TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عدتوں کا بیان - عدتوں کا بیان - Book 128 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 128 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 24 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

24 Hadith · 5 Chapters
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
۔
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ سے اس عورت کی عدت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو اوروہ حاملہ ہو، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دو عدتوں میں سے دور والی عدت ہو گی، جبکہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب وہ بچے کوجنم دے گی تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب سیدہ سبیعہ اسلمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے خاوند کی وفات کے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دیا تو اسے دو آدمیوں نے پیغام نکاح بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا ذرا ادھیڑ عمر تھا، اس خاتون کا میلان یہ تھا کہ وہ نوجوان سے نکاح کرے، یہ صورت حال دیکھ کر ادھیڑعمر کہنے لگا کہ یہ تو ابھی عدت سے ہی باہر نہیں ہوئی، دراصل اس عورت کے گھروالے وہاں موجود نہ تھے اور اس بوڑھے کو امید تھی کہ جب اس کے گھروالے آ جائیں گے تو وہ اس ادھیڑ عمر کو ترجیح دیں گے، اس کی بات سن کر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور فتویٰ پوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری عدت ختم ہو چکی ہے،تو جس سے چاہتی ہے، نکاح کر سکتی ہے۔
Takhreej
(۷۲۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۹۱ (انظر: ۲۶۷۱۵)
Explanation
فوائد:…دو عدتوں میں سے دور کی عدت کا مطلب یہ ہے کہ بیوہ حاملہ کی عدت دو قسم کی ہے: وضع حمل اور چار ماہ دس دن، اب اگر چار ماہ دس دن سے پہلے بچہ جنم دے تو وہ چار ماہ دس دن مکمل کرے اور اگر چار ماہ دس دن کے بعد تک حمل جائے تو پھر عدت وضع حمل ہی ہو گی۔
7232
Sahih
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ سبیعہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے پندرہ دن بعد بچے کوجنم دیا، ان کے پاس سیدنا ابو سنابل آئے اور کہا: معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں نکاح کرنے کا خیال گردش کر رہا ہے، تمہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی حتیٰ کہ دو عدتوں میں سے دور والی عدت نہ گزار لو، یہ سن کر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور ابوسنابل کی بات کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوبتایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو سنابل غلط کہہ رہا ہے، تمہاری عدت پوری ہو چکی ہے، جب تمہارے لیے مناسب یا تمہاری پسند کا رشتہ آئے تو میرے پاس آنا اور مجھے اس کی اطلاع دینا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو خبر دی کہ اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔
Takhreej
(۷۲۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن جعفر سمع من سعید بن ابی عروبۃ بعد اختلاطہ، وقد اعلہ احمد بالارسال (انظر: ۴۲۷۳)
7233
Zaeef
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
۔
۔ سیدنا ابو سنابل بن بعکک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ سبیعہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات سے تئیس یا پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا، جب مدت نفاس گزر چکی تو اس نے نئی شادی میں رغبت کا اظہار کیا، لیکن اس پر اعتراض کیا گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں اس چیز کا تذکرہ کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ عورت ایسا کرنا چاہے تو وہ کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت وضع حمل کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے۔
Takhreej
(۷۲۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، لایعرف للاسود سماع من ابی السنابل، أخرجہ الترمذی: ۱۱۹۳(انظر: ۱۸۷۱۴)
7234
Zaeef
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
۔
