مسنداحمد

Musnad Ahmad

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان


۔ (۸۴۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْرِضُ الْکِتَابَ عَلَی جِبْرِیلَ علیہ السلام فِی کُلِّ رَمَضَانَ، فَإِذَا أَ صْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اللَّیْلَۃِ الَّتِییَعْرِضُ فِیہَا مَا یَعْرِضُ، أَصْبَحَ وَہُوَ أَ جْوَدُ مِنْ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ، لَا یُسْأَ لُ عَنْ شَیْئٍ إِلَّا أَعْطَاہُ، فَلَمَّا کَانَ فِی الشَّہْرِ الَّذِی ہَلَکَ بَعْدَہُ عَرَضَ عَلَیْہِ عَرْضَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۴۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶، ۳۲۲۰، ۳۵۵۴، ومسلم: ۲۳۰۸ (انظر: ۲۰۴۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… رمضان، قرآن مجید کا دور اور جبریل علیہ السلام سے ملاقات، ان امور کی برکت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ وفات والے سال دو بار دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ اور ہر قسم کی تبدیلی کا اچھی طرح پتہ چلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حفظ میں مزید جلاء آ جائے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: أَسَرَّ إِلَیَّ أَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَإِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَ جَلِی۔ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے رازدارانہ انداز میں بات کی کہ جبریل علیہ السلام ہر سال مجھ سے قرآن مجید کا ایک بار دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال دو بار دور کیا ہے، میرایہی خیال ہے کہ میری وفات کا وقت آچکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۵۳)