TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6928 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 10 in this chapter
مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۶۹۲۸)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ وَکَانَ أَتَی النَّجَاشِیَّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِیْبَۃَ وَإِنَّہَا بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ، زَوَجَّہَا إِیَّاہُ النَّجَاشِیُّ وَأَمْہَرَھَا أَرْبَعَۃَ آلَافٍ، ثُمَّ جَہَّزَھَا مِنْ عِنْدِہِ وَبَعَثَ بِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ شُرَحْبِیْلَ بْنِ حَسَنَۃَ، وَجِہَازُھَا کُلُّہُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ وَلَمْ یُرْسِلَ إِلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَیْئٍ، وَکَانَ مُہُوْرُ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ مِائَۃِ دِرْھَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۵۳)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عبیداللہ بن حجش کے عقد میں تھیں،جب وہ نجاشی کے پاس آیا تو وہاں فوت ہو گیا،بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام حبیبہ سے شادی کرلی، جبکہ وہ ابھی تک حبشہ کی سرزمین میں تھیں، نجاشی نے وکیل بن کر ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادیکی اور ان کا حق مہر چار ہزار درہم ادا کیا، پھر اس نے اپنے پا س سے سیدہ کو تیارکیا اور ان کو سیدنا شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیج دیا، ان کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دیگر بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔
6928
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۹۲۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۲۱۰۷، والنسائی: ۶/ ۱۱۹ (انظر: ۲۷۴۰۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… حق مہر کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ اگلے باب کے آخر میں وضاحت کی گئی ہے۔

Related Chapters

235
1
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
2
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
3
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
4
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
7
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
9
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
Sahih Muslim
10
Chapter: It is recommended to get married and arrange marriages in Shawwal, and it is recommended to consummate the marriage in that month
شوال کے مہینے میں شادی کرنا، شادی کرانا اور شوال میں رخصتی ہونا مستحب ہے
Sahih Muslim
11
Chapter: It is recommended for the one who wants to marry a woman to look at her face and hands before proposing marriage to her
مرد کے لیے جس عورت سے وہ شادی کرنا چاہے، اس کا چہرے اور ہتھیلیاں دیکھ لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
12
Chapter: The Permissibility Of Branding Animals Anywhere But On The Face, And This Is Recommended In The Case Of Animals Given As Zakat Ot Jizyah
انسان کے علاوہ حیوانوں کو منہ کے علاوہ جس کے کسی اور حصے پر نشانی ثبت کرنے کا جواز زکاۃ اور جزیے میں ملنے والے جانوروں کو نشانی لگا نا (تا کہ وہ گم نہ ہو جائیں)مستحب ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended For Shrouding
باب: کس رنگ کا کفن مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Hour In Which It Is Recommend To Fight
باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended For A Ring's Fass
باب: انگوٹھی کا کیسا نگینہ مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Whatever A Lot Of It Intoxicates, A Little Of It Is Unlawful
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
Jam e Tirmazi
23
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
24
ہر تکریم و تزئین والے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
25
کلی سے پہلے ہاتھ دھونے کے مستحب ہونے اور رات کی نیند کے لیے تاکیدی طور پر دھونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
27
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
28
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
30
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
31
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
32
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
فرض نماز اور اس کی سنتوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
Musnad Ahmad
39
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
41
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
43
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
44
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
Musnad Ahmad
45
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
46
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
48
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
49
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
50
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
10540
۔ (۱۰۵۴۰)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحٰرِثِ بْنِ ھِشَامٍ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ابْنَۃِ أَبِیْ أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَۃَ جَاوَرْنَا بِھَا خَیْرَ جَارِ النَّجَاشِیِّ، أَمِنَّا عَلٰی دِیْنِنَا وَعَبَدْنَا اللّٰہَ لَا نُؤْذَیٰ وَلَا نَسْمَعُ شَیْئًا نَکْرَھُہُ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِکَ قُرَیْشًا،اِئْتَمَرُوْا أَنْ یَبْعَثُوْا اِلَی الْنَّجَاشِیِّ فِیْنَا رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ، وَاَنْ یُھْدُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَا مِمَّا یُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَکَّۃَ، وَکَانَ مِنْ أَعْجَبِ مَا یَأْتِیْہِ مِنْھَا اِلَیْہِ الْأَدَمُ، فَجَمَعُوْا لَہُ اَدَمًا کَثِیْرًا، وَلَمْ یَتْرُکُوْا مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقًا اِلَّا أَھْدَوْا لَہُ ھَدِیَّۃً، ثُمَّّ بَعَثُوْا بِذٰلِکَ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیِّ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّھَمِیَّ، وَاَمَرُوْھُمَا أَمْرَھُمْ، وَقَالُوْا لَھُمَا: ادْفَعُوْا اِلَی کُلِّ بِطْرِیْقٍ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمُوْا النَّجَاشِیَّ فِیْھِمْ، ثُمَّّ قَدِّمُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَاہُ، ثُمَّّ سَلُوْہُ أَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْکُمْ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَھُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَقَدِمْنَا عَلَی النَّجَاشِیِّ، وَنَحْنُ عِنْدَہُ بِخَیْرِ دَارٍ وَعِنْدَ خَیْرِ جَارٍ، فَلَمْ یَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقٌ اِلَّا دَفْعَا اِلَیْہِ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَا النَّجَاشِیَّ، ثُمَّّ قَالَا لِکُلِّ بِطْرِیْقٍ مِنْھُمْ: إِنَّہُ قَدَ صَبَأَ اِلَی بَلَدِ الْمَلَکِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَھَائُ، وَفَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَجَاؤُا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ، وَقَدْ بَعَثَنَا اِلَی الْمَلِکِ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ لِیَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ، فَاِذَا کَلَّمْنَا الْمَلِکَ فِیْھِمْ فَتُشِیْرُوْا عَلَیْہِ بِأَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْنَا وَلَا یُکَلِّمُھُمْ، فَاِنَّ قَوْمَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَقَالُوْا لَھُمَا: نَعَمْ، ثُمَّّ اِنَّھُمَا قَرَّبَا ھَدَایَا ھُمْ اِلَی النَّجَاشِیِّ فَقَبِلَھَا مِنْھُمَا، ثُمَّّ کَلَّمَاہُ فَقَالَا لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! اِنَّہُ قَدْ صَبَأَ اِلٰی بَلَدِکَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفْھَائُ، فَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکَ وَجَائُ وْا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ، وَقَدَ بَعَثَنَا اِلَیْکَ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ حَتّٰی آبَاؤِھِمْ وَأَعْمَامِھِمْ وَعَشَائِرِھِمْ لِتَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ فَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ وَعَاتَبُوْھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ أَبْغَضَ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ یَسْمَعَ النَّجَاشِیُّ کَلَامَھُمْ، فَقَالَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ: صَدَقُوْا أَیُّھَا