TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رجعی طلاق والی اور قطعی طلاق والی حاملہ کے خرچہ کا بیان - رجعی طلاق والی اور قطعی طلاق والی حاملہ کے خرچہ کا بیان - عدتوں کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of عدتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 3 Hadith
۔
۔ عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مدینہ منورہ میں آیا اورسیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خاوند نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں طلاق دے دی، میرے شوہر کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیج دیا، بعد میں میرے شوہر کے بھائی نے کہا: تو اب ہمارے گھر سے چلی جا۔ میں نے کہا: نہیں، عدت ختم ہونے تک تمہارے ذمہ میرے لیے خرچہ اور رہائش ہے۔ اس نے کہا: نہیں، ہمارے ذمہ اب کچھ نہیں۔ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور میں نے اپنے شوہر کا نام لے کر کہا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کے بھائی نے مجھے باہر نکال دیا ہے اور نان و نفقہ اور رہائش سے روک دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ یہ بنت آل قیس یعنی فاطمہ کو کیوں نہیں رہنے دیتے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھائی نے اسے پوری تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے بنت آل قیس! اب دیکھ لو، خرچہ اور رہائش اس شوہر کے ذمہ اس عورت کے لیے ہے، جس کے لیے اسے رجوع کا حق ہو اورجب عورت پر اسے رجوع کا حق نہ ہو گا، تو پھر اس شوہر پر اس عورت کے لیے نہ تو خرچہ ہے اور نہ ہی رہائش ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاطمہ اب تم اس گھر سے نکل جائو اور فلاں عورت یعنی ام شریک کے گھر منتقل ہو جاؤ۔ لیکن پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے پاس لوگ بیٹھتے اورباتیں کرتے ہیں، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھرمنتقل ہو جاؤ،وہ نابینا آدمی ہے، تمہیں دیکھ نہ سکے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نکاح نہ کرنا، میں خود تمہارا رفیق سفر منتخب کروں گا۔ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: مجھے قریش کے ایک آدمی نے منگنی کا پیغام بھیجا، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس کے بارے میں مشورہ کے لیے حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتی، جو مجھے اس قریش سے بھی زیادہ پیارا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ جس سے محبت رکھتے ہیں، میرا اسی سے نکاح کر دیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا نکاح سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کر دیا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اسامہ سے نکاح کیا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بہت زیادہ بھلائیاں پیدا کر دیں۔عبید اللہ بن عبد اللہ والی حدیث میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے خرچہ کی اجازت نہ دی تھی فرمایا تھا کہ اگر حاملہ ہوتی توپھر اس کے لیے خرچہ تھا۔
Takhreej
(۷۲۵۳) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ دون قولہ: انظری یا بنت آل قیس، انما النفقۃ والسکنی للمرأۃ علی زوجھا ما کانت علیھا رجعۃ۔ ففیہ وقفۃ، أخرجہ مسلم: ۱۴۸۸۰ دون ھذہ الزیادۃ (انظر: ۲۷۱۰۰)
Explanation
فوائد:…طلاق بائنہ والی عورت کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار خاوند نہیں ہے، الا یہ کہ اگر وہ حاملہ ہو تو خاوند کو اس کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، اللہ تعالی کے درج ذیل فرمان کا بھی یہی تقاضا ہے:
7253
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنگ اوطاس میں گرفتارہونے والی لونڈیوں کے بارے میں حکم فرمایا: حاملہ سے جماع نہ کرنا، جب تک وضع حمل نہ ہو جائے اور جو حاملہ نہیں ہے، اس سے بھی اس وقت تک جماع نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایک حیض نہ گزار لے۔
Takhreej
(۷۲۵۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۱۵۷(انظر: ۱۱۲۲۸)
Explanation
فوائد:…اوطاس ظائف کے قریب ایک جگہ ہے، یہاں جنگ ہوئی تھی، وہاں سے لونڈیاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں ،ان کے متعلق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا، تاکہ ان کے رحم کی برأت واضح ہو جائے اور پھر ان سے ملا جائے۔
7254
Sahih
۔
۔ عبد اللہ بن بریدہ بیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے باپ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سخت بغض تھا، اتنا کسی بھی دوسرے سے نہ تھا حتیٰ کہ مجھے قریش کے ایک آدمی سے بہت زیادہ محبت صرف اس لیے تھی کہ وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس آدمی کو امیر لشکر بنا کر بھیجا گیا،میں صرف اس لیے اس کا ہمرکاب ہوا کہ اسے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض تھا، ہم نے لونڈیاں حاصل کیں، امیر لشکر نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ آدمی بھیج دیں، جو مال غنیمت کے پانچ حصے کرے اور اسے تقسیم کرے، آپ نے ہمارے پاس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیج دیا، انہوں نے مال تقسیم کیا، قیدی عورتوں میں ایک ایسی لونڈی تھی، جو کہ سب قیدیوں میں سے بہتر تھی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مال غنیمت کے پانچ حصے کئے اور پھر اسے تقسیم کر دیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب باہر آئے تھے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور سر ڈھانپا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: اے ابو حسن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیدیوں میں یہ لونڈی میرے حصہ میں آئی ہے، میں نے مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے تقسیم کر دیا ہے، یہ پانچویں حصہ میں آئی ہے جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہے اور پھر اہل بیت میں سے ایک حصہ آل علی کا ہے اور یہ لونڈی اس میں سے میرے حصہ میں آئی ہے اور میں نے اس سے جماع کیا ہے، اس آدمی نے جو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب خط لکھا، سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: یہ خط مجھے دے کر بھیجو، اس نے مجھے ہی بھیج دیا تاکہ اس خط کی تصدیق و تائید کروں، سیدنا بریدہ کہتے ہیں: میں نے وہ خط نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا اور میں نے کہا: اس میں جو بھی درج ہے وہ صحیح ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاتھ سے خط پکڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے ہو تو اس میں اور اضافہ کرو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے؟ خمس میں آل علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا حصہ تو اس افضل لونڈی سے بھی زیادہ بہتر بنتا ہے۔ سیدنا بریدہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے ان سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہ تھا۔عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اس حدیث کے بیان کرنے میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان صرف میرے باپ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واسطہ ہے۔
Takhreej
(۷۲۵۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۰۵۱م، (انظر: ۲۲۹۶۷)
Explanation
فوائد:…استبرائے رحم کے لیے حاملہ لونڈی کا وضع حمل تک اور غیر حاملہ لونڈی کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے گا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جس لونڈی سے جماع کیا تھا، ممکن ہے کہ ان کے پہنچنے تک اس کو حیض آ چکا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کنواری یا چھوٹی ہو۔
7255
Sahih