TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - Book 144 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 144 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 55 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

55 Hadith · 10 Chapters
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اِثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُوْمُ بِہٖآنَائَاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُہُ فِی الْحَقِّ آنَائَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ)) (مسند احمد: ۴۹۲۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا درست ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے قرآن دیا ہو اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالی مال عطا کرے اور وہ دن رات اس کو حق میں خرچ کرتا ہو۔
Takhreej
(۸۳۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۲۹، ومسلم: ۸۱۵(انظر: ۴۹۲۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں حسد سے مراد رشک ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے شخص پر نظر آنے والی نعمت کے بارے میں یہ خواہش کرنا کہ وہ اس کو بھی دی جائے لیکن بیچ میں یہ خواہش نہ ہو کہ یہ نعمت اس شخص سے زائل ہو جائے۔
8345
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۴۶)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْأَ خْنَسِ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنَافُسَ بَیْنَکُمْ إِلَّا فِی اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ أَ عْطَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُومُ بِہِ آنَائَ اللَّیْلِ وَآنَائَ النَّہَارِ وَیَتَّبِعُ مَا فِیہِ، فَیَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَ نَّ اللّٰہَ تَعَالٰی أَ عْطَانِی مِثْلَ مَا أَ عْطٰی فُلَانًا فَأَ قُومَ بِہِ کَمَا یَقُومُ بِہِ، وَرَجُلٌ أَ عْطَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُ وَیَتَصَدَّقُ، فَیَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَ نَّ اللّٰہَ أَ عْطَانِی مِثْلَ مَا أَ عْطٰی فُلَانًا فَأَ تَصَدَّقَ بِہِ۔))، فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ رَأَ یْتُکَ النَّجْدَۃَ تَکُونُ فِی الرَّجُلِ، وَسَقَطَ بَاقِی الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹۱)
۔ سیدنایزید بن اخنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش اور رغبت نہیں ہے، مگر دو آدمیوں کے مابین، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہے اور وہ دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے، دوسرا آدمی اس پر رشک کرتے ہوئے کہتا ہیں: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھییہ نعمت عطا کی ہوتی تو میں بھی اس کا اسی طرح اہتمام کرتا، جیسے وہ کرتا ہے۔دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اسے خرچ کرتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، دوسرا آدمی کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھییہ نعمت دے دے تو میں بھی اس کی طرح صدقہ کروں گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! دلیری اور بہادری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ کسی آدمی میں ہو، … حدیث کا باقی حصہ ضائع ہو گیا۔
Takhreej
(۸۳۴۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، دون ذکر النجدۃ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، سلیمان بن موسی لم یدرک کثیر بن مرۃ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۶۲۶، وفی الاوسط : ۲۲۰۵ (انظر: ۱۶۹۶۶)
Explanation
فوائد:… باقی نیک اعمال میں رشک اور ریس کرنا بھی درست ہے، لیکن اس معاملے میں یہ دو نیکیاں بہت بڑی ہیں، صاحب ِ قرآن اور صاحب ِ مال لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
8346
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۴۷)۔ عَنْ سَہْلٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مَنْقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ، نُبِتَ لَہٗغَرْسٌفِی الْجَنَّۃِ، وَمَنْ قَرَئَ الْقُرْآنَ فَاَکْمَلَہٗوَعَمِلَبِمَافِیْہِ اُلْبِسَ وَالِدَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَاجًا، ھُوَ اَحْسَنُ مِنْ ضَوْئِ الشَّمَسِ فِیْ بُیُوْتٍ مِنْ بُیُوْتِ الدُّنْیَا، لَوْ کَانَتْ فِیْہٖ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِیْ عَمِلَ بِہٖ؟)) (مسنداحمد: ۱۵۷۳۰)
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہتا ہے، اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتا ہے اور جو قرآن پاک پڑھتا ہے، اسے مکمل کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی تمہارے اس دنیوی گھر سے بہتر ہو گی، جس میں سورج آ جائے، (یہ تو والدین کا مرتبہ ہے) اور جو اس پر عمل کرے گا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔
Takhreej
(۸۳۴۷) تخریج: حدیث حسن لغیرہ دون قولہ: من قرأ القرآن فأکملہ …۔ وھذا اسناد ضعیف لضعف زبان بن فائد، وابنُ لھیعۃ سییء الحفظ، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۱۴۵۳ (انظر: ۱۵۶۴۵)
Explanation
