۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی پر خرچ کرے یا اسے کھلائے، لیکن بیچ میں فساد اور اسراف کا ارادہ نہ ہو توجتنا اجر اس عورت کو ملے گا، اتنا اجر اس کے خاوند کو ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور اس عورت کوا جر اس بنا پر ثواب ملے گا کہ اس نے خرچ کیا ہے، اس طرح خزانچی کو بھی ثواب ملے گا اور کسی کی وجہ سے کسی کے اجر میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۷۲۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۲۴(انظر: ۲۴۱۷۱)
Explanation
فوائد:…اصل کمائی تو خاوند کی ہی ہے، چونکہ اس عمل میں اس کی بیوی اور خزانچی بھی شریک ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے حصے کا ثواب لیںگے۔
7264
Sahih