TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر

Chapter 10 of ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 22 · 19 Hadith
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے اونٹ ذبح کئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ لوگ ان کے لیے گوشت برتن میں ڈال رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ گوشت جانور کی پشت کا گوشت ہے۔
Takhreej
(۷۳۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، الشیخ من فھم، واسمہ محمد بن عبد الرحمن، فی عداد المجھولین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۰۸ (انظر: ۱۷۴۴)
7350
Zaeef
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: آخری کام جو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دیکھا، وہ یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک ہاتھ میں تازہ کھجوریں تھیں اور دوسرے ہاتھ میں ککڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجور کھاتے تھے اورساتھ ہی اس ککڑی سے ٹکڑا کاٹتے اور کھاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بکری کا سب سے عمدہ گوشت پشت کا گوشت ہے۔
Takhreej
(۷۳۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، نصر بن باب الخراسانی ترکہ جماعۃ، وقال البخاری: یرمونہ بالکذب، وحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، وقتادۃ لم یسمع من احد من اصحاب النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الا من انس وابی الطفیل (انظر: ۱۷۴۹)
7351
Zaeef
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کودیکھا کہ تر کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھا رہے تھے۔
Takhreej
(۷۳۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۴۴۰، ۵۴۴۷، ومسلم: ۲۰۴۳ (انظر: ۱۷۴۱)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۷۳۶۱)
7352
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گوشت والی ہڈی میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ دستی تھی اور دستی بھی بکری کی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بکری کی دستی میں زہر ملایا گیا تھا اور یہودیوں نے زہر دیا تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، سعد بن عیاض الثمالی فی عداد المجھولین، أخرجہ ابوداود: ۳۷۸۰(انظر: ۳۷۳۳)
7353
Zaeef
۔
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے ایک بکری کا تحفہ دیا گیا، اسے ذبح کرکے اس کا گوشت ہنڈیا میں رکھ کر پکایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! اس کی دستی مجھے پکڑا دو۔ پس میں نے پکڑا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اس کی دوسری دستی بھی مجھے دے دو۔ میں نے دوسری دستی بھی پکڑا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مجھے ایک اور دستی دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں تھیں، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک خاموش رہتا تو مجھے دستیاں پکڑاتا ہی رہتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی منگواکر اپنے منہ مبارک میں گھمایا اور انگلیاں دھوئیں پھرکھڑے ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے اور ہمارے پاس ٹھنڈا گوشت پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کھایا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور دوسری نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
Takhreej
(۷۳۵۴) تخریج: حسن لغیرہ فی قصۃ مناولۃ الذراع، وھذا اسناد ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد، وابو جعفر الرازی مختلف فیہ، وقد اختلف عنہ فی ھذا الاسناد، أخرجہ بن حبان: ۱۱۴۹، ۵۲۴۴، والطبرانی فی الکبیر : ۹۸۶ (انظر: ۲۷۱۹۵)
7354
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے لایا گیا، سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑائو۔)) میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے وہ بھی پکڑا دی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں دستی طلب کرتا رہتا، تو مجھے پکڑاتا رہتا۔ دراصل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن سعد: ۱/ ۳۹۳، والطبرانی فی الکبیر : ۹۷۰ (انظر: ۲۳۸۵۹)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ ہنڈیا سے دو سے زیادہ دستیاں نکالی جاتیں۔
7355
Sahih
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ بنحوہ الترمذی: ۱۸۳۷، وابن ماجہ: ۳۳۰۷ (انظر: ۸۳۷۷)
7356
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے سنگریزوں کا ایک برتن بنایا ہوا تھا، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا اور اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں جھانکا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں گوشت ہے۔ میں نے اس چیز کا ذکر گھر والوں سے کیا (اور ہم سمجھ گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہے) پس انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بکری ذبح کی۔
Takhreej
(۷۳۵۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۲۰۷۹، ۲۰۸۰، وابن حبان: ۷۰۲۰، والحاکم: ۴/۱۱۱ (انظر: ۱۴۵۸۱)
7357
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فاغیہ بہت پسند تھا اور کھانوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کدو کا سالن تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۸) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۲۵۴۶)
Explanation
فوائد:… فاغیہ کے تین معانی ہیں: خوشبو، حنا کی کلی، ہر خوشبودار پودے کی کلی۔
7358
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک پیالہ پیش کیا گیا، جس میں کدو تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کدو بہت پسند فرماتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں کے ساتھ پیالے میں سے کدو تلاش کرنا شروع کر دیئے۔
Takhreej
(۷۳۵۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۲۶۳۰)
7359
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایسا شوربا لایا جاتا، جس میں کدو ہوتا تو برتن کی کدو والی جانب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کر دی جاتی۔
Takhreej
(۷۳۶۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7360
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا آپ تر کھجوروں اورتربوز کو ملا کرکھا رہے تھے۔
Takhreej
