TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید اور اوراد کی تحزیب کرنے اور مصاحف میں اس کی تالیف کرنے جمع کرنے اور اس کو لکھنے کے ابواب - قرآن مجید اور اوراد کی تحزیب کرنے اور مصاحف میں اس کی تالیف کرنے جمع کرنے اور اس کو لکھنے کے ابواب - Book 146 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 146 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 13 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

13 Hadith · 6 Chapters
قرآن اور اوراد کے حزب مقرر کرنا
۔ (۸۴۰۱)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَوْسٍ الثَّقَفِیِّ، عَنْ جَدِّہٖاَوْسِبْنِحُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنْتُ فِی الْوَفْدِ الَّذِیْنَ اَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِیفٍ مِنْ بَنِی مَالِکٍ، أَ نْزَلَنَا فِی قُبَّۃٍ لَہُ، فَکَانَ یَخْتَلِفُ إِلَیْنَا بَیْنَ بُیُوتِہِ وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا صَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ انْصَرَفَ إِلَیْنَا وَلَا نَبْرَحُ حَتّٰییُحَدِّثَنَا وَیَشْتَکِیَ قُرَیْشًا وَیَشْتَکِیَ أَ ہْلَ مَکَّۃَ ثُمَّ یَقُولُ: ((لَا سَوَائَ کُنَّا بِمَکَّۃَ مُسْتَذَلِّینَ وَمُسْتَضْعَفِینَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ کَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَیْنَا وَلَنَا۔)) فَمَکَثَ عَنَّا لَیْلَۃً لَمْ یَأْتِنَا حَتّٰی طَالَ ذَلِکَ عَلَیْنَا بَعْدَ الْعِشَائِ قَالَ: قُلْنَا: مَا أَ مْکَثَکَ عَنَّا یَا رَسُولَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((طَرَأَ عَلَیَّ حِزْبٌ مِنْ الْقُرْآنِ، فَأَ رَدْتُ أَ نْ لَا أَ خْرُجَ حَتّٰی أَقْضِیَہُ۔)) قَالَ: فَسَأَ لْنَا أَ صْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَصْبَحْنَا، قَالَ: قُلْنَا: کَیْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوْا: نُحَزِّبُہُ ثَلَاثَ سُوَرٍ، وَخَمْسَ سُوَرٍ، وَسَبْعَ سُوَرٍ، وَتِسْعَ سُوَرٍ، وَإِحْدٰی عَشْرَۃَ سُورَۃً، وَثَلَاثَ عَشْرَۃَ سُورَۃً، وَحِزْبَ الْمُفَصَّلِ مِنْ قَافْ حَتّٰییُخْتَمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۳۰)
۔ سیدنا اوس بن حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اس وفد میں موجود تھا، جو ثقیف میں سے بنو مالک قبیلہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اسلام قبول کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خیمہ میں اتارا، جب آپ اپنے گھرسے مسجد کی طرف آتے جاتے تو ہمارے پاس سے گزرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء سے فارغ ہوتے تو ہمارے پاس تشریف لاتے اور کافی دیر تک ہم سے باتیں کرتے، قریش اور اہل مکہ کی شکایات کا ذکر کرتے اور فرماتے: اب برابری نہیں رہی، وقت تبدیل ہو گیا ہے، مکہ میں ہم رل گئے تھے اور ناتواں تھے اور جب ہمیں مکہ سے مدینہ منورہ کی جانب نکال دیا گیا تو جنگ کا ڈول ہماے خلاف بھیبھرا گیا اور ہارے حق میں بھی بھرا گیا (یعنی مقابلہ برابر رہا)۔ ایک رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف نہ لائے، عشاء کے بعد کافی دیر ہو گئی، پھر جب تشریف لائے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے لئے ہمارے پاس نہ آنے کی کیا وجہ تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا حزب (رہ گیا تھا)، بس وہ مجھ پر غالب آگیا اور میں نے بھی ارادہ کیا کہ اس کی تکمیل کے بغیر نہیں نکلوں گا۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ سے پوچھا: تم قرآن مجید کے کیسے حصے مقرر کرتے ہو اور اجزاء بناتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم اس طرح قرآن مجید کے حصے مقرر کرتے ہیں: تین سورتیں، پانچ سورتیں، سات سورتیں، نو سورتیں، گیارہ سورتیں، تیرہ سورتیں اور سورۂ قاف سے آخر تک کا مفصل حصہ، اس طرح قرآن مجید کی تکمیل ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۸۴۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن عبد الرحمن الطائفی، وعثمانُ بن عبد اللہ الثقفی، قال ابن حجر: مقبول ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳۹۳، وابن ماجہ: ۱۳۴۵ (انظر: ۱۹۰۲۱)