الْمَلِکُ! قَوْمُھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَأَسْلِمْھُمْ اِلَیْھِمَا فَلْیَرُدَّاھُمْ اِلٰی بِلَادِھِمْ وَقَوْمِھِمْ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّجَاشِیّ،ُ ثُمَّّ قَالَ: لَاھَا اللّٰہِ! اَیْمُ اللّٰہِ! اِذًا لَا أُسْلِمُھُمْ اِلَیْھِمَا وَلَا أَکَادُ قَوْمًا جَاوَرُوْنِیْ وَنَزَلُوْا بِلَادِیْ، اِخْتَارُوْنِیْ عَلٰی مَنْ سِوَایَ حَتّٰی أَدْعُوَھُمْ فَأَسْئَلَھُمْ مَایَقُوْلُ ھٰذَانِ فِیْ أَمْرِھِمْ، فَاِنْ کَانُوْا کَمَا یَقُوْلُوْنَ أَسْلَمْتُھُمْ اِلَیْھِمَا وَرَدَدْتُھُمْ اِلٰی قَوْمِھِمْ، وَاِنْ کَانُوْا عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مَنَعْتُھُمْ مِنْھُمَا وَأَحْسَنْتُ جِوَارَھُمْ مَا جَاوَرُوْنِیْ، قَالَتْ: ثُمَّّ أَرْسَلَ اِلَی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَاھُمْ، فَلَمَّا جَائَ ھُمْ رَسُوْلُہُ اجْتَمَعُوْا، ثُمَّّ قَالَ بَعْضُھْمُ لِبَعْضٍ: مَاتَقُوْلُوْنَ لِلرَجُلٍ اِذَا جِئْتُمُوْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا، وَمَا أَمَرَنَا بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنٌ فِیْ ذٰلِکَ مَاھُوْ کَائِنٌ، فَلَمَّا جَائُ وْہُ وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِیُّ اَسَاقِفَتَہُ فَنَشَرُوْا مَصَاحِفَھُمْ حَوْلَہُ سَأَلَھُمْ فَقَالَ: مَا ھٰذَا الدِّیْنُ الَّذِیْ فَارَقْتُمْ فِیْہِ قَوْمَکُمْ وَلَمْ تَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِیْ وَلَا فِیْ دِیْنِ أَحَدٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمُمِ؟ قَالَتْ: فَکَانَ الَّذِیْ کَلَّمَہُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ فَقَالَ لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! کُنَّا قَوْمًا أَھْلَ جَاھِلِیَّۃٍ، نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأکُلُ الْمَیْتَۃَ، وَنَأْتِی الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِیْیئُ الْجِوَارَ، یَأْکُلُ الْقَوِیُّ مِنَّا الضَّعِیْفَ، فَکُنَّا عَلٰی ذٰلِکَ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْنَا رَسُوْلًا مِنَّا، نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ، وَأَمَانَتَہُ وَعِفَافَہُ، فَدَعَانَا اِلَی اللّٰہِ لِنُوَحِّدَہُ وَنَعْبُدَہُ وَنَخْلَعَ مَا کُنَّا نَحْنُ نَعْبُدُ وَأَبَاؤُنَا مِنْ دَوْنِہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ وَالْأَوْثَانِ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدَیْثِ وَأَدَائِ الْأَمَانَۃِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْکَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَائِ، وَنَھَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّوْرِ وَأَکْلِ مَالِ الْیَتِیْمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَۃِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَانُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّیَامِ، قَالَ: فَعَدَّدَ عَلَیْہِ أُمُوْرَ الْاِسْلَامِ، فَصَدَّقْنَاہُ وَآمَنَّا بِہٖوَاَتْبَعْنَاہُعَلٰی مَا جَائَ بِہٖوَعَبَدْنَااللّٰہَوَحْدَہُفَلَمْنُشْرِکْبِہٖشَیْئًا، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَیْنَا وَأَحْلَلْنَا مَا أَحَلَّ لَنَا، فَعَدَا عَلَیْنَا قَوْمَنَا فَعَذَّبُوْنَا وَفَتَنُوْنَا عَنْ دِیْنِنَا لِیَرُدُّوْنَا اِلٰی عِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا کُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَلَمَّا قَھَرُوْنَا وَظَلَمُوْنَا وَشَقُّوْا عَلَیْنَا وََحَالُوْا بَیْنَنَا وَبَیْنَ دِیْنِنَا خَرَجْنَا اِلٰی بَلَدِکَ وَاخْتَرْنَاکَ عَلَی مَنْ سِوَاکَ وَرَغِبْنَا فِیْ جِوَارِکَ وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَکَ أَیُّھَا الْمَلِکُ!، قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: ھَلْ مَعَکَ مِمَّا جَائَ بِہٖعَنِاللّٰہِشَیْئٌ؟ قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ: جَعْفَرٌ: نَعَمْ، فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: فَاقْرَأْہُ عَلَیَّ! فَقَرَأَ عَلَیْہِ صَدْرًا مِنْ {کٓھٰیٰعٓصٓ} قَالَتْ: فَبَکٰی وَاللّٰہِ! النَّجَاشِیُّ حَتّٰی أَخْضَلَ لِحْیَتَہُ، وَبَکَتْ اَسَاقِفَتُہُ حَتّٰی اَخْضَلُوْا مَصَاحِفَھُمْ حِیْنَ سَمِعُوْا مَا تَلَاہُ عَلَیْھِمْ، ثُمَّّ قَالَ النَّجَاشِیُّ: اِنَّ ھٰذَا وَاللّٰہِ! وَالَّذِیْ جَائَ بِہٖمُوْسٰی لَیَخْرُجُ مِنْ مِشْکَاۃٍ وَاحِدَۃٍ، اِنْطَلِقَا فَوَاللّٰہِ! لَا اُسْلِمُھُمْ اِلَیْکُمْ أَبَدًا وَلَا أَکَادُ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللّٰہِ! لَأُنَبِّئَنَّھُمْ غَدًا عَیْبَھُمْ عِنْدَھُمْ، ثُمَّّ أَسْتَأْصِلُ بِہٖخَضْرَائَھُمْ،قَالَتْ: فَقَالَلَہُعَبْدُاللّٰہِبْنُأَبِیْ رَبِیْعَۃَ: وَکَانَ أَتْقَی الرَّجُلَیْنِ فِیْنَا: لَا تَفْعَلْ فِاِنَّ لَھُمْ أَرْحَامًا وَاِنْ کَانُوْا قَدْ خَالَفُوْنَا، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَأُخْبِرَنَّہُ أَنَّھُمْ یَزْعُمُوْنُ أَنَّ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَبْدٌ، قَالَتْ: غَدَا عَلَیْہِ الْغَدَ، فَقَالَ: أَیُّھَا الْمَلِکُ: اِنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ قَوْلًا عَظِیْمًا فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْ فَاسْأَلْھُمْ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْیَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، قَالَتْ: وَلَمْ یَنْزِلْ بِنَا مِثْلُہُ، فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: مَاذَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسٰی اِذَا سَأَلَکُمْ عَنْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! فِیْہِ مَا قَالَ اللّٰہُ وَمَا جَائَ بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنًا فِیْ ذٰلِکَ مَا ھُوَ کَائِنٌ، فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ قَالَ لَھُمْ: مَاتَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ؟ فَقَالَ لَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ: نَقُوْلُ فِیْہِ الَّذِیْ جَائَ بِہٖنَبِیُّنُا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ وَرُوْحُہُ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاھَا اِلَی مَرْیَمَ الْعَذْرَائِ الْبَتُوْلِ، قَالَتْ: فَضَرَبَ النَّجَاشِیُّ بِیَدِہِ اِلَی الْأَرْضِ فَاَخَذَ مِنْھَا عُوْدًا ثُمَّّ قَالَ: مَا عَدَا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ مَا قُلْتَ ھٰذَا الْعُوْدَ، فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ حِیْنَ قَالَ مَا قَالَ، فَقَالَ: وَاِنْ نَخَرْتُمْ وَاللّٰہِ! اذْھَبُوْا فَأَنْتُمْ سَیُوْمٌ بِاَرْضِیْ وَالسَّیُوْمُ الْآمِنُوْنَ) مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ ثُمَّّ مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِیْ دَبْرًا ذَھَبًا وَأَنَّیْ أَذَیْتُ رَجُلًا مِنْکُمْ، (وَالدَّبَرُ بِلِسَانِ الْحَبْشَۃِ: اَلْجَبَلُ) رُدُّوْا عَلَیْھِمَا ھَدَایَا ھُمَا فَـلَا حَاجَۃَ لَنَا بِھَا، فَوَاللّٰہِ! مَا أَخَذَ اللّٰہُ مِنِّی الرِّشْوَۃَ حِیْنَ رَدَّ عَلَیَّ مُلْکِیْ فَآخُذُ الرِّشْوَۃَ فِیْہِ، وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِیَّ فَأُطِیْعَھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِہِ مَقْبُوْحَیْنِ مَرْدُوْدًا عَلَیْھِمَا مَا جَائَ ا بِہٖ،وَأَقَمْنَاعِنْدَہُبِخَیْرِ دَارٍ مَعَ خَیْرِ جَارٍ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ نَزَلَ بِہٖیَعْنِیْ مَنْ یُنَازِعُہُ فِیْ مُلْکِہِ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ کَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاہُ عِنْدَ ذٰلِکَ تَخَوُّفًا أَنْ یَظْھَرَ ذٰلِکَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فَیَأْتِیَ رَجُلٌ لَا یَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا کَانَ النَّجَاشِیُّیَعْرِفُ مِنْہُ، قَالَتْ: وَسَارَ النَّجَاشِیُّ وَبَیْنَھُمَا عُرْضُ النِّیْلِ، قَالَتْ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ رَجُلٌ یَخْرُجُ حَتّٰییَحْضُرَ وَقْعَۃَ الْقَوْمِ، یَأْتِیَنَا بِالْخَبْرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: أَنَا، قَالَتْ: وَکَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَتْ: فَنَفَخُوْا لَہُ قِرْبَۃًفَجَعَلَھَا فِیْ صَدْرِہِ ثُمَّّ سَبَحَ عَلَیْھَا حَتّٰی خَرَجَ اِلٰی نَاحِیَۃِ النِّیْلِ الَّتِیْ بِھَا مُلْتَقَی الْقَوْمِ، ثُمَّّ انْطَلَقَ حَتّٰی حَضَرَھُمْ، قَالَتْ: وَدَعَوْنَا اللّٰہَ لِلنَّجَاشِیِّ بِالظُّھُوْرِ عَلٰی عَدُوِّہِ وَالتَّمْکِیْنِ لَہُ فِیْ بِلَادِہِ، وَاسْتَوْسَقَ عَلَیْہِ أَمْرُ الْحَبَشَۃِ، فَکُنَّا عِنْدَہُ فِیْ خَیْرِ مَنْزِلٍ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ۔