۔ سیدنا ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ سبیعہ بنت ابی برزہ اسلمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور ان سے ان کے معاملہ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: میں سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی، وہ فوت ہو گئے اوران کی وفات کے صرف دو ماہ بعد میں نے بچہ جنم دیا، اُدھر بنو عبد داروالے ابو سنابل بن بعکک نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نکاح کرنے کے لیے تیار تھی کہ میرا دیور میرے پاس آیا، میں نے مہندی بھی لگا لی اور مکمل تیاری کر لی، اس نے کہا: اے سبیعہ کیا کرنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: میں شادی کرنا چاہتی ہوں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تو ابھی شادی نہیں کر سکتی، جب تک کہ چار ماہ دس دن عدت نہ گزار لے، سبیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو حلال ہو چکی ہے اور شادی کر سکتی ہے۔
Takhreej
(۷۲۳۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۷۴۶ (انظر: ۲۷۴۳۸)
7235
Sahih
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
۔
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: قرآن مجید کی آیت {وَاُلاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} میں مذکور عدت ان عورتوں کی ہے جن کو تین طلاقیں دی جا چکی ہوں یا یہ بیوہ عورت کی عد ت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا فرمایا: دونوں کے لئے۔
Takhreej
(۷۲۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل المثنی بن الصباح، فھو ضعیف، أخرجہ الدارقطنی: ۴/ ۳۹، والدارقطنی: ۳/ ۳۰۲، وعبد الرزاق: ۱۱۷۱۷(انظر: ۲۱۱۰۸)
Explanation
فوائد:…یہ روایت ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے، ان کو طلاق ہوئی ہو یا ان کا خاوند فوت ہوا ہو۔
7236
Zaeef
جب غیر حاملہ خاتون کا خاوند فوت ہو گا تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں تو وہ چار ماہ دس دن انتظار کیا کرے۔
۔
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کو ہم پر خلط ملط نہ کرو، جب ام ولد کا خاوند فوت ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی۔
Takhreej
(۷۲۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، قبیصۃ لم یسمع من عمرو، أخرجہ ابوداود: ۲۳۰۸، وابن ماجہ: ۲۰۸۳ (انظر: ۱۷۸۰۳)
Explanation
فوائد:…جس لونڈی سے اس کے آزاد مالک کا بچہ ہو جائے، اس کو ام ولد کہتے ہیں۔
7237
Zaeef
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
۔
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوا اور اس کی آنکھ خراب ہو گئی، اس کے گھر والوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور سرمہ ڈالنے کی اجازت چاہی، انہوں نے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی آنکھیں کا نقصان نہ ہو جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین لباس میں بدترین مقام پر ایک سال تک ٹھہرا کرتی تھی اور جب اس کے پاس سے کتا گزرتا تھا تو لید پھینکا کرتی تھی، کیا اب وہ چار ماہ دس دن بھی صبر نہیں کر سکتی۔
Takhreej
(۷۲۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۳۸، ومسلم: ۱۴۸۸، وابوداود: ۲۲۹۹(انظر: ۲۶۵۰۱)
Explanation
فوائد:…جاہلیت میں سوگ والی عورت ایک علیحدہ چھوٹا سا کمرہ تیار کر لیتی اور سب سے نکمے کپڑے پہن لیتی تھی اورخوشبو کو ہاتھ نہ لگاتی تھی، ایک سال تک اسی حالت میں عدت گزارتی تھی اور جب فارغ ہوتی تو سال کے آخر میں شرم گاہ پر لید لگا کر باہر پھینکتی کہ آج میں عدت سے فارغ ہو گئی ہوں، اللہ تعالیٰ نے سال کی عدت ختم کرکے چار ماہ دس دن کر دی ہے اور اس میں بھی جاہلیت کی کئی پابندیاں اٹھا دیں۔
7238
Sahih
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
۔
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند فوت ہوجائے حکم دیا کہ وہ کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا کپڑا اور زیورات نہ پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ سرمہ ڈالے۔
Takhreej
(۷۲۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۳۰۴، والنسائی: ۶/ ۲۰۳ (انظر: ۲۶۵۸۱)
Explanation
فوائد:…سرخ مٹی کو گیرو کہتے ہیں، جس سے کپڑا رنگا جاتا تھا۔
7239
Sahih
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
۔
۔ سیدہ ام عطیہ انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ نہ منائے، ما سوائے خاوند کے کہ اس کی وفات پر بیوی چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگا ہوا لباس نہیں پہنے گی، البتہ رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، وہ نہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو استعمال کرے، البتہ حیض سے طہارت کے وقت عود ہندی یامشک استعمال کر سکتی ہے۔
Takhreej
(۷۲۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۴۱، ومسلم: ۹۳۸(انظر: ۲۷۳۰۴)
Explanation
فوائد:…سنن نسائی کی روایت میں وَلَاتَمْشِطُ کے الفاظ بھی ہے، یعنی ایسی عورت کنگھی بھی نہ کرے۔
7240
Sahih
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
۔
