۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا درست ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے قرآن دیا ہو اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالی مال عطا کرے اور وہ دن رات اس کو حق میں خرچ کرتا ہو۔
فوائد:… اس حدیث میں حسد سے مراد رشک ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے شخص پر نظر آنے والی نعمت کے بارے میں یہ خواہش کرنا کہ وہ اس کو بھی دی جائے لیکن بیچ میں یہ خواہش نہ ہو کہ یہ نعمت اس شخص سے زائل ہو جائے۔
۔ سیدنایزید بن اخنس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش اور رغبت نہیں ہے، مگر دو آدمیوں کے مابین، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہے اور وہ دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے، دوسرا آدمی اس پر رشک کرتے ہوئے کہتا ہیں: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھییہ نعمت عطا کی ہوتی تو میں بھی اس کا اسی طرح اہتمام کرتا، جیسے وہ کرتا ہے۔دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اسے خرچ کرتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، دوسرا آدمی کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھییہ نعمت دے دے تو میں بھی اس کی طرح صدقہ کروں گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! دلیری اور بہادری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ کسی آدمی میں ہو، … حدیث کا باقی حصہ ضائع ہو گیا۔
Takhreej
(۸۳۴۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، دون ذکر النجدۃ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، سلیمان بن موسی لم یدرک کثیر بن مرۃ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۶۲۶، وفی الاوسط : ۲۲۰۵ (انظر: ۱۶۹۶۶)
Explanation
فوائد:… باقی نیک اعمال میں رشک اور ریس کرنا بھی درست ہے، لیکن اس معاملے میں یہ دو نیکیاں بہت بڑی ہیں، صاحب ِ قرآن اور صاحب ِ مال لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہتا ہے، اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتا ہے اور جو قرآن پاک پڑھتا ہے، اسے مکمل کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی تمہارے اس دنیوی گھر سے بہتر ہو گی، جس میں سورج آ جائے، (یہ تو والدین کا مرتبہ ہے) اور جو اس پر عمل کرے گا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔
Takhreej
(۸۳۴۷) تخریج: حدیث حسن لغیرہ دون قولہ: من قرأ القرآن فأکملہ …۔ وھذا اسناد ضعیف لضعف زبان بن فائد، وابنُ لھیعۃ سییء الحفظ، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۱۴۵۳ (انظر: ۱۵۶۴۵)
Explanation
فوائد:… فضیلت ِ قرآن پر دلالت کرنے والی درج ذیل حدیث بڑی خوبصورت ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَجِيْئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ: ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ اَنَا الَّذِيْ کُنْتُ أُسْھِرُ لَیْلَکَ، وَاُظْمِیُٔ ھَوَاجِرَکَ، وَاِنَّ کُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَائِ تِجَارَتِہِ، وَاَنَا لَکَ الْیَوْمَ مِن وَرَائِ کُلِّ تاَجِرٍ، فَیُعْطٰی الْمُلْکَ بِیَمِیْنِہِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِہِ، وَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَیُکْسٰی وَالِدُہُ حُلَّتَیْنِ لَا تَقُوْمُ لَھُمُ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا، فَیَقُوْلَانِ: یَا رَبِّ! اَنّٰی لَنَا ھٰذَا؟ فَیُقَالُ: بِتَعْلِیْمِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ۔ وَاِنَّ صَاحِبَ الْقُرْآنِ یُقَالُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اِقْرَأْ وَارْقَ فِي الدَّرَجَاتِ، وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْیَا، فَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ مَعَکَ۔))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآنِ مجید روزِ قیامت اجنبی آدمی کے روپ میں آئے گا اور صاحبِ قرآن سے پوچھے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ (پھر قرآن مجید اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہے گا:) میں وہی ہوں جو تجھے راتوں کو بیدار اور دوپہروں کو پیاسا رکھتا تھا۔ آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور آج میں تیری خاطر ہر تاجر کے پیچھے ہوں۔ پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائیجائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ سب کچھ ہمارے لیے کہاں سے؟ جواباً کہا جائے گا: تمہارے اپنے بیٹے کو قرآن مجید سکھانے کی وجہ سے۔ صاحبِ قرآن کوروزِ قیامت کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور جنت کے درجے چڑھتا جا اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس تیرا مقام وہ ہو گا جہاں تیری آخری آیت (کی تلاوت ختم ہو گی)۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/۵۳/۱ـ ۲/۵۸۹۴، صحیحۃ:۲۸۲۹)
