مسنداحمد

Musnad Ahmad

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان

بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے

۔ (۸۳۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَدَّدَ آیَۃً حَتّٰی اَصْبَحَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۱۵)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور ہر رات کو قرآن مجید کی تکمیل کرتا تھا،جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ جب تو لمبی عمر پائے گا تو تو اکتا جائے گا، اس لیے ایک مہینہ میں ایک دفعہ قرآن مکمل کر لیا کر۔ لیکن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیس دن میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے استفادہ کرنے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں ایک ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے چھوڑ دیں، مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کیا، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سات دن میں قرآن ختم کرلیا کر، لیکن اس سے کم دنوںمیں نہیں۔

۔ (۸۳۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِہِ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنِّی أَ خْشٰی أَ نْ یَطُولَ عَلَیْکَ زَمَانٌ أَ نْ تَمَلَّ، اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی، أَ سْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اقْرَأْہُ فِی کُلِّ عِشْرِینَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَ سْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ عَشْرٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی، قَالَ: ((اِقْرَأْہُ فِی کُلِّ سَبْعٍ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَ سْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِی وَشَبَابِی فَأَ بٰی۔ زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَاقْرَئْ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِیْدَنَّ)) (مسند احمد: ۶۵۱۶)

۔ (دوسری سند )سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو فرمایا ہر ماہ میں ختم کرو میں نے کہا مجھے زیادہ قوت ہے پچیس دنوں میں پڑھ لو میں نے کہا مجھ میں زیادہ قوت ہے کہا بیس دن میں پڑھ لو، میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا پندہ دنوں میں قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔

۔ (۸۳۷۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنٍ لَہٗفَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ اِبْنِیْ ھٰذَا یَقْرَئُ الْمُصْحَفَ بِالنَّہَارِ وَیَبِیْتُ بِاللَّیْلِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَنْقِمُ اَنَّ ابْنَکَ یَظَلُّ ذَاکِرًا وَیَبِیْتُ سَالِمًا)) (مسند احمد: ۶۶۱۴)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی اپنا بیٹا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا دن میں قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ بات پسند نہیںکرتا کہ تیرا بیٹا دن کو ذکر کرتا ہے اور رات کو سلامتی کے ساتھ سو جاتا ہے۔

۔ (۸۳۷۵)۔ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْیَانَ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَؤُا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُکُمْ، فَاِنِ اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۲۲)

۔ سیدنا جندب بن سفیان بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل (غور و فکر اور شوق کے ساتھ) مانوس رہیں، اس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کرو اور جب اکتاہٹ اور بوریت ہو جائے تو (تلاوت روک کر) کھڑے ہو جاؤ۔