TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - Book 132 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 132 of Musnad Ahmad, with 22 chapters and 149 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

149 Hadith · 22 Chapters
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خچر اور گدھے سے تو منع کر دیا، لیکن گھوڑے کا گوشت کھانے سے منع نہ کیا تھا۔
Takhreej
(۷۲۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۳۷۸۹ (انظر: ۱۴۸۴۰)
7285
Sahih
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے اورجنگلی گدھے کا گوشت کھایا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔
Takhreej
(۷۲۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴۱(انظر: ۱۴۴۵۰)
7286
Sahih
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
۔
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔
Takhreej
(۷۲۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۱۰، ومسلم: ۱۹۴۲(انظر: ۲۶۹۱۹)
Explanation
فوائد:…گدھے اور خچر کا معاملہ تو واضح اور اتفاقی ہے کہ پہلے وہ حلال تھے، لیکن بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حرام قرار دیا تھا۔
7287
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سانڈا کو حرام قرار نہیں دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے۔
Takhreej
(۷۲۸۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۳۹(انظر: ۱۹۴)
7288
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے گھی، سانڈا اور پنیر کا تحفہ بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھی کھایا اور پنیر میں سے بھی کچھ کھایا، البتہ کراہت اور گھن محسوس کرتے ہوئے سانڈا کا گوشت نہ کھایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دستر خوان پر سانڈا کا گوشت کھایا گیا، اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دستر خوان پر تو نہ کھایا جاتا۔ ابوبشر کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا یہ بات کس نے کہی ہے، انہو ںنے کہا: یہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا ہے۔
Takhreej
(۷۲۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۷۲، ۵۴۰۲(انظر: ۲۲۹۹)
7289
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ یزید بن اصم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے ہماری دعوت کی، جب دستر خوان لگایا گیا تو اس پر تیرہ سانڈے سالن کے طور پر رکھے گئے، یہ عشاء کا وقت تھا، بعض نے کھا لیے اور بعض نے نہ کھائے، جب صبح ہوئی تو ہم سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اورمیں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، ان کے قریب بیٹھنے والوں نے تو بہت باتیں کیں، یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ نہ میں اسے کھاتاہوں اور نہ میں اسے حرام قرار دیتاہوں۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کہی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حلال یا حرام قرار دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، پھر انھوں نے کہا:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک عورت بھی تھی، ایک دستر خوان لایا گیا، جس میں روٹی اور سانڈے کا گوشت تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کھانا تناول فرمانے لگے تو سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سانڈے کا گوشت ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: میں اس قسم کا گوشت نہیں کھاتا، البتہ تم لوگ کھا لو۔ سیدنا فضل بن عباس، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور اس عورت نے یہ کھانا کھایا، البتہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے انکار کیا تھا کہ میں وہ کھانا نہیں کھاتی، جسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے سے انکار دیا ہے۔
Takhreej
(۷۲۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴۸(انظر: ۲۶۸۴)
7290
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سانڈا کے گوشت کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کو کھانے سے منع کرتا ہوں۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اس درخت یعنی لہسن میں سے کچھ کھائے ، وہ مسجد میں ہرگز نہ آئے۔
Takhreej
(۷۲۹۱) تخریج: الحدیث الاول أخرجہ مسلم: ۱۹۴۳، والحدیث الثانی أخرجہ البخاری: ۴۲۱۵، ومسلم: ۵۶۱ (انظر: ۴۶۱۹)
7291
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈا کا گوشت لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ کھایا اور نہ اس کو حرام قراردیا۔
Takhreej
(۷۲۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴۳(انظر: ۴۴۹۷)
7292
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ثابت بن یزید بن وداعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سانڈے شکار کیے، جبکہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ان کو پکایا اور بھون لیا، سیدنا ثابت کہتے ہیں: میں نے بھی ایک سانڈا شکار کیا اور اسے بھون کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس کی مدد سے سانڈا کی انگلیوں کو الٹ پلٹ کرنے یا ان کو گننے لگ گئے، اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت زمین پر جانوروں کی صورت میں مسخ کر دی گئی تھی، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے تو اسے بھون کرکھانا شروع کر دیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس سے کھایا اور نہ کھانے سے منع کیا۔
