TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان

Chapter 2 of نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 11 · 8 Hadith
۔ (۶۱۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ (بْنُ مَہْدِیٍّ) ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ثَنَا عَبْدُ خَیْرٍ قَالَ: جَلَسَ عَلِیٌؓ بَعْدَ مَا صَلَّی الْفَجْرَ فِی الرَّحْبَۃِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِہِ: ائْتِنِی بِطَہُورٍ، فَأَتَاہُ الْغُلَامُ بِاِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ، فَأَخَذَ بِیَمِیْنِہِ الْاِنَائَ فَأَکْفَأَہُ عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ، فَعَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: کُلُّ ذَالِکَ لَا یُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَر بِیَدِہِ الْیُسْرٰی، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ حَتّٰی غَمَرَہَا الْمَائُ ثُمَّ رَفَعَہَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ مَسَحَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا مَرَّۃً، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ اِلَی مُؤَخَّرِہِ، قَالَ الرَّاوِی: وَلَا أَدْرِی أَ رَدَّ یَدَہُ أَمْ لَا) ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ عَلٰی قَدَمِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی عَلٰی قَدَمِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فَغَرَفَ بِکَفِّہِ فَشَرِبَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِہِ) ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْظُرَ اِلَی طُہُورِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَھٰذَا طُہُوْرُہُ۔(مسندأحمد:۱۱۳۳)
عبد ِ خیرکہتے ہیں: سیدنا علیؓ نماز فجر ادا کرنے کے بَعْد رحبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے غلام سے کہا: وضو کا پانی میرے پاس لاؤ، پس وہ ایک برتن لایا ، جس میں پانی تھا اور ایک چلمچی لایا عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے دیکھ رہے تھے، انھوں نے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر بہا کر ہتھیلیوں کو دھویا اور ایسے تین بار کیا۔ عبد ِ خیر کہتے ہے: جب بھی وہ برتن میں ہاتھ داخل کرتے تھے تو پہلے ان کو تین بار دھوتے تھے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑا، ایسے تین بار کیا، ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ: انھوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ عمل تین دفعہ کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی سمیت دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں بازو دھویا، پھر انھوں نے دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ اس کے ہر طرف پانی پھیل گیا، پھر اس کو پانی سمیت برتن سے نکالا اور بائیں ہاتھ پر لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، ایک روایت میں ہے: سر کے سامنے والے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا، راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہاتھوں کو واپس بھی لوٹایا تھا یا نہیں، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا اور دائیں ہاتھ سے ہی بائیں پاؤ پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک چلّو بھر کر پی لیا، ایک روایت میں ہے: اپنے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر فرمایا: یہ اللہ کے نبی کا وضو ہے، جو آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو یہ ہے۔
Takhreej
(۶۱۸) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۱۲، والنسائی: ۱/ ۶۷ (انظر: ۱۱۳۳)
Explanation
فوائد:… چلمچی: ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن۔
618
Sahih
۔ (۶۱۹)۔عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُخَیْرٍ یَؤُمُّنَا فِی الْفَجْرِ فَقَالَ: صَلَّیْتُ یَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِیٍّؓ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَجَائَ یَمْشِی حَتَّی انْتَہٰی اِلَی الرَّحْبَۃِ فَجَلَسَ وَسَنَدَ ظَہْرَہُ اِلَی الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: یَا قَنْبَرُ! ائْتِنِی بِالرَّکْوَۃِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَیْہِ فَغَسَلَ کَفَّہُ ثَلَاثًا،(فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ مُخْتَصَرًا وَفِی آخِرِہِ) فَقَالَ: ھٰذَا وُضُوْئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔(مسندأحمد:۱۰۰۸)
عبد الملک بن سلع کہتے ہیں: عبد ِ خیر نمازِ فجر میں ہماری امامت کرواتے تھے، انھوں نے کہا: ایک دن میں نے سیدنا علیؓ کی اقتدا میں نمازِ فجر ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے، وہ چلتے چلتے رَحْبَہ میں آ گئے اور اپنی کمر کو دیوار کا سہارا دے کر بیٹھ گئے، پھر سر اٹھایا اور کہا: قنبر! ڈول اور چلمچی لے آؤ۔ پھر اس کو کہا: پانی بہاؤ، پس اس نے ان پر پانی بہایا اور انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، … پھر سابقہ حدیث کی طرح بالاختصار ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے : انھوں نے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے۔
Takhreej
(۶۱۹) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۶۱ (انظر: ۱۰۰۸)