Explanation
فوائد:… سات حزب مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ صحابۂ کرام سات دنوں میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے، ان سات احزاب کی تفصیلیہ ہے: تین سورتیں:سورۂ بقرہ سے سورۂ نساء تک پانچ سورتیں:سورۂ مائدہ سے سورۂ توبہ تک سات سورتیں:سورۂ یونس سے سورۂ نحل تک نو سورتیں:سورۂ اسراء سے سورۂ فرقان تک گیارہ سورتیں:سورۂ شعراء سے سورۂ یس تک تیرہ سورتیں: سورۂ صافات سے سورۂ حجرات تک اس کے بعد سورۂ ق سے قرآن کے آخر تک کا حصہ مفصل کہتا ہے۔ قرآن مجید کی سات منزلوںکا تعین اسی ترتیب سے کیا گیا ہے، سات دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کے لیےیہ اچھی اور معتدل ترتیب ہے، مہینے میں ختم کرنے کے لیے قرآن مجید کے تیس پارے بنائے گئے ہیں، تلاوت کرنے والا اس سے کم یا زیادہ کی مقدار کا تعین بھی کر سکتا ہے، بہرحال کم از کم چالیس دنوںمیں ایک بار قرآن مجید کی تکمیل ہو جانی چاہیے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے سب سے پہلے چالیس دنوں کا تعین کیا تھا۔ یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن تلاوت اور اذکارو اوراد کی مقدار کا تعین کیا جا سکتاہے، جیسا کہ اگلے باب کی حدیث سے معلوم ہوتاہے۔
8401
Zaeef
جس سے وظیفہ رہ جائے اس کی قضا کب دے؟
۔ (۸۴۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِیْ: ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) وَقَدَ بَلَغَ بِہٖاَبِیْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ فَاتَہُ شَیْئٌ مِنْ وِرْدِہٖ (اَوْقَالَ: مِنْ جُزْئِہٖ) فَقَرَئَ ہُ مَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ اِلَی الظُّہْرِ فَکَاَنَّمَا قَرَأَہٗمِنْلَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۳۷۷)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جس کا پابندی سے پڑھے جانے والا وظیفہ (رات کو) رہ جائے، لیکن اگر وہ اس کو نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان ادا کر لے تو وہ ایسے ہی ہو گا، جیسے رات کو پڑھا ہے۔
Takhreej
(۸۴۰۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۴۷ (انظر: ۳۷۷)
Explanation
فوائد:… اگر کسی آدمی نے نماز کے علاوہ رات کو ذکر و تلاوت کی کوئی صورت معین کر رکھی ہو اور وہ عذر کی وجہ سے رہ جائے تو اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے وہ نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان اس کی ادائیگی کر سکتا ہے، تاکہ اس کا تسلسل برقرار رہے، لیکن اگر عذر کی وجہ سے تہجد کی نماز رہ جائے تو اس کی قضا کا وقت طلوع آفتاب کے بعد شروع ہو گا، نہ کہ نمازِ فجر کے بعد، دونوں اعمال کا آخری وقت زوال ہی ہے۔
8402
Sahih
عہد ِ نبوی میں کندھوں کی ہڈیوں اور سفید پتھروں پر قرآن مجید کی کتابت کا بیان
۔ (۸۴۰۳)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: إِنِّی قَاعِدٌ إِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِذْ أُوحِیَ إِلَیْہِ، قَالَ: وَغَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ وَوَقَعَ فَخِذُہُ عَلَی فَخِذِی حِینَ غَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ، قَالَ زَیْدٌ: فَلَا وَاللّٰہِ! مَا وَجَدْتُ شَیْئًا قَطُّ أَ ثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ: ((اکْتُبْ یَا زَیْدُ۔)) فَأَ خَذْتُ کَتِفًا فَقَالَ: ((اکْتُبْ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ} الْآیَۃَ کُلَّہَا إِلَی قَوْلِہِ: {أَ جْرًا عَظِیمًا} فَکَتَبْتُ ذَلِکَ فِی کَتِفٍ، فَقَامَ حِینَ سَمِعَہَا ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلًا أَ عْمٰی فَقَامَ حِینَ سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ لَا یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مِمَّنْ ہُوَ أَعْمٰی وَأَ شْبَاہِ ذَلِکَ؟ قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ! مَا مَضٰی کَلَامُہُ أَوْ مَاہُوَ إِلَّا أَنْ قَضٰی کَلَامَہُ، غَشِیَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّکِینَۃُ فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلٰی فَخِذِی، فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا کَمَا وَجَدