TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لہو کے آلات، گانے والیوں اور شراب کے پینے کا بیان - لہو کے آلات، گانے والیوں اور شراب کے پینے کا بیان - لہو و لعب کے بارے میں مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of لہو و لعب کے بارے میں مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 6 · 5 Hadith
۔
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔
Takhreej
(۷۸۹۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۹۲۴(انظر: ۴۹۶۵)
Explanation
فوائد:… ایک بانسری کی آواز سے بچنے کے لیے نبی ٔ معظم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں صحابہ نے انداز اختیار کیا اور ہم الیکٹرانک میڈیا کے بہانے کن کن چکروں میں پڑھ چکے ہیں، صرف بچوں کے کارٹونوں کے بہانے ہمارے گھروں میں انتہائی ناپسندیدہ آوازیں اٹھ رہی ہوتی ہیں، شادیوں پر تو ہم بے غیرتی اور بے حسی کی انتہا کر دیتے ہیں، کیا بنے گا ہمارا؟
7893
Sahih
۔
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم اس کو پہچانتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بنو فلاں کی گانے والی لونڈی ہے، کیا تم پسند کرو گی کہ یہ گائے؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک تھال سا دیا، اس پر اس نے گایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے۔
Takhreej
(۷۸۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۹۶۰، والطبرانی فی الکبیر : ۶۶۸۶(انظر: ۱۵۷۲۰)
Explanation
فوائد:… شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے اسی وجہ سے اس نے اس کو عادت بنا لی ہے، رہا مسئلہ کبھی کبھار، تو وہ جائز ہے، اس لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اجازت دینے اور اس گانے والی کی مذمت کرنے میں کوئی تضاد نہیں ہے، ذہن نشین کر لیں کہ اجازت دینے کا تعلق بعض اوقات سے ہے، جائز کلام سے ہے اور بے پردگی سے بچنے کی صورت سے ہے اور مذمت کا تعلق عادت سے ہے، بے ہودہ اور گندے کلام سے ہے اور بے پردگی سے ہے۔
7894
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے مجھے جہانوں کے لئے رحمت و ہدایت بناکر بھیجا ہے اور مجھے آلات موسیقی، بانسریاں، بت، صلیب اور جاہلیت کے کام مٹانے کا حکم دیا اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر کہا کہ کوئی بھی میرا بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پئے گا، تو وہ اسے روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، یہ الگ بات یہ ہے کہ اس کو بخشا جائے یا عذاب دیا جائے، اگر وہ چھوٹے اور ضعیف مسلمان بچے کو پلائے گا، تو وہ اس کو بھی روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، اسے بخشا جائے یا عذاب دیا جائے اور جو بھی میرے خوف سے اسے پینا چھوڑ دے گا، میں اسے روز قیامت قدس کے حوض سے پلائوں گا، ان چیزوں کی خرید وفروخت، ان کی تعلیم اور تجارت حلال نہیں اور گانے والیوں کی قیمت حرام ہے۔
Takhreej
(۷۸۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، فرج بن فضالۃ التنوخی ضعیف،وعلی بن یزید الالھانی ضعیف بمرۃ، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۳۴، والطبرانی: ۷۸۰۳ (انظر: ۲۲۳۰۷)
7895
Zaeef
۔
۔ جعفر کہتے ہیں: میں فرقد بن یعقوب کے پاس آیا، جب میں نے انہیں تنہا پایا تو کہا: اے ام فرقد کے بیٹے! آج میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کروں گا، وہ یہ ہے کہ مجھے زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے کے بارے میں مطلع کرو، یہ تم خود کہتے ہو یانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں خود یہ نہیں کہتا، میں نے یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نقل کرتا ہوں، میں نے کہا: یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ مجھے عاصم بن عمرو بجلی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کی ہے اور سیدنا ابو امامہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی ہے اور مجھ سے قتادہ نے سعید بن مسیب سے بیان کی ہے اور مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ کھانے پینے اور کھیل کود میں رات گزارے گا، جب صبح ہو گی تو وہ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے، ان کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ پر ہوا بھیجی جائے گی، وہ انہیں اس طرح نیست و نابود کردے گی، جس طرح ان سے پہلے والوں کو نیست و نابود کیا تھا، یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے شراب اور ڈھولک اور گانے والیوں کو حلال سمجھ کر اختیار کیا ہو گا۔
Takhreej
(۷۸۹۶) تخریج: ھذا الحدیث لہ ثلاثۃ اسانید: (۱): ضعیف لضعف سیار بن ھاتم، وضعفِ فرقد بن یعقوب السبخی، و(۲) فرقد عن قتادۃ عن سعید بن المسیب مرسلا و(۳) فرقد عن ابراہیم النخعی، وھذا اسناد معضل، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۳۷، والحاکم: ۴/ ۵۱۵ (انظر: ۲۲۲۳۱)
7896
Zaeef
۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا عبدالرحمن بن غنم، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری امت کے کچھ لوگ سخت ترین تکبر ، سرکشی اور کھیل کود میں رات گزاریں گے، وہ صبح کے وقت بندر اور خنزیر ہوجائیں گی، کیونکہ وہ حرام چیزوں اور گانے والیوں کو حلال سمجھیں گے، شراب پئیں گے، سود کھائیں گے اور ریشم پہنیں گے۔
Takhreej
(۷۸۹۷) تخریج: ھذا الحدیث لہ اربعۃ اسانید، کلھا ضعیفۃ (انظر: ۲۲۷۹۰)
Explanation
فوائد:… اب ہم اس موضوع سے متعلقہ مزید کچھ احادیث اور اقتباسات پیش کرتے ہیں:
7897
Zaeef