TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طلاق کا بیان - طلاق کا بیان - Book 123 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 123 of Musnad Ahmad, with 8 chapters and 25 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

25 Hadith · 8 Chapters
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
۔ (۷۱۴۷)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَلَّقَ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَھَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۲۰)
۔ سیدنا عاصم بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو طلاق دی اور پھر ان سے رجوع کر لیا۔
Takhreej
(۷۱۴۷) تخریج: حدیث صحیح لغیرھ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۳۶۶(انظر: ۱۵۹۲۴)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالی کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام : رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)
7147
Sahih
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
۔ (۷۱۴۸)۔ عَنْ لَقِیْطِ بْنِ صَبِرَۃَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی امْرَاَۃً فَذَکَرَ مِنْ طُوْلِ لِسَانِہَا وَإِیْذَائِھَا، فَقَال: ((طَلِّقْہَا))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّھَا ذَاتُ صُبْحَۃٍ وَوَلَدٍ، قَالَ: ((فَأَمْسِکْہَا وَأْمُرْہَا، فَإِنْ یَکُ فِیہَا خَیْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِینَتَکَ ضَرْبَکَ أَمَتَکَ))۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۷)
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، پھر انھوں نے اس کی زبان درازی اور تکلیف دینے کی شکایت کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرانی رفیقہ حیات ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو اپنے پاس رکھو، البتہ تلقین کرتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کرے گی، لیکن تم نے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۱۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۱۴۴(انظر: ۱۶۳۸۴)
Explanation
فوائد:…ہر عورت میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ بعض نقائص بھی پائے جاتے ہیں، اس بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ بیویوں کے مثبت پہلو کا زیادہ خیال رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح بھی کی جائے۔
7148
Sahih
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
۔ (۷۱۴۹)۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((أیُّمَا اِمْرَاَۃٍ سَألَتْ زَوْجَہَا الطَّلَاقَ مِنْ غَیْرِ مَا بَأسٍ فَحَرَامٌ عَلَیْھَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ))۔ (مسند احمد: ۲۲۷۳۸)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوعورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہو گی۔
Takhreej
(۷۱۴۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۱۸۷ (انظر: ۲۲۳۷۹)
Explanation
فوائد:…اگر کوئی شرعی عذر ہو تو عورت خلع لے سکتی ہے، یا طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
7149
Sahih
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
۔ (۷۱۵۰)۔عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ، وَلَا تُنْکَحُ الْمَرْأۃُ عَلٰی عَمَّتِھَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَا تَسْألُ طَلَاقَ أُخْتِھَا لِتَکْتَفِیَٔ مَا فِیْ صَحْفَتِہَا وَلْتَنْکِحْ فَاِنَّمَا لَھَا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَھَا))۔ (مسند احمد: ۱۰۶۱۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، کسی خاتون سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عوررت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ وہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے، اس کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس کو وہ کچھ مل جائے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں لکھا ہو گا۔
Takhreej
(۷۱۵۰) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۴۰۸(انظر: ۱۰۶۰۵)
Explanation
فوائد:…اسلام نے مرد کو چار شادیوں کا حق دیا ہے، اگر کوئی آدمی دوسری شادی کرنا چاہے تو اس خاتون کو یہ شرط نہیں لگانی چاہیے کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے نکاح کرے، اللہ تعالی حالات کو سنوارنے پر قادر ہے۔
7150
Sahih
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
