مسنداحمد

Musnad Ahmad

طلاق کا بیان

زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی

۔ (۷۱۶۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِیْ اِغْلَاقٍ))۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۲)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زبردستی میں نہ تو طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی کسی غلام کی آزادی۔

۔ (۷۱۶۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ طَلاَ قٌ فِیْمَا لاَ یَمْلِکُ وَلاَ عِتَاقَ فِیِْمَا لاَ یَمْلِکُ وَلاَ بَیْعَ فِیْمَا لاَ یَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو خاوند بننے سے پہلے خاتون کو طلاق دینے کا، ملکیت سے پہلے غلام کو آزاد کرنے کا اور مالک بننے سے پہلے کوئی چیز بیچنے کا کوئی اختیار نہیں۔