۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔
۔ سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اوپر دو سبز چادریں تھیں۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی زعفران لگائے۔
۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آیا، جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے، گھر والوں نے زعفران لگا دیا، جب میں صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اسے دھو دے۔ میں گیا اور اس کو دھویا، لیکن ابھی تک زعفران کا کچھ حصہ مجھ پر باقی تھا، بہرحال میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اس کو دھو۔ پس میں چلا گیا اور اس کو دھو کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا: فرشتے نہ کافرکے جنازہ پر حاضرہوتے ہیں، نہ اس آدمی کے پاس آتے ہیں، جو زعفران سے لت پت ہو اور نہ جنابت والے شخص کے پاس آتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ سوئے یا کھانا پینا چاہے تو وہ وضو کر لے۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے لباس کو زعفران کے ساتھ رنگتے اور زعفران بطور تیل بھی ملتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کپڑے زعفران کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کو بطور تیل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام رنگوں میں سب سے پیارا رنگ زعفران تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کپڑوں پر لگاتے تھے اور بطورِ تیل بھی استعمال کرتے تھے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی رخصت دی ہے، جب تک کہ اس کا رنگ جسم پر نہ چڑھے اور نہ ہی جسم پر داغ لگے۔