(مسند احمد: ۱۷۴۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حبشہ کی سرزمین میں اترے اور نجاشی کو بہترین پڑوسی پایا، ہم اپنے دین پر پر امن ہو گئے اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ہمیں نہ کوئی تکلیف دی جاتی تھی اور نہ ہم کوئی ناپسند بات سنتے تھے، جب قریشیوں کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں نے مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ دو قوی افراد کو نجاشی کے پاس بھیجا جائے اور نجاشی کے لیے ایسے تحائف کا انتخاب کیا جائے، جن کو مکہ کا عمدہ مال سمجھا جاتا ہے اور مکہ سے سب سے پسندیدہ چیز سالن تھی، لہٰذا انھوں بڑی مقدار میں سالن جمع کیا اور انھوں نے حبشہ کے ہر بڑے پادری کے لیے تحفہ ارسال کرنے کا فیصلہ کیا، پھر انھوں عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی اور عمرو بن عاص بن وائل سہمی کو تحائف دے کر بھیجا اور ان کو ساری باتیں سمجھا دیں، انھوں نے اِن دو افراد سے کہا: نجاشی سے بات کرنے سے پہلے ہر بڑے پادری کو اس کا حصہ دو اور پھر نجاشی کے سامنے اس کے تحائف پیش کر دو اور اس سے مطالبہ کرو کہ وہ ان افراد کو تمہارے سپرد کر دے اور اس کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہ دو۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم لوگ نکلے، نجاشی کے پاس پہنچے اور ہم اس کے پاس بہترین گھر میں اور بہترین پڑوسی کے پڑوس میں تھے۔ اتنے میں اِدھر سے قریشیوں کا وفد پہنچ گیا، انھوں نے نجاشی سے بات کرنے سے پہلے کوئی بڑا پادری نہیں چھوڑا ، مگر اس کو اس کا تحفہ پیش کیا، پھر انھوں نے ہر بڑے پادری سے کہا: ہماری قوم کے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر نجاشی بادشاہ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور وہ تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین گھڑ لیا ہے، اس دین کو ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو، ہماری قوم کے اشراف نے ہمیں اس بادشاہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ وہ ان کو واپس کر دے، لہٰذا جب ہم بادشاہ سے بات کریں تو تم نے یہی مشورہ دینا ہے کہ وہ ان کو ہمارے سپرد کر دیں اور بادشاہ کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دینا، پس بیشک ان لوگوں کی قوم کے لوگ ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، پادریوں نے کہا: بالکل ٹھیک ہے، بعد ازاں قریشیوں کے ان دو قاصدوں نے نجاشی کو تحائف پیش کیے اور اس نے ان سے قبول کیے، پھر انھوں نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہمارے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر آپ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور انھوں نے تم لوگوں کا دین بھی اختیار نہیں کیا ، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین ایجاد کر لیا ہے، نہ ہم اس کو جانتے ہیں اور نہ تم، ان کی قوم کے اشراف،یہاں تک کہ ان کے آبائ، چچوں اور قبیلوں کے دوسرے افراد نے ہمیں آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ ان کو ہماری طرف لوٹا دیں، ہم ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں اور کس چیز کی وجہ سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، عبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بات یہ تھی کہ نجاشی اُن صحابہ کی بات سنے، اتنے میں اس کے ارد گرد والے پادریوں نے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں، ان کی ہی بہتر انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتی ہے اور جان سکتی ہے کہ یہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، لہٰذا آپ اِن لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دو افراد اِن کو اپنے وطن اور قوم کی طرف واپس لے جائیں،یہ بات سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا اور اس نے کہا: مخلوق کے خالق کی قسم! اللہ کی قسم! میں اِن کو اُن کے سپرد نہیں کروں گا اور قریب نہیں ہے کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے، اِن لوگوں نے میرا پڑوس اختیار کیا ہے، میرے ملک میں آئے ہیں اور مجھے دوسرے بادشاہوں پر ترجیح دی ہے، لہٰذا میں ان کو بلا کر اس بارے میں ان سے پوچھوں گا کہ یہ دو آدمی کیا کہتے ہیں، اگر تو معاملہ ایسے ہی ہوا، جیسےیہ کہہ رہے ہیں تو میں اِن کے سپرد کر دوں گا اور اُن کو اُن کی قوم کی طرف لوٹا دوں گا، لیکن اگر کوئی اور معاملہ ہوا تو اُن کو روک لوں گا اور انھوں نے جو پڑوس اختیار کیا ہے، میں اس کو اچھا ثابت کروں گا۔ پھر نجاشی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلایا، جب اس کا قاصد آیا تو وہ جمع ہو گئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: جب تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے تو کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے جو ہمیں علم ہے اور جو کچھ ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے، اس کی وجہ سے جو کچھ ہونا ہے، وہ ہو جائے (ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں)، جب وہ صحابہ اس کے پاس پہنچ گئے اور اس نجاشی نے پادریوں کو بلایا، وہ اس کے ارد گرد مصاحف کھول کر بیٹھ گئے، نجاشی نے کہا: اس دین کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر تم اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو اور میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے، بلکہ تم نے موجودہ امتوں میں سے کسی امت کے دین کو نہیں اپنایا؟ سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، برے کام کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے اور ہمارا قوی آدمی ضعیف کو کھا رہا تھا، ہمارے یہی حالات تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، ہم اس کے نسب، صدق، امانت اور پاکدامنی کو جانتے تھے، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی کہ اس کو ایک تسلیم کریں، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور بتوں سے باز آ جائیں کہ جن کی ہم اور ہمارے آباء عبادت کرتے تھے، نیز اس نبی نے ہمیں سچی بات، ادائے امانت، صلہ رحمی اور بہترین پڑوس اختیار کرنے کا اور حرام کاموں سے اور قتل سے رکنے کا حکم دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں برے امور، جھوٹ بات، یتیم کا مال کھانے سے اور پاکدامن خاتون پر تہمت لگانے سے منع کیا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز اور زکاۃ ادا کریں اور روزے رکھیں، اس طرح سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نجاشی کے سامنے امورِ اسلام کا ذکر کیا اور پھر کہا: پس ہم نے اس رسول کی تصدیق کی، اس کے ساتھ ایمان لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم پر حرام قرار دیا، ہم نے اس کو حرام سمجھا اور جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے حلال قرار دیا، ہم نے اس کو حلال سمجھا۔ ان وجوہات کی بنا پر ہماری قوم نے ہم پر زیادتی کی، ہمیں ایذا پہنچائی، ہمارے دین کے بارے میں ہمیں فتنے میں ڈالا تاکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں اور ان خبیث چیزوں کو حلال سمجھیں، جن کو ہم جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے، پھر جب ان لوگوں نے ہم پر سختی کی، ہم پر ظلم کیا، ہمیں مشقت میں ڈالا اور ہمارے اور ہمارے دین کے مابین حائل ہونا چاہا تو ہم آپ کے ملک کی طرف آ گئے، آپ کو دوسروں پر ترجیح دی، ہمیں آپ کے پڑوس میں رہنے کی ترغیب ہوئی اور ہمیں امید تھی کہ اے بادشاہ سلامت! آپ کے ہاں ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا: تمہارے نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز لائے ہیں، کیا اس کا کوئی حصہ تیرے پاس ہے؟ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، نجاشی نے کہا: تو پھر اس کی تلاوت کر کے مجھے سناؤ، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ مریم کے ابتدائی حصے کی تلاوت کی، اللہ کی قسم! نجاشی نے رونا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور پادریوں نے بھییہ تلاوت سن کر رونا شروع کر دیا، حتی کہ ان کے سامنے پڑے ہوئے مصاحف تر ہو گئے، پھر نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک اس کلام کا اور موسی علیہ السلام کے لائے ہوئے کلام کا سرچشمہ ایک ہے، تم دونوں چلے جاؤ یہاں سے، اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو کبھی بھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! کل میں نجاشی اور اس کے ماتحت لوگوں کو اِن کا ایک عیب بتاؤں گا اور اس کے ذریعے ان کی اصل کو جڑ سے مٹا دوں گا۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ، جو کہ ان دو افراد میں اچھا تھا، نے اس سے کہا: اس طرح نہ کر، آخر یہ ہمارے ہی رشتہ دار ہیں، اگرچہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں، لیکن عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کو ضرور ضرور بتاؤں گا کہ یہ لوگ عیسی بن مریم کو بندہ کہتے ہیں، پس وہ دوسرے دن بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: اے بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں بڑی عجیب بات کرتے ہیں، پس آپ ان کو دوبارہ بلائیں اور اس بارے میں ان سے پوچھیں، پس اس نے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے ان کو بلا بھیجا،یہ ہمارے حق میں سب سے بڑی مصیبت تھی، پس صحابہ جمع ہو گئے اورایک دوسرے سے کہنے لگے: جب وہ تم سے سوال کرے گا تو تم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہو گے؟ بعض نے جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اور ہمارے نبی کی لائی ہوئی شریعت نے کہا ہے، جس چیز نے ہونا ہے، وہ ہوجائے، جب وہ داخل ہوئے تو نجاشی نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ سیدنا جعفر بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے، رسول، روح اور کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کنواری مریم بتول کی طرف ڈالا،یہ سن کر نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، وہاں سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: تو نے عیسی بن مریم کے بارے میں جو کچھ کہا، ان کی حیثیت اس لکڑی کے بقدر بھی اس سے زیادہ نہیں ہے، نجاشی کا یہ تبصرہ سن کر پادریوں نے (غصے کے ساتھ) باتیں کی، لیکن نجاشی نے کہا: بیشک تم غصے سے باتیں کرو، اللہ کی قسم! صحابہ! تم جاؤ، تم میری زمین میں امن والے ہو، جس نے تم کو برا بھلا کہا، اس کو چٹی پڑے گی، پھر جس نے تم کو گالی گلوچ کیا، اس کو چٹی پڑے گی، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم میں سے کسی بندے کو تکلیف دوں اور مجھے پہاڑ کے برابر سونا دیا جائے، حبشہ کی زبان میں پہاڑ کو دَبَر کہتے ہیں، پھر نجاشی نے کہا: قریش کے ان دو افراد کے تحائف ان کو واپس کر دو، ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے میری بادشاہت مجھے عطا کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی، تو پھر میں اس معاملے میں رشوت کیوں لوں، لوگوں نے جب تک میری اطاعت کی، میں بھی ان کی اطاعت کروں گا۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اب یہ دو قریشی بدنما اور معیوب ہو کر وہاں سے نکلے، ان کے لائے ہوئے ہدیے ان کو واپس کر دیئے گئے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اس طرح رہے، جیسے ہم بہترین پڑوسی کے پاس بہترین گھر میں ہیں۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم وہیں مقیم تھے کہ نجاشی سے ایسے لوگوں نے مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو اس سے یہ بادشاہت چھیننا چاہتے تھے، اللہ کی قسم! اس وقت جو شدید غم ہمیں لاحق ہوا تھا، ہم نہیں جانتے کہ اس سے بڑا بھی غم ہوتا ہے، ہمیںیہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نجاشی پر ایسا بادشاہ غالب آ جائے کہ جس کو ہمارے حق کی اس طرح معرفت نہ ہو، جیسے نجاشی کو تھی، نجاشی بھی مقابلے کے لیے چل پڑا، جبکہ دونوں کے درمیان نیل حائل تھا، یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کہا: کون آدمی ہے، جو لوگوں کے میدان جنگ کی طرف جائے اور ہمیں صورتحال سے آگاہ کرے؟ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جاتا ہوں، اس جماعت میں نئی عمر والے یہی تھے، بہرحال لوگوں نے ایک مشکیزے میں ہوا بھر کر اس کو ان کے سینے میں ڈالا اور انھوں نے اس پر تیرنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ نیل کی اس طرف نکل گئے، جہاں دونوںلشکروں کا مقابلہ ہونا تھا، پس وہ چلتے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ نجاشی اپنے دشمن پر غالب آجائے اور اللہ تعالیٰ اسی کو اس کے علاقے میں برقرار رکھے اور یوں ہی ہوا کہ حبشیوںکا معاملہ نجاشی سے متفق ہو گیا، اس طرح ہم اس کے پاس بہترین انداز میں رہے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گئے۔
Musnad Ahmad
10790
۔ (۱۰۷۹۰)۔ (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ،یُرِیدُ زِیَارَۃَ الْبَیْتِ لَا یُرِیدُ قِتَالًا، وَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ سَبْعِینَ بَدَنَۃً، وَکَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَۃِ رَجُلٍ، فَکَانَتْ کُلُّ بَدَنَۃٍ عَنْ عَشَرَۃٍ، قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِعُسْفَانَ لَقِیَہُ بِشْرُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَعْبِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ سَمِعَتْ بِمَسِیرِکَ فَخَرَجَتْ، مَعَہَا الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، یُعَاہِدُونَ اللّٰہَ أَنْ لَا تَدْخُلَہَا عَلَیْہِمْ عَنْوَۃً أَبَدًا، وَہٰذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فِی خَیْلِہِمْ، قَدِمُوا إِلٰی کُرَاعِ الْغَمِیمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا وَیْحَ قُرَیْشٍ لَقَدْ أَکَلَتْہُمُ الْحَرْبُ، مَاذَا عَلَیْہِمْ لَوْ خَلَّوْا بَیْنِی وَبَیْنَ سَائِرِ النَّاسِ، فَإِنْ أَصَابُونِی کَانَ الَّذِی أَرَادُوْا وَإِنْ أَظْہَرَنِی اللّٰہُ عَلَیْہِمْ دَخَلُوا فِی الْإِسْلَامِ وَہُمْ وَافِرُونَ، وَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِہِمْ قُوَّۃٌ فَمَاذَا تَظُنُّ قُرَیْشٌ؟ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَا أَزَالُ أُجَاہِدُہُمْ عَلَی الَّذِی بَعَثَنِی اللّٰہُ لَہُ حَتّٰییُظْہِرَہُ اللّٰہُ لَہُ أَوْ تَنْفَرِدَ ہٰذِہِ السَّالِفَۃُ۔)) ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَسَلَکُوا ذَاتَ الْیَمِینِ بَیْنَ ظَہْرَیِ الْحَمْضِ عَلٰی طَرِیقٍ تُخْرِجُہُ عَلٰی ثَنِیَّۃِ الْمِرَارِ وَالْحُدَیْبِیَۃِ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَسَلَکَ بِالْجَیْشِ تِلْکَ الطَّرِیقَ، فَلَمَّا رَأَتْ خَیْلُ قُرَیْشٍ قَتَرَۃَ الْجَیْشِ قَدْ خَالَفُوا عَنْ طَرِیقِہِمْ، نَکَصُوا رَاجِعِینَ إِلٰی قُرَیْشٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا سَلَکَ ثَنِیَّۃَ الْمُرَارِ بَرَکَتْ نَاقَتُہُ، فَقَالَ النَّاسُ: خَلَأَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا خَلَأَتْ وَمَا ہُوَ لَہَا بِخُلُقٍ وَلٰکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ عَنْ مَکَّۃَ، وَاللّٰہِ! لَا تَدْعُونِی قُرَیْشٌ الْیَوْمَ إِلٰی خُطَّۃٍیَسْأَلُونِی فِیہَا صِلَۃَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: انْزِلُوا۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بِالْوَادِی مِنْ مَائٍ یَنْزِلُ عَلَیْہِ النَّاسُ، فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ فَأَعْطَاہُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِہِ، فَنَزَلَ فِی قَلِیبٍ مِنْ تِلْکَ الْقُلُبِ، فَغَرَزَہُ فِیہِ فَجَاشَ الْمَاء ُ بِالرَّوَائِ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ عَنْہُ بِعَطَنٍ، فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ فِی رِجَالٍ مِنْ خُزَاعَۃَ، فَقَالَ لَہُمْ کَقَوْلِہِ لِبُشَیْرِ بْنِ سُفْیَانَ، فَرَجَعُوا إِلٰی قُرَیْشٍ: فَقَالُوْا: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنَّکُمْ تَعْجَلُونَ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ یَأْتِ لِقِتَالٍ، إِنَّمَا جَائَ زَائِرًا لِہٰذَا الْبَیْتِ مُعَظِّمًا لَحَقِّہِ فَاتَّہَمُوہُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَتْ خُزَاعَۃُ فِی عَیْبَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْلِمُہَا وَمُشْرِکُہَا لَا یُخْفُونَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کَانَ بِمَکَّۃَ قَالُوا: وَإِنْ کَانَ إِنَّمَا جَائَ لِذٰلِکَ فَلَا وَاللّٰہِ! لَا یَدْخُلُہَا أَبَدًا عَلَیْنَا عَنْوَۃً وَلَا تَتَحَدَّثُ بِذٰلِکَ الْعَرَبُ، ثُمَّ بَعَثُوا إِلَیْہِ مِکْرَزَ بْنَ حَفْصِ بْنِ الْأَخْیَفِ أَحَدَ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہٰذَا رَجُلٌ غَادِرٌ۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوٍ مِمَّا کَلَّمَ بِہِ أَصْحَابَہُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی قُرَیْشٍ فَأَخْبَرَہُمْ بِمَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَبَعَثُوا إِلَیْہِ الْحِلْسَ بْنَ عَلْقَمَۃَ الْکِنَانِیَّ، وَہُوَیَوْمَئِذٍ سَیِّدُ الْأَحَابِشِ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہٰذَا مِنْ قَوْمٍ یَتَأَلَّہُونَ، فَابْعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ۔)) فَبَعَثُوا الْہَدْیَ فَلَمَّا رَأَی الْہَدْیَیَسِیلُ عَلَیْہِ مِنْ عَرْضِ الْوَادِی فِی قَلَائِدِہِ قَدْ أَکَلَ أَوْتَارَہُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّہِ، رَجَعَ وَلَمْ یَصِلْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِعْظَامًا لِمَا رَأٰی، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! قَدْ رَأَیْتُ مَا لَا یَحِلُّ صَدُّہُ الْہَدْیَ فِی قَلَائِدِہِ قَدْ أَکَلَ أَوْتَارَہُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّہِ، فَقَالُوا: اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِیٌّ لَا عِلْمَ لَکَ، فَبَعَثُوا إِلَیْہِ عُرْوَۃَ بْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیَّ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ مَا یَلْقٰی مِنْکُمْ مَنْ تَبْعَثُونَ إِلٰی مُحَمَّدٍ، إِذَا جَائَ کُمْ مِنَ التَّعْنِیفِ وَسُوئِ اللَّفْظِ، وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّکُمْ وَالِدٌ وَأَنِّی وَلَدٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ بِالَّذِی نَابَکُمْ فَجَمَعْتُ مَنْ أَطَاعَنِی مِنْ قَوْمِی، ثُمَّ جِئْتُ حَتّٰی آسَیْتُکُمْ بِنَفْسِی، قَالُوْا: صَدَقْتَ مَا أَنْتَ عِنْدَنَا بِمُتَّہَمٍ، فَخَرَجَ حَتّٰی أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! جَمَعْتَ أَوْبَاشَ النَّاسِ ثُمَّ جِئْتَ بِہِمْ لِبَیْضَتِکَ لِتَفُضَّہَا، إِنَّہَا قُرَیْشٌ قَدْ خَرَجَتْ مَعَہَا الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ، قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، یُعَاہِدُونَ اللّٰہَ أَنْ لَا تَدْخُلَہَا عَلَیْہِمْ عَنْوَۃً أَبَدًا، وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَکَأَنِّی بِہٰؤُلَائِ قَدِ انْکَشَفُوا عَنْکَ غَدًا، قَالَ، وَأَبُوبَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ خَلْفَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَاعِدٌ، فَقَالَ: امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ! أَ نَحْنُ نَنْکَشِفُ عَنْہُ؟ قَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((ہٰذَا ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَوْلَا یَدٌ کَانَتْ لَکَ عِنْدِی لَکَافَأْتُکَ بِہَا وَلٰکِنَّ ہٰذِہِ بِہَا، ثُمَّ تَنَاوَلَ لِحْیَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ وَاقِفٌ عَلٰی رَأْسِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَدِیدِ، قَالَ: یَقْرَعُیَدَہُ، ثُمَّ قَالَ، أَمْسِکْ یَدَکَ عِنْ لِحْیَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلُ وَاللّٰہِ! لَا تَصِلُ إِلَیْکَ، قَالَ: وَیْحَکَ مَا أَفَظَّکَ وَأَغْلَظَکَ؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((ہٰذَا ابْنُ أَخِیکَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ۔)) قَالَ: أَغُدَرُ ہَلْ غَسَلْتَ سَوْأَتَکَ إِلَّا بِالْأَمْسِ، قَالَ: فَکَلَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ مَا کَلَّمَ بِہِ أَصْحَابَہُ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ لَمْ یَأْتِیُرِیدُ حَرْبًا، قَالَ: فَقَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَأٰی مَا یَصْنَعُ بِہِ أَصْحَابُہُ لَا یَتَوَضَّأُ وُضُوئً إِلَّا ابْتَدَرُوہُ، وَلَا یَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوہُ، وَلَا یَسْقُطُ مِنْ شَعَرِہِ شَیْئٌ إِلَّا أَخَذُوہُ، فَرَجَعَ إِلٰی قُرَیْشٍ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنِّی جِئْتُ کِسْرٰی فِی مُلْکِہِ، وَجِئْتُ قَیْصَرَ وَالنَّجَاشِیَّ فِی مُلْکِہِمَا، وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ مَلِکًا قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِی أَصْحَابِہِ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ قَوْمًا لَا یُسْلِمُونَہُ لِشَیْئٍ أَبَدًا فَرَوْا رَأْیَکُمْ، قَالَ: وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ ذٰلِکَ بَعَثَ خِرَاشَ بْنَ أُمَیَّۃَ الْخُزَاعِیَّ إِلٰی مَکَّۃَ وَحَمَلَہُ عَلٰی جَمَلٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: الثَّعْلَبُ، فَلَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ عَقَرَتْ بِہِ قُرَیْشٌ وَأَرَادُوْا قَتْلَ خِرَاشٍ، فَمَنَعَہُمْ الْأَحَابِشُ حَتّٰی أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا عُمَرَ لِیَبْعَثَہُ إِلٰی مَکَّۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَخَافُ قُرَیْشًا عَلٰی نَفْسِی وَلَیْسَ بِہَا مِنْ بَنِی عَدِیٍّ أَحَدٌ یَمْنَعُنِی، وَقَدْ عَرَفَتْ قُرَیْشٌ عَدَاوَتِی إِیَّاہَا وَغِلْظَتِی عَلَیْہَا، وَلٰکِنْ أَدُلُّکَ عَلٰی رَجُلٍ ہُوَ أَعَزُّ مِنِّی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ، فَدَعَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَعَثَہُ إِلٰی قُرَیْشٍ،یُخْبِرُہُمْ أَنَّہُ لَمْ یَأْتِ لِحَرْبٍ وَأَنَّہُ جَائَ زَائِرًا لِہٰذَا الْبَیْتِ مُعَظِّمًا لِحُرْمَتِہِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ حَتّٰی أَتٰی مَکَّۃَ، وَلَقِیَہُ أَبَانُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِہِ وَحَمَلَہُ بَیْنَیَدَیْہِ وَرَدِفَ خَلْفَہُ وَأَجَارَہُ حَتّٰی بَلَّغَ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْطَلَقَ عُثْمَانُ حَتّٰی أَتٰی أَبَا سُفْیَانَ وَعُظَمَائَ قُرَیْشٍ، فَبَلَّغَہُمْ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَرْسَلَہُ بِہِ،فَقَالُوا لِعُثْمَانَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَطُفْ بِہِ، فَقَالَ: مَا کُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتّٰییَطُوفَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاحْتَبَسَتْہُ قُرَیْشٌ عِنْدَہَا، فَبَلَغَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمِینَ أَنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ: أَنَّ قُرَیْشًا بَعَثُوا سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو أَحَدَ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، فَقَالُوا: ائْتِ مُحَمَّدًا فَصَالِحْہُ وَلَا یَکُونُ فِی صُلْحِہِ إِلَّا أَنْ یَرْجِعَ عَنَّا عَامَہُ ہٰذَا فَوَاللّٰہِ! لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّہُ دَخَلَہَا عَلَیْنَا عَنْوَۃً أَبَدًا، فَأَتَاہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِینَ بَعَثُوا ہٰذَا الرَّجُلَ۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَکَلَّمَا وَأَطَالَا الْکَلَامَ وَتَرَاجَعَا حَتّٰی جَرٰی بَیْنَہُمَا الصُّلْحُ، فَلَمَّا الْتَأَمَ الْأَمْرُ وَلَمْ یَبْقَ إِلَّا الْکِتَابُ، وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتٰی أَبَا بَکْرٍ، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَوَلَیْسَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِینَ أَوَلَیْسُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ، بَلٰی، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِی الذِّلَّۃَ فِی دِینِنَا؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: یَا عُمَرُ الْزَمْ غَرْزَہُ حَیْثُ کَانَ، فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ عُمَرُ: وَأَنَا أَشْہَدُ، ثُمَّ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِینَ أَوَلَیْسُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِی الذِّلَّۃَ فِی دِینِنَا؟ فَقَالَ: ((أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُولُہُ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَہُ وَلَنْ یُضَیِّعَنِی۔)) ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: مَا زِلْتُ أَصُومُ وَأَتَصَدَّقُ وَأُصَلِّی وَأَعْتِقُ مِنَ الَّذِی صَنَعْتُ مَخَافَۃَ کَلَامِی الَّذِی تَکَلَّمْتُ بِہِ یَوْمَئِذٍ حَتّٰی رَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ خَیْرًا، قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَا أَعْرِفُ ہٰذَا وَلٰکِنْ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، ہٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو۔)) فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَوْ شَہِدْتُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ لَمْ أُقَاتِلْکَ وَلٰکِنْ اکْتُبْ ہٰذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَسُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلٰی وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِینَ،یَأْمَنُ فِیہَا النَّاسُ وَیَکُفُّ بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضٍ، عَلٰی أَنَّہُ مَنْ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَصْحَابِہِ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ رَدَّہُ عَلَیْہِمْ، وَمَنْ أَتٰی قُرَیْشًا مِمَّنْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَرُدُّوہُ عَلَیْہِ، وَإِنَّ بَیْنَنَا عَیْبَۃً مَکْفُوفَۃً، وَإِنَّہُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ، وَکَانَ فِی شَرْطِہِمْ حِینَ کَتَبُوا الْکِتَابَ أَنَّہُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَدْخُلَ فِی عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَہْدِہِ دَخَلَ فِیہِ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَدْخُلَ فِی عَقْدِ قُرَیْشٍ وَعَہْدِہِمْ دَخَلَ فِیہِ، فَتَوَاثَبَتْ خُزَاعَۃُ فَقَالُوا: نَحْنُ مَعَ عَقْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَہْدِہِ، وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَکْرٍ فَقَالُوا: نَحْنُ فِی عَقْدِ قُرَیْشٍ وَعَہْدِہِمْ، وَأَنَّکَ تَرْجِعُ عَنَّا عَامَنَا ہٰذَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَیْنَا مَکَّۃَ، وَأَنَّہُ إِذَا کَانَ عَامُ قَابِلٍ خَرَجْنَا عَنْکَ فَتَدْخُلُہَا بِأَصْحَابِکَ وَأَقَمْتَ فِیہِمْ ثَلَاثًا مَعَکَ سِلَاحُ الرَّاکِبِ لَا تَدْخُلْہَا بِغَیْرِ السُّیُوفِ فِی الْقُرُبِ، فَبَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْتُبُ الْکِتَابَ إِذْ جَائَ ہُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِی الْحَدِیدِ، قَدْ انْفَلَتَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَقَدْ کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجُوا وَہُمْ لَا یَشُکُّونَ فِی الْفَتْحِ لِرُؤْیَا رَآہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَأَوْا مَا رَأَوْا مِنَ الصُّلْحِ وَالرُّجُوعِ وَمَا تَحَمَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَفْسِہِ، دَخَلَ النَّاسَ مِنْ ذَلِکَ أَمْرٌ عَظِیمٌ حَتّٰی کَادُوا أَنْ یَہْلَکُوا، فَلَمَّا رَأٰی سُہَیْلٌ أَبَا جَنْدَلٍ قَامَ إِلَیْہِ فَضَرَبَ وَجْہَہُ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قَدْ لُجَّتِ الْقَضِیَّۃُ بَیْنِی وَبَیْنَکَ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَکَ ہٰذَا، قَالَ: ((صَدَقْتَ۔)) فَقَامَ إِلَیْہِ فَأَخَذَ بِتَلْبِیبِہِ، قَالَ: وَصَرَخَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلٰیصَوْتِہِیَا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِینَ! أَتَرُدُّونَنِی إِلٰی أَہْلِ الشِّرْکِ، فَیَفْتِنُونِی فِی دِینِی، قَالَ: فَزَادَ النَّاسُ شَرًّا إِلٰی مَا بِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَبَا جَنْدَلٍ! اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ لَکَ وَلِمَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، إِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا، فَأَعْطَیْنَاہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، وَأَعْطَوْنَا عَلَیْہِ عَہْدًا، وَإِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِہِمْ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَ أَبِی جَنْدَلٍ فَجَعَلَ یَمْشِی إِلٰی جَنْبِہِ وَہُوَ یَقُولُ: اصْبِرْ أَبَا جَنْدَلٍ فَإِنَّمَا ہُمُ الْمُشْرِکُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِہِمْ دَمُ کَلْبٍ، قَالَ: وَیُدْنِی قَائِمَ السَّیْفِ مِنْہُ قَالَ: یَقُولُ: رَجَوْتُ أَنْ یَأْخُذَ السَّیْفَ فَیَضْرِبَ بِہِ أَبَاہُ، قَالَ: فَضَنَّ الرَّجُلُ بِأَبِیہِ وَنَفَذَتِ الْقَضِیَّۃُ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ الْکِتَابِ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِی الْحَرَمِ وَہُوَ مُضْطَرِبٌ فِی الْحِلِّ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ انْحَرُوا وَاحْلِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا قَامَ أَحَدٌ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِہَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ حَتّٰی عَادَ بِمِثْلِہَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَقَالَ: ((یَا أُمَّ سَلَمَۃَ مَا شَأْنُ النَّاسِ؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ دَخَلَہُمْ مَا قَدْ رَأَیْتَ فَلَا تُکَلِّمَنَّ مِنْہُمْ إِنْسَانًا وَاعْمِدْ إِلٰی ہَدْیِکَ حَیْثُ کَانَ فَانْحَرْہُ وَاحْلِقْ، فَلَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذٰلِکَ فَعَلَ النَّاسُ ذٰلِکَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُکَلِّمُ أَحَدًا حَتّٰی أَتٰی ہَدْیَہُ فَنَحَرَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَحَلَقَ فَقَامَ النَّاسُ یَنْحَرُونَ وَیَحْلِقُونَ، قَالَ: حَتّٰی إِذَا کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ فِی وَسَطِ الطَّرِیقِ فَنَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۱۷)
۔(دوسری سند) سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذبح کرنے کے لیے اپنے ساتھ ستر اونٹ بھی لے گئے، آپ کے رفقاء کی تعداد سات سو تھی۔ ہر دس آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا،اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا۔ اس نے بتلایا کہ اللہ کے رسول! قریش کو آپ کی روانگی کی اطلاع ہو چکی ہے، وہ نئے نئے بچوں والی شیر دار اونٹنیاں لئے، چیتوں کی کھالیں اوڑھے آپ کے مقابلے اور راستہ روکنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ عہد کر چکے ہیں کہ وہ ہمیں زبردستی مکہ میں بالکل داخل نہیں ہونے دیں گے اور خالد بن ولید اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ کراع غمیم کی طرف بڑھتا آ رہا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے قریش کی ہلاکت! لڑائیوں نے ان کا ستیاناس کر دیا ہے، اگر یہ لوگ میرے اور میرے ان صحابہ کے سامنے سے ہٹ جاتے اور (حرم میںجانے دیتے) تو ان کو کیا تکلیف تھی، اگر ان لوگوں نے اپنے ارادے کے مطابق مجھے تکلیف دی لی تو (ٹھیک ہے)، اور اگر اللہ تعالی نے مجھے ان پر غالب کر دیا اور یہ اسلام میں داخل ہو گئے، جبکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، (تو ٹھیک)، بصورتِ دیگر اگر انھوں نے ایسا نہ کیا، تو یہ لڑیں گے، جبکہ ان کے پاس قوت بھی ہے، لیکن اب قریشی لوگ کیا گمان رکھتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں اس نکتے کو سامنے رکھ کر ان سے لڑتا رہوں،یہاں تک کہ اللہ تعالی اس دین کو غالب کر دے گا، یا پھر میری گردن کا یہ پہلو الگ ہو جائے گا (یعنی میں فوت ہو جاؤں گا)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، پس حمض بوٹی سے ہوتے ہوئے اور اپنی دائیں طرف چلتے ہوئے ایسے راستے پر ہو لیے ، جو مرار گھاٹی اور حدیبیہکی طرف جار رہا تھا، یہ مکہ سے نشیبی جگہ تھی،یہ لشکر اس راستے پر ہو لیا، جب قریشیوں کے گھڑ سوار لشکر نے اِس لشکر کا غبار اور اس کے راستہ تبدیل کر لینے کو دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس پلٹ گئے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی روانہ ہو گئے اور جب مِرار گھاٹی میں چلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئے، لوگوں نے کہا: اونٹنی ضد کر گئی، اڑی کر گئی، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ اس نے ضدکی ہے اور نہ یہ اس کی عادت ہے، دراصل اسے اس اللہ نے آگے جانے سے روکا ہے، جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ اللہ کی قسم! یہ کافر مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں، جس کے ذریعے وہ مجھ سے صلہ رحمی کا سوال کریں گے تو میں ان کا وہ مطالبہ پورا کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: اتر جاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس علاقے میں تو پانی ہی نہیں ہے کہ اس کے پاس لشکر پڑاؤ ڈال سکے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کو دیا، اس نے وہ تیر کنویں میں گاڑھا اور بہت زیادہ پانی ابلنے لگا، (لوگوں نے پیا) یہاں تک کہ انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کر لیا، ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مطمئن ہوئے ہی تھے کہ بنو خزاعہ کے چند افراد سمیت بدیل بن ورقا آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے وہی بات کہی، جو بشیر بن سفیان کو کہی تھی، سو وہ قریشیوں کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے قریش کی جماعت! تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر جلدی کر رہے ہو، جبکہ وہ قتال کے لیے نہیں آئے، وہ تو صرف اس گھر کی زیارت اور اس کے حق کی تعظیم کے لیے آئے ہیں، لیکن قریشیوں نے اِن کی بات کی تصدیق نہیں کی، دراصل بنو خزاعہ کے مسلمان اور مشرک، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راز دان تھے، مکہ میں جو کچھ ہوتا، یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز مخفی نہیں رکھتے تھے۔ پس قریشیوں نے کہا: اگرچہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس مقصد کے لیے آئے ہوں گے، لیکن نہیں، بخدا! یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ہم پر زبردستی گھس آئیں اور عرب لوگ مختلف باتیں کرنے لگیں۔ پھر انھوں نے بنو عامر بن لؤی کے ایک آدمی مکرز بن حفص بن اخیف کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو (اپنے صحابہ کو متنبہ کرتے ہوئے) فرمایا: یہ دھوکے باز آدمی ہے۔ جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے وہی گفتگو جو اس سے پہلے اس کے ساتھیوں سے کی تھی،یہ بھی قریش کی طرف لوٹ گیا اور انھیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیانات کی خبر دی، قریش نے اب کی بار حلس بن علقمہ کنانی کو بھیجا،یہ آدمی مختلف قبائل کی جماعتوں کا سردار تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یہ آدمی ان لوگوں میں ہے، جو اللہ تعالی کے حق اور حرمت کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، ہدی کے جانوروں کو اس کے سامنے لاؤ۔ صحابہ نے ایسے ہی کیا اور ہدیاں اس کے سامنے لے آئے، اب ہوا یوں کہ جب اس آدمینے وادی کے عرض میں ہدیاں اور ان کے گردنوں میں قلادے دیکھے اور دیکھا کہ زیادہ دیر ان کو ٹھہرانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، تو یہ آدمییہ منظر دیکھنے کے بعد ان چیزوں کی تعظیم کی وجہ سے واپس لوٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا ہی نہیں، اس نے واپس آ کر کہا: اے قریش کی جماعت! میں ایسی چیزیں دیکھ آیا ہوں، جن کو روکنا حلال نہیں ہے، ہدی کے جانور ہیں، ان کے گردنوں میں قلادے ہیں اور زیادہ دیر ٹھہرائے جانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، قریش نے جواباً کہا: تو بیٹھ جا، تو تو بدّو ہے اور تجھے کوئی علم نہیں ہے، اب کی بار انھوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا، اس نے کہا: قریش کی جماعت! تم لوگ جن افراد کو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف بھیج رہے ہو اور ان کے تبصروں کی وجہ سے تمہیں جو سرزنش اور برے الفاظ سننے پڑ رہے ہیں، میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں، تم جانتے ہو کہ تم والد کے اور میں تمہارا بیٹا ہونے کے قائم مقام ہوں (لہذا میں تمہارا پاس و لحاظ رکھوں گا)، جس معاملے کا تمہیں سامنا کرنا پڑا، میں وہ باتیں بھی سن چکا ہوں۔ پھر میں نے اپنی قوم میں سے ان لوگوں کو جمع کیا، جنہوں نے میری بات مان لی، پھر میں آیا اور میں نے اپنی جان کے ساتھ تمہارا تعاون کیا، قریشیوں نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو اور تم ہمارے نزدیک قابل اعتماد آدمی ہو، پس یہ آدمی نکل پڑا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا: اے محمد! آپ نے جنگوں میں ثابت قدم نہ رہنے والے مختلف لوگوں کو جمع کر لیا اور پھر ان کو لے کر یہاں آ گئے، تاکہ ان کی اصل کو ہی ختم کر دیں،یہ قریش نکل پڑے ہیں، ان کے ساتھ حاملہ اور دودھ والی اونٹنیاں موجود ہیں (مراد کہ یہ ان کا کھانا پینا ہے )، انھوں نے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور انھوں نے اللہ تعالی سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ آپ کبھی بھی ان پر زبردستی نہ گھس سکیں گے، اور اللہ کی قسم ہے، مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ یہ لوگ کل (جب میدان سجے گا) تو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے، انھوں نے اِس کییہ بات سن کر کہا: تو لات کے ختنے میں کٹ جانے چمڑے کے ٹکڑے کو چوسے، کیا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوڑ جائیں گے؟ اس نے کہا: اے محمد! یہ آدمی کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ابن ابی قحافہ ہیں۔ عروہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تیرا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تجھ سے اس بات کا بدلہ لیتا، چلو یہ بات اس احسان کے بدلے ہو گئے، پھر عروہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک پکڑی، جبکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسلحہ سے لیس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک کے پاس کھڑے تھے، انھوں نے عروہ کے ہاتھ پر ضرب لگائی اور کہا: اپنے ہاتھ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک سے دور رکھ، اللہ کی قسم! وگرنہ تیرا ہاتھ تجھ تک نہ پہنچ پائے گا (یعنی میں اس کو کاٹ دوں گا)، عروہ نے آگے سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، تو تو کس قدر سخت گیر آدمی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیئے، اس نے کہا: اے محمد! یہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ عروہ نے کہا: او دھوکے باز! تو نے تو کل اپنی شرمگاہ کو دھویا ہے (یعنی ماضی قریب میں ہی مال خرچ کر کے اپنی خیانت کے ضرر کودور کیا ہے)، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس آدمی سے اسی طرح کی گفتگو فرمائی، جیسے اس سے قبل اس کے ساتھیوں سے کی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لڑائی کے ارادے سے نہیںآئے۔ پس یہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے چلا گیا اور اس نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کرتے ہیں تو یہ لوگ (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی کی طرف) لپک پڑتے ہیں اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوکتے ہیں تو یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تھوک کی طرف لپک پڑتے ہیں اور جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی بال گرتا ہے تو یہ اس کو اٹھا لیتے ہیں، پس عروہ قریش کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے قریش کی جماعت! میں کسریٰ کے ہاں اس کی مملکت میں اور قیصرونجاشی کے ہاں بھی ان کے ملکوں میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے کبھی کسی بادشاہ کا اتنا احترام نہیں دیکھا جتنا احترام محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا ان کے اصحاب میں ہے، میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ اسے کسی ناگوار حالت کے سپرد نہ کریں گے، اب تم غور کر لو، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبل ازیں خراش بن امیہ خزاعی کو مکہ کی طرف بھیج چکے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ثعلب نامی ایک اونٹ پر سوار کرایا تھا، وہ جب مکہ میں پہنچا تو قریش نے اس کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی تھیں اسے بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں نے انہیں ان کو قتل کرنے سے روک دیا، وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خدمت میں واپس آگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی طرف بطور سفیر بھیجنے کے لیے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوایا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے قریش کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے اور وہاں بنو عدی کا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو مجھے تحفظ دے سکے اور مجھے قریش سے جس قدر عداوت ہے، وہ سب اس سے بخوبی واقف ہیں، البتہ میں آپ کو ایک ایسے آدمی کے متعلق بتلاتا ہوں جو اہلِ مکہ کے ہاں مجھ سے زیادہ معزز اور محترم ہے اور وہ ہیں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلوا کر قریش کی طرف اپنا سفیر بنا کر بھیجا تاکہ ان کو بتلائیں کہ ہم لوگ لڑائی کے لیے نہیں، محض بیت اللہ کی حرمت کی تعظیم کرنے کی خاطر صرف زیارت و طواف کے لیےآئے ہیں۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روانہ ہو کر مکہ مکرمہ آئے۔ ان کی ابان بن سعید بن العاص سے ملاقات ہو گئی، وہ اپنی سواری سے نیچے اترا اور آپ کو اپنے آگے بٹھا کر خود پیچھے بیٹھا اور اس نے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پناہ دی تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام پہنچا دیں۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ابو سفیان اور دیگر عظائے قریش کے پاس گئے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جو پیغام دے کر بھیجا تھا، وہ پیغام ان تک پہنچایا۔ انہوں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ بیت اللہ کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیں، وہ بولے جب تک اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کا طواف نہ کریں میں نہیں کر سکتا۔ ان کو قریش نے اپنے ہاں روک لیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں تک یہ افواہ پہنچی کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ قریش نے سہیل بن عمرو کو جو بنو عامر بن لؤی میں سے تھے کو بھیجا اور کہا کہ تم جا کر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صلح کی بات کرو۔ اس میںیہ شق ضرور ہو کہ وہ امسال بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں، تاکہ عرب کبھی یہ نہ کہہ سکیں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زبردستی ہمارے ہاں آگئے، پھر سہیل آیا، اس سے آگے سارا وہی بیان ہے جو قبل ازیں پہلی سند سے حدیث میں بیان ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ صلح ہو گئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر ان سے فرمایا لکھو۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم تو سہیل بن عمر ونے کہا میں تو اس کلام کو نہیں سمجھتا۔ اس کی بجائے آپ لکھیں: بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا تم بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ ہی لکھ دو،یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سہیل بن عمرو کے ساتھ کر رہے ہیں، سہیل بن عمرو پھر بولا کہ اگر میںیہ گواہی دیتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے کبھی بھی قتال نہ کرتا۔ آپ یوں لکھیں کہ یہ وہ معاہدہ جس کے تحت محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو عہد کرتے ہیں کہ دس سال تک آپس میں کوئی لڑائی نہ کریں گے۔ اس عرصہ میں لوگ اطمینان اور امن سے رہیں گے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے۔ نیزیہ کہ ( مکہ سے) کوئی مسلمان اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو وہ اسے اہل مکہ کی طرف واپس بھیجیں گے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھیوں میں سے اگر کوئی قریش کے پاس آیا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے، اس دوران ہمارے دل ایک دوسرے کی طرف سے صاف رہیں گے، خفیہ چوریاں نہ کریں گے اور نہ دلوں میں بغض رکھیں گے، معاہدہ صلح میںیہ شرط بھی تھی کہ دیگر قبائل میں سے جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا، اسی طرح جو قریش کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا۔ خزاعہ قبیلہ نے جلدی سے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عقدوعہد میں آتے ہیں اور بنو بکر قبیلہ نے کہا کہ ہم قریش کے عقدوعہد میں آتے ہیں۔ نیزیہ کہ آپ اس سال عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں اور مکہ میں نہ آئیں، جب آئندہ سال ہو گا ہم آپ کو نہیں روکیں گے۔ آپ اپنے اصحاب کی معیت میں مکہ میں آسکیں گے اور تین دن قیام کریں گے۔ آپ کے ہمراہ محض اس قدر ہتھیار ہوں گے، جس قدر کسی سوار کے پاس دورانِ سفر ہوتے ہیں، آپ کی تلواریں میانوں میں رہیں گی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھییہ تحریر لکھوا رہے تھے کہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن سہیل بن عمر بیڑیوں میں مقید کسی طرح بچ بچا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خواب کی بنیاد پر انہیں فتح کا کامل یقین تھا، لیکن جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی کہ آپ کفار کے ساتھ صلح کر رہے ہیں اور عمرہ کئے بغیر واپسی کے لیے آمادہ ہوئے ہیں۔ اور آپ نے بظاہر اپنے خلاف شرائط کو قبول کر لیا ہے تو صحابہ کو شدید دھچکا لگا، قریب تھا کہ کچھ لوگ ہلاک ہو جاتے۔ سہیل نے ابو جندل کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اور کہا: اے محمد! آپ کے اور میرے درمیان صلح کا معاہدہ اس کے آنے سے پہلے طے پا چکا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ٹھیک ہے۔ تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں کو پکڑ کر سختی سے جھنجوڑا۔ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بلند آواز سے چیخے: ارے مسلمانو! کیا تم مجھے مشرکین کی طرف واپس کر دو گے تاکہ وہ دین کی وجہ سے مجھے مزید سزائیں دیں؟ لوگوں کے دلوں میں جو برے خیالات آچکے تھے، یہ دیکھ کر ان کے خیالات مزید منتشر ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: صبر کرو اور اللہ سے ثواب وجزا کی امید رکھو،تم اور تمہارے علاوہ جس قدر کمزور لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ تم سب کی رہائی کی کوئی راہ نکال دے گا، ہم ان لوگوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر چکے ہیں، اس بارے میں ہم ان کو اور وہ ہمیں عہد دے چکے ہیں، ہم وعدہ خلافی ہرگز نہیں کریں گے۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لپک کر گئے اور اس کے پہلو بہ پہلو چلنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ابو جندل! صبر کرو، یہ لوگ مشرک ہیں، ان کا خون کتوں کا سا ہے۔ ساتھ ہی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی تلوار کا دستہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب کرتے گئے، مجھے لگتا تھا کہ وہ تلوار ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ کو مار دیں گے، اس نے اپنے باپ کو بچا لیا اور یہ قضیہ مکمل ہو گیا، اس کے بعد راوی نے ساری تفصیل ذکر کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو اونٹ نحر کرنے اور بال منڈوانے کا حکم دیا، انہوں نے تعمیل میں توقف کیا،یہاں تک کہ پہلے خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور سر منڈوایا جیسا کہ پہلی سند سے مفصل بیان ہو چکا ہے، اس کے بعد لوگ اُٹھ کر اپنے اپنے اونٹوں کو نحر کرنے لگے اور بال منڈانے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ اور مدینہ کے درمیان ابھی راستہ ہی میں تھے کہ سورۂ فتح نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
11450
۔ (۱۱۴۵۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ، أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ جَحْشٍ، وَکَانَ أَتَی النَّجَاشِیَّ، وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ إِسْحَاقَ: وَکَانَ رَحَلَ إِلَی النَّجَاشِیِّ فَمَاتَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِیبَۃَ، وَإِنَّہَا بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ زَوَّجَہَا إِیَّاہُ النَّجَاشِیُّ، وَمَہَرَہَا أَرْبَعَۃَ آلَافٍ، ثُمَّ جَہَّزَہَا مِنْ عِنْدِہِ وَبَعَثَ بِہَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ شُرَحْبِیلَ بْنِ حَسَنَۃَ، وَجِہَازُہَا کُلُّہُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ، وَلَمْیُرْسِلْ إِلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَیْئٍ، وَکَانَ مُہُورُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ مِائَۃِ دِرْہَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۵۳)
عروہ سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھی، وہ نجاشی کے ہاں گیا تھا اور وہیں (مرتد ہو کر) مر گیا۔ سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حبشہ ہی میں تھیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، ان کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نکاح نجاشی نے کیا تھا اور اسی نے آپ کی طرف سے ان کو چار ہزار دیناربطور مہر ادا کئے تھے۔ پھر اس نے ان کے سفر کی تیاری کرکے ان کو شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ ان کی مکمل تیاری اور سازو سامان نجاشی کی طرف سے تھا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی چیز نہیںبھیجی تھی۔ باقی ازواج کے مہر چار سو درہم تھے۔
Musnad Ahmad
734
۔ (۷۳۴)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ (الْأَسْلَمِیِّ) عَن أَبِیْہِ، أَنَّ النَّجَاشِیَّ أَہْدٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُفَّیْنِ أَسْوَدَیْنِ سَاذَجَیْنِ فَلَبِسَہُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۳۶۹)
سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کالے رنگ کے دو سادے موزے بطورِ تحفہ بھیجے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ پہنے اور وضوکرتے وقت ان پر مسح کیا۔
Musnad Ahmad
3160
۔ (۳۱۶۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَعٰی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجَاشِیَّ فِی الْیَوْمِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ فَخَرَجَ إِلَی الْمُصَلّٰی فَصَفَّ أَصْحَابَہُ وَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۹۶۴۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جس روز نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی دن ہمیں اس کی وفات کی اطلاع دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کی صف بند کی اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔
Musnad Ahmad
3164
۔ (۳۱۶۴) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ َٔنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَخَاکُمُ النَّجَاشِیَّ قَدْ مَاتَ فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا عَلَیْہِ کَمَا نَصُفُّ عَلَی الْمَیِّتِ وَصَلَّیْنَا عَلَیْہِ کَمَا نُصَلِّی عَلَی الْمَیِّتِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۸۴)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے، پس آئو اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور اس طرح صفیں بنائیں جیسے ہم میت پر صفیں بناتے ہیں اوراس طرح نماز جنازہ پڑھی، جس طرح ہم حاضر میت کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔
Musnad Ahmad
3165
۔ (۳۱۶۵) عَنْ جَرِیْرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخَاکُمُ النَّجَاشِیَّ قَدْ مَاتَ فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۳۵)
سیّدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، اس کی بخشش کی دعا کرو۔
Musnad Ahmad
3174
۔ (۳۱۷۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَعٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجَاشِیَّ لِأَصْحَابِہِ وَہُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّوْا خَلْفَہُ وَصَلَّی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۷۷۶۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کو نجاشی کی وفات کی خبر دی، پھر صحابہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیرات کہیں۔
Musnad Ahmad
6284
۔ (۶۲۸۴)۔ عَنْ أُمِّ کُلْثُوْمٍ بِنْْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمَّ سَلَمَۃَ قَالَ لَھَا: ((إِنِّیْ قَدْ أَھْدَیْتُ إِلیَ النَّجاشِیِّ حُلَّۃً وَ اَوَاقِیَّ مِنْ مِسْکٍ وَلَا أَرَی النَّجَاشِیَّ اِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أُرٰی ھَدِیَّتِیْ اِلَّا مَرْدُوْدَۃً عَلَیَّ فَاِنْ رُدَّتْ عَلَیَّ فَہِیَ لَکِ۔)) قَالَتْ: وَکَانَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرُدَّتْ عَلَیْہِ ھَدِیَّتُہُ فَأَعْطٰی کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ أُوْقِیَّۃَ مِسْکٍ وَأَعْطٰی أُمَّ سَلَمَۃَ بَقِیَّۃَ الْمِسْکِ وَالْحُلَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۹)
۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی جانب ایک جوڑا اور کچھ اوقیے کستوری بطور تحفہ بھیجی تھی، چونکہ نجاشی اب فوت ہو چکا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرایہ تحفہ واپس کر دیا جائے گا، بہرحال اگر وہ واپس آیا تو وہ تمہارے لئے ہوگا۔ وہی کچھ ہوا، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہدیہ واپس کر دیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر بیوی کو کستوری کا ایک ایک اوقیہ دیا اور سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بچ جانے والی کستوری اور جوڑا دیا۔