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ایک نہایت قریبی رشتہ دار فوت ہو،ا سیدنا ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اسے اپنے بازئوں پر ملا اور کہا: میں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان عورت اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دنوں یا تین راتوں سے اوپر سوگ منائے، ما سوائے اس خاتون کے، جس کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ یہ روایت زینب نے اپنی ماں سیدہ ام سلمہ سے اور انہوں نے سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یا امہات المومنین میں سے کسی ام المومنین سے بیان کی ہے۔
Takhreej
(۷۲۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۳۹، ومسلم: ۱۴۸۶ (انظر: ۲۶۷۶۶)
Explanation
فوائد:…ان روایات میں خواتین کے لیے سوگ کے احکام و آداب بیان کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ مرد کا ان احکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسی خاتون کو شوخ، بھڑکیلے اور پھول دار لباس سے بچنا چاہیے، سادہ کپڑے پہننے چاہئیں، جن میں عموما زیب و زینت کا اظہار نہیںہوتا۔
7241
Sahih
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
۔
۔ سیدہ فریعہ بنت مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند اپنے مضبوط جسم والے غلاموں کی تلاش میں نکلا، جوبھاگ گئے تھے، اس نے ان غلاموں کو قدوم مقام پر پا تو لیا، لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے مل کر میرے خاوند کو قتل کر دیا، میرے خاندان والوں کے اس گھر میں مجھے میرے خاوند کی موت کی اطلاع ملی جو آباد ی سے دور تھا اور نہ ہی میرے خاوند نے میرے لئے کوئی خرچہ چھوڑا تھا، نہ ہی ورثاء کے لیے کوئی مال چھوڑا اور نہ ہی ان کا اپنا گھر ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ساری باتیں بیان کیں اور میں نے اجازت طلب کی کہ میں اپنے ماموئوں کے گھر میں اگر منتقل ہو جائوں تو میرے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، منتقل ہو جائو۔ جب میں آپ کے پاس سے نکل کر مسجد یا حجرہ تک ہی پہنچی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے اسی گھر میں عدت پوری ہونے تک ٹھہری رہو، جس میں تمہارے خاوند کی وفات کی اطلاع آئی تھی۔ پس میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں میری طرف پیغام بھیجا، میں نے انہیں اس مسئلہ کی خبر دی تو پھر انہوں نے اسی کے مطابق عمل کیا تھا۔
Takhreej
(۷۲۴۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۳۰۰، والترمذی: ۱۲۰۴، والنسائی: ۶/۱۹۹، وابن ماجہ: ۲۰۳۱(انظر: ۲۷۰۸۷)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ عدت وفات میں عورت کے لیے خاوند کے گھر ٹھہرنا ضروری ہے، جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے، شدید ضرورت کے تحت گھر سے نکل سکتی ہے، لیکن کام سے فارغ ہو کر فوراً گھر لوٹے، رات باہر مت گزارے۔
7242
Sahih
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا شوہر ایک سیاہ رنگ کا غلام تھا،اس کو مغیث کہا جاتا تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ کے پیچھے پیچھے روتا تھا اور آنسو بہاتا تھا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بارے میں چار فیصلے نافذ کیے: اس کے آقاؤں نے شرط لگائی تھی کہ ولاء ان ہی کے لیے ہو گی، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ ولاء کی نسبت اس کے لیے ہے، جس نے آزاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بریرہ کو مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا تھا اور انھوں نے اپنے نفس کو اختیار کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو آزاد خاتون کی عدت گزارنے کا حکم دیا، اور سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر صدقہ کیا گیا، پس اس نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بھی اس سے دیا، جب سیدہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
Takhreej
(۷۲۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ مختصرا بنحوہ البخاری: ۵۲۸۰ (انظر: ۳۴۰۵)
Explanation
فوائد:…اگر میاں بیوی دونوں غلامی میں ہوں تو بیوی کو آزاد کر دیا جائے تو اسے اپنے غلام خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
7243
