TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت - Book 13 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 13 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 66 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

66 Hadith · 11 Chapters
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
۔ (۶۱۶)۔عَنْ حُمْرَانَ (بْنِ أَبَانَ) قَالَ: دَعَا عُثْمَانُؓ بِمَائٍ وَہُوَ عَلَی الْمَقَاعِدِ فَسَکَبَ عَلٰی یَمِیْنِہِ فَغَسَلَہَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا فَغَسَلَہُمَا) ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِیْنَہُ فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَأَمَرَّ بِیَدَیْہِ عَلٰی ظَاہِرِ أُذُنَیْہِ ثُمَّ مَرَّ بِہِمَا عَلٰی ظَاہِرِ لِحْیَتِہِ) ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِیْ ھٰذَا ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فِیْہِمَا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ، وَفِی رِوَایَۃٍ: غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ بَیْنَہُمَا وَبَیْنَ صَلَاتِہِ بِالأَمْسِ )) (مسند أحمد:۴۱۸)
حمران بن ابان کہتے ہیں: سیدنا عثمانؓ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، انھوں نے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا، ایک روایت کے مطابق دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا اور کہنیوں سمیت بازوؤوں کو تین بار دھویا اور پھر سر کا مسح کیا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے ظاہری حصے کے اوپر سے گزارا اور پھر ان کو داڑھی کے ظاہری حصے پر پھیر دیا، پھر تین دفعہ اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا اور پھر دو رکعتیں اس طرح ادا کیں کہ وہ ان میں اپنے نفس سے گفتگو نہ کرے، تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے: اس کے وہ گناہ بخش دیئے جائیں گے، جو اس نماز اور کل والی نماز کے درمیان ہوں گے۔
Takhreej
(۶۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۹، ومسلم: ۲۲۶ (انظر: ۴۱۸)
Explanation
فوائد:… مقاعد سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں تین اقوال ہیں: سیدنا عثمان ؓکے گھر کے پاس دوکانیں یا سیڑھیاں یا مسجد کے قریب ایک جگہ کا نام، جہاں وہ لوگوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔
616
Sahih
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
۔ (۶۱۷)۔عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیَدَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ غَسْلًا۔ (مسند أحمد:۵۲۷)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، تین دفعہ ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں دھوئے۔
Takhreej
(۶۱۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳۵ (انظر: ۵۲۷)
Explanation
فوائد:… احادیث ِ صحیحہ سے وضو کے ثابت ہونے والے احکام: وضو کا مسنون طریقہ:… ابتدا میں نیت کرنا، بسم اللہ پڑھنا، تین دفعہ ہاتھ دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، تین دفعہ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا اور یہ دونوں کام صرف ایک چلو سے کرنا، تین دفعہ چہرہ دھونا اور داڑھی کا خلال کرنا، تین دفعہ دایاںاور پھر بایاں بازو کہنیوں سمیت دھونا، سر اور کانوں کا ایک چلو پانی سے اس طرح مسح کرنا کہ دونوں ہاتھوں کو سر کے سامنے والے حصے سے گدی کی طرف لے جانا اور پھر پیشانی کی طرف واپس لے آنا اور کان کے اندرونی حصے کا انگشت ِ شہادت سے اور بیرونی حصے کا انگوٹھے سے مسح کر دینا، پھر تین دفعہ دایاں اور تین دفعہ بایاں پاؤں دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، وضو کے بعد ایک چلو پانی شرمگاہ پر چھڑکنا اور مسنون دعائیں پڑھنا۔ ملحوظات:… تین دفعہ اعضا دھونا افضل ہے، اگر تمام اعضا ایک ایک یا دو دو بار دھوئے جائیں یا ایک وضو کے دوران کوئی عضو ایک دفعہ،کوئی دو دفعہ اور کوئی تین دفعہ دھویا جائے تو وضو درست ہو گا۔کلی کرتے وقت منہ میں پانی کو حرکت دی جائے اور سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھا کر اسے سانس کے پریشر کے ذریعے باہر نکالا جائے، اور یہ دونوں کام ایک چلو پانی سے کیے جائیں، یعنی آدھے چلو سے کلی کی جائے اور آدھے سے ناک کی صفائی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔ گردن اور اس کے پہلوؤں پر مسح کرنے کی کوئی قابل حجت دلیل نہیں ہے۔ جس حدیث میں وضو کے بعدانگلی اٹھانے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہے اور آسمان کی طرف دیکھنا بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
617
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۱۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ (بْنُ مَہْدِیٍّ) ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ثَنَا عَبْدُ خَیْرٍ قَالَ: جَلَسَ عَلِیٌؓ بَعْدَ مَا صَلَّی الْفَجْرَ فِی الرَّحْبَۃِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِہِ: ائْتِنِی بِطَہُورٍ، فَأَتَاہُ الْغُلَامُ بِاِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ، فَأَخَذَ بِیَمِیْنِہِ الْاِنَائَ فَأَکْفَأَہُ عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ، فَعَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: کُلُّ ذَالِکَ لَا یُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَر بِیَدِہِ الْیُسْرٰی، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ حَتّٰی غَمَرَہَا الْمَائُ ثُمَّ رَفَعَہَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ مَسَحَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا مَرَّۃً، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ اِلَی مُؤَخَّرِہِ، قَالَ الرَّاوِی: وَلَا أَدْرِی أَ رَدَّ یَدَہُ أَمْ لَا) ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ عَلٰی قَدَمِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی عَلٰی قَدَمِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فَغَرَفَ بِکَفِّہِ فَشَرِبَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِہِ) ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْظُرَ اِلَی طُہُورِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَھٰذَا طُہُوْرُہُ۔(مسندأحمد:۱۱۳۳)
عبد ِ خیرکہتے ہیں: سیدنا علیؓ نماز فجر ادا کرنے کے بَعْد رحبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے غلام سے کہا: وضو کا پانی میرے پاس لاؤ، پس وہ ایک برتن لایا ، جس میں پانی تھا اور ایک چلمچی لایا عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے دیکھ رہے تھے، انھوں نے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر بہا کر ہتھیلیوں کو دھویا اور ایسے تین بار کیا۔ عبد ِ خیر کہتے ہے: جب بھی وہ برتن میں ہاتھ داخل کرتے تھے تو پہلے ان کو تین بار دھوتے تھے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑا، ایسے تین بار کیا، ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ: انھوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ عمل تین دفعہ کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی سمیت دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں بازو دھویا، پھر انھوں نے دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ اس کے ہر طرف پانی پھیل گیا، پھر اس کو پانی سمیت برتن سے نکالا اور بائیں ہاتھ پر لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، ایک روایت میں ہے: سر کے سامنے والے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا، راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہاتھوں کو واپس بھی لوٹایا تھا یا نہیں، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا اور دائیں ہاتھ سے ہی بائیں پاؤ پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک چلّو بھر کر پی لیا، ایک روایت میں ہے: اپنے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر فرمایا: یہ اللہ کے نبی کا وضو ہے، جو آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو یہ ہے۔
Takhreej
(۶۱۸) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۱۲، والنسائی: ۱/ ۶۷ (انظر: ۱۱۳۳)
Explanation
فوائد:… چلمچی: ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن۔
618
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۱۹)۔عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُخَیْرٍ یَؤُمُّنَا فِی الْفَجْرِ فَقَالَ: صَلَّیْتُ یَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِیٍّؓ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَجَائَ یَمْشِی حَتَّی انْتَہٰی اِلَی الرَّحْبَۃِ فَجَلَسَ وَسَنَدَ ظَہْرَہُ اِلَی الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: یَا قَنْبَرُ! ائْتِنِی بِالرَّکْوَۃِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَیْہِ فَغَسَلَ کَفَّہُ ثَلَاثًا،(فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ مُخْتَصَرًا وَفِی آخِرِہِ) فَقَالَ: ھٰذَا وُضُوْئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔(مسندأحمد:۱۰۰۸)
عبد الملک بن سلع کہتے ہیں: عبد ِ خیر نمازِ فجر میں ہماری امامت کرواتے تھے، انھوں نے کہا: ایک دن میں نے سیدنا علیؓ کی اقتدا میں نمازِ فجر ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے، وہ چلتے چلتے رَحْبَہ میں آ گئے اور اپنی کمر کو دیوار کا سہارا دے کر بیٹھ گئے، پھر سر اٹھایا اور کہا: قنبر! ڈول اور چلمچی لے آؤ۔ پھر اس کو کہا: پانی بہاؤ، پس اس نے ان پر پانی بہایا اور انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، … پھر سابقہ حدیث کی طرح بالاختصار ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے : انھوں نے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے۔
Takhreej
(۶۱۹) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۶۱ (انظر: ۱۰۰۸)
619
