مسنداحمد

Musnad Ahmad

لعان کی کتاب

حمل کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ اور اس شخص کا بیان جو مرد کا نام لے کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے

۔

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمل مشکوک ہونے کے باعث لعان کروایا۔

۔

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عجلان قبیلہ کے عویمر اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس کی بیوی حاملہ تھی، عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے میں نے پہلی بار کھجوروں کو سیراب کیا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک اس کے قریب نہیں گیا (تو پھر یہ حاملہ کیسے ہو گئی) اور میں نے کھجوروں کو پیوندکاری کے دو ماہ بعد پانی پلایا ہے۔ یہ عویمر جو اس عورت کا خاوند تھا باریک پنڈلیوں اورباریک بازئوں والا تھا، اس کے بالوں میں سرخی پن نمایاں تھا اور اس عورت کو جس آدمی کے ساتھ تہمت لگائی گئی وہ شریک بن سحماء تھا، اس عورت نے سیاہ رنگت والا، گھنگھریالے بالوں والا، موٹے بازئوں والا، اور مضبوط پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔ ابن شداد بن ہا دنے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا یہ وہی عورت تھی، جس کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں نے کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرنا ہوتا تو میں اس عورت کورجم کرتا۔ ؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں تھی، یہ کوئی اور عورت تھی،یہ اسلام میں ہونے کے باوجود بے حیائی کا اظہار کرتی تھی۔

۔

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاصم بن عدی سے فرمایا: اس عورت کو بچہ جننے تک اپنے قبضہ میں رکھو، اگر اس نے گھنگھریالے بالوں والا، سیاہ زبان والا بچہ جنم دیا تو یہ ابن سحماء کا ہے۔ جب بچے نے جنم لیا تو عاصم کہتے ہیں کہ میں نے اسے پکڑا تو اس کے سر کے بال بکری کے چھوٹے بچے کی مانند گھنے تھے، پھر میں نے اس کے جبڑے کو پکڑا تو وہ بیر کی مانند سرخ تھا اور اس کی زبان سامنے سے میں نے دیکھی تو کھجور کی مانند سیاہ تھی، میں نے کہا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا ہے۔