۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