اس میں صاحب ِ قرآن کی فضیلت کا بیان ہے۔ لیکن آجکل صرف حافظِ قرآن کو ان احادیث کا اولین مصداق ٹھہرایا جاتا ہے۔
قطع نظر اس سے کہ آیا وہ قرآن مجید سمجھتا ہے یا نہیںیا اس کا اس کتابِ قانون پر عمل بھی ہے یا نہیں۔ خود اس حدیث میں صاحب ِ قرآن کییہ صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رات کے قیام کو نیند پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرتا ہے، جس کی صرف ایک مثال روزہ کا ذکر کیا گیاہے۔
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شریح حضرمی کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا شخص ہے، جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان الفاظ سے مدح بھی کشید کی جا سکتی ہے اور مذمت بھی، مدح کی صورت میں مفہوم یہ ہو گا کہ تکیہ نہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ وہ رات کو تہجد پڑھتا ہے اور مذمت کی صورت میں معنییہ ہوگا کہ نہ اس کوقرآن مجیدیاد ہے اور نہ وہ اس کی قراء ت پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے، یعنی جب وہ سوتا ہے تو اس کے ساتھ قرآن مجید نہیں ہوتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بھی جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم مل کر پڑھتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالی ان کا ان ہستیوں میں ذکر کرتاہے، جو اس کے پاس ہیں، اور جس کے عمل نے اس کو پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
Takhreej
(۸۳۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۹ (انظر: ۷۴۲۷)
Explanation
فوائد:… اس میں تلاوت ِ قرآن کے اجتماع کی فضیلت کا بیان ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ حسب و نسب کوئی باعث ِ امتیاز چیز نہیں ہے، اگر عملِ صالح نہ ہوا تو نسب کوئی فائدہ نہیں دے گا، جبکہ ہمارامعاشرہ اس وقت مال اور نسب کو ترجیح دینے کی لپیٹ میں ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال نارننگی کی مانند ہے، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی مانند ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، تلاوت کرنے والے فاجر کی مثال نیاز بو کی مانند ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن خوشبو اچھی ہوتی ہے اور تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتاہے اور خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا روز قیامت قرآن پاک زرد رنگت والے آدمی کی مانند آئے گا۔ اپنے ساتھی سے کہے گا میں نے تجھے رات بیدار رکھا اور تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا توا ٓج میں سفارش کروں گا۔
Takhreej
(۸۳۵۲) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۸۱(انظر: ۲۲۹۷۶)
Explanation
فوائد:… اَلشَّاحِب کے معانییہ ہیں: وہ شخص جس کا رنگ اور جسم کسی بیمارییا سفر جیسے عارضے کی وجہ سے بدلا ہوا ہو، حافظ سیوطی نے کہا: قرآن مجید کی اس حالت میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صاحب ِ قرآن سے مشابہت ہو جائے، جس نے رات کو بیدار رہ کر تلاوت و قیام کے ذریعے اور دن کو روزے کے ذریعے اپنے آپ کو تھکا دیا تھا، یایہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسے دنیا میں عمل کی وجہ سے صاحب ِ قرآن کا رنگ بدل جاتا تھا، اسی طرح قیامت والے دن اس کے لیے تگ و دو کرنے کی وہ سے قرآن کے مخصوص وجود کا رنگ بدلا ہوا ہو گا۔ واللہ اعلم۔حافظ ِ قرآن اور دوسرے صاحب ِ قرآن لوگوں کو قرآن مجید کے ان سفارشی الفاظ پر غور کرنا چاہیے، تاکہ ہم اپنا جائزہ لے سکیں کہ آیا ہم ان الفاظ کا مصداق بن سکیں گے یا نہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو قرآن پاک پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہو تو اس کا ساتھ سفید چہروں والے اور عزت والے نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پرگراں ہو تو اسے دہرا اجر ملے گا۔
فوائد:… قرآن کا ماہر وہ ہے کہ جس نے بہترین انداز میں حفظ مکمل کیا ہوا ہو، دورانِ تلاوت کوئی اٹکن نہ آتی ہو، عمدگی اور تجوید کی رو رعایت کر کے تلاوت کرتا ہو، سنتے وقت یوں لگتا ہو کہ قرآن مجید، قاری کی زبان پر تیر رہا ہے، جبکہ اس کے وجود پر قرآن کے عملی تقاضے کا حسن بھی نظر آتا ہو۔ دوہرے اجر سے تلاوت کا اجر اور مشقت برداشت کرنے کا اجر ہے۔حدیث کے دوسرے حصے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی غلط ملط پڑھتا ہے، اس سے مراد وہ آدمی ہے، جس کی زبان مشکل سے ہی الفاظ ادا کر پاتی ہے، یا شروع شروع میں ناخواندگی کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔ بہرحال ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیمِ قرآن کے حصول کے لیے اچھے مدرس کا اہتمام کرے