فوائد:… فضیلت ِ قرآن پر دلالت کرنے والی درج ذیل حدیث بڑی خوبصورت ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَجِيْئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ: ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ اَنَا الَّذِيْ کُنْتُ أُسْھِرُ لَیْلَکَ، وَاُظْمِیُٔ ھَوَاجِرَکَ، وَاِنَّ کُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَائِ تِجَارَتِہِ، وَاَنَا لَکَ الْیَوْمَ مِن وَرَائِ کُلِّ تاَجِرٍ، فَیُعْطٰی الْمُلْکَ بِیَمِیْنِہِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِہِ، وَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَیُکْسٰی وَالِدُہُ حُلَّتَیْنِ لَا تَقُوْمُ لَھُمُ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا، فَیَقُوْلَانِ: یَا رَبِّ! اَنّٰی لَنَا ھٰذَا؟ فَیُقَالُ: بِتَعْلِیْمِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ۔ وَاِنَّ صَاحِبَ الْقُرْآنِ یُقَالُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اِقْرَأْ وَارْقَ فِي الدَّرَجَاتِ، وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْیَا، فَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ مَعَکَ۔)) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآنِ مجید روزِ قیامت اجنبی آدمی کے روپ میں آئے گا اور صاحبِ قرآن سے پوچھے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ (پھر قرآن مجید اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہے گا:) میں وہی ہوں جو تجھے راتوں کو بیدار اور دوپہروں کو پیاسا رکھتا تھا۔ آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور آج میں تیری خاطر ہر تاجر کے پیچھے ہوں۔ پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائیجائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ سب کچھ ہمارے لیے کہاں سے؟ جواباً کہا جائے گا: تمہارے اپنے بیٹے کو قرآن مجید سکھانے کی وجہ سے۔ صاحبِ قرآن کوروزِ قیامت کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور جنت کے درجے چڑھتا جا اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس تیرا مقام وہ ہو گا جہاں تیری آخری آیت (کی تلاوت ختم ہو گی)۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/۵۳/۱ـ ۲/۵۸۹۴، صحیحۃ:۲۸۲۹) اس میں صاحب ِ قرآن کی فضیلت کا بیان ہے۔ لیکن آجکل صرف حافظِ قرآن کو ان احادیث کا اولین مصداق ٹھہرایا جاتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ آیا وہ قرآن مجید سمجھتا ہے یا نہیںیا اس کا اس کتابِ قانون پر عمل بھی ہے یا نہیں۔ خود اس حدیث میں صاحب ِ قرآن کییہ صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رات کے قیام کو نیند پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرتا ہے، جس کی صرف ایک مثال روزہ کا ذکر کیا گیاہے۔
8347
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۴۹)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ اَنَّ شُرَیْحًا الْحَضْرَمِیَّ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ذَاکَ رَجُلٌ لَا یَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ)) (مسند احمد: ۱۵۸۱۵)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شریح حضرمی کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا شخص ہے، جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔
Takhreej
(۸۳۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۲۵۶ (انظر: ۱۵۷۲۴)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان الفاظ سے مدح بھی کشید کی جا سکتی ہے اور مذمت بھی، مدح کی صورت میں مفہوم یہ ہو گا کہ تکیہ نہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ وہ رات کو تہجد پڑھتا ہے اور مذمت کی صورت میں معنییہ ہوگا کہ نہ اس کوقرآن مجیدیاد ہے اور نہ وہ اس کی قراء ت پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے، یعنی جب وہ سوتا ہے تو اس کے ساتھ قرآن مجید نہیں ہوتا۔
8349
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَہُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ،وَمَنْاَبْطَأَبِہٖعَمَلُہٗلَمْیُسْرِعْ بِہٖنَسَبُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بھی جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم مل کر پڑھتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالی ان کا ان ہستیوں میں ذکر کرتاہے، جو اس کے پاس ہیں، اور جس کے عمل نے اس کو پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Takhreej
(۸۳۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۹ (انظر: ۷۴۲۷)
Explanation
فوائد:… اس میں تلاوت ِ قرآن کے اجتماع کی فضیلت کا بیان ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ حسب و نسب کوئی باعث ِ امتیاز چیز نہیں ہے، اگر عملِ صالح نہ ہوا تو نسب کوئی فائدہ نہیں دے گا، جبکہ ہمارامعاشرہ اس وقت مال اور نسب کو ترجیح دینے کی لپیٹ میں ہے۔
8350
