۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لوں، تو کیا اس کو اس وقت تک مہلت دے دوں، جب تک چار گواہ پیش نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔
Takhreej
(۷۱۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۹۸(انظر: ۱۰۰۰۷)
Explanation
فوائد:…یہ چارگواہوں کا سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو دیکھ کر برداشت نہ کروں گا، گواہ لانا تو بعد کی بات ہے، میں تو اس سے پہلے پہلے تلوار مار کر اس آدمی کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو، تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے، یہ بڑا غیرت مند ہے اور میں اس سے بڑھ کر غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہیں۔ (صحیح مسلم)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پرزنا کی تہمت لگائی تو ان سے کسی نے کہا تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقینا اسی کوڑے لگائیں گے جو کہ تہمت کی حد ہے) تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے کہ وہ مجھے اسی کوڑے لگنے دے، کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ میں نے ایسے ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے یقین ہے، اور میں نے ایسی باتیں سنی ہیں کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ (میری بیوی سے برائی ہوئی ہے)، اللہ کی قسم! مجھے وہ کبھی بھی کوڑے نہیں لگنے دے گا، پس لعان والی آیت نازل ہوئی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کی شام کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا:بتائو اگر ہم میں سے ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، اب اگر وہ اسے قتل کرے تو تم اسے قتل کردو گے، اگر وہ بات کرے تو تم اس پر تہمت کی حد لگائو گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو بہت زیادہ غصہ اس کی خاموشی میں دبا ہو گا، اللہ کی قسم! اگر میں صبح تک صحیح سلامت رہا تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لیتا ہے، اب اگر وہ اس کو قتل کر دے تو تم لوگ اس کو قتل کر دو گے، اگر وہ یہ بات کرے تو تم اس کو تہمت کی حد لگا دو گے، اور اگر وہ خاموش رہتاہے تو اس کی خاموشی کے نیچے غضب دبا ہوا ہو گا، اے میرے اللہ! اس چیز کا فیصلہ کر دے، پس لعان کی آیات نازل ہوئیں۔ سیدنا عبد اللہ کہتے ہیں: سب سے پہلے وہی آدمی، جو یہ سوال کر رہا تھا، لعان کی آزمائش سے گزرا، اسی سے آغاز ہوا تھا۔
Takhreej
(۷۱۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۹۵ (انظر: ۴۰۰۱)
Explanation
فوائد:…یہ آدمی سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوْا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا} … جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور چار گواہ پیش نہیں کرتے تو انہیں اسی کوڑے مارو، اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کریں۔ تو انصار کے سردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے، (جیسے آپ نے تلاوت کی ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! جو کچھ تمہارے سردار نے کہا ہے، کیا تم نے سن لیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس سردار کو ملامت نہ کریں، کیونکہ یہ بہت غیرت مند آدمی ہے، ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہوں نے صرف دوشیزہ عورتوں سے شادی کی ہے اور ان کی غیرت کے جوش کی ہی وجہ ہے کہ جس عورت کو انہوں نے طلاق دی ہو، ہم میں سے کوئی بھی یہ جرأت نہیں کرتا کہ ان کی مطلقہ سے شادی کر لے۔سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ معلوم ہے کہ آیت سچ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، مجھے تعجب یہ ہے کہ اگر بالفرض میں اپنی بیوی کو اس کمینگی تک پہنچے ہوئے دیکھوں کہ کوئی مرد اس سے زنا کا ارتکاب کرتا ہے، میرے لیے اجازت نہ ہو گی کہ میں نہ تو اس کو حرکت کرنے دوں اور نہ ہی بھڑکائو ں، تاوقتیکہ چار گواہ نہ لے آئوں، اللہ کی قسم! اس طرح تو کام نہیں چلے گا، میرے چار گواہ لانے تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے ہوں گے، یہ تو بطور فرض ہی بات ہو رہی تھی، حقیقت میں ایسا ہوا کہ کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آ گئے، یہ صحابی ان تینوں میں سے ایک ہیں، جن کی غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے توبہ قبول ہوئی تھی۔ ہوا یوں کہ یہ رات کے وقت اپنی زمین سے فارغ ہو کر گھر آئے تو بیوی کے پاس ایک اجنبی مرد کو پایا، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کانوں سے آوازیں سن لیں، ان کی طبیعت میں اطمینان رہا، ہیجان پیدا نہ ہوا تھا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں رات کے وقت گھر آیا تو میری بیوی کے پاس ایک غیر مرد موجود تھا، جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اور میں نے کانوں سے ان کی آواز سنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات کو پسند نہ فرمایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ واقعہ ناخوشگوار گزرا، انصار جمع ہو کر کہنے لگے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جسے فرضی طور پر پیش کر رہے تھے وہ تو ہماری حقیقی آزمائش بن گیا ہے۔اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو کوڑے بھی ماریں گے اور مسلمانوں میں اس کی گواہی کو ناقابل قبول قرار دیں گے۔جبکہ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میرے لیے نجات کا رستہ نکالے گا۔ ہلال نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا ہوں جو کچھ میں نے آپ کے سامنے واقعہ دلخراش پیش کیا ہے یہ آپ کے مزاج پر گراں گزرا ہے، مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں میں نے سچ کہا ہے۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں حد قذف کے اسی کوڑے لگانے کا حکم دینے ہی والے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزول وحی کا آغازہونے لگا۔ جب وحی کے نزول کا آغاز ہوتا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت کی تبدیلی سے پہچان جاتے تھے۔ آپ پر وحی کے نازل ہونے تک کے وقفہ میں لوگ آپ سے ہٹ کر رہتے تھے تو یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں: {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَائُ إِلَّا أَنْفُسُہُمْ فَشَہَادَۃُ أَحَدِہِمْ}… جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے اپنے سوا کوئی گواہ ان کے پاس موجود نہیں تو ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے نام کی چار گواہیاں ادا کرے،…۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ وحی کی کیفیت دور ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ہلال، آپ کے لیے پیغام مسرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کشادگی اور بچائو کی تدبیر پیدا کر دی ہے۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے اپنے رب سے مکمل امید تھی کہ وہ ضرور کوئی نجات کی صورت پیدا فرمائیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کی طرف پیغام بھیجو، اس کی طرف پیغام پہنچایا گیا، پس وہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت فرمائی اور ان کے سامنے ذکر کیا کہ آخرت کا عذاب، دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے، سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں نے اس کے بارے میں سچ بات کہی ہے۔ عورت کہنے لگی: اس نے جھوٹ بولا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میاں بیوی کے مابین لعان کرو، سیدنا ہلال سے کہا گیا کہ گواہی دو، اس نے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کے نام کی گواہیاں دیں کہ میں سچا ہوں، جب پانچویں مرتبہ گواہی دینے ہی والا تھا تو ہلال سے کہا گیا اللہ سے ڈرو! دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کی بہ نسبت ہلکا ہے اور یہ پانچویں مرتبہ والی گواہی تجھ پر عذاب واجب کرنے کا باعث ہو گی۔ سیدنا ہلال کہنے لگا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے جس طرح مجھے کوڑے نہیں لگنے دیئے، وہ مجھے عذاب اور سزا سے بھی محفوظ فرمائے گا، سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے پانچویں مرتبہ کہا اگر میں جھوٹ بولنے والا ہوں گا تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔پھر اس عورت سے کہا گیا تو بھی اللہ تعالیٰ کی شہادت کی چار گواہیاں ادا کرنے کے بعد کہے کہ یہ ہلال جھوٹ بول رہا ہے، جب یہ عورت پانچویں مرتبہ گواہی دینے لگی تو اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کی بہ نسبت آسان تر ہے اور اب کی مرتبہ تیری گواہی جھوٹی ہونے کی صورت میں سزا واجب کر دے گی، وہ لمحہ بھر رکی پھر یہ کہتی ہوئی کہ اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی آگے بڑھی اور پانچویں گواہی دی کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر وہ سچ بولتا ہے۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور فیصلہ فرمایا کہ اسی لعان کے بعد والے بچے کو باپ کے نام سے نہ پکارا جائے اور اس کے بعد نہ تو اس عورت پر تہمت و طعنہ زنی کی جائے اور نہ ہی اس کے بچے پر تہمت و طعنہ زنی کی جائے، جو اس عورت یا اس کے بچے پر طعنہ زنی کرے گا، اسے تہمت کی حد لگائی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لیے اس کے خاوند کے ذمہ نہ تو رہائش ہے اور نہ ہی خوراک ہے، کیونکہ یہ بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور بغیر فوتدگی کے علیحدہ ہوئے ہیںاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ عورت اس حلیہ کا بچہ جنم دے جو کہ سرخ و سفید رنگ کا ہو، پنڈلیاں اور سرین پر گوشت نہ ہو اور باریک پنڈلیوں والا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہو گا،اور اگر گندمی رنگ کا، گھنگھریالے بالوں والا ہو پر جوڑ اور مضبوط اعضاء اور موٹی پنڈلیوں اور موٹی سرین والا ہو تو یہ بچہ اس کا ہو گا جس کے ساتھ اس عورت پر تہمت لگائی گئی ہے۔ جب اس عورت نے بچہ جنم دیا تو وہ گندم گوں، گھنگھریالے بالوں والا اور مضبوط جوڑ اور اعضاء والا تھا، پنڈلیاں اور سرین پرگوشت تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ لعان کی قسموں والا معاملہ درمیان میں حائل نہ ہوتا تو میرے اور اس عورت کے درمیان کوئی اورصورت ہوتی۔ عکرمہ کہتے ہیں: وہی بچہ بعد میں مصر پر امیر مقرر ہوا تھا، اسے ماں کے نام سے پکارا جاتا تھا، باپ کے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا۔
فوائد:…اس حدیث کے درج ذیل الفاظ سے ثابت ہوا کہ لعان سے میاں بیوی میں ازخود جدائی ہو جاتی ہے، طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی: اس عورت کے لیے اس کے خاوند کے ذمہ نہ تو رہائش ہے اور نہ ہی خوراک ہے، کیونکہ یہ بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور بغیر فوتدگی کے علیحدہ ہوئے ہیں۔
۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال ہوا کہ ان میں تفریق ڈال دی جائے گی یا کہ نہیں، یہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور امارت کی بات ہے، مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، پس میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے گھر کی جانب روانہ ہوا، میں نے ان سے مل کر عرض کی: اے ابو عبد الرحمن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! تعجب ہے یہ بات سب سے پہلے فلاں کے بیٹے فلاں نے پوچھی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیں ایک آدمی اپنی بیوی کو بے حیائی پر دیکھتا ہے، اگر بات کرے تو بات بہت ہی بڑی اور ناگوار ہے، اگر خاموش رہے تو بھی معاملہ بڑا سنگین ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، جب کچھ دیر گزری تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جو سوال میں نے بطور فرض پوچھا تھا، وہ میرے اوپر ہی پرت گیا ہے، پس اللہ تعالی نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ … … أَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِینَ۔}… جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں … اگر یہ سچا ہے تو اس عورت پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کا آغاز مرد سے کیا اور اسے وعظ و نصیحت اور یاد دہانی کی اور اسے خبر دی کہ دنیا کی سزا، آخرت کی سزا کی بہ نسبت بہت ہلکی ہے، اس آدمی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں نے آپ سے جھوٹ نہیں کہا، اس کے بعد عورت سے وعظ و نصیحت اور یاد دہانی فرمائی اور اسے خبردار کیا کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا کی بہ نسبت ہلکی ہے۔ اس عورت نے بھی کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دیا ہے، یہ جھوٹا ہے، آدمی سے آغاز کیا، اس نے چار گواہیاں دیں کہ میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو مجھ پر اگر میں جھوٹ بولوں تو، پھر اس کے بعد عورت نے دوسرے نمبر پر اللہ تعالیٰ کے نام کی چار گواہیاں دیں کہ وہ جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر یہ سچا ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! مجھے بتائو کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو زنا کرتے پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کرے؟ اگر قتل کرتا ہے تو تم اسے قتل کرو گے، وہ کیاکرے، اس بارے میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر بتائو، عاصم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے مسائل پوچھنے کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا، حتیٰ کہ عاصم نے اس بارے میں جو جواب سنا وہ ان پر گراں گزرا (یہ اسحاق راوی کے الفاظ ہیں)۔جب عاصم اپنے گھر لوٹا اور اس کے پاس عویمر آیا اور کہا: عاصم! بتائو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ عاصم نے عویمر سے کہا: تونے مجھ تک کوئی بھلائی نہیں پہنچائی، جس مسئلہ کے متعلق تو نے دریافت کیا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے۔ عویمر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو آپ سے اس کے متعلق پوچھے بغیر باز نہ آئوں گا، پھر عویمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب متوجہ ہوئے حتیٰ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور لوگوں کے درمیان میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ بتائیں کہ ایک آدمی کسی کواپنی بیوی کے پاس پاتاہے، کیاوہ اسے قتل کر دے، اگر قتل کر دے توآپ اسے قتل کر و گے یا وہ کیا کرے؟ تو اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم اتاراہے، اسے میرے پاس لائو۔ سہل کہتے ہیں: وہ آئی اور دونوں میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا، میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو لعان کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، جب دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب اگر میں اسے رکھوں تو پھر تو میں نے اس پر جھوٹ بولا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ لعان کرنے والوں کے لیے طریقہ بن چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس نے سیاہ رنگ کا، سیاہ آنکھوں والا اور بڑی سرین والا بچہ جنم دیا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے سچ کہا ہے اور اگر یہ سرخ رنگت والا، جیساکہ چھوٹے جسم کا جانور ہوتا ہے، بچہ جنا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے جھوٹ بولا ہے۔ جب اس نے بچہ جنم دیا تو وہ ناپسندیدہ صورت والا یعنی پہلی صفت والا تھا، جو تہمت زدہ آدمی کی شکل تھی۔
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا! کوئی شخص اپنی بیوی سے لعان کرلے تو کیا دونوں میں علیحدگی ہوجائے گی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ عجلان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے مابین علیحدگی کروا دی تھی اورساتھ ہی تین مرتبہ ان سے یہ بھی دریافت فرمایا تھا: تم میں سے ایک توجھوٹا ہے، توکیا تم دونوں میں کوئی ایک توبہ کرے گا؟
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عویمر عجلانی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر ظلم کرتا ہوں، لہٰذا اسے طلاق ہے، اسے طلاق ہے،اسے طلاق ہے۔
فوائد:…یہ ہلال بن امیہ کے واقعہ کی جانب اشارہ ہے، جب ان کی بیوی نے لعان کیا وہ حاملہ تھیں تو حمل کے ذریعہ لعان کا مطلب ہے کہ اگر خاوند کو بیوی کے پیٹ میں موجود حمل مشکوک نظر آئے تو بھی لعان ہو سکتا ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجلان قبیلہ کے عویمر اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس کی بیوی حاملہ تھی، عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے میں نے پہلی بار کھجوروں کو سیراب کیا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک اس کے قریب نہیں گیا (تو پھر یہ حاملہ کیسے ہو گئی) اور میں نے کھجوروں کو پیوندکاری کے دو ماہ بعد پانی پلایا ہے۔ یہ عویمر جو اس عورت کا خاوند تھا باریک پنڈلیوں اورباریک بازئوں والا تھا، اس کے بالوں میں سرخی پن نمایاں تھا اور اس عورت کو جس آدمی کے ساتھ تہمت لگائی گئی وہ شریک بن سحماء تھا، اس عورت نے سیاہ رنگت والا، گھنگھریالے بالوں والا، موٹے بازئوں والا، اور مضبوط پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔ ابن شداد بن ہا دنے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا یہ وہی عورت تھی، جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں نے کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرنا ہوتا تو میں اس عورت کورجم کرتا۔ ؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں تھی، یہ کوئی اور عورت تھی،یہ اسلام میں ہونے کے باوجود بے حیائی کا اظہار کرتی تھی۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصم بن عدی سے فرمایا: اس عورت کو بچہ جننے تک اپنے قبضہ میں رکھو، اگر اس نے گھنگھریالے بالوں والا، سیاہ زبان والا بچہ جنم دیا تو یہ ابن سحماء کا ہے۔ جب بچے نے جنم لیا تو عاصم کہتے ہیں کہ میں نے اسے پکڑا تو اس کے سر کے بال بکری کے چھوٹے بچے کی مانند گھنے تھے، پھر میں نے اس کے جبڑے کو پکڑا تو وہ بیر کی مانند سرخ تھا اور اس کی زبان سامنے سے میں نے دیکھی تو کھجور کی مانند سیاہ تھی، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔
فوائد:…اس سے اس پر استدلال درست ہے کہ وضع حمل سے پہلے بھی لعان جائز ہے جبکہ خاوند اس پیٹ کے بچے کی نفی کر دے ضروری نہیں کہ لعان بچہ جنم لے تو بعد میں ہی ہو سکتا ہے پہلے نہیں ہو سکتا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بنوعجلان کی ایک انصاری خاتون سے شادی کی، وہ اس کے پاس گیا اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اس عورت کو کنوارا نہیں پایا، جب ان دونوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا، اس لڑکی نے جوابا کہا: میں تو کنواری ہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو حق مہر بھی دلوایا۔
Takhreej
(۷۲۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لتدلیس محمد بن اسحاق، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۷۰ (انظر: ۲۳۶۷)
Explanation