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ سیدنا ضحاک بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن تھی، سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میں سیدنا ابو عمر و بن حفص بن مغیرہ کی زوجیت میں تھی، وہ مجھے دو طلاقیں دے چکے تھے، پھر سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی جانب بھیجا تو میرے شوہر بھی انکے ساتھ یمن چلے گئے، وہاں سے تیسری طلاق بھیج دی، مدینہ میں ان کے وکیل عیاش بن ابی ربیعہ تھے، میں نے ان سے اپنے خرچہ اور رہائش کامطالبہ کیا، انہوں نے مجھ سے کہا: ہمارے ذمہ تیرے لیے کوئی خرچہ یا رہائش نہیں ہے، ہاں ہم احسان کرتے ہوئے اپنی طرف سے کچھ دے دیتے ہیں، بہرحال ہم پابند نہیں ہیں۔ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اگر تمہارے ذمے کچھ نہیں ہے تو پھر مجھے تمہارا احسان سر لینے کی کوئی ضرورت نہیں، میں سیدھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور اپنا معاملہ بتایا اور جو عیاش نے بات کہی تھی، وہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیاش نے درست کہا ہے، تیرے لیے ان کے ذمہ نہ تو نان و نفقہ ہے اور نہ رہائش اور نہ ہی تو ان کی جانب لوٹ سکتی ہے، کیونکہ تین طلاقیں مکمل ہو چکی ہیں اب تیرے اوپر عدت لازم ہے، لہٰذا تو اپنی چچازاد ام شریک کے گھر منتقل ہو جا اور عدت کے اختتام تک وہی رہنا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، وہاں نہیں جانا، ان کی نیکی روی کی وجہ سے وہاں مسلمان بھائیوں کا کثرت سے آنا جانا ہے، تو اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے پاس منتقل ہو جا، ان کی نظر نہیں ہے، اس لیے وہاں کوئی دقت نہیں ہو گی، وہاں عدت گزار لے اور مجھے بتائے بغیر کوئی قدم نہ اٹھانا۔ سیدہ فاطمہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اس سے یہی سمجھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود میرے ساتھ شادی کا ارادہ رکھتے ہیں، شاید اس لیے یہ فرمایا ہے، بہرحال جب میں عدت سے فارغ ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری منگنی سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کرکے ان سے میری شادی کر دی۔ابو سلمہ راوی کہتے ہیں: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ حدیث خود مجھے لکھوائی اور میں نے اسے خود اپنے ہاتھ سے تحریر کیا ہے۔
Takhreej
(۷۲۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۸۰(انظر: ۲۷۳۳۴)
7244
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدہ فاطمہ کہتی ہیں: جب میں عدت سے فارغ ہوئی تو سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو جہم بن حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان افراد کے بارے میں فرمایا: معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو فقیر ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، اورابو جہم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو ہر وقت اپنے کندھے پر لاٹھی ہی اٹھائے رکھتا ہے، تم لوگ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ سیدہ فاطمہ کے گھروالوں نے یہ پسند نہ کیا، لیکن سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں تو صرف اسی سے شادی کروں گی، جس سے شادی کرنے کی تجویز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دی ہے، پس میں نے سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نکاح کر لیا۔
Takhreej
(۷۲۴۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7245
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ (تیسری سند)سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ابو عمرو بن حفص نے مجھے طلاق بائنہ دے دی اور وہ خود یہاں موجود نہ تھے، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اورپھر کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسامہ سے نکاح کر لو۔ میں نے اسے ناپسند کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: بس تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ تو میں نے آپ کے حکم پر ان سے نکاح کر لیا اوراس میں اللہ تعالیٰ نے بہت خیر پیدا فرمائی۔
Takhreej
(۷۲۴۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…سیدنا ابو عمرو بن حفص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مختلف مجلسوں میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، چونکہ تین طلاقوں کے بعد خاوند کو رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسی خاتون کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار بھی نہیں ہوتا، ایسی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کسی مناسب جگہ پر عدت گزار سکتی ہے۔
7246
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ ابوبکر بن ابوجہم کہتے ہیں: میں اور ابو سلمہ دونوں سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دی اور رہائش اور نان و نفقہ نہ دیا، بس صرف دس صاع دیئے، پانچ جو کے تھے اور پانچ کھجور کے، اپنے چچا کے بیٹے کے ہاتھ مجھے بھیج دیے، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور ساری تفصیل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے درست کیا ہے۔ تیرے لیے وہ رہائش اور نان و نفقہ کا ذمہ دار نہیں ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فلاں یعنی ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزاروں، راوی کہتے ہیں اسے اس کے خاوند نے طلاق بائنہ دے دی تھی۔