619
Sahih
۔ (۶۲۰) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِخَیْرٍ أَیْضًا)قَالَ: عَلَّمَنَا عَلِیٌّ ؓ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَبَّ الْغُلَامُ عَلٰی یَدَیْہِ حَتّٰی اَنْقَاہُمَا، وَوَصَفَ وُضُوْئَ ہُ اِلٰی أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی الرَّکْوَۃِ فَغَمَزَ أَسْفَلَہَا بِیَدِہِ ثُمَّ أَخْرَجَہَا فَمَسَحَ بِہَا الأُخْرٰی ثُمَّ مَسَحَ بِکَفَّیْہِ رَأْسَہُ مَرَّۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ اغْتَرَفَ حَفْنَۃً مِن مَائٍ بِکَفِّہِ فَشَرِبَہُ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ۔ (مسند أحمد: ۸۷۶)
۔ (دوسری سند) عبد ِ خیر کہتے ہیں: سیدنا علیؓ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی تعلیم دی، اور وہ اس طرح کہ غلام نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، یہاں تک کہ انھوں نے ان کو صاف کر دیا، پھر سابقہ کیفیت کے ساتھ وضو بیان کیا، یہاں تک کہ کہا: پھر انھوں نے اپنا ہاتھ ڈول میں داخل کیا اور اس کے اندرونی نچلے حصہ کو ہاتھ لگایا پھر اس کو نکالا اور دوسرے ہاتھ پر پھیرا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر ٹخنوں تک تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے، پھر پانی کا ایک چلو لے کر پی لیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۲۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
620
Sahih
۔ (۶۲۱)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: دَخَلَ عَلِیٌّؓ بَیْتِیْ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ یَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِیْبَہُ حَتّٰی وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلَا أَتَوَضَّأُ لَکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی فِدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ، قَالَ: فَوُضِعَ لَہُ اِنَائٌ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ بَیَدَیْہِ فَصَکَّ بِہِمَا وَجْہَہُ وَأَلْقَمَ اِبْہَامَیْہِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَیْہِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِی مِثْلِ ذَالِکَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی فَأَفْرَغَہَا عَلٰی نَاصِیَتِہِ ثُمَّ أَرْسَلَہَا تَسِیْلُ عَلٰی وَجْہِہِ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ یَدَہُ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذَالِکَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ مِنْ ظُہُوْرِہِمَا ثُمَّ أَخَذَ بِکَفَّیْہِ مِنَ الْمَائِ فَصَکَّ بِہِمَا عَلٰی قَدَمَیْہِ وَفِیْہِمَا النَّعْلُ ثُمَّ قَلَبَہَا بِہَا ثُمَّ عَلٰی الرِّجْلِ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذَالِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ، قُلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ، قُلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۶۲۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علیؓمیرے گھر میں داخل ہوئے اور وضو کا پانی منگوایا اور ہم ایک ایسا چھوٹا سا برتن لے آئے، جس میں تقریباً ایک مُدّ پانی آتا، حتیٰ کہ وہ برتن آپ کے سامنے رکھ دیا گیا، جبکہ وہ پیشاب بھی کر چکے تھے، انھوں نے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تیرے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو نہ کر دوں؟ میں نے کہا: جی، کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پس ان کے لیے برتن رکھ دیا گیا، انھوں نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لیا اور چہرے پر مارا اور کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے ڈالے، پھر تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا ایک چلولے کر اس کو سر کے اگلے حصے پر ڈالا اور وہ چہرے پر بہنے لگا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر اور کان کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور اپنے پاؤں پر مارا، جبکہ جوتے بھی پہنے ہوئے تھے، پھر اپنے پاؤں کو الٹ پلٹ کیا، پھر دوسرے پاؤں پر بھی اسی طرح کیا۔ میں نے کہا: کیا جوتوں سمیت وضو؟ انھوں نے کہا: جی جوتوں سمیت، میں نے کہا: کیا جوتوں سمیت؟ انھوں نے کہا: جی جوتوں سمیت، میں نے کہا: کیا جوتوں سمیت؟ انھوں نے کہا: جی جوتوں سمیت۔
Takhreej
(۶۲۱) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود:۱۱۷(انظر: ۶۲۵)
Explanation
فوائد: …اس حدیث ِ مبارکہ میں وضو سے متعلقہ تین اضافی امور کاذکر بھی ہے: اگر چہرہ دھوتے وقت کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے پھیر لیے جائیں تو سرکا مسح کرتے وقت صرف کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا جائے گا۔ تین دفعہ چہرہ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے پر ایک چلو پانی ڈال دیا جائے۔جوتے سمیت پاؤں کو دھو لینا، لیکن یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ پورا پاؤں تر ہو جائے کوئی حصہ خشک نہ رہے۔
621
Sahih
