مسنداحمد

Musnad Ahmad

وضو کے ابواب

وضو کی فضیلت اور اس کو پوری طرح کرنے کا بیان

۔ (۵۷۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ الصَّلَاۃُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّہُوْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۱۷)

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے۔

۔ (۵۷۶)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ نَاسًا دَخَلُوْا عَلَی ابْنِ عَامِرٍ فِیْ مَرَضٍ فَجَعَلُوْا یُثْنُوْنَ عَلَیْہِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَا اِنِّیْ لَسْتُ بِأَغَشِّہِمْ لَکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَا یَقْبَلُ صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ وَلَا صَلَاۃً بِغَیْرِ طُہُوْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۰۰)

سیدنا مصعب بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ابن عامر کی بیماری کے دوران کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ نے کہا: میں تجھے دھوکہ دینے والوں میں سے نہیں ہوں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کے مال سے صدقہ اور وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا۔

۔ (۵۷۷)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْوُضُوْئِ، قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَقْرَبُ وَضُوْئَہُ ثُمَّ یَتَمَضْمَضُ وَیَسْتَنْشِقُ وَیَنْتَثِرُ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ فَمِہِ وَ خَیَاشِیْمِہِ مَعَ الْمَائِ حِیْنَ یَنْتَثِرُ، ثُمَّ یَغْسِلُ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ تَعَالَی اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِہِ ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا رَأْسِہِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا قَدَمَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَصْابِعِہِ مَعَ الْمَائِ، ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیُثْنِیْ عَلَیْہِ بِالَّذِیْ ہُوَ لَہُ أَھْلٌ ثُمَّ یَرْکعُ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) قَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: یا عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ! اُنْظُرْ مَا تَقُوْلُ، أَسَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ أَیُعْطَی الرَجُلُ ھٰذَا کُلَّہُ فِیْ مَقَامِہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو بْنُ عَبَسَۃَ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّیْ وَرَقَّ عَظَمِیْ وَاقْتَرَبَ أَجَلِیْ وَمَا بِیْ مِنْ حَاجَۃٍ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَی رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، لَقَدْ سَمِعْتُہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۴۴)

سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کے بارے میں مجھے بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں جو آدمی بھی وضو کا پانی قریب کرتا ہے، پھر کلی کرتا ہے، ناک میںپانی چڑھاتا ہے اور ناک کوجھاڑتا ہے، مگر جب وہ ناک کو جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور نتھنوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھوتا ہے تو انگلیوں کے پوروں سے بازوؤں کی غلطیاں نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ اس کے سر کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو اس کی انگلیوں کے کناروں سے اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، جو اس کے شایانِ شان ہوتی ہے اور پھر دو رکعتیں ادا کرتا ہے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ ابو امامہ نے کہا: اے عمرو بن عبسہ!ذرا اپنی کہی ہوئی بات پر غور کرو، کیا تم نے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں؟ کیا بندے کو یہ سب کچھ ایک مقام پر ہی عطا کر دیا جاتا ہے؟ سیدنا عمرو بن عبسہؓ نے کہا: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ پر اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ایک یا دو یا تین دفعہ سنا ہوتا (تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا) تو میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا ہے۔

۔ (۵۷۸)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَامَ اِلَی وَضُوْئِہِ یُرِیْدُ الصَّلَاۃَ ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ کَفَّیْہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ لِسَانِہِ وَ شَفَتَیْہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ نَزَلَتْ خَطِیْئَتُہُ مِنْ سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ وَرِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ سَلِمَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ ہُوَ لَہُ وَمِنْ کُلِّ خَطِیْئَتِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ، قَالَ: فَاِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ رَفَعَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَتَہُ وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۲۳)

سیدناابوامامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کے پانی کی طرف کھڑا ہوتا ہے اور اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، جب وہ کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی زبان اور ہونٹوں سے گناہ گر جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کے کانوں اور آنکھوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ کہنیوں سمیت اپنے بازو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ اپنے ہر قسم کے گناہ اور ہر قسم کی خطا سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر بیٹھ جاتا ہے یعنی نماز نہیں پڑھتا تو گناہوں سے سالم ہو کر بیٹھتا ہے۔

۔ (۵۷۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ خَرَجَتْ ذُنُوْبُہُ مِنْ سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَیَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ،فَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُوْرًا لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۵۹)

سیدنا ابو امامہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مسلمان بندہ وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پس اس کے بعد اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔

۔ (۵۸۰)۔عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ: أَتَیْنَاہُ فَاِذَا ہُوَ جَالِسٌ یَتَفَلّی فِیْ جَوْفِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَہَبَ الْاِثْمُ من سَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَیَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ۔)) قَالَ: فَجَائَ أَبُوْ ظَبْیَۃَ وَھُوَ یُحَدِّثُنَا فَقَالَ: مَا حَدَّثَکُمْ؟ فَذَکَرْنَا لَہُ الَّذِیْ حَدَّثَنَا،قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَۃَ ذَکَرَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَزَادَ فِیْہِ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَبِیْتُ عَلَی طُہْرٍ ثُمَّ یَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَذْکُرُ وَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ اِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِیَّاہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۴۶)

شہر بن حوشب کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو امامہ ؓ کے پاس گئے، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھ کر جوئیں صاف کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ گر جاتے ہیں۔ اتنے میں ابو ظبیہ آ گئے، جبکہ وہ ہمیں بیان کر رہے تھے، پھر انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا بیان کر رہے تھے؟ پس ہم نے ان کو وہ چیز بتائی جو وہ بیان کر رہے تھے، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ کو بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا، بلکہ اس میں یہ الفاظ زائد بھی تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے، یعنی وضو کر کے سوتا ہے، پھر جب وہ رات کو اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو وہ اس کو عطا کر دیتا ہے۔

۔ (۵۸۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ فِیْہِ، فَاِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ أَنْفِہِ، فَاِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ وَجْہِہِ، حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَیْنَیْہِ، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ یَدَیْہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ یَدَیْہِ، فَاِذَا مَسَحَ رَأْسَہَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأُذُنَیْہِ) خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رَأْسِہِ حَتّٰی تخَرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَیْہِ، ثُمَّ کَانَ مَشْیُہُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُہُ نَافِلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۸)

سیدنا عبد اللہ صنابحی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے غلطیاں نکل جاتی ہیں، جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے خطائیں گر جاتی ہیں، جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کی جڑوں سے بھی گناہ خارج ہو جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اس کے بازوؤں سے خطائیں نکل جاتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گر جاتی ہیں، جب وہ سر اور کانوںکا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے، (اور پاؤں کے دھونے سے) پاؤں کے ناخنوںکے نیچے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر مسجد کی طرف اس کا چل کر جانا اور نماز ادا کرنا زائد ہوتا ہے۔

۔ (۵۸۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْسَعَیْدٍ مَوْلَی بَنِیْ ہَاشِمٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُوْ غَسَّانَ ثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ فِیْہِ وَأَنْفِہِ، وَمَنْ غَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَشْفَارِ عَیْنَیْہِ، وَمَنْ غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَظْفَارِہِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِہِ، وَمَنْ مَسَحَ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ رَأْسِہِ أَوْ شَعْرِ أُذُنَیْہِ، وَمَنْ غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ أَظْفَارِہِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِہِ، ثُمَّ کَانَتْ خُطَاہُ اِلَی الْمَسْجِدِ نَافِلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۴)

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو عبد اللہ صنابحی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس کے منہ اور ناک سے گناہ نکل جائیں گے، جس نے چہرہ دھویا، اس کی آنکھ کی پلکوں کی جڑوں سے گناہ خارج ہو جائیں گے، جس نے بازو دھوئے، اس کے ناخنوں سے یا ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جائیں گے، جس نے سر اور کانوں کا مسح کیا، اس کے سر سے یا دونوں کانوں کے بالوں سے گناہ ساقط ہو جائیں گے اور جس نے پاؤں دھوئے، اس کے ناخنوں سے یا ناخنوں کے نیچے سے غلطیاں نکل جائیں گی، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا زائد ہو گا۔

