۔
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔
Takhreej
(۷۸۹۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۹۲۴(انظر: ۴۹۶۵)
Explanation
فوائد:… ایک بانسری کی آواز سے بچنے کے لیے نبی ٔ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صحابہ نے انداز اختیار کیا اور ہم الیکٹرانک میڈیا کے بہانے کن کن چکروں میں پڑھ چکے ہیں، صرف بچوں کے کارٹونوں کے بہانے ہمارے گھروں میں انتہائی ناپسندیدہ آوازیں اٹھ رہی ہوتی ہیں، شادیوں پر تو ہم بے غیرتی اور بے حسی کی انتہا کر دیتے ہیں، کیا بنے گا ہمارا؟
7893
Sahih