۔ (۷۱۵۱)۔عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ کَانَتْ تَحْتِی امْرَأَۃٌ أُحِبُّہَا وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَہُہَا فَأَمَرَنِی أَنْ أُطَلِّقَہَا فَأَبَیْتُ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَۃً کَرِہْتُہَا لَہُ فَأَمَرْتُہُ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَأَبٰی فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! طَلِّقْ امْرَأَتَکَ۔)) فَطَلَّقْتُہَا۔ (مسند احمد: ۵۰۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے عقد نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے اس سے بہت محبت تھی، لیکن میرے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، پس انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں،لیکن میں نے انکار کر دیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ بن عمر کی ایک بیوی ہے، مجھے وہ ناپسند ہے، میں نے اس سے کہا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے انکار کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ سو میں نے اسے طلاق دے دی۔
Takhreej
(۷۱۵۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۱۱۸۹، والنسائی: ۵/۳۳۹ (انظر: ۵۰۱۱)
Explanation
فوائد:…معلوم ہوا کہ والدین کا حکم نفس کی خواہشات پر مقدم ہے، جب اُن کا حکم دین کے موافق ہو گا، کیونکہ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس خاتون کو قلتِ دین کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں گے۔
7151
Sahih
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
۔ (۷۱۵۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُہُ عَنِ امْرَأَتِہِ الَّتِی طَلَّقَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ طَلَّقْتُہَا وَہِیَ حَائِضٌ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِعُمَرَ فَذَکَرَہُ عُمَرُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا فَإِذَا طَہُرَتْ طَلَّقَہَا فِی طُہْرِہَا لِلسُّنَّۃِ۔)) قَالَ: فَفَعَلْتُ، قَالَ أَنَسٌ: فَسَأَلْتُہُ ہَلْ اِعْتَدَدْتَّ بِالَّتِی طَلَّقْتَہَا وَہِیَ حَائِضٌ؟ قَالَ وَمَا لِی لَا أَعْتَدُّ بِہَا إِنْ کُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ۔ (مسند احمد: ۶۱۱۹)
۔ انس بن سیرین سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کی اس بیوی کے متعلق سوال کیا، جسے انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں طلاق دی تھی، انہوں نے کہا: میں نے اس کو حالتِ حیض میں طلاق دی، پھر میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتایا اور انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے یہ بات بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو سنت کے مطابق اسے طہر میں طلاق دے۔ میں نے ایسے ہی کیا، انس بن سیرین کہا: میں نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ تم نے جو طلاق حالت حیض میں دی تھی کیاوہ شمار کی گئی تھی، انھوں نے کہا: بھلا میں اس کو شمار کیوں نہ کرتا، اگر میں عاجز آگیا اور حماقت کا مظاہرہ کر بیٹھا تو (کیا خیال ہے کہ وہ طلاق شمار نہ ہوتی)۔
Takhreej
(۷۱۵۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۱ (انظر: ۶۱۱۹)
7152
Sahih
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
۔ (۷۱۵۳)۔عَنْ سَلامٍ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أنَّہُ طَلَّقَ اِمْرَأتَہُ وَھِیَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْھَا ثُمَّ لِیُطَلِّقْہَا طَاھِرًا أوْ حَامِلًا))۔ (مسند احمد: ۴۷۸۹)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن عمر سے کہو کہ وہ رجوع کرلے اور پھر اس کو اس حالت میں طلاق دے کہ وہ حالتِ طہر میں ہو یا حاملہ ہو۔
Takhreej
(۷۱۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۱ (انظر: ۴۷۸۹)
7153
Sahih
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
۔ (۷۱۵۴)۔عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ تَطْلِیقَۃً وَاحِدَۃً عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً وَاحِدَۃً وَہِیَ حَائِضٌ فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُرَاجِعَہَا وَیُمْسِکَہَا حَتّٰی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِیضَ عِنْدَہُ حَیْضَۃً أُخْرٰی ثُمَّ یُمْہِلَہَا حَتّٰی تَطْہُرَ مِنْ حَیْضَتِہَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَلْیُطَلِّقْہَا حِینَ تَطْہُرُ قَبْلَ أَنْ یُجَامِعَہَا فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی أَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَائُ، وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ لِأَحَدِہِمْ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَکَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِی بِہَا، فَإِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَہَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْکَ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَکَ وَعَصَیْتَ اللّٰہَ تَعَالٰی فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِکَ۔ (مسند احمد: ۶۰۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ رجوع کر لے اور اس کو پاس رکھے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس ہی اسے دوسرا حیض آئے، پھر اس کو مہلت دے، یہاں تک کہ اسے حیض آئے اور وہ اس سے پاک ہو جائے، اب جبکہ وہ پاک ہوئی ہے، اگر اس کا ارادہ طلاق دینے کا ہو تو وہ قبل از جماع اسے طلاق دے دے، یہ وہ عدت ہے کہ جس کا اللہ تعالی نے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ جب سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا جاتا تو وہ کہتے: تونے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ طلاق دی ہے یا دو مرتبہ، مجھے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا، اور اگر تونے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے، اب اس کے حلال ہونے کی یہ صورت ہے کہ وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، ہاں تو نے غلط طریقہ سے طلاق دے کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے۔