Takhreej
(۷۲۴۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۸۰(انظر: ۲۷۳۳۲)
7247
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دی تھیں، سو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور خاوند کی شکایت کرنے لگیں کہ اس نے مجھے نہ تو رہائش دی اور نہ ہی نان و نفقہ دیا۔ لیکن سیدہ فاطمہ کے جواب میں سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اللہ تعالی کی کتاب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑیں گے،ممکن ہے کہ وہ بھول گئی ہو۔ عامر شبعی کہتے ہیں: سیدہ فاطمہ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔
Takhreej
(۷۲۴۸) تخریج: حدیث فاطمۃ صحیح، أخرجہ الخطیب فی تاریخہ : ۳/ ۷۱ (انظر: ۲۷۳۳۸)
Explanation
فوائد:…سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دلیل یہ آیت تھی: {لَاتُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ} … (تم طلاق دینے کے بعد اپنی بیویوں کو) نہ ان کے گھر سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ (سورۂ: طلاق:۱)
7248
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ سعید بن زید کی بیٹی، سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی خالہ تھیں اور یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے اسے مختلف اوقات میں تین طلاقیں دے دیں، بنت سعید کے پاس اس خالہ فاطمہ بنت قیس نے پیغام بھیجا ،اس کو اپنے گھر منتقل کر لیا اور مدینہ پر اس وقت مروان بن حکم گورنر تھے۔قبیصہ کہتے ہیں: مروان نے مجھے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس بھیجا کہ میں ان سے دریافت کروں کہ ایک عورت یعنی عدت ختم ہونے سے پہلے ہی اپنے گھر سے باہر منتقل ہو گئی ہے، اس کا سبب کیا ہے،سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنا واقعہ بیان کیا اور کہا: میں تم سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ذریعہ مقدمہ لڑوں گی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِتَّدِہِنَّ وَاَحْصُو الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوْا اللّٰہَ رَبَّکُمْ لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} اِلٰی: {لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا}… جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے آغاز میں طلاق دو اور عدت شمار کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، انہیںان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ نکلیں، الا یہ کہ ظاہر بے حیائی کو آئیں… شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کریں۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا: … {فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ} جب یہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں اچھے طریقہ سے روکو یا اچھے طریقہ سے جدا کر دو۔ اللہ کی قسم! تیسری طلاق کے بعد روکنے کا ذکر نہیں کیا اور اس کے ساتھ یہ بھی ہوا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عدت گزارنے کا حکم بھی دیا ہے۔راوی کہتے ہیں: میں مروان کے پاس لوٹا اور جو کچھ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بتایا تھا، میں نے اس کو اس سے آگاہ کیا ہے، مروان نے کہا: ایک عورت کی بات ہے، پھرمروان نے اس عورت کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر لوٹ جائے اس وقت تک گھر میں رہے جب تک اس کی عدت ختم نہیں ہو جاتی۔
Takhreej
(۷۲۴۹) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، أخرجہ الطبرانی: ۲۴/ ۹۲۷، و ذُکِر ھذہ القصۃ فی صحیح مسلم: ۱۴۸۰(انظر: ۲۷۳۳۹)
Explanation
فوائد:…سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو یہ کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مقدمہ پیش کرتی ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ عدت کے شروع میں طلاق دو پھرعدت شمار کرو اور عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو، یہ ان عورتوں کے لیے ہے جنہیں ایک یا دو یعنی رجعی طلاقیں ہوئی ہوں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شاید کوئی نیا معاملہ پیدا کریں، جب تیسری طلاق ہو جائے تو اب اس کے بعد کیا معاملہ پیدا ہو گا وہ تو قطعی طلاق ہے اور یہ بھی قرآن پاک میں ہے کہ طلاق دو مرتبہ ہے، اس کے بعد جو حکم ہے یا تو اچھے طریقے سے روکو یا انہیں چھوڑ دو، یہ تیسری کا اشارہ ہے اور پھر میرے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فیصلہ بھی ہے کہ نہ تو میرے لیے رہائش ہے اور نہ ہی خرچہ ہے، سو معلوم ہوا کہ تیسری طلاق کے بعد جب عورت سے رجوع منع ہے، تو پھر عدت کیسی ہوئی لہٰذا تیسری کے بعد عورت کی عدت ختم ہو جاتی ہے عدت دو طلاقوں تک ہے۔
