۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگا کریں گے، جیسے کبوتروں کے سینے کے بال ہوتے ہیں، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو معمولی بال سفید ہوئے تھے، البتہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما آپ کے بعد مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا کرتے تھے۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے باپ سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے، یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بزرگ کو ان کے گھر ہی ٹھہرنے دیتے تو ابو بکر کی عزت افزائی کے لیے ہم خود ہی ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر ابو قحافہ نے اسلام قبول کیا، ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے رنگ کو تبدیل کر دو، البتہ سیاہی سے بچو۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کا رنگ تبدیل کر دو، البتہ سیاہی اس کے قریب نہ کرو۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو ان کی کسی عورت کے پاس لے جائو، تاکہ وہ ان کے بالوں کو رنگ کر تبدیل کر دے، البتہ ان کو سیاہی سے بچاؤ۔
۔ زنجی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری کو دیکھا، انہوں نے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ کر رکھا تھا۔