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۰) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِخَیْرٍ أَیْضًا)قَالَ: عَلَّمَنَا عَلِیٌّ ؓ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَبَّ الْغُلَامُ عَلٰی یَدَیْہِ حَتّٰی اَنْقَاہُمَا، وَوَصَفَ وُضُوْئَ ہُ اِلٰی أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی الرَّکْوَۃِ فَغَمَزَ أَسْفَلَہَا بِیَدِہِ ثُمَّ أَخْرَجَہَا فَمَسَحَ بِہَا الأُخْرٰی ثُمَّ مَسَحَ بِکَفَّیْہِ رَأْسَہُ مَرَّۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ اغْتَرَفَ حَفْنَۃً مِن مَائٍ بِکَفِّہِ فَشَرِبَہُ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ۔ (مسند أحمد: ۸۷۶)
۔ (دوسری سند) عبد ِ خیر کہتے ہیں: سیدنا علیؓ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی تعلیم دی، اور وہ اس طرح کہ غلام نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، یہاں تک کہ انھوں نے ان کو صاف کر دیا، پھر سابقہ کیفیت کے ساتھ وضو بیان کیا، یہاں تک کہ کہا: پھر انھوں نے اپنا ہاتھ ڈول میں داخل کیا اور اس کے اندرونی نچلے حصہ کو ہاتھ لگایا پھر اس کو نکالا اور دوسرے ہاتھ پر پھیرا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر ٹخنوں تک تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے، پھر پانی کا ایک چلو لے کر پی لیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۲۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
620
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۱)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: دَخَلَ عَلِیٌّؓ بَیْتِیْ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ یَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِیْبَہُ حَتّٰی وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلَا أَتَوَضَّأُ لَکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی فِدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ، قَالَ: فَوُضِعَ لَہُ اِنَائٌ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ بَیَدَیْہِ فَصَکَّ بِہِمَا وَجْہَہُ وَأَلْقَمَ اِبْہَامَیْہِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَیْہِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِی مِثْلِ ذَالِکَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی فَأَفْرَغَہَا عَلٰی نَاصِیَتِہِ ثُمَّ أَرْسَلَہَا تَسِیْلُ عَلٰی وَجْہِہِ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ یَدَہُ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذَالِکَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ مِنْ ظُہُوْرِہِمَا ثُمَّ أَخَذَ بِکَفَّیْہِ مِنَ الْمَائِ فَصَکَّ بِہِمَا عَلٰی قَدَمَیْہِ وَفِیْہِمَا النَّعْلُ ثُمَّ قَلَبَہَا بِہَا ثُمَّ عَلٰی الرِّجْلِ الْأُخْرٰی مِثْلَ ذَالِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ، قُلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ، قُلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۶۲۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علیؓمیرے گھر میں داخل ہوئے اور وضو کا پانی منگوایا اور ہم ایک ایسا چھوٹا سا برتن لے آئے، جس میں تقریباً ایک مُدّ پانی آتا، حتیٰ کہ وہ برتن آپ کے سامنے رکھ دیا گیا، جبکہ وہ پیشاب بھی کر چکے تھے، انھوں نے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تیرے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو نہ کر دوں؟ میں نے کہا: جی، کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پس ان کے لیے برتن رکھ دیا گیا، انھوں نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لیا اور چہرے پر مارا اور کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے ڈالے، پھر تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا ایک چلولے کر اس کو سر کے اگلے حصے پر ڈالا اور وہ چہرے پر بہنے لگا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر اور کان کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور اپنے پاؤں پر مارا، جبکہ جوتے بھی پہنے ہوئے تھے، پھر اپنے پاؤں کو الٹ پلٹ کیا، پھر دوسرے پاؤں پر بھی اسی طرح کیا۔ میں نے کہا: کیا جوتوں سمیت وضو؟ انھوں نے کہا: جی جوتوں سمیت، میں نے کہا: کیا جوتوں سمیت؟ انھوں نے کہا: جی جوتوں سمیت، میں نے کہا: کیا جوتوں سمیت؟ انھوں نے کہا: جی جوتوں سمیت۔
Takhreej
(۶۲۱) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود:۱۱۷(انظر: ۶۲۵)
Explanation
فوائد: …اس حدیث ِ مبارکہ میں وضو سے متعلقہ تین اضافی امور کاذکر بھی ہے: اگر چہرہ دھوتے وقت کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے پھیر لیے جائیں تو سرکا مسح کرتے وقت صرف کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا جائے گا۔ تین دفعہ چہرہ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے پر ایک چلو پانی ڈال دیا جائے۔جوتے سمیت پاؤں کو دھو لینا، لیکن یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ پورا پاؤں تر ہو جائے کوئی حصہ خشک نہ رہے۔