فوائد:…پردۂ بکارت کے پھٹ جانے کی بنا پر نہ لعان درست ہے اور نہ اس وجہ سے برائی کی تہمت لگائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ پردہ بدکاری کے علاوہ کسی اور چیز سے بھی متأثر ہو سکتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا کہ اس کو اس کے باپ کی نسبت سے نہ پکارا جائے، نیز جو شخص بھی اس خاتون یا اس کی اولاد پر الزام تراشی کرے اس پر تہمت کی حد قائم کی جائے، علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا کہ اس عورت کے شوہر کے ذمہ نہ تواس کا نان ونفقہ ہے اور نہ ہی رہائش کا بندوبست، کیونکہ ان کے مابین علیحدگی کی وجہ طلاق یا شوہر کی وفات نہیں ہے، بلکہ اور کچھ ہے۔
Takhreej
(۷۲۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ عباد بن منصور تُکلم فیہ، وفی سماعہ عن عکرمۃ (انظر: ۲۱۹۹)
Explanation
فوائد:…یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ لعان کے بعد خاوند اس بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کی اولاد سے اپنی نسبت کا بھی انکار کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مابین علیحدگی کروا دی اور بچے کی نسبت خاتون کے ساتھ کردی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ دیا کہ ایسی اولاد اپنی ماں کی وارث بنے گی اور ماں اولاد کی وارث ہوگی۔ جو شخص لعان کے بعد عورت اور اس کی اولاد پر تہمت لگائے گا اسے اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
Takhreej
(۷۲۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس (انظر: ۷۰۲۸)
Explanation
فوائد:…اس حدیث میں بھی جو مسئلے بیان کیے گئے ہیں، وہ دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا: تمہارا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: تیرا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ادا کئے ہوئے حق مہر کاکیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس عورت کے مقابلے میں سچا ہے تو یہ حق مہر اس کے عوض ہو جائے گا جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھے رکھا، اور اگر تم نے جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو وہ تجھ سے بہت دور ہے۔
فوائد: لعان، طلاق نہیں ہے، بلکہ ایسا فسخ نکاح ہے کہ اس کے بعد میاں بیوی کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْمُتَلَاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقاً لَایَجْتَمِعَانِ أَبَداً۔)) … جب لعان کرنے والے (میاں بیوی) جدا ہو جائیں، تو کبھی (نکاح میں) جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ حدیث عبد اللہ بن عمر، سہل بن سعد، عبداللہ بن مسعود اور علی بن ابو طالب سے مروی ہے۔ (دیکھیں: بیہقی:۷/۴۰۹، ابوداود: ۱/۳۵۱ـ ۳۵۲، عبدالرزاق:۷/ ۱۱۲/ ۱۲۴۳۴، ۱۲۴۳۶، معجم کبیر طبرانی:۹/۳۹۰/۹۶۶۱ ، صحیحہ: ۲۴۶۵)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، جب دو میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے، لہذا میں اسے ساتھ نہیں رکھوں گا۔سیدنا سہل بن سعد بیان کرتے ہیں: لعان کرنے والی عورت نے ناپسندیدہ صفت میں بچہ جنم دیا تھا۔
فوائد:…صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے لعان مسجد میں کیا تھا اور میں حاضر تھا اور عصر کے بعد کیا تھا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اورکہا: اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری بیوی نے سیاہ رنگ کا بچہ جنم دیا ہے، (چونکہ وہ خود سفید رنگت کا تھا) اس لیے وہ دراصل بچے کی نفی کا اشارہ دے رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تونے اونٹ رکھے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے آگیا؟ اس نے کہا: شاید اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو شاید اس کو بھی رگ نے ہی کھینچ لیا ہو۔ آپ نے اسے بچے کی نفی کی اجازت نہ دی تھی۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والے بچے کی رنگت اور شکل و صورت کی بنا پر اس کی ماں پر تہمت نہیںلگائی جا سکتی، بلکہ ایسا بچہ جس کے گھر پیدا ہو گا، اسی کا سمجھا جائے گا، ایسی صورت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہو گی۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ: اولاد اسی شخص سے منسوب ہوگی, جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: بچہ بستر والے کا ہو گا، جبکہ زانی کے لئے پتھر ہوں گے۔
فوائد:…شادہ شدہ عورت سے جو بچہ پیدا ہو، وہ خاوند ہی سے متصور ہو گا، اسی طرح لونڈی سے جو بچہ پیدا ہو، وہ اس کے مالک ہی کا متصور ہو گا، جب تک خاوند یا مالک کسی دلیل کی بنا پر نفی نہ کرے، کیونکہ بچے کے جائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ مخفی ہوتا ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنا مشکل امر ہے۔