مسنداحمد

Musnad Ahmad

وضو کے ابواب

وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت

۔ (۵۹۵)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وُضُوْئَہُ ثُمَّ دَخَلَ فِیْ صَلَاتِہِ فَأَتَّمَ صَلَاتَہُ خَرَجَ مِنْ صَلَاتِہِ کَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّہِ مِنَ الذُّنُوْبِ)) (مسند أحمد:۴۳۰)

سیدنا عثمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب بندہ وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر نماز شروع کر دیتا ہے اور مکمل نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے۔

۔ (۵۹۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ دَخَلَ فَصَلّٰی غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الصَّلوٰۃِ الْأُخْرٰی حَتّٰی یُصَلِّیَہَا)) (مسند أحمد:۴۰۰)

سیدنا عثمانؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز شروع کی اور اس کو ادا کیا، تو اس کے اور اس کی پڑھی جانے والی اگلی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

۔ (۵۹۷)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہُ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ لَا یَسْہُوْ فِیْہِمَا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۸۰)

سیدنا زید بن خالد جہنی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیااور پھر بغیر بھولے دو رکعتیں ادا کیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔

۔ (۵۹۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا نَخْدُمُ أَنْفُسَنَا وَکُنَّا نَتَدَاوَلُ رَعَیَّۃَ الْاِبِلِ بَیْنَنَا فَأَصَابَنِیْ رَعِیَّۃُ الْاِبِلِ فَرَوَّحْتُہَا بِعَشِیِّ فَأَدْرَکْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ قَائِمٌ یُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَکْتُ مِنْ حَدِیْثِہِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُسْبِغُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ یُقْبِلُ عَلَیْہِمَا بِقَلْبِہِ وَوَجْہِہِ اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَغُفِرَ لَہُ۔)) قَالَ: فقُلْتُ لَہُ: مَا أَجْوَدَ ہٰذَا! قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ بَیْنَ یَدَیَّ: الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا یَا عُقْبَۃُ أَجْوَدُ مِنْہَا، فَنَظَرْتُ فَاِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا ہِیَ یَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: اِنَّہُ قَالَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُسْبِغُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرُسُوْلُہُ اِلَّا فُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَّۃُ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَائَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۴۷)

سیدناعقبہ بن عامر ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنے آپ کی خدمت خود کرتے تھے اور اونٹ چرانے کے لیے آپس میں باریاں مقرر کر تے تھے، ایک دن میری باری تھے، جب میں شام کو اونٹوں کو واپس لے کر آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو کر لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ فرمان سنا: تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور پورا وضو کرتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعتیں اس طرح ادا کرتا ہے کہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے، ایسے شخص کیلئے جنت واجب ہو جاتی اور اس کو بخش دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر میں نے کہا: کتنی عمدہ بات ہے یہ، لیکن میرے سامنے سے ایک کہنے والے نے کہا: عقبہ! جو بات اس سے پہلے ارشاد فرمائی گئی تھی، وہ اِس سے بھی عمدہ تھی، جب میں نے اس آدمی کو دیکھا تو وہ تو سیدنا عمر بن خطابؓ تھے، میں نے کہا: ابو حفص! وہ بات کون سی تھی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیرے آنے سے پہلے یہ ارشاد فرمایا: تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر یہ دعا پڑھتا ہے: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرُسُوْلُہُ… (میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں) ۔ ایسے آدمی کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔

۔ (۶۰۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَیُّمَا رَجُلٍ قَامَ اِلٰی وَضُوئٍ یُرِیْدُ الصَّلوٰۃَ فَأَحْصَی الْوَضُوْئَ اِلَی أَمَاکِنِہِ سَلِمَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ أَوْ خَطِیْئَۃٍ لَہُ، فَاِنْ قَامَ اِلَی الصَّلوٰۃِ رَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہَا دَرَجَۃً وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۶۷)

سیدنا عمرو بن عبسہ سلمیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو نمازکے ارادے سے وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور وضو کے پانی کو اس کے مقامات تک پہنچاتا ہے تو وہ اپنے گناہوں یا غلطیوں سے پاک ہو جاتا ہے، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو گناہوں سے پاک ہو کر بیٹھتا ہے۔