621
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۲)۔عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤمِنِیْنَ عَلِیٍّ ؓ فِی الْمَسْجِدِ عَلٰی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَّائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ وَاحِدَۃً فَقَالَ: دَاخِلُہَا مِنَ الوَجْہِ وَخَارِجُہَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَـلَاثًا وَلِحْیَتُہُ تَہْطِلُ عَلٰی صَدْرِہِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَۃً بَعْدَ الْوُضُوئِ فَقَالَ: أَینَ السَّائِلُ عَن وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ کَذَا کَانَ وُضُوئُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین سیدنا علی ؓ کے پاس مسجد میں رحبہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھائے، جبکہ یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن لاؤ، پس اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ تین تین بار دھوئے اور تین کلیاں کیں، پھر بعض انگلیاں اپنے مِنْہُ میں ڈالیں اور تین بار ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ بازوؤں کو دھویا اور سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور کہا: سر کا داخلی حصہ چہرے سے ہے اور خارجی حصہ سر ہے، پھر انھوں نے پاؤں کو ٹخنوں تک تین تین بار دھویا، اس وقت ان کی داڑھی ان کے سینے پر بوندیں ٹپکا رہی تھی، پھر انھوں نے وضو کے پانی میں سے ایک گھونٹ پانی پی لیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کے وضو کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔
Takhreej
(۶۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف المختار بن نافع ولجھالۃ ابی مطر البصری ۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۹۵ (انظر: ۱۳۵۶)
622
Zaeef
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۳)۔عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ قَالَ: أُتِیَ عَلِیٌّؓ بِکُوْزٍ مِن مَائٍ وَہُوَ فِی الرَّحْبَۃِ فَأَخَذَ کَفَّا مِن مَائٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَرَأْسَہُ ثُمَّ شَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ، ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ۔ (مسند أحمد: ۵۸۳)
نزال بن سبرہ کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس ایک برتن لایا گیا، جبکہ وہ رحبہ میں تھے، انھوں نے پانی کا ایک چلّو لیا، اس سے کلِیْ کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے، بازوؤں اور سر پر ہاتھ پھیر دیا اور کھڑے ہو کر ہی کچھ پانی پی لیا اور پھر انھوں نے کہا: یہ اس آدمی کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۶۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۱۶ (انظر: ۵۸۳)
Explanation
فوائد: …ایسے معلوم ہوتا ہے کہ باوضو آدمی کا اس طرح وضو کرنے کا مقصد تازگی حاصل کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کا وضو برقرار ہو تو وہ مسواک کر کے صرف ہاتھ منہ دھو لیتے ہیں۔
623
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۴)۔عَنْ رِبْعِیٍ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ؓ قَامَ خَطِیْبًا فِی الرَّحْبَۃِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُوْلَ، ثُمَّ دَعَا بِکُوْزٍ مِن مَائٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْہُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ کُوْزِہِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: طُہُوْرِہِ) وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ یَکْرَہُ أَنْ یَشْرَبَ وَہُوَ قَائِمٌ وَھٰذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ وَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ہٰکَذَا۔ (مسند أحمد: ۷۹۷)
ربعی بن حراش کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے رحبہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد کچھ باتیں کیں، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس سے کلی کی اور (چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر) ہاتھ پھیرا اور برتن کا (ایک روایت کے مطابق وضو کا) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور پھر کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتا ہے، یہ اس کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایسا ہی کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۲۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ (انظر: ۷۹۷)
624
Sahih
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۵)۔عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ ؓ أَنَّہُ دَعَا بِکُوْزٍ مِن مَائٍ ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ ہَؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُم یَکْرَہُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا، قَالَ: فَأَخَذَہُ فَشَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیْفًا وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا وُضُوْئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلطَّاہِرِ مَا لَمْ یُحْدِثْ۔ (مسند أحمد: ۹۷۰)