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۱)۔ عن أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَ نَّ أَ بَا مُوسَی الْأَ شْعَرِیَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِییَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِی لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ التَّمْرَۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَلَا رِیحَ لَہَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِییَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الرَّیْحَانَۃِ مُرٌّ طَعْمُہَا وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِی لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ مُرٌّ طَعْمُہَا وَلَا رِیحَ لَہَا)) (مسند احمد: ۱۹۸۴۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال نارننگی کی مانند ہے، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی مانند ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، تلاوت کرنے والے فاجر کی مثال نیاز بو کی مانند ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن خوشبو اچھی ہوتی ہے اور تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتاہے اور خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۸۳۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۲۰، ۷۵۶۰، ومسلم: ۷۹۷ (انظر: ۱۹۶۱۴)
Explanation
فوائد:… یہ قرآن مجید کی پاکیزگی ہے، چاروں مثالوں پر غور کر کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
8351
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَیَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: اَنَاالَّذِیْ اَسْہَرْتُ لَیْلَکَ وَاَظْمَاْتُ ھَوَاجِرَکَ)) (مسند احمد: ۲۳۳۶۴)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا روز قیامت قرآن پاک زرد رنگت والے آدمی کی مانند آئے گا۔ اپنے ساتھی سے کہے گا میں نے تجھے رات بیدار رکھا اور تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا توا ٓج میں سفارش کروں گا۔
Takhreej
(۸۳۵۲) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۸۱(انظر: ۲۲۹۷۶)
Explanation
فوائد:… اَلشَّاحِب کے معانییہ ہیں: وہ شخص جس کا رنگ اور جسم کسی بیمارییا سفر جیسے عارضے کی وجہ سے بدلا ہوا ہو، حافظ سیوطی نے کہا: قرآن مجید کی اس حالت میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صاحب ِ قرآن سے مشابہت ہو جائے، جس نے رات کو بیدار رہ کر تلاوت و قیام کے ذریعے اور دن کو روزے کے ذریعے اپنے آپ کو تھکا دیا تھا، یایہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسے دنیا میں عمل کی وجہ سے صاحب ِ قرآن کا رنگ بدل جاتا تھا، اسی طرح قیامت والے دن اس کے لیے تگ و دو کرنے کی وہ سے قرآن کے مخصوص وجود کا رنگ بدلا ہوا ہو گا۔ واللہ اعلم۔حافظ ِ قرآن اور دوسرے صاحب ِ قرآن لوگوں کو قرآن مجید کے ان سفارشی الفاظ پر غور کرنا چاہیے، تاکہ ہم اپنا جائزہ لے سکیں کہ آیا ہم ان الفاظ کا مصداق بن سکیں گے یا نہیں۔
8352
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَّذِیْیَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَھُوَ مَاہِرٌ بِہٖ،مَعَالسَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ، وَالَّذِیْیَقْرَئُہٗ وَھُوَ عَلَیْہٖ شَاقٌّ فَلَہٗاَجْرَانِ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۷۱۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جو قرآن پاک پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہو تو اس کا ساتھ سفید چہروں والے اور عزت والے نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پرگراں ہو تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
Takhreej
(۸۳۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری:۴۹۳۷، ومسلم: ۷۹۸(انظر: ۲۴۲۱۱)
Explanation
فوائد:… قرآن کا ماہر وہ ہے کہ جس نے بہترین انداز میں حفظ مکمل کیا ہوا ہو، دورانِ تلاوت کوئی اٹکن نہ آتی ہو، عمدگی اور تجوید کی رو رعایت کر کے تلاوت کرتا ہو، سنتے وقت یوں لگتا ہو کہ قرآن مجید، قاری کی زبان پر تیر رہا ہے، جبکہ اس کے وجود پر قرآن کے عملی تقاضے کا حسن بھی نظر آتا ہو۔ دوہرے اجر سے تلاوت کا اجر اور مشقت برداشت کرنے کا اجر ہے۔حدیث کے دوسرے حصے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی غلط ملط پڑھتا ہے، اس سے مراد وہ آدمی ہے، جس کی زبان مشکل سے ہی الفاظ ادا کر پاتی ہے، یا شروع شروع میں ناخواندگی کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔ بہرحال ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیمِ قرآن کے حصول کے لیے اچھے مدرس کا اہتمام کرے
8353
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۴)۔ (وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یَقْرَاُ آیَۃً، فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ، لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ آیَۃً کُنْتُ نُسِیْتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ ایک آیت کی تلاوت کر رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے ایک آیتیاد دلا دی، مجھے تو وہ بھلا دی گئی تھی۔ُُ
Takhreej
(۸۳۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۵، ۵۰۳۷، ۴۰۴۲، ومسلم: ۷۸۸ (انظر: ۲۴۳۳۵)
Explanation
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میںہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔
8354
Sahih
