TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نفقہ کا بیان - نفقہ کا بیان - Book 129 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 129 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 20 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

20 Hadith · 5 Chapters
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
۔
۔ وہب بن جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کے ایک غلام کے بیٹے نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ماہِ رمضان یہاں بیت المقدس میں گزاروں۔ انہوں نے کہا: کیا تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اس ماہ مبارک کی خوراک چھوڑ آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: تو پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جا اور ان کی خوراک کا بندوبست کر کے آ، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے، ان کو ضائع کر دے۔
Takhreej
(۷۲۵۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۸۱، والبیھقی: ۷/ ۴۶۷، وأخرجہ مختصرا ابوداود: ۱۶۹۲ (انظر: ۶۸۴۲)
Explanation
فوائد:…اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑا اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر علمائ، خطباء اور مبلغین حضرات کے لیے، کیونکہ بسا اوقات آدمی افراط و تفریط میں اس طرح مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ ایک فرض کو اتنی زیادہ اہمیت دے دیتا ہے کہ دوسرے فرائض سے مکمل طور پر غافل ہو جاتا ہے، بیوی بچوں اور والدین کی خدمت بھی دوسرے فرائض و واجبات کی طرح انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔
7256
Sahih
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک وہ دینار جسے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے،ایک وہ دینار جسے تو مسکینوں پر خرچ کرتا ہے،ایک وہ دینار جسے تو گردن آزاد کرنے پر خرچ کرتا ہے اور ایک وہ دینار جسے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، ان سب میں سے اجر کے لحاظ سے وہ دینار بڑھ کر ہے، جسے تونے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے۔
Takhreej
(۷۲۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۹۵ (انظر: ۱۰۱۱۹)
Explanation
فوائد:…آج کل اکثر راہِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر اور رسم و رواج میں پڑ کر بڑے بڑے اخراجات برداشت کر لیے جاتے ہیں، جبکہ گھروں میں بیوی بچے اہم ضروریات کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں۔
7257
Sahih
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اپنی ذات پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دنیار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا: ایک اور دینار بھی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو خود اپنی بصیرت کی روشنی میں فیصلہ کر لے (کہ کون زیادہ مستحق ہے)۔
Takhreej
(۷۲۵۸) تخریج: اسنادہ قوی،أخرجہ ابوداود: ۱۶۹۱، والنسائی: ۵/ ۶۲(انظر: ۷۴۱۹)
7258
Sahih
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
۔
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔
Takhreej
(۷۲۵۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۵۰، والترمذی: ۲۱۹۲، ۲۴۲۴ (انظر: ۲۰۰۱۳)
7259
Sahih
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
۔
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: جتنا بھی (رضائے الٰہی کے لیے) اپنی بیوی پر خرچ کرو گے، تمہیں اس کا اس پر اجر ملے گا حتیٰ کہ وہ لقمہ بھی، جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔
Takhreej
(۷۲۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۴۴، ومسلم: ۱۶۲۸(انظر: ۱۴۸۰)
7260
Sahih
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
۔
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان جب ثواب کی نیت سے اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۲۶۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵، ۴۰۰۶، ۵۳۵۱، ومسلم: ۱۰۰۲ (انظر: ۱۷۰۸۲)
Explanation
فوائد:…بیوی پر خرچ کرنا محض کوئی بوجھ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف سے عائد ہونے والا حق ہے، اس کو اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے، حسب ِ استطاعت اور عرف اور معاشرے کے مطابق بیوی کے لباس، خوراک اور خوشی غمی کا خیال رکھنا چاہیے اور اس کو اس پر خرچ کیے ہوئے کا احسان بھی نہیں جتلانا چاہیے، جواباً بیوی کو خاوند کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
7261
Sahih
اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ہند ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین کے خیموں میں سے آپ کے خیمے سے بڑھ کر کوئی خیمہ ایسا نہ تھا جس کی ذلت مجھے پسند تھی، یعنی سب سے زیادہ آپ کے خیمہ والے تھے جنہیں میں ذلیل دیکھنا چاہتی تھی کہ اللہ انہیں ذلیل کرے، لیکن آج روئے زمین پر کوئی خیمے والے ایسے نہیں جن کے متعلق میں پسند کرتی ہوں کہ انہیں اللہ تعالیٰ عزت دے یعنی اب آپ کے خیمے والے ہی معزز دیکھنا چاہتی ہوں، اس کے جواب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، یہی کیفیت دونوں طرف سے تھی، اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! پھر ہند نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس آدمی ہیں، بچوں کا پورا خرچہ نہیں دیتے، اس میں کوئی حرج تو نہیں اگر ان کی اجازت کے بغیر میں بچوں کی عیالداری کے لیے ان کے مال میں سے کچھ لے کر خرچ کر دوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر آپ اچھے طریقہ سے خرچ کرنے کے لیے لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
Takhreej
(۷۲۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۶۰، ۵۳۵۹، ومسلم: ۱۷۱۴(انظر: ۲۵۸۸۸)
7262
Sahih
اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے
۔
۔ (دوسری سند)سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میری اولاد کے لیے کافی ہو، کفایت اس صورت میں کرتا ہے کہ میں اس کو بتلائے بغیر ہی ان کے مال میں سے کچھ لے لوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تجھے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو اسے اچھے طریقہ سے لے سکتی ہو۔
Takhreej
(۷۲۶۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…ایسی خاتون کے لیے انتہائی ضروری احتیاط یہ ہے کہ وہ جو خرچ لے، وہ عرف اور معتدل معاشرے کے مطابق ہو، مثلا اس کی خاوند کی حیثیت کے لوگون کا کھانا پینا، لباس، بچوں کی تعلیم وغیرہ کیسے ہے، اگر اس نے معروف طریقے سے زیادہ خرچ لیا تو وہ خائن قرار پائے گی، بہتر ہے کہ ایسی خاتون کسی سمجھدار اور راز دار آدمی سے مشورہ کر لے۔
7263
Sahih
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی پر خرچ کرے یا اسے کھلائے، لیکن بیچ میں فساد اور اسراف کا ارادہ نہ ہو توجتنا اجر اس عورت کو ملے گا، اتنا اجر اس کے خاوند کو ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور اس عورت کوا جر اس بنا پر ثواب ملے گا کہ اس نے خرچ کیا ہے، اس طرح خزانچی کو بھی ثواب ملے گا اور کسی کی وجہ سے کسی کے اجر میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۷۲۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۲۴(انظر: ۲۴۱۷۱)
Explanation
فوائد:…اصل کمائی تو خاوند کی ہی ہے، چونکہ اس عمل میں اس کی بیوی اور خزانچی بھی شریک ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے حصے کا ثواب لیںگے۔
7264
Sahih
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
۔
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں کہ میں تکلف سے اس چیز کی کثرت کا اظہار کروں جو کہ مجھے خاوند نے نہ دی ہو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز کا تکلف سے اظہار کرنے والا، جو وہ دیا نہیں گیا، اسی طرح ہے جس طرح جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔
Takhreej
(۷۲۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۱۹، ومسلم: ۲۱۳۰(انظر: ۲۶۹۲۱)
Explanation
فوائد:…یہ عورت خود سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں اور اور ان کی سوکن سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، یہ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیویاں تھیں۔
7265
Sahih
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
۔
۔ سیدہ سلمیٰ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خالہ تھیں اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، یہ بنو عدی بن نجار کی ایک خاتون تھیں، ان سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور انصار کی عورتوں میں شامل ہو کر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم پر یہ شرطیں عائد کیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ چوری کریں،نہ بدکاری کریں،نہ اپنی اولاد کو قتل کریں، نہ ہم بہتان باندھیں گی اور نہ ہی نیکی کے معاملے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کریں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے یہ بھی فرمایا تھا کہ تم نے اپنے خاوندوں سے دغا نہیں کرنا۔ پس ہم نے ان امور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، جب ہم واپس ہوئیں تومیں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: تم لوٹ جاؤ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سوال کرو کہ خاوندوں کیساتھ دغا نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ جب وہ پوچھ کر آئی تو اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دغا یہ ہے کہ خاوند کامال لے کر عطیات دوسروں کو دیتی پھرو۔
Takhreej