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ ایک آیت کی تلاوت کر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے ایک آیتیاد دلا دی، مجھے تو وہ بھلا دی گئی تھی۔ُُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میںہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ مسجد میں کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور سے سنا اور پھر فرمایا: تلاوت کرو، تلاوت کرو، ہر ایک اچھا ہے، لیکن اس کے ذریعے اللہ تعالی کو تلاش کرو، ایسے لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے کہ وہ اس کی تلاوت اس طرح ٹھیک ٹھیک کریں گے، جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کا اجر طلب کریں گے اور آخرت تک اس کے ثواب کو مؤخر نہیں کریں گے۔
فوائد:…یعنی قرآن مجید کے الفاظ کی ادائیگی اور ان کے مخارج کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے گا، پرترنم اور سریلی آواز میں اور خوب اتار چڑھاؤ کے ساتھ تلاوت کی جائے گی، لیکن مقصودیہ ہو گا کہ لوگوں کو خوش کر کے ان سے مال و دولت بٹورا جائے۔ عصرِ حاضر میں ایسے لوگوں نے قرآن مجید کو پیشہ بنا رکھا ہے۔ ان کی خلوتیں کیا، جلوتوں میں بھی قرآن حکیم کا ان کے وجود پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا باب اور اس کی تشریح۔
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کی خاطر ہزار آیات پڑھے گا، روزِ قیامت اس کا ساتھ انبیائے کرام، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں لکھا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ کتنا ہی اچھا ہے، ان شاء اللہ۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔
Takhreej
(۸۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/۳۹۹، وابویعلی: ۱۴۸۹، والحاکم: ۲/ ۸۷ (انظر: ۱۵۶۱۱)
Explanation
فوائد:… خشوع و خضوع، رقت اور خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
۔ سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔
فوائد:…وکیع راوی کا بیان کیا ہوا معنی درست نہیں ہے، اس کا صحیح معنی قرآن پاک کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا ہے۔
( وہ ہم سے نہیں جو قرآن مجید کے ساتھ (اور چیزوں سے) مستغنی نہیں ہوتا۔ حدیث کا یہ مفہوم بھی ٹھیک ہے، امام بخاری نے اسی زیر مطالعہ حدیث کے لیے عنوان قائم کر کے قرآن مجید کییہ آیت پیش کی ہے۔ {اَوَ لَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ } (العنکبوت: ۵۱) کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی ہے، وہ ان پر پڑھی جاتی ہے۔ یعنییہ کتاب پہلی کتب سماوی سے مستغنی کرتی ہے فضول اشعار اور تحریروں سے بے پرواہ کرتی ہے۔ (بخاری، باب من لم یتغنی بالقرآن قبل الحدیث: ۵۰۲۲) معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے دونوں مفہوم درست ہیںیہ حدیث نبوی کا ایک کمال ہے۔) (عبداللہ رفیق)
بلاشبہ خوبصورت آواز سے قرآن مجید کے حسن میں اضافہ ہوتاہے اور تلاوت کرنے والوں اور سننے والوں میں مزید تلاوت کرنے اور سننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں تکلف سے گریز کرنا ضروری ہے۔
معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت مخصوص سریلی آواز کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس معاملے میں عرب کے لہجے کو سامنے رکھنا چاہیے، جیسے حرم مکی کے امام تلاوت کرتے ہیں، زیادہ تکلف سے بچنا چاہیے، جیسے آج کل مصری قراء کی تلاوت کا انداز ہے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
فوائد:…مخفی صدقہ افضل ہے، کیونکہ اس میں ریاکاری کا شبہ نہیں ہوتا، اگر ریاکاری کا شبہ نہ ہو اور کسی کو نصیحت کرنا مقصود ہو تو اعلانیہ صدقہ بھی درست ہے، یہی حکم تلاوت ِ قرآنِ مجید کا ہے،
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔
Takhreej
(۸۳۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان اسماعیل بن عبید اللہ لم یدرک فضالۃ بن عبید، بینھما میسرۃ مولی فضالۃ، وھو مجھول ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۷۰، والبیھقی: ۱۰/ ۲۳۰ (انظر: ۲۳۹۴۷)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہیں۔
فوائد:… ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔
فوائد:… یہ وہ لوگ تھے جو زبان سے تو قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے، لیکن ان کے دلوں نے نہ اس کتاب کو سمجھا اور نہ اس سے متأثر ہوئے۔قرآن مجید کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۳۷۳م)