۔ (۶۲۲)۔عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤمِنِیْنَ عَلِیٍّ ؓ فِی الْمَسْجِدِ عَلٰی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَّائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ وَاحِدَۃً فَقَالَ: دَاخِلُہَا مِنَ الوَجْہِ وَخَارِجُہَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَـلَاثًا وَلِحْیَتُہُ تَہْطِلُ عَلٰی صَدْرِہِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَۃً بَعْدَ الْوُضُوئِ فَقَالَ: أَینَ السَّائِلُ عَن وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ کَذَا کَانَ وُضُوئُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین سیدنا علی ؓ کے پاس مسجد میں رحبہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھائے، جبکہ یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن لاؤ، پس اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ تین تین بار دھوئے اور تین کلیاں کیں، پھر بعض انگلیاں اپنے مِنْہُ میں ڈالیں اور تین بار ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ بازوؤں کو دھویا اور سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور کہا: سر کا داخلی حصہ چہرے سے ہے اور خارجی حصہ سر ہے، پھر انھوں نے پاؤں کو ٹخنوں تک تین تین بار دھویا، اس وقت ان کی داڑھی ان کے سینے پر بوندیں ٹپکا رہی تھی، پھر انھوں نے وضو کے پانی میں سے ایک گھونٹ پانی پی لیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کے وضو کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔
Takhreej
(۶۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف المختار بن نافع ولجھالۃ ابی مطر البصری ۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۹۵ (انظر: ۱۳۵۶)
622
Zaeef
۔ (۶۲۳)۔عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ قَالَ: أُتِیَ عَلِیٌّؓ بِکُوْزٍ مِن مَائٍ وَہُوَ فِی الرَّحْبَۃِ فَأَخَذَ کَفَّا مِن مَائٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَرَأْسَہُ ثُمَّ شَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ، ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ۔ (مسند أحمد: ۵۸۳)
نزال بن سبرہ کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس ایک برتن لایا گیا، جبکہ وہ رحبہ میں تھے، انھوں نے پانی کا ایک چلّو لیا، اس سے کلِیْ کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے، بازوؤں اور سر پر ہاتھ پھیر دیا اور کھڑے ہو کر ہی کچھ پانی پی لیا اور پھر انھوں نے کہا: یہ اس آدمی کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۶۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۱۶ (انظر: ۵۸۳)
Explanation
فوائد: …ایسے معلوم ہوتا ہے کہ باوضو آدمی کا اس طرح وضو کرنے کا مقصد تازگی حاصل کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کا وضو برقرار ہو تو وہ مسواک کر کے صرف ہاتھ منہ دھو لیتے ہیں۔
623
Sahih
۔ (۶۲۴)۔عَنْ رِبْعِیٍ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ؓ قَامَ خَطِیْبًا فِی الرَّحْبَۃِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُوْلَ، ثُمَّ دَعَا بِکُوْزٍ مِن مَائٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْہُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ کُوْزِہِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: طُہُوْرِہِ) وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ یَکْرَہُ أَنْ یَشْرَبَ وَہُوَ قَائِمٌ وَھٰذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ وَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ہٰکَذَا۔ (مسند أحمد: ۷۹۷)
ربعی بن حراش کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے رحبہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد کچھ باتیں کیں، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس سے کلی کی اور (چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر) ہاتھ پھیرا اور برتن کا (ایک روایت کے مطابق وضو کا) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور پھر کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتا ہے، یہ اس کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایسا ہی کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۲۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ (انظر: ۷۹۷)
624
Sahih
۔ (۶۲۵)۔عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ ؓ أَنَّہُ دَعَا بِکُوْزٍ مِن مَائٍ ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ ہَؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُم یَکْرَہُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، قَالَ: فَأَخَذَہُ فَشَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیْفًا وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا وُضُوْئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلطَّاہِرِ مَا لَمْ یُحْدِثْ۔ (مسند أحمد: ۹۷۰)
عبد خیر کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ نے پانی کا برتن منگوایا اور کہا: وہ لوگ کہاں ہیں جو کھڑے ہو کر پینے کو ناپسند کرتے ہیں، پھر انھوں نے وہ پانی پکڑا اور کھڑے ہو کر پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ وضو طاہر آدمی کے لیے ہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو۔
Takhreej
(۶۲۵) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ بنحوہ مختصرا الطحاوی: ۱/ ۳۵ (انظر: ۹۷۰)
625
Sahih