Takhreej
(۷۱۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۳۲، ومسلم: ۱۴۷۱ (انظر: ۶۰۶۱)
7154
Sahih
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
۔ (۷۱۵۵)۔حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، فَقَالَ طَلَّقَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَأَتٰی عُمَرُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ ذٰلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیُرَاجِعْہَا فَإِنَّہَا امْرَأَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۱۷)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دیتا ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دی تھی اورسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طلاق کی اطلاع دی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن عمر رجوع کر لے، کیونکہ یہ اس کی بیوی ہے۔
Takhreej
(۷۱۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبداللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۵۱۵۰)
7155
Zaeef
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
۔ (۷۱۵۶)۔عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أخْبَرَنِی أبُوالزُّبَیْرِ أنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أیْمَنَ یَسْألُ ابْنَ عُمَرَ وَأبُو الزُّبَیْرِ یَسْمَعُ فَقَالَ: کَیْفَ فِیْ رَجُلٍ طَلَّقَ إِمْرَأتَہُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ إِمْرَأَتَہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ طَلَّقَ إِمْرَأتَہُ وَھِیَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیُرَاجِعْھَا)) (عَلَیَّ وَلَمْ یَرَھُ شَیْئًا وَقَالَ فَرَدَّھَا) إِذَا طَہُرَتْ فَلْیُطَلِّقْ أوْیُمْسِکْ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ} [الطلاق: ۱] قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: وسَمِعْتُ مُجَاھِدًا یَقْرَئُھَا کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۵۵۲۴)
۔ ابوزبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:عبد الرحمن بن ایمن نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا جا رہا تھا، جبکہ میں سن رہا تھا، انھوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو حالت ِ حیض میں بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ابن عمر نے عہد ِ نبوی میں اپنی بیوی کو اسی طرح طلاق دی تھی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو وہ چاہے تو طلاق دے دے اور چاہے تو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس کو کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا ابن عمر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ}… اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے مجاہد کو سنا کہ وہ اس آیت کو اسی طرح تلاوت کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۱۵۶) تخریج: صحیح دون قولہ: ولم یرھا شیئا ، أخرجہ مسلم: ۱۴۷۱ دون ھذہ الزیادۃ(انظر: ۵۵۲۴)
Explanation
فوائد:…طلاق کا سنت طریقہ یہ ہے کہ خاوند اس طہر میں طلاق دے، جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو، یا حالت ِ حمل میں دے، پھر عدت گزرنے کا انتظار کرے، ممکن ہو تو عدت کے دوران میں رجوع کر لے، ورنہ پیچھے سے مزید طلاق نہ بھیجے، تاکہ اگر بعد میں اتفاق ہو جائے تو نیا نکاح کر لے۔ مزید طلاق نہ بھیجنے کی ہدایت ان اہل علم کی رائے کی روشنی میں دی گئی ہے، جو طلاق پر طلاق کے قائل ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے نزدیک تو طلاق پر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بے فائدہ ہے۔
7156
Sahih
اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان
۔ (۷۱۵۷)۔عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُکَانَۃُ بْنُ عَبْدِ یَزِیدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا فِی مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَیْہَا حُزْنًا شَدِیدًا، قَالَ فَسَأَلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَیْفَ طَلَّقْتَہَا؟)) قَالَ: طَلَّقْتُہَا ثَلَاثًا، قَالَ فَقَالَ: ((فِی مَجْلِسٍ وَاحِدٍ۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّمَا تِلْکَ وَاحِدَۃٌ فَارْجِعْہَا إِنْ شِئْتَ۔)) قَالَ: فَرَجَعَہَا فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَرٰی أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ کُلِّ طُہْرٍِِِِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو مطلب والے سیدنا رکانہ بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں اور پھر بہت سخت غمگین ہوئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس طرح طلاق دی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ہی مجلس میں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو ایک ہی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتے ہوتو کر لو۔ پس انھوں نے رجوع کر لیا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے تھی کہ طلاق ہر طہر میں دی جائے۔
Takhreej
(۷۱۵۷) تخریج: قال الالبانی: فلا أقل من أن یکون الحدیث حسنا بمجموع الطریقین عن عکرمۃ ومال ابن القیم إلی تصحیحہ (ارواء الغلیل: ۷/ ۱۳۹)، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۶، ۲۲۰۶(انظر: ۲۳۸۷)
7157
Sahih
اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان
۔ (۷۱۵۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ الطَّلَاقُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأبِیْ بَکَرٍ وَسَنَتَیْنِ مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَۃٌ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوْا فِیْ أمْرٍ کَانَ لَھُمْ فِیْہِ أنَاۃٌ فَلَوْ اَمْضَیْنَاہُ عَلَیْھِمْ فَأمْضَاہُ عَلَیْھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۵)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زمانۂ خلافت کے شروع کے دو برسوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگ اس کام میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں انہیں نہایت سوچ بچار سے قدم رکھنا چاہیے تھا، لہٰذا اگر ہم تینوں طلاقیں جاری ہونے کا فیصلہ کر دیں، پھر انھوں نے یہ فیصلہ جاری کر دیا۔
Takhreej
(۷۱۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۲(انظر: ۲۸۷۵)
Explanation
فوائد:…سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ فیصلہ تعزیر اور سزا کے طور پر تھا، یہ ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ تھا، شرعی حکم اپنی جگہ پر برقرار ہے، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اختیار کیا جاتا تھا، حنفی علماء نے بھی اس کو تعزیری اور سیاسی فیصلہ تسلیم کیا ہے جو کہ ایک حاکم وقت بعض اوقات جاری کر دیتا ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فقہ حنفی کی معروف کتاب جامع الرموز کتاب الطلاق اور حاشیہ طحطاوی۔
7158
Sahih
اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان
۔ (۷۱۵۹)۔عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِیِّ قَالَ: لَمَّا لَاعَنْ عُوَیْمَرٌ أخُوْ بَنِی الْعََجْلَانِ إِمْرَئَ تَہُ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَلَمْتُہَا اِنْ اَمْسَکْتُہَا، ھِیَ الطَّلَاقُ وَھِیَ الطَّلاقُ وَھِیَ الطَّلاقُ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَطَلَّقَھَا ثَلَاثًا قَبْلَ أنْ یَأمُرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ) قَالَ: فَصَارَتْ سُنَّۃَ الْمُتَلاعِنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۱۹)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو عجلان کے آدمی سیدنا عویمر نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! اب اگر میں لعان کے بعد بھی اس کو اپنے گھر رکھوں تو یہ تو میرا اس پر ظلم ہو گا، لہٰذا اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔ ایک روایت میں ہے: انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ایک روایت میں ہے: یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
Takhreej
(۷۱۵۹) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۴۲۳، ۴۷۴۵، ۴۷۴۶، ۵۳۰۹، ۷۱۶۶، ۷۳۰۴، ومسلم: ۱۴۹۲(انظر: ۲۲۸۳۱)
Explanation
فوائد:…اس روایت میں تین طلاقوں کا بیک وقت اثر انداز ہو جانا، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ لعان سے نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، آگے چل کر لعان کی وضاحت ہو گی، جبکہ مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ طلاقٰن تین دی تو جاتی تھیں، لیکن اثر ایک طلاق کا ہوتا تھا۔
7159
Sahih
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
۔ (۷۱۶۰)۔حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ عَنْ الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ فَتَخْتَارُہُ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ أَتَانِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّی سَأَعْرِضُ عَلَیْکِ أَمْرًا فَلَا عَلَیْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِی فِیہِ حَتّٰی تُشَاوِرِی أَبَوَیْکِ فَقُلْتُ وَمَا ہٰذَا الْأَمْرُ قَالَتْ فَتَلَا عَلَیَّ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِیمًا۔} قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ وَفِی أَیِّ ذٰلِکَ تَأْمُرُنِی أُشَاوِرُ أَبَوَیَّ بَلْ أُرِیدُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَتْ فَسُرَّ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَعْجَبَہُ وَقَالَ: ((سَأَعْرِضُ عَلٰی صَوَاحِبِکِ مَا عَرَضْتُ عَلَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: فَلَا تُخْبِرْہُنَّ بِالَّذِی اخْتَرْتُ، فَلَمْ یَفْعَلْ وَکَانَ یَقُولُ لَہُنَّ کَمَا قَالَ لِعَائِشَۃَ ثُمَّ یَقُولُ: ((قَدْ اِخْتَارَتْ عَائِشَۃُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ قَدْ خَیَّرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذٰلِکَ طَلَاقًا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۳۳)
۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں: میں نے امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کورہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیتا ہے، وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے، اس کے متعلق کیا رائے ہیں؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ((میں تجھ پر ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں،تو نے جواب دینے میں جلدی نہیں کرنا، بلکہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرنا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: بھلا یہ کونسی چیز ہے کہ میںاپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت پسند آئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! جوبات میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے، یہی میں تمہاری دیگر سوکنوں پر پیش کرنے والا ہوں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: لیکن میں نے جو چیز پسند کی ہے، اس کے بارے میں آپ نے میری سوکنوں کو نہیں بتانا۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا نہیں کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری بیویوں پر یہی بات پیش کی اور سیدہ عائشہ نے جس کو اختیار کیا تھا، وہ بھی ان کو بتایا کہ عائشہ نے اللہ تعالی اور اس کے رسول اور آخرت کو چن لیا ہے۔ تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دیا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا اورہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اختیار کر لیا،لیکن اس کو طلاق شمار نہ کیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۷۸۵، ومسلم: ۱۴۷۵ (انظر: ۲۵۵۱۷)
7160
Sahih
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
۔ (۷۱۶۱)۔عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیَّرَ نِسَائَہُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَیْنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ) وَلَمْ یُخَیِّرْھُنَّ الطَّلاقَ۔ (مسند احمد: ۵۸۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا تھا، اور ان کو طلاق کا اختیار تو نہیں دیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبید اللہ، قال البخاری: منکر الحدیث (انظر: ۵۸۸)
7161
Zaeef
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
۔ (۷۱۶۲)۔عَنْ اَبِی اُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا أوْتِیَ بِالْجَوْنِیَّۃِ وَدَخَلَ عَلَیْھَا قَالَ: ((ھَبِیْ لِیْ نَفْسَکِ۔)) قَالَتْ: وَھَلْ تَہَبُ الْمَلِکَۃُ نَفْسَہَا لِلسُّوْقَۃِ؟ قَالَتْ: إِنِّیْ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ، قَالَ: ((لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((یَا أبَا أَسَیْدٍ اَکْسِہَا رَازِقِیَّتَیْنِ وَ اَلْحِقْہَا بِأھْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۸)
۔ سیدنا ابو اسیدساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔
Takhreej
(۷۱۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۵۵، ۵۲۵۷(انظر: ۱۶۰۶۱)
Explanation
فوائد:…اصل واقعہ یوں ہے کہ نعمان بن جون کندی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں آپ کی شادی امیمہ بنت نعمان بن شراحیل سے نہ کرا دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطور نمائندہ نکاح بھیجا، وہ اس خاتون کو لے آئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس گئے، آپ کا کسی کو قبول کر لینا ہی شادی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہبہ کرنے کی بات دلجوئی کے لیے کی تھی، وگرنہ وہ شرعاً آپ کی بیوی بن چکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات کو ترجیح دی اور اس کو واپس بھیج دیا۔
7162
Sahih
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