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَقْرَاُ فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْعَجَمِیُّ وَالْاَسْوَدُ وَالْاَبْیَضُ اِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَنْتُمْ فِیْ خَیْرٍ، تَقْرَئُ وْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہ، وَسَیَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَثْقَفُوْنَہٗ کَمَا یَثْقَفُوْنَ الْقَدَحَ، یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلَا یَتَاَجَّلُوْنَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۲)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ مسجد میں کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غور سے سنا اور پھر فرمایا: تلاوت کرو، تلاوت کرو، ہر ایک اچھا ہے، لیکن اس کے ذریعے اللہ تعالی کو تلاش کرو، ایسے لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے کہ وہ اس کی تلاوت اس طرح ٹھیک ٹھیک کریں گے، جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کا اجر طلب کریں گے اور آخرت تک اس کے ثواب کو مؤخر نہیں کریں گے۔
Takhreej
(۸۳۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، وفاء الخولانی فی عداد المجھولین، وابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر:)۱۲۴۸۴
Explanation
فوائد:…یعنی قرآن مجید کے الفاظ کی ادائیگی اور ان کے مخارج کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے گا، پرترنم اور سریلی آواز میں اور خوب اتار چڑھاؤ کے ساتھ تلاوت کی جائے گی، لیکن مقصودیہ ہو گا کہ لوگوں کو خوش کر کے ان سے مال و دولت بٹورا جائے۔ عصرِ حاضر میں ایسے لوگوں نے قرآن مجید کو پیشہ بنا رکھا ہے۔ ان کی خلوتیں کیا، جلوتوں میں بھی قرآن حکیم کا ان کے وجود پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا باب اور اس کی تشریح۔
8355
Zaeef
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
۔ (۸۳۵۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَاِذَا فِیْہِ قَوْمٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، قَالَ: ((اِقْرَئُ وا الْقُرْآنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: فَاسْتَمَعَ، فَقَالَ: اِقْرَئُ وْا فَکُلٌّ حَسَنٌ) وَابْتَغُوْا بِہِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَاْتِیَ قَوْمٌ یُقِیْمُوْنَہٗ اِقَامَۃَ الْقَدَحِ یَتَعَجَّلُوْنَہٗ وَلَا یَتَاَجَّلُوْنَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۱۶)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کی خاطر ہزار آیات پڑھے گا، روزِ قیامت اس کا ساتھ انبیائے کرام، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں لکھا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ کتنا ہی اچھا ہے، ان شاء اللہ۔
Takhreej
(۸۳۵۶) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۳۰ (انظر: ۱۴۸۵۵)
Explanation
فوائد:…رضائے الہی سے مراد أجرت اور شہرت طلبی وغیرہ کی وجہ سے تلاوت نہ کی جائے، بلکہ محض اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے قرآن مجید پڑھا جائے۔
8356
Sahih
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۵۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَْنَ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَرَأَ اَلْفَ آیَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، کُتِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا، اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔
Takhreej
(۸۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/۳۹۹، وابویعلی: ۱۴۸۹، والحاکم: ۲/ ۸۷ (انظر: ۱۵۶۱۱)
Explanation
فوائد:… خشوع و خضوع، رقت اور خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
8357
Zaeef
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْآنِ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْمَایَجْھَرُ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۶۵۷)
۔ سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۲۳، ۵۰۲۴، ۷۴۸۲، ومسلم: ۷۹۲ (انظر: ۷۶۷۰)
Explanation
فوائد:…وکیع راوی کا بیان کیا ہوا معنی درست نہیں ہے، اس کا صحیح معنی قرآن پاک کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا ہے۔ ( وہ ہم سے نہیں جو قرآن مجید کے ساتھ (اور چیزوں سے) مستغنی نہیں ہوتا۔ حدیث کا یہ مفہوم بھی ٹھیک ہے، امام بخاری نے اسی زیر مطالعہ حدیث کے لیے عنوان قائم کر کے قرآن مجید کییہ آیت پیش کی ہے۔ {اَوَ لَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ } (العنکبوت: ۵۱) کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی ہے، وہ ان پر پڑھی جاتی ہے۔ یعنییہ کتاب پہلی کتب سماوی سے مستغنی کرتی ہے فضول اشعار اور تحریروں سے بے پرواہ کرتی ہے۔ (بخاری، باب من لم یتغنی بالقرآن قبل الحدیث: ۵۰۲۲) معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے دونوں مفہوم درست ہیںیہ حدیث نبوی کا ایک کمال ہے۔) (عبداللہ رفیق) بلاشبہ خوبصورت آواز سے قرآن مجید کے حسن میں اضافہ ہوتاہے اور تلاوت کرنے والوں اور سننے والوں میں مزید تلاوت کرنے اور سننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں تکلف سے گریز کرنا ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت مخصوص سریلی آواز کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس معاملے میں عرب کے لہجے کو سامنے رکھنا چاہیے، جیسے حرم مکی کے امام تلاوت کرتے ہیں، زیادہ تکلف سے بچنا چاہیے، جیسے آج کل مصری قراء کی تلاوت کا انداز ہے۔