۔ (۶۰۱)۔عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْحِمْصِیِّ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوُضُوْئُ یُکَفِّرُ مَا قَبْلَہُ ثُمَّ تَصِیْرُ الصَّـلَاۃُ نَافِلَۃً۔))، فَقِیْلَ لَہُ: أَسَمِعْتَہَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ قَالَ: نَعَمْ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ وَلَا ثَلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۱۵)

صحابی ٔ رسول سیدنا ابو امامہ حمصی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، پھر نماز زائد ہوتی ہے۔ کسی نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں ایک، دو، تین، چار اور پانچ بار نہیں (بلکہ اس سے زیادہ دفعہ)۔

۔ (۶۰۲)۔ عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ الرَاسِبِیِّ أَنَّہُ لَقِیَ أَبَا أُمَامَۃَ بِحِمْصَ فَسَأَلَہُ عَنْ أَشْیَائَ حَدَّثَہُمْ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلموَھُوَ یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاۃٍ فَقَامَ اِلٰی وُضُوْئِہِ اِلَّا غُفِرَ لَہُ بِأَوَّلِ قَطْرَۃٍ تُصِیْبُ کَفَّہُ مِنْ ذٰلِکَ الْمَائِ فَبِعَدَدِ ذٰلِکَ الْقَطْرِ حَتَّی یَفْرُغَ مِنَ وُضُوْئِہِ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوْبِہِ وَقَامَ اِلٰی صَلَاتِہِ وَہِیَ نَافِلَۃٌ۔)) قَالَ أَبُوْ غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِیْ أُمَامَۃَ: أَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اِیْ وَالَّذِیْ بَعَثَہُ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَنَذِیْرًا غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ وَلَا ثَـلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ وَلَا سِتٍّ وَلَا سَبْعٍ وَلَا ثَمَانٍ وَلَا تِسْعٍ وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِیَدَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۴۱)

ابو غالب راسبی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ حمصی ؓ کو ملا اور ان سے کچھ چیزوںکے بارے میں سوال کیے، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی کسی نماز کی اذان سن کر وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی ہتھیلی کو لگنے والے پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، اِن قطروں کی تعداد کے برابر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہوتے ہیں اور اس کی پڑھی جانے والی نماز زائد ہوتی ہے۔ ابو غالب کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہؓ سے کہا: تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا! ایک دفعہ نہیں، دو،تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس اور دس بار نہیں، پھر انھوں نے اس تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے تالی بجائی۔

۔ (۶۰۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُوْلُ: اِذَا وَضَعْتَ الطَّہُوْرَ مَوَاضِعَہُ قَعَدْتَّ مَغْفُوْرًا لَکَ، فَاِنْ قَامَ یُصَلِّی کَانَتْ لَہُ فَضِیْلَۃً وَأَجْرًا، وَاِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُوْرًا لَہُ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! أرَأَیْتَ اِنْ قَامَ فَصَلّٰی تَکُوْنُ لَہُ نَافِلَۃً؟ قَالَ: لَا، اِنَّمَا النَّافِلَۃُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ تَکُوْنُ لَہُ نَافِلَۃً وَھُوَ یَسْعٰی فِی الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، تَکُوْنُ لَہُ فَضِیْلَۃً وَأَجْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۵۴۹)

سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب تو وضو کے پانی کو اس کے مقام پر استعمال کرے گا تو بخشا بخشایا بیٹھ جائے گا، پھر اگر کوئی آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس میں اس کے لیے فضیلت اور اجر و ثواب ہوتا ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابو امامہ: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایسا آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، تو اس کی نماز زائد ہو گی؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ زائد ہونا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے تھا۔ عام بندے کے لیے یہ نماز فضیلت اور اجر کا باعث ہو گی۔