عبد خیر کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ نے پانی کا برتن منگوایا اور کہا: وہ لوگ کہاں ہیں جو کھڑے ہو کر پینے کو ناپسند کرتے ہیں، پھر انھوں نے وہ پانی پکڑا اور کھڑے ہو کر پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ وضو طاہر آدمی کے لیے ہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو۔
Takhreej
(۶۲۵) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ بنحوہ مختصرا الطحاوی: ۱/ ۳۵ (انظر: ۹۷۰)
625
Sahih
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۲۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ حَاجَۃً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ حَتّٰی انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اَلْوَضُوئَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ فَصَبَّ عَلٰی یَدِہِ فَغَسَلَہَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ بِکَفِّہَا فَصَبَّ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ عَلٰی یَدٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَائَ قَبْضًا بِیَدِہِ فَضَرَبَ بِہِ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ فَمَسَحَ بِہِ عَلٰی قَدَمِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی لَنَا الظُّہْرَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۴۳)
سیدنا عبد الرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلَا، جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قضائے حاجت کر کے آ رہے ہیں تو میں چمڑے کا برتن یا پیالہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چلا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے تھے، بہرحال میں راستے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہو کر واپس آئے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کا پانی لیجئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میری طرف متوجہ ہوئے، اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ داخل کیا، انگلیوں کو بند کر کے (چلو بھرا) اور ایک ہاتھ پر پانی بہایا اور پھر سر کا مسح کیا، پھر ایک ہاتھ پر پانی لیا اور سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلّو بھرا اور اپنے پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اس کے ساتھ اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا ، پھر تشریف لائے اور ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی۔
Takhreej
(۶۲۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۸۰۷۵)
626
Sahih
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۲۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ اِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَائَؓفَسَأَلْتُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَخْرَجْتْ لَہُ یَعْنِیْ اِنَائً یَکُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ و رُبْعٍ، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَذْہَبُ اِلَی الْہَاشِمِیِّ، قَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّۃً: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا وَیَمْسَحُ بِرَأْسِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ یَغْسِلُ رَِجْلَیْہِ ثَلَاثًا، قَدْ جَائَ نِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ فَسَأَلَنِیْ وَہُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ لِیْ: مَا أَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ اِلَّا مَسْحَتَیْنِ وَغَسْلَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
عبد اللہ بن محمد کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذؓ کے پاس بھیجا، انھوں ایک برتن نکالا، جو ایک مُدّ یا ایک مُدّ اور چوتھائی مُدّ کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مُدّ کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیعؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباسؓ میرے پاس آئے اور انھوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انھوںنے کہا: میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔
Takhreej
(۶۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب، وقد انفرد بہ واضطرب فی متنہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۷، ۱۳۰، والترمذی: ۳۳، وابن ماجہ: ۳۹۰، ۴۱۸،۴۴۰ (انظر: ۲۷۰۱۵)
Explanation
فوائد: …آخری قول سے وہ وضو والی آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس میں ان کے فہم کے مطابق چہرے اور ہاتھوں کو دھونے کا اور سر اور پاؤں کا مسح کرنے کا ذکر ہے، حقیقت میں پاؤں کو دھونا ہی ثابت ہے، البتہ موزے وغیرہ کی صورت میں مسح کیا جا سکتا ہے۔