Takhreej
(۷۲۹۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۷۹۵، وابن ماجہ: ۳۲۳۸ (انظر: ۱۷۹۳۱)
Explanation
فوائد:…آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں ہوتی، سانڈے کے بارے میں یہ تردّد اس وحی سے پہلے تھا، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں ہوتی۔
7293
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سات سانڈے لائے گئے، ان پر کھجوریں اور گھی بھی رکھا گیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کھا لو میں انہیں پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۷۲۹۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۴/ ۲۰۲، والبیھقی: ۹/ ۳۲۴ (انظر: ۸۴۶۳)
7294
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سر زمین میں رہتے ہیں، جہاں سانڈے پائے جاتے ہیں،آپ ہمیں اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک امت مسخ ہو گئی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس کو کھانے کا حکم دیا اور نہ کھانے سے روکا۔ سیدنا ابو سعید کہتے ہیں اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بہت سے لوگوں کو نفع دیتے ہیں، چرواہوں کا زیادہ ترکھانا یہ سانڈا ہی ہے، اگر میرے پاس ہو تومیں اسے کھائوں گا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے، حرام قرار نہیں دیا۔
Takhreej
(۷۲۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۱(انظر: ۱۱۰۱۳)
Explanation
فوائد:…مسند احمد کی ایک روایت (۱۱۱۴۴) کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے جواب میں فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بنو اسرئیل کی ایک امت کو جانوروں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ وہ جانور کون سے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس کو کھانے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
7295
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈے پیش کیے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پشت کے بل الٹا کرو۔ پس اسے پشت کے بل پلٹایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پیٹ کے بل پلٹاؤ۔ پس اسے پیٹ کے بل پلٹایا گیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک نسل سرگردان ہو گئی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے غضب کیا تھا، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے۔
Takhreej
(۷۲۹۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بشر بن حرب الازدی، أخرجہ عبد الرزاق: ۸۶۷۹ (انظر: ۱۱۳۷۶)
7296
Zaeef
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے دو نسلیں بھٹک گئی تھیں، بس مجھے خدشہ ہے کہ وہ یہی سانڈے ہوں گی۔
Takhreej
(۷۲۹۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۱۴۲۵)
7297
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ایک دیہاتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے گھروالوں کا زیادہ ترکھانا سانڈے ہیں آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑا سے گزرے تو اس نے پھر یہی سوال کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، جب اس نے تین بار یہی سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک نسل پر لعنت و غضب کیا تھا اور وہ جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیئے گئے تھے، بس اب میں نہیں جانتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی ان میں سے ہو، سو نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کے کھانے سے منع کرتاہوں۔
Takhreej
(۷۲۹۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۱(انظر: ۱۱۵۹۹)
7298
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس داخل ہوا، یہ سیدنا سیدنا ابن عباس کی خالہ تھیں، سیدہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بھنی ہوا سانڈے کا گوشت پیش کیا، جو کہ نجد سے سیدہ ام حفید بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لے کر آئیں تھیں،یہ بنو جعفر کے ایک آدمی کی بیوی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو چیز بھی کھاتے تھے، پہلے اس کے بارے پوچھ لیا کرتے تھے، (جب سانڈے کا گوشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو) ایک بیوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتاؤ کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چھوڑ دیا، سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام نہیں ہے، بس یہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم میں پایا نہیں جاتا اور میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں۔ سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے وہ گوشت اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانا شروع کر دیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھ رہے تھے۔ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے اصم نے بیان کیا ہے اور انہوں نے سیدنا میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا ہے یہ سیدنا میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پروردہ تھے۔
