۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب بھی کوئی کھائے توبائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور جب بھی پانی پئے تو بائیں ہاتھ سے نہ پئے اور کوئی چیز پکڑے تو بائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور جب کوئی چیز کسی کو دے تو بائیں ہاتھ سے نہ دے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ پئے، کیونکہ بائیں ہاتھ کے ساتھ شیطان کھاتا پیتا ہے اور ہر گز نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کوئی چیز لے اور نہ دے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے پئے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن محمد اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں اپنے بائیں ہاتھ سے کھا رہی تھی، جبکہ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خاتون تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا اور میرا لقمہ گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بائیں ہاتھ سے مت کھائو جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دایاں ہاتھ دیا ہے یا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دایاں ہاتھ درست بنایا ہے۔ پس میرا بائیاں ہاتھ دائیں ہاتھ میں بدل گیا (یعنی میں نے آسانی کے ساتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا شروع کر دیا، وہ کہتی ہیں: پس میں نے اس کے بعد کبھی بائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو دائیں ہاتھ سے پئے (اور بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پئے) کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ نہ کھائو، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے، اس کے ساتھ شیطان کھاتا ہے اور جو بائیں ہاتھ کے ساتھ پیتا ہے، شیطان اس کے ساتھ پیتا ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشجع قبیلہ کے بسر بن راعی العیر نامی ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: دائیں ہاتھ کے ساتھ کھائو۔ اس نے کہا: مجھ سے دائیں ہاتھ سے کھانے کی استطاعت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے استطاعت ہی نہ ہو۔ اس کے بعد اس کا دایاں ہاتھ اس کے منہ تک اٹھنے کے قابل نہ رہا تھا۔
۔ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔ (اے اللہ مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔) یہ کلمات تین مرتبہ آپ کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں ہاتھ کھانے پینے کے لیے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر (کچھ) ضروریات کے لیے تھا۔