627
Zaeef
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۲۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ أَیْضًا قَالَ: حَدَّثَتْنِی الرُّبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ (ؓ) قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْنَا فَیُکْثِرُ فَأَتَانَا فَوَضَعْنَا لَہُ الْمِیْضَأَۃَ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً مَرَّۃً وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَا بَقِیَ مِنْ وَضُوئِہِ فِی یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِہِ ثُمَّ رَدَّ یَدَہُ اِلَی نَاصِیَتِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ أُذُنَیْہِ مُقَدَّمَہُمَا وَمُؤَخَّرَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۶)
۔ (دوسری سند)عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: سیدہ ربیع بن معوذؓ نے مجھے بیان کیا، وہ کہتی ہیں: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کثرت سے ہمارے پاس آتے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے ایک برتن رکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اس طرح وضو کیا کہ تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا اور ایک ایک دفعہ کلی کی اور ناک میںپانی چڑھایا، پھر آپ نے تین دفعہ چہرہ اور دو بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر وضو کا جو پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھوں میں بچا، اس سے دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور پھر اپنے ہاتھ کو پیشانی تک لے آئے اور اپنے پاؤں کو تین تین بار دھویا اور کانوں کے سامنے والے اور پچھلے حصے کا مسح کیا۔
Takhreej
(۶۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
628
Zaeef
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۲۹)۔عَنْ عَمْرِوبْنِ یَحْیٰ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ ؓ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، فَقِیْلَ لَہُ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَدَعَا بِاِنَائٍ فَأَکْفَأَ مِنْہُ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا فَغَسَلَہُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ وَاسْتَخْرَجَہَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ فَفَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا وَاسْتَخْرَجَہَا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَہَا فَغَسَلَ یَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَہَا فَمَسَحَ بِرَأْسِہِ فَأَقْبَلَ بِیَدِہِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا کَانَ وُضُوْئُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۵۹)
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ، جن کو صحبت نصیب ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھائیں، پس انھوں ے برتن منگوایا اور اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ پانی میں داخل کیا اور نکالا اور ایک ہی چلّو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح تین بار کیا، پھر اپنا ہاتھ ڈالا اور اس کو نکال کر چہرہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کو نکال کر دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس کو نکال کر سر کا اس طرح مسح کیا کہ ہاتھ کو سامنے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔
Takhreej
(۶۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۱، ومسلم: ۲۳۵ (انظر: ۱۶۴۴۵)
629
Sahih
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ عَنْ أَبِیْہِ)۔ أَنَّ جَدَّہٗ قَالَ لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍؓ: ہَلْ تَسْتَطَیْعُ أَنْ تُرِیَنِیْ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ یَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَغَسَلَ یَدَہُ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًاثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہٗ بِیَدَیْہِ فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ ذَہَبَ بِہِمَا اِلَی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَکَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ( وَفِی رِوَایَۃٍ: أَنَّہُ مَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّتَیْنِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّتَیْنِ)۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۴۵)
۔ (دوسری سند) ان کے دادا جان نے سیدنا عبد اللہ بن عاصمؓ سے کہا: کیا تم مجھے یہ دکھا سکتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے وضو کا پانی منگوایا اور دو بار اپنے ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک جھاڑا، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو دو دو مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا اس طرح مسح کیا کہ ان کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے، تفصیل یہ ہے کہ سر کے سامنے والے حصے سے شروع کیا اور ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر لوٹایا، جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے پاؤں دھوئے۔ ایک روایت میں ہے: سر کا مسح دو بار کیا اور پاؤں بھی دو دو مرتبہ دھوئے۔
Takhreej
(۶۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
630
Sahih
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۳۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ (یَعْنِی ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ) حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِیْ عَائِذٍ سَیْفٍ السَّعْدِیِّ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ خَیْرًا عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ وَکَانَ أَمِیْرًا بِعُمَّانَ وَکَانَ کَخَیْرِ الْأُمَرَائِ، قَالَ أَبِیْ: اِجْتَمِعُوا فَلِاُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّی، فَاِنِّیْ لَا أَدْرِیْ مَا قَدْرُ صُحْبَتِیْ اِیَّاکُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ بَنِیْہِ وَأَہْلَہُ وَدَعَا بِوَضُوئٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ الْیَدَ الْیُمْنَی ثَلَاثًا وَغَسَلَ یَدَہُ ہَذِہِ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی ثُمَ مَسَحَ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ یَعْنِی الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَغَسَلَ ہٰذِہِ الرِّجْلَ ثَلَاثًا یَعْنِی الْیُسْرٰی، قَالَ: ہٰکَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً مَا نَدْرِیْ مَا ہِیَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلٰوۃِ فَأُقِیْمَتْ فَصَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ، فَأَحْسِبُ أَ نِّیْ سَمِعْتُ مِنْہُ آیَاتٍ مِنْ یٰسٓ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعِشَائَ وَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِیَکُم کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وَکَیْفَ کَانَ یُصَلِّیْ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۳۶)
یزید بن براء ، جو عمان کے امیر تھے اور عام امراء میں سے بہترین امیر تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا براء بن عازبؓ نے کہا: جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں دکھا سکوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کتنا عرصہ رہنا ہے، بہرحال انھوں نے اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کو جمع کیا اور وضو کا پانی منگوایا، پس کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ تین دفعہ دھویا، اس کے بعد بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا، پھر اس دائیں پاؤں اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور کہا: اسی طرح وضو تھا، میں نے تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ایک نماز پڑھی، ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ کون سی نماز تھی، پھر باہر تشریف لائے اور نماز کا حکم دیا، پس اقامت کہی گئی اور انھوں نے ہمیں نمازِ ظہر پڑھائی، میرا خیال ہے کہ میں نے اِس نماز میں سورۂ یس کی کچھ آیتیںسنی تھیں، پھر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، میں نے تم کو یہ چیزیں دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔
Takhreej
(۶۳۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن المنذر فی الاوسط : ۱/ ۴۰۰۱، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۴ / ۱۷۰(انظر: ۱۸۵۳۷)
631
Sahih
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
۔ (۶۳۲)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعبَۃَؓوَقَد سُئِلَ: ہَل أَمَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍؓ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، کُنَّا فِی سَفَرِ کَذَا وَکَذَا، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ) فَلَمَّا کَانَ مِنَ السَّحَرِ ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِہِ وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُہُ فَتَغَیَّبَ عَنِّیْ سَاعَۃً ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((حَاجَتُکَ؟)) فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ حَاجَۃٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ہَلْ مِن مَّائٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ ذَہَبَ یَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَیْہِ وَکَانَتْ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ فَضَاقَتْ فَأَدْخَلَ یَدَیْہِ فَأَخْرَجَہُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَمَسَحَ عَلٰی العِمَامَۃِ وَعَلٰی الْخُفَّیْنِ ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَوۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَہَبْتُ لِأُوذِنَہُ فَنَہَانِیْ فَصَلَّیْنَا الَّتِیْ أَدْرَکْنَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ أَدْرَکْنَا) وَقَضَیْنَا الَّتِیْ سُبِقْنَا بِہَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَضَیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی سُبِقْنَا)۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۱۴)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا اس امت میں سے سیدنا ابو بکرؓ کے علاوہ بھی کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امامت کرائی ہے انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم غزوۂ تبوک کے موقع پر سفرمیں تھے، جب سحری کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی سواری کی گردن پر مارا اور چل پڑے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے ہو لیا، کچھ وقت تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھ سے غائب رہے اور پھر واپس آ گئے اور مجھ سے فرمایا: کوئی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی ضرورت نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کیا پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پانی بہایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہاتھ دھوئے،پھر چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا پیچھے کرنے لگے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جبّہ پہنا ہوا تھا، اس کے بازو تنگ ہو گئے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے بازو اندر سے باہر نکال لیے اور اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا، پھر جب ہم لوگوں تک پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں ان کو بتلانے کے لیے جانے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے منع کر دیا، پھرجو نماز ہمیں مل گئی، ہم نے ادا کر لی اور جو رہ گئی اس کو بعد میں پورا کر لیا۔
Takhreej
(۶۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۴ (انظر: ۱۸۱۳۴)
632
Sahih
وضو کی نیت اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۳۳)۔عَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ اِلٰی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ لِدُنْیَا یُصِیْبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ اِلٰی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸)
سیدنا عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اور صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے، جو وہ نیت کرے گا، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، پس اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا، اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اسے پا لے گا اور جس کی کسی خاتون کی خاطر ہو گی، وہ اس سے نکاح کر لے گا، بہرحال اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا۔
Takhreej
(۶۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱، ومسلم: ۱۹۰۷(انظر: ۱۶۸)
Explanation
فوائد: …یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔ نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔ چونکہ وضو بہت بڑی نیکی اور عبادت ہے، اس لیے اس کے لیے نیت کرنا بھی ضروری ہے، نیت کے بغیر وضو نہیں ہو گا۔
633
Sahih
وضو کی نیت اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۳۴)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَا وُضُوئَ لَہُ وَلَا وُضُوئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۰۸)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کی کوئی نماز نہیں ، جس کا وضو نہیں اور اس آدمی کا کوئی وضو نہیں، جو وضو پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھے گا۔
Takhreej
(۶۳۴) تخریج: قال الالبانی: صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۱، وابن ماجہ: ۳۹۹ (انظر: ۹۴۱۸)
Explanation
فوائد: …حافظ ابن صلاح نے کہا: اِن احادیث کے مجموعہ سے وہی کچھ ثابت ہوتا ہے، جو کچھ حسن حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ (النتائج لابن حجر: ۱/ ۲۳۷) حافظ ابن حجر نے کہا: ان احادیث کے مجموعہ سے پیدا ہونے والی قوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۷۵)
634
Sahih
وضو کی نیت اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا بیان
۔ (۶۳۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ)) (مسند أحمد:۱۱۳۹۱)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کا کوئی وضو نہیں ، جو اس پر بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھے گا۔
Takhreej
(۶۳۵) تخریج: قال الالبانی: حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۷(انظر: ۱۱۳۷۱)
Explanation
فوائد: …ابن ہمام حنفی نے اس حدیث کو حسن قرار دے کر وضو کے شروع میں بسم اللّٰہ پڑھنا واجب قرار دیا۔ (شرح فتح القدیر: ۱/۲۳) اور ابن نجیم حنفی نے بھی حسن کہا۔ (البحر الرائق: ۱/۱۸)
635
Sahih