7249
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے، انہوںنے سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو وہ طلاق بھی بھیج دی جو باقی رہتی تھی اور سیدنا ابو عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا حارث بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ فاطمہ کو کچھ خرچہ دے دیں، لیکن سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے وہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا: مجھے باقاعدہ خرچہ دو، یہ میرا حق ہے، ابو عمرو نے کہا: اللہ کی قسم! تیرے لیے میرے ذمہ کوئی خرچ نہیں، ہاں اگر تو حاملہ ہوتی تو پھر وضع حمل تک خرچہ کی مستحق تھی۔ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور اس کا ذکر کیا کہ ابو عمرو میراخرچہ نہیں دے رہے اور کہتے ہیں کہ اگر تو حاملہ ہوتی تو پھر خرچہ تھا اب نہیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ درست کہتا ہے۔ کسی مجبوری کے تحت اس نے عدت کے لیے وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے میں کہاں عدت گزاروں؟ آپ نے فرمایا: ابن ام مکتوم کے گھر گزارو۔ وہ نابینا آدمی تھے، پردہ اتر بھی جائے تو چنداں نقصان دہ نہیں، کیونکہ وہ دیکھ نہیں سکتے، جب عدت پوری ہوئی تو ان کا نکاح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کر دیا۔مروان نے قبیصہ بن ذویب کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس یہ حدیث دریافت کرنے کے لیے بھیجا، جب انھوں نے واپس آ کر بیان کیا تو مروان کہنے لگا: یہ حدیث ایک عورت سے ہم نے سنی ہے، ہم وہ محفوظ طریقہ اپناتے ہیں، جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، مروان کی بات جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تک پہنچی تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن پاک ہی فیصلہ کرے گا: اللہ تعالی نے فرمایا {اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِتَّدِہِنَّ وَاَحْصُو الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوْا اللّٰہَ رَبَّکُمْ لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} اِلٰی: {لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا}… جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے آغاز میں طلاق دو اور عدت شمار کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، انہیںان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ نکلیں، الا یہ کہ ظاہر بے حیائی کو آئیں… شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کریں۔ فاطمہ نے کہا یہ گھروں سے نہ نکالنے کا حکم اس کے لیے ہے، جس کے لیے رجوع کا حق باقی ہے کہ اسے خرچہ دیا جائے، اب جبکہ تین طلاقیں ہو چکی ہیں، اس کے بعد نیا معاملہ کیا پیدا ہو گا؟
Takhreej
(۷۲۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۸۰(انظر: )
7250
Sahih
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
۔
۔ سیدنا ابوسلمہ بن عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ سیدنا ابو عمرو بن حفص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے انہیں آخری اور تیسری طلاق دے دی اور کہا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور اپنے گھر سے باہر آنے کے متعلق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتویٰ طلب کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو نابینا صحابی تھے، کے گھر منتقل ہونے کا حکم دیا، مروان نے فاطمہ کی اس بات کو مورد الزام ٹھہرایا کہ طلاق والی اپنے گھر سے نکل سکتی ہے۔ عروہ کا خیال ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی اس بات کا انکار کیا تھا۔
Takhreej
(۷۲۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۸۰ (انظر: ۲۷۳۴۷)
Explanation
فوائد:…ان تمام احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ طلاق بائنہ والی خاتون کے بارے میں مسئلہ وہی ہے، جو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی روایت کردہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایسی خاتون کا نان و نفقہ اور رہائش خاوند کی ذمہ داری نہیں ہوتی، ہاں اگر وہ حاملہ ہو تو خاوند پابند ہو گا، بہرحال پھر بھی اس کو رجوع کا حق نہیں ہو گا، اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی۔
7251
Sahih