۔ (۶۰۴)۔ عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَبِیْ أُمَامَۃَ وَھُوَ یَتَفَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ وَیَدْفَنُ الْقَمْلَ فِی الْحَصٰی، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبا أُمَامَۃَ! اِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِیْ عَنْکَ أَنَّکَ قُلْتَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَوَجْہَہُ وَمَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ غُفِرَ لَہُ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ مَا مَشَتْ اِلَیْہِ رِجْلُہُ وَقَضَتْ عَلَیْہِ یَدَاہُ وَسَمِعْتْ اِلَیْہِ أُذُنَاہُ وَنَظَرَتْ اِلَیْہِ عَیْنَاہُ وَحَدَّثَ بِہِ نَفْسُہُ مِنْ سُوْئٍ)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَا أُحْصِیْہِ۔ (مسند أحمد:۲۲۶۲۸)

ابو مسلم کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے جوئیں تلاش کر رہے تھے اور ان کو کنکریوں میں دبا رہے تھے، میں نے کہا: اے ابو امامہ! بیشک ایک آدمی نے تمہارے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پس ہاتھ دھوئے، چہرہ دھویا، سر اور کانوں کومسح کیا اور پھر فرضی نماز کے لیے کھڑا ہوا، تو اس کے اس دن کے وہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے کہ جن کی طرف اس کا پاؤں چل کر گیا، جن کے بارے میں ہاتھوں نے فیصلہ کیا، جن کو کانوںنے سنا ، آنکھوں نے دیکھا اور ان کے بارے میں نفس نے بری گفتگو کی۔ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے یہ حدیث بے شمار دفعہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہے۔

۔ (۶۰۵)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُمْ غَزَوْا غَزْوَۃَ السَّـلَاسِلِ فَفَاتَہُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوْا ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَی مُعَاوِیَۃَ وَعِنْدَہُ أَبُوْ أَیُوْبَ وَعُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍؓ فَقَالَ عَاصِمٌ: یَا أَبَا أَیُوْبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَۃِ) غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِیْ! أَدُلُّکَ عَلَی أَیْسَرَ مِن ذٰلِکَ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ کَمَا أُمِرَ وَصَلّٰی کَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ)) أَ کَذَاکَ یَا عُقْبَۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۹۳)

عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ سلاسل کیلئے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انھوںنے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہؓ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدناابوایوب اور سیدنا عقبہ بن عامر ؓبھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: اے ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوںمیں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا: بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے: جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

۔ (۶۰۶)۔ عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: یَا أَیُّہَاالنَّاسُ! اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ أَتَمَّہُمَا أَعْطَاہُ اللّٰہُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا)) (مسند أحمد:۲۸۰۴۵)

سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگو! بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے وضو کیا اور پورا وضو کیا، پھر مکمل طور پر دو رکعت نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرے گا، وہ اسے جلدی یا بدیر عطا کر دے گا۔

۔ (۶۰۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ حَدَّثَنِیْ سَھْلُ بْنُ أَبِیْ صَدَقَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ کَثِیْرٌ أَبُوْالْفَضْلِ الطُّفَاوِیُّ حَدَّثَنِیْ یُوْسُفُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فِیْ مَرْضِہِ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ فقَالَ لِیْ: یَا ابْنَ أَخِیْ! مَا أَعْمَدَکَ اِلٰی ھٰذَا الْبَلَدِ وَمَا جَائَ بِکَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، اِلَّا صِلَۃُ مَا کَانَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ وَالِدِیْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: لَبِئْسَ سَاعَۃُ الْکَذِبِ ہٰذِہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أَوْ أَرْبَعًا (شَکَّ سَھْلٌ) یُحْسِنُ فِیْہِمَا الذِّکْرَ وَالْخَشُوْعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غُفِرَ لَہُ)) (مسند أحمد: ۲۸۰۹۶)

یوسف بن عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں: میں سیدنا ابو درداء ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انھوں نے مجھ سے پوچھا: بھتیجے! کس چیز نے تجھ سے اس شہر کا ارادہ کروایا؟ کون سی چیز لے آئی تجھے؟ میں نے کہا: جی کوئی چیز نہیں ہے، بس آپ اور میرے والد کے درمیان جو تعلق تھا، اس کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابو درداء ؓ نے کہا: یہ جھوٹ بولنے کا برا وقت ہے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو یا چار رکعت نماز پڑھی اور اس میں اچھے انداز میں ذکر اور خشوع اختیار کیا، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی، اس کو بخش دیا جائے گا۔