مسنداحمد

Musnad Ahmad

طلاق کا بیان

حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت


۔ (۷۱۵۵)۔حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، فَقَالَ طَلَّقَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَأَتٰی عُمَرُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ ذٰلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیُرَاجِعْہَا فَإِنَّہَا امْرَأَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۱۷)

۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دیتا ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دی تھی اورسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طلاق کی اطلاع دی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن عمر رجوع کر لے، کیونکہ یہ اس کی بیوی ہے۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۷۱۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبداللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۵۱۵۰)