۔ (۷۱۶۳)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ حَدِیْثِ تَخَلُّفِہِ عَنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ وَقَدْ ھَجَرَہُ وَصَاحِبَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّحَابَۃُ قَبْلَ نُزُوْلِ تَوْبَتِہِمْ، قَالَ: حَتّٰی إِذَا مَضَتْ اَرْبَعُوْنَ لَیْلَۃً مِنَ الْخَمْسِیْنَ إِذَا بِرَسُوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأتِیْنِیْ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأمُرُکَ أنْ تَعْتَزِلَ اِمْرَاَتَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: اُطَلِّقُہَا اَمْ مَاذَا اَفْعَلُ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْھَا فَلَا تَقْرُبْھَا، قَالَ: وَاَرْسَلَ اِلٰی اَصْحَابِیْ بِمِثْلِ ذَالِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِامْرَاَتِیْ: الْحَقِیْ بِاَھْلِکِ، فَکُوْنِیْ عِنْدَھُمْ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ، الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۸۹)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں، جب وہ غزوہ تبوک میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، ان کی توبہ قبول ہونے سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے ان کو اور ان کے دو ساتھیوں کو چھوڑ دیا تھا، جب یہ بول چال چھوڑے ہوئے چالیس دن گزر گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے بھی الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اسنے کہا: بس الگ ہو جاؤ اور اس کے قریب نہ جاؤ، میرے باقی دو ساتھیوں کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا، پس میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے ہاں چلی جائو اوران کے پاس رہو،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر دے۔ الخ۔
Takhreej
(۷۱۶۳) تخریج: ھذا حدیث طویل و أخرجہ مطولا و مختصرا البخاری: ۳۸۸۹، ۴۶۷۶، ۴۶۷۷، ۶۶۹۰، ومسلم: ۲۷۶۹ (انظر: ۱۵۷۸۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کے لیے لفظ الْحَقِیْ بِاَھْلِکِ (تو اپنے گھر والوں کی طرف چلی جا) استعمال کیے، لیکن اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ ان کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔
7163
Sahih
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
۔ (۷۱۶۴)۔حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ اَنْبَاَنَا ھِشَامٌ قَالَ: کَتَبَ اِلٰی یَحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ عِکْرِمَۃَ اَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ الْحَرَامِ یَمِیْنٌ یُکَفِّرُھَا، قَالَ ھِشَامٌ: وَکَتَبَ اِلَیَّ یَحْیٰی یُحَدِّثُ عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ عِنْدَ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ الْحَرَامِ یَمِیْنٌ یُکَفِّرُھَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}۔ (مسند احمد: ۱۹۷۶)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا، یہ ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا، اور سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یہی کہتے تھے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا۔ نیز سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت پڑھی:{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
Takhreej
(۷۱۶۴) تخریج: حدیث عکرمۃ عن عمر منقطع، وحدیث ابن عباس صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ البخاری: ۴۹۱۱، ۵۲۶۶، ومسلم: ۱۴۷۳ (انظر: ۱۹۷۶)
Explanation
فوائد:…سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی مراد درج ذیل آیت ہے:
7164
Sahih
زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
۔ (۷۱۶۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِیْ اِغْلَاقٍ))۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زبردستی میں نہ تو طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی کسی غلام کی آزادی۔
Takhreej
(۷۱۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف محمد بن عبید المکی، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۳، وابن ماجہ: ۲۰۴۶(انظر: )
Explanation
فوائد:…اگر کوئی زور آور کسی کمزور پر رعب جماتے ہوئے یا اسلحہ کے زور پر یا کسی بھی زبردستی کے انداز میں مجبور کرتے ہوئے کہے کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دے یا اپنے لونڈی یا غلام کو آزاد کر تو یہ دونوں چیزیں واقع نہیں ہوں گی۔
7165
Zaeef
زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
۔ (۷۱۶۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ طَلاَ قٌ فِیْمَا لاَ یَمْلِکُ وَلاَ عِتَاقَ فِیِْمَا لاَ یَمْلِکُ وَلاَ بَیْعَ فِیْمَا لاَ یَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو خاوند بننے سے پہلے خاتون کو طلاق دینے کا، ملکیت سے پہلے غلام کو آزاد کرنے کا اور مالک بننے سے پہلے کوئی چیز بیچنے کا کوئی اختیار نہیں۔
Takhreej
(۷۱۶۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۰، والنسائی: ۷/ ۲۸۸، والترمذی: ۱۱۸۱، وابن ماجہ: ۲۰۴۷ (انظر: ۶۷۶۹)
Explanation
فوائد:…اگر ایک آدمی کہتا ہے کہ اگر فلاں عورت سے میرا نکاح ہوا تو اسے میں طلاق دے دوں گا، یا اسے طلاق ہو جائے گی، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ جب وہ یہ بات کہہ رہا ہوتا ہے، اس وقت وہ خاوند اور مالک نہیں ہوتا، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مؤقف ہے کہ نکاح سے پہلے کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
7166
Sahih