(۷۳۶۱) تخریج: صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن حبان: ۵۲۴۸، والترمذی فی الشمائل : ۲۰۰، والنسائی فی الکبری : ۶۷۲۶ (انظر: ۱۲۴۴۹)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: کَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْکُلُ الْبِطِّیْخَ بِالرُّطَبِ، فَیَقُوْلُ: ((نُکَسِّرُ حَرَّ ھٰذَا بِبَرْدِ ھٰذَا وَبَرْدَ ھٰذَا بِحَرِّ ھٰذَا))۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تازہ کھجوروں کے ساتھ تربوز کھاتے اور فرماتے تھے: ہم اس (تربوز) کی ٹھنڈک کے ذریعے اس (کھجور) کی گرمائش کو اور اس کی گرمائش کے ذریعے اس کی ٹھنڈک کے اثر کو ختم کر رہے ہیں۔ (ابوداود: ۳۸۳۵، ترمذی: ۱/۳۳۸،صحیحہ:۵۷)
7361
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے، وہ گھر (سالن سے) خالی نہیں ہے، جس میں سرکہ ہو۔
Takhreej
(۷۳۶۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۳۳۶، والنسائی فی الکبری : ۶۶۸۹ (انظر: ۱۴۸۰۷)
7362
Sahih
۔
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن طلب کیا، انہوں نے کہا: سالن تو نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرکہ منگوایا اور اس کے ساتھ کھانا کھانا شروع کر دیا اور فرمایا: سرکہ توبہترین سالن ہے۔
Takhreej
(۷۳۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۵۲(انظر: ۱۴۹۲۵)
7363
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر اپنے گھر کی جانب چل دیئے، جب گھرپہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کوئی دوپہر کا یا شام کا کھانا ہے؟ انہوں نے روٹی کے چند ٹکڑے دیئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سالن نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، سرکہ تو بہترین سالن ہے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے اس وقت سے لے کر میں نے سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا اور سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب سے میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سرکہ کے بارے میں یہ بات سنی، اس وقت سے میں نے بھی سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا۔
Takhreej
(۷۳۶۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مختصرا مسلم: ۲۰۵۲ (انظر: ۱۵۲۹۳)
Explanation
فوائد:… سالن سے مراد وہ چیز ہے، جس کے ذریعے روٹی کو چبانا اور اس کو گلے سے اتارنا آسان ہو جاتا ہے، وہ سرکہ ہو یا اچار وغیرہ۔
7364
Sahih
۔
۔ اسماعیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں: وہ کہتے ہیں:میں ایک آدمی کے پاس داخل ہوا، وہ کھجور اور دودھ ملا کر کھا رہا تھا، اس نے مجھے کہا: قریب ہو جا اور کھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں چیزوں کو افضل اورعمدہ قرار دیا ہے۔
Takhreej
(۷۳۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو خالد والد اسماعیل، لم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان (انظر: ۱۵۸۹۳)
Explanation
فوائد:… بہرحال دودھ اور کھجور میں بے شمار خاصیات پائی جاتی ہیں۔
7365
Zaeef
۔
۔ سیدنا ابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل کھائو اور بدن پر بھی لگاؤ، کیونکہ یہ مبارک درخت سے پیدا ہوتاہے۔
Takhreej
(۷۳۶۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۱۸۵۲(انظر: ۱۶۰۵۵)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن قیم نے کہا: حجاز جیسے گرم علاقوں میں بسنے والے کے لیے صحت کی حفاظت اور بدن کی اصلاح کے لیے یوں سمجھیں کہ زیتون کے تیل کا استعمال ضروری ہے، لیکن ٹھنڈے علاقوں میں اس کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے، بلکہ سر میں اس کا کثرت ِ استعمال سے آنکھوں کے لیے کسی خطرہ سے کم نہیں ہے۔
7366
Sahih
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی دیگر عورتوں پر اتنی فضیلت ہے، جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
Takhreej
(۷۳۶۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۴۶(انظر: ۱۳۷۸۵)
Explanation
فوائد:… ثرید عربوں کی عمدہ اور افضل ڈش تھی، یہ روٹی، گوشت اور شوربے سے مرکب ہوتا ہے، یہ کھانا انتہائی مبارک،زود ہضم اور لذیذ ہوتا ہے، یہ آسانی سے کھایا جا سکتا ہے، اس پر زیادہ خرچ بھی نہیں ہوتا اور اس کی تھوڑی مقدار سے کھانے والا سیر ہو جاتا ہے۔
7367
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ کھانا نصیب کرے، وہ کہے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًا مِنْہُ۔ ( اے میرے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے اور ہمیں اس سے بہتر کھلا) اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پینا نصیب کرے، وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ۔ (اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت کر دے اور اس میں اضافہ فرما۔)، دودھ ہی ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ پر کفایت کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۳۶۸) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۷۳۰، والترمذی: ۳۴۵۵(انظر: ۱۹۷۸)
Explanation
فوائد:… دودھ ایسی غذا ہے جو کھانے کا کھانا اور مشروب کا مشروب ہے۔
7368
Sahih

Chapters

22
01
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
3 Hadith
02
سانڈا کھانے کا بیان
15 Hadith
03
بجو کے حلال ہونے کا بیان
3 Hadith
04
خرگوش ‘ سیہی اور مرغی کے گوشت کا حکم
4 Hadith
05
مچھلی اور ٹڈی کابیان
5 Hadith
06
لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
10 Hadith
07
اہل کتاب کے کھانے کا حکم
10 Hadith
08
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
12 Hadith
09
مجبوراً مردارکھانے کی رخصت کی کا بیان
3 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
19 Hadith
11
اجتماعی کھانے میں برکت ہے
9 Hadith
12
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
13
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
2 Hadith
14
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
7 Hadith
15
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
4 Hadith
16
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
9 Hadith
17
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
18
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
3 Hadith
19
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
4 Hadith
20
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
9 Hadith
21
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
22
اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
3 Hadith
No chapter matched that.