8358
Sahih
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۵۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ))، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): یَعْنِی: یَسْتَغْنِیْ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۵۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۸۳۵۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۷۰ (انظر: ۱۵۴۹)
Explanation
فوائد:…مخفی صدقہ افضل ہے، کیونکہ اس میں ریاکاری کا شبہ نہیں ہوتا، اگر ریاکاری کا شبہ نہ ہو اور کسی کو نصیحت کرنا مقصود ہو تو اعلانیہ صدقہ بھی درست ہے، یہی حکم تلاوت ِ قرآنِ مجید کا ہے،
8359
Sahih
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۶۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَاھِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۱)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔
Takhreej
(۸۳۶۰) اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود:۱۳۳۳، والنسائی: ۵/ ۸۰، والترمذی: ۲۹۱۹ (انظر: ۱۷۴۴۴)
Explanation
فوائد:… اَوَّاہ کے معانی: آہیں بھرنے والا، گڑگڑانے والا، زیادہ رونے والا، زیادہ دعائیں کرنے والا
8360
Sahih
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۶۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ یُقَالُ لَہُ: ذُوا الْبِجَادَیْنِ: ((اِنَّہٗ اَوَّاہٌ۔)) وَذٰلِکَ اَنَّہٗکَانَرَجُلًاکَثِیْرَ الذِّکْرِ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ وَیَرْفَعُ صَوْتَہٗفِی الدُّعَائِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۹۲)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔
Takhreej
(۸۳۶۱) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۱۳ (انظر: ۱۷۴۵۳)
8361
Sahih
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۶۲)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَلّٰہُ أَ شَدُّ أَ ذَنًا إِلَی الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَیْنَۃِ إِلَی قَیْنَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔
Takhreej
(۸۳۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان اسماعیل بن عبید اللہ لم یدرک فضالۃ بن عبید، بینھما میسرۃ مولی فضالۃ، وھو مجھول ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۷۰، والبیھقی: ۱۰/ ۲۳۰ (انظر: ۲۳۹۴۷)
8362
Zaeef
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَأَۃَ رَجُلٍ فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) قِیْلَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قَیْسٍ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۹۸۰۵)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہیں۔
Takhreej
(۸۳۶۳) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۴۱ (انظر: ۹۸۰۶)
Explanation
فوائد:… بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔
8363
Sahih
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
۔ (۸۳۶۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ الْاَ شْعَرِیِّ اُعْطِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۲۳۴۲۱)
۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن پاک کو خوبصورت بناؤ۔
Takhreej
(۸۳۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوعوانۃ: ۳۸۹۰، وابن حبان: ۸۹۲ (انظر: ۲۳۰۳۳)
Explanation
فوائد:… ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔
8364
Sahih
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
۔ (۸۳۶۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((زَیِّنُوْا الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۸۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔
Takhreej
(۸۳۶۵) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۶۸، والنسائی: ۲/ ۱۷۹، وعلقہ البخاری فی صحیحہ فی کتاب التوحید (انظر: ۱۸۴۹۴)
Explanation
فوائد:… یہ وہ لوگ تھے جو زبان سے تو قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے، لیکن ان کے دلوں نے نہ اس کتاب کو سمجھا اور نہ اس سے متأثر ہوئے۔قرآن مجید کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۳۷۳م)
8365
Sahih

Chapters

10
01
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
11 Hadith
02
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
8 Hadith
03
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
7 Hadith
04
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
4 Hadith
05
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
2 Hadith
06
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
6 Hadith
07
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
2 Hadith
08
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
3 Hadith
09
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
5 Hadith
10
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.