۔ (۵۸۴)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ جَسَدِہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِہِ)) (مسند أحمد:۴۷۶)

سیدنا عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جائیں گے، یہاں تک کہ ناخنوںکے نیچے سے بھی نکل جائیں گے۔

۔ (۵۸۵)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ: لَاأَقُوْلُ الْیَوْمَ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَمْ یَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَالَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ بَیْتًا مِنْ جَہَنَّمَ۔)) وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِیْ یَقُوْمُ أَحَدُہُمَا مِنَ اللَّیْلِ فَیُعَالِجُ نَفْسَہُ اِلَی الطَّہُوْرِ وَعَلَیْہِ عُقَدٌ فَیَتَوَضَّأُ، فَاِذَا وَضَّأَ یَدَیْہِ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، وَاِذَا وَضَّأَ وَجْہَہُ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ وَاِذَا مَسَحَ رَأْسَہُ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، وَاِذَا وَضَّأَ رِجْلَیْہِ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِیْنَ وَرَائَ الْحِجَابِ: انْظُرُوْا اِلَی عَبْدِیْ ھٰذَا یُعَالِجُ نَفْسَہُ، مَاسَأَلَنِیْ عَبْدِیْ ھٰذَا فَہُوَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۹۷)

سیدنا عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں آج رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف وہ بات منسوب نہیں کروں گا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ارشاد نہیں فرمائی، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مجھ پر وہ بات کہی، جو میں نے نہیں کہی، وہ جہنم سے گھر تیار کر لے۔ نیز میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت کے دو آدمی، ان میں سے ایک وہ ہے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے، پس وہ اپنے نفس کو وضو کے پانی کی طرف آمادہ کرتا ہے، جبکہ اس پر کئی گرہیں ہوتی ہیں، پس جب وہ وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ پردوںکے پیچھے والی مخلوق یعنی فرشتوں سے کہتا ہے: تم میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اپنے نفس کو آمادہ کرتا ہے، یہ مجھ سے جس چیز کا سوال کرے گا، وہ اس کی ہو جائے گی۔

۔ (۵۸۶)۔عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ، أَنَّہُ دَعَا بِمَائٍ فتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَظَہْرِ قَدَمَیْہِ ثُمَّ ضَحِکَ فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ: أَلَا تَسْأَلُوْنِّیْ عَمَّا أَضْحَکَنِیْ؟ فَقَالُوْا: مِمَّ ضَحِکْتَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤُمِنِیْنَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا بِمَائٍ قَرِیْبًا مِنْ ہٰذِہِ الْبُقْعَۃِ فَتَوَضَّأَ کَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ ضَحِکَ، فَقَالَ: ((أَلَا تَسْأَلُوْنِّیْ مَا أَضْحَکَنِیْ؟)) فَقَالُوْا: مَا أَضْحَکَکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِنَّ الْعِبْدَ اِذَا دَعَا بِوَضُوْئٍ فَغَسَلَ وَجْہَہُ حَطَّ اللّٰہُ عَنْہُ کُلَّ خَطِیْئَۃٍ أَصَابَہَا بِوَجْہٍ، فَاِذَا غَسَلَ ذِرَاعَیْہِ کَانَ کَذٰلِکَ، وَاِنْ مَسَحَ بِرَأْسِہِ کَانَ کذٰلِکَ، وَاِذَا طَہَّرَ قَدَمَیْہِ کَانَ کَذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۴۱۵)

سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کود یکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے اس وضو کی طرف وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔

۔ (۵۸۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْہِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ نَظَرَ اِلَیْہَا بِعَیْنِہِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَۃِ الْمَائِ أَوْ نَحْوَ ہٰذَا، فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتْ مِنْ یَدِہِ کُلُّ خَطِیْئَۃٍ بَطَشَ بِہَا مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَۃِ الْمَائِ حَتَّی یَخْرُجَ نَقِیًّا مِنَ الذَّنُوْبِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۰۷)

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے کا ہر وہ گناہ زائل ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھ سے ہر وہ گناہ ساقط ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے ہاتھ پھیلایا ہوتا ہے، (باقی اعضا کا بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