Takhreej
(۷۲۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴۶، وأخرج بنحوہ البخاری: ۵۴۰۰(انظر: ۱۶۸۱۲)
7299
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ ان قوموں میں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا۔
Takhreej
(۷۳۰۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۴۹ (انظر: ۱۴۴۶۰)
7300
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس کو کھایا اور نہ اس سے منع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خود نہیں کھاتے،وہ ان کو بھی نہ کھلاؤ۔
Takhreej
(۷۳۰۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: لاتطعموھم مما لا تاکلون وھذا اسناد اختلف فیہ علی حماد بن ابی سلیمان، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۲۶۷، وابویعلی: ۴۴۶۱ (انظر: ۲۴۷۳۶)
7301
Sahih
سانڈا کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک علاقے میں اترے، وہاں سانڈے بہت زیادہ تھے، ہم نے ان کو حاصل کیا اور ذبح کیا اور پکانا شروع کر دیا، ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اچانک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اورفرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت گم پائی گئی ، ایک روایت میں ہے کہ مسخ کی گئی، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ امت یہی سانڈے ہو، لہٰذا ہنڈیاں الٹ دو۔ پس ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، حالانکہ ہم سخت بھوک سے دو چار تھے۔
Takhreej
(۷۳۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۱۲۱۷، وابویعلی: ۹۳۱، وابن حبان: ۵۲۶۶(انظر: ۱۷۷۵۷)
Explanation
فوائد:… ضَبّ (سانڈا)جنگلی چوہے کے مشابہ ایک جانور ہے، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی مادہ کو ضَبّۃ کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں عموماً اس کا معنی گوہ کیا جاتا ہے، لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں، واللہ اعلم۔
7302
Sahih
بجو کے حلال ہونے کا بیان
۔
۔ عبد اللہ الرحمن بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: کیا میں بجو کا گوشت کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۷۳۰۳) اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۸۵۱، ۱۷۹۱، والنسائی: ۵/ ۱۹۱ (انظر: ۱۴۴۲۵)
7303
Sahih
بجو کے حلال ہونے کا بیان
۔
۔ عبد اللہ بن یزید سعدی کہتے ہیں: میری قوم میں سے کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کروں کہ لوگ نیزے کی نوک تیز کر کے اسے زمین پر گاڑھ دیتے ہیں، اس سے بجو مارا جاتا ہے، کیا اس طرح ذبح کرنا آپ کی رائے میں درست ہے؟ پس میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھ گیا، ان کے پاس ایک بزرگ تشریف فرما تھے، جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ شامی تھے، میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تو بجو کھاتا ہے؟ میں نے کہا: میں نے تو کبھی نہیں کھایا، البتہ میری قوم کے لوگ کھاتے ہیں، انہوں نے کہا: بجو کھانا حلال نہیں، بزرگ نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا میں تجھے وہ حدیث نہ سنائوں جو میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان چیزوں سے منع کیا ہے: زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والا حصہ، لوٹا ہوا مال، جس جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بنایا جائے اور ہر کچلی والا درندہ۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں: بزرگ نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۷۳۰۴) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف (انظر: ۲۷۵۱۲)
7304
Sahih

Chapters

22
01
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
3 Hadith
02
سانڈا کھانے کا بیان
15 Hadith
03
بجو کے حلال ہونے کا بیان
3 Hadith
04
خرگوش ‘ سیہی اور مرغی کے گوشت کا حکم
4 Hadith
05
مچھلی اور ٹڈی کابیان
5 Hadith
06
لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
10 Hadith
07
اہل کتاب کے کھانے کا حکم
10 Hadith
08
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
12 Hadith
09
مجبوراً مردارکھانے کی رخصت کی کا بیان
3 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
19 Hadith
11
اجتماعی کھانے میں برکت ہے
9 Hadith
12
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
13
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
2 Hadith
14
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
7 Hadith
15
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
4 Hadith
16
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
9 Hadith
17
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
18
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
3 Hadith
19
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
4 Hadith
20
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
9 Hadith
21
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
22
اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
3 Hadith
No chapter matched that.