تطبیق دی اور کہا: یہ کل چار سو درہم بن جاتے ہیں۔
فوائد:… مشہور قول اور اکثر اہل علم کی رائے کے مطابق ’’نواۃ‘‘ سے مراد سونے کا وہ سکہ ہے، جس کی قیمت پانچ درہم چاندی تھی، اس رائے کی تائید سنن بیہقی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَۃَ دَرَاھِمَ۔‘‘ … نواۃ کے وزن کے برابر سونے کے عوض، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت نازل کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کا ہی ہو۔
فوائد:… امام نووی نے کہا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ زعفران وغیرہ کا زرد رنگ دلہن کی خوشبو ہے اور اسی سے یہ رنگ سیدنا عبد الرحمن b کو لگ گیا تھا، نہ کہ انھوں نے بارادہ یہ کام کیا تھا، کیونکہ نبی کریمa نے مردوں کو زعفران سے منع فرمایا ہے، اسی طرح مردوں کو خلوق خوشبو سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی عورتوں کی خوشبو ہے۔
نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ aنے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ’’مَھْیَمْ؟‘‘ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن b کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔
ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ a کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ a نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن b کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔
اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ایک عورت کے بارے میںپوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟ انھوں نے کہا : دو سو درہم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مدینہ کی بطحان وادی سے چلوؤں سے چاندی بھرو تو پھر بھی اس مقدار سے زیادہ نہ کرو۔
Takhreej
(۶۹۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، محمد بن ابراہیم التیمی لم یسمع من ابی حدرد، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۸۸۲، والطیالسی: ۱۳۰۰، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۱۸۹ (انظر: ۱۵۷۰۶)
۔ ابو العجفاء سلمی کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر میں غلوّ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کا باعث ہوتی تو تم میں اس کے سب سے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنی بیٹیوں اور بیویوں کا نکاح بارہ اوقیوں سے زیادہ میں نہیں کیا، ایک اور بات بھی ہے، تم اپنے غزووں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاںشہید ہو گیا ہے، فلاں نے شہادت پائی ہے، اس میں بھی احتیاط برتو، ہو سکتا ہے اس نے اپنے جانور کی پشت یا اس کے پالان کا کنارہ سونے اور چاندی کی طلب میں اور تجارت میں بوجھل کیا ہو، اس لئے اس طرح نہ کہا کرو کہ فلاں شہید ہو گیا، بلکہ اس طرح کہا کرو جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جو اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا، وہ جنتی ہے۔
فوائد:… بارہ اوقیے، چارسو اسی درہم بنتے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہc کو چار ہزار درہم بطور حق مہر دیا گیا تھا، لیکن وہ نجاشی نے دیا تھا، نہ کہ نبی کریمa نے۔ حدیث نمبر (۶۹۲۷) میں سیدہ عائشہ نے ساڑھے بارہ اوقیے مہر بیان کیا ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عمر b نے کسر کا ذکر نہ کیا ہے۔
امہات المؤمنین کے حق مہر کے بارے میں سیدنا عمر b اور سیدہ عائشہ cکے ان اقوال کو آپ a کی اکثر بیویوں پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سیدہ خدیجہ، سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیے نہیں تھا۔
سیدنا عمر b کے قول کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی بظاہر جہادی قافلے کے ساتھ جا رہا ہے، لیکن اس کا ارادہ تجارت کا ہو اور اس نے باقاعدہ اپنی سواریوں پر اسی نیت سے کچھ سامان بھی لادا ہوا ہو، اس لیے ہر ایک کو فوراً شہید کہہ دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور جوتوں کا ایک جوڑا مہر میں دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔
Takhreej
(۶۹۲۴) اسنادہ ضعیف لضعف عاصم بن عبید اللہ العمری، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۸(انظر: ۱۵۶۷۶)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت کی ِ برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم آسانی والا ہو۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی خاتون کو لپ بھر اناج بطور حق مہر ادا کردے، تو وہ اس کے لئے حلال ہو جائے گی۔
Takhreej
(۶۹۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف صالح بن مسلم، أخرجہ ابوداود: ۲۱۱۰ (انظر: ۱۴۸۲۴)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنامہر دیتے تھے، انھوں نے کہا:آپ کی بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیے تھا۔پھر انھوں نے کہا: تجھے نَشّ کا پتہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد نصف اوقیہ ہے، یہ ساڑھے بارہ اوقیے کل پانچ سو درہم بنتے ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا حق مہر تھا۔
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، عبیداللہ بن حجش کے عقد میں تھیں،جب وہ نجاشی کے پاس آیا تو وہاں فوت ہو گیا،بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ سے شادی کرلی، جبکہ وہ ابھی تک حبشہ کی سرزمین میں تھیں، نجاشی نے وکیل بن کر ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادیکی اور ان کا حق مہر چار ہزار درہم ادا کیا، پھر اس نے اپنے پا س سے سیدہ کو تیارکیا اور ان کو سیدنا شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیا، ان کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