۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی پر خرچ کرے یا اسے کھلائے، لیکن بیچ میں فساد اور اسراف کا ارادہ نہ ہو توجتنا اجر اس عورت کو ملے گا، اتنا اجر اس کے خاوند کو ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور اس عورت کوا جر اس بنا پر ثواب ملے گا کہ اس نے خرچ کیا ہے، اس طرح خزانچی کو بھی ثواب ملے گا اور کسی کی وجہ سے کسی کے اجر میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں کہ میں تکلف سے اس چیز کی کثرت کا اظہار کروں جو کہ مجھے خاوند نے نہ دی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کا تکلف سے اظہار کرنے والا، جو وہ دیا نہیں گیا، اسی طرح ہے جس طرح جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔
۔ سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہ ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خالہ تھیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، یہ بنو عدی بن نجار کی ایک خاتون تھیں، ان سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور انصار کی عورتوں میں شامل ہو کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر یہ شرطیں عائد کیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ چوری کریں،نہ بدکاری کریں،نہ اپنی اولاد کو قتل کریں، نہ ہم بہتان باندھیں گی اور نہ ہی نیکی کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے یہ بھی فرمایا تھا کہ تم نے اپنے خاوندوں سے دغا نہیں کرنا۔ پس ہم نے ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، جب ہم واپس ہوئیں تومیں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: تم لوٹ جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوال کرو کہ خاوندوں کیساتھ دغا نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ جب وہ پوچھ کر آئی تو اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دغا یہ ہے کہ خاوند کامال لے کر عطیات دوسروں کو دیتی پھرو۔