مسنداحمد

Musnad Ahmad

نفقہ کا بیان

اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان

۔

۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ اور پھر جو جتنا زیادہ قریبی ہے۔

۔

۔ بنو یربوع کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیچ میں فرمایا: دینے والا ہاتھ بلند ہے، اپنی ماں سے نیکی کرو اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے، پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی جان دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑی جائے گی (یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔

۔

۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پہلے مذکور روایت جیسی حدیث مروی ہے۔

۔

۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی تمہیں تمہاری مائوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بیشک اللہ تعالی دوسرے قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔

۔

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میری اچھی ہم نشینی کا کون مستحق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھرکون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔

۔

۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے اپنی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا: جیسے وہ عیال کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور ابو قلابہ نے ہی کہا: اس آدمی سے بڑھ کر کون بڑے اجر والا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالی ان بچوں کو اس کے ذریعے سوال کرنے سے بچاتا ہے۔

۔

۔ (دوسری سند) سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ جو اپنے آپ پر خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اہل و عیال سے ابتدا کرے، سلیمان بن حرب کہتے ہیں: اسے ابوقلابہ نے ان الفاظ کو مرفوعاً بیان نہیں کیا: افضل وہ دینار ہے بھی فضیلت والا جسے آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے۔

۔

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! اگر تو ضرورت سے زائد بچا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا اور اگر تو اسے روک لے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا اور خرچ کرنے میں ابتدا اس سے کر جس کی تو کفالت کا ذمہ دار ہے اوراگر تیرے پاس پہلے ہی پورا پورا ہے، تو تجھے اللہ تعالیٰ خرچ نہ کرنے پر ملامت نہیں کریں گے اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