(۷۲۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، سلِیط بن ایوب بن الحکم، قال بن حجر: مقبول، وأمہ لم نقف لھا علی ترجمۃ، ثم انہ قد اختلف فیہ علی ابن اسحاق، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۷۵۱ (انظر: ۲۷۱۳۳)
Explanation
فوائد:…یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں مذکورہ امور بیعت میں شامل تھے، بیوی کو خاوند کے مال سے
7266
Zaeef
اگر خاوند کے لیے نان و نفقہ مشکل ہو تو بیوی جدائی کا مطالبہ کر سکتی ہے
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے، کہ خرچ کرنے کے بعد پھر بھی مالداری رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اس سے شروع کرو جس کی تم کفالت کے ذمہ دار ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس کی کفالت کا ذمہ دار ہوں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری بیوی اس میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلائو، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہاری لونڈی ان میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلائو اور کام مہیا کرو، اور تمہاری اولاد بھی اس میں شامل ہے، جو کہتی ہے: مجھے کس کے حوالے کرو گے۔
Takhreej
(۷۲۶۷) تخریج: القسم الاول منہ صحیح، وأما القسم الثانی منہ وھو قولہ: امرأتک … فالصحیح انہ موقوف علی ابی ھریرۃ، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۹۲۱۱، والدارقطنی: ۳/ ۲۹۵، والبیھقی: ۷/ ۴۷۰(انظر: ۱۰۸۱۸)
7267
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ اور پھر جو جتنا زیادہ قریبی ہے۔
Takhreej
(۷۲۶۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۱۳۹، والترمذی: ۱۸۹۷ (انظر: ۲۰۰۲۸)
Explanation
فوائد:…شریعت میں ماں اور باپ دونوں کا مقام مسلم ہے، ماں کے حق کو مقدم کرنے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ باپ کے حق کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
7268
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ بنو یربوع کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیچ میں فرمایا: دینے والا ہاتھ بلند ہے، اپنی ماں سے نیکی کرو اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے، پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی جان دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑی جائے گی (یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔
Takhreej
(۷۲۶۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرج القسم الاول منہ النسائی: ۸/ ۵۴ (انظر: ۲۳۲۰۲)
Explanation
فوائد:…اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہاتھ ہے۔
7269
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پہلے مذکور روایت جیسی حدیث مروی ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۷۲۵ (انظر: ۷۱۰۵)
7270
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی تمہیں تمہاری مائوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بیشک اللہ تعالی دوسرے قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۶۱(انظر: ۱۷۱۸۷)
7271
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میری اچھی ہم نشینی کا کون مستحق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھرکون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۷۱، ومسلم: ۲۵۴۸(انظر: ۹۰۸۱)
7272
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے اپنی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا: جیسے وہ عیال کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور ابو قلابہ نے ہی کہا: اس آدمی سے بڑھ کر کون بڑے اجر والا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالی ان بچوں کو اس کے ذریعے سوال کرنے سے بچاتا ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۹۴ (انظر: ۲۲۴۵۳)
7273
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ جو اپنے آپ پر خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اہل و عیال سے ابتدا کرے، سلیمان بن حرب کہتے ہیں: اسے ابوقلابہ نے ان الفاظ کو مرفوعاً بیان نہیں کیا: افضل وہ دینار ہے بھی فضیلت والا جسے آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7274
Sahih
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! اگر تو ضرورت سے زائد بچا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا اور اگر تو اسے روک لے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا اور خرچ کرنے میں ابتدا اس سے کر جس کی تو کفالت کا ذمہ دار ہے اوراگر تیرے پاس پہلے ہی پورا پورا ہے، تو تجھے اللہ تعالیٰ خرچ نہ کرنے پر ملامت نہیں کریں گے اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۶۱ (انظر: ۸۷۴۳)
Explanation
فوائد:…اس باب کی احادیث میں صدقہ و خیرات کی تلقین بھی کی گئی ہے اور قرابتداروں کی ترتیب بھی بیان کر دی گئی ہے۔
7275
Sahih