مسنداحمد

Musnad Ahmad

لباس اور زینت کے مسائل

سیاہ، سبز، زعفرانی اور رنگین ملبوسات کا بیان


۔

۔ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آیا، جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے، گھر والوں نے زعفران لگا دیا، جب میں صبح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اسے دھو دے۔ میں گیا اور اس کو دھویا، لیکن ابھی تک زعفران کا کچھ حصہ مجھ پر باقی تھا، بہرحال میں پھر آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اس کو دھو۔ پس میں چلا گیا اور اس کو دھو کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا: فرشتے نہ کافرکے جنازہ پر حاضرہوتے ہیں، نہ اس آدمی کے پاس آتے ہیں، جو زعفران سے لت پت ہو اور نہ جنابت والے شخص کے پاس آتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ سوئے یا کھانا پینا چاہے تو وہ وضو کر لے۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۷۹۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، یحیی بن یعمر لم یلق عمار بن یاسر، بینھما رجل، أخرجہ ابوداود: ۲۲۵، ۴۱۷۶ (انظر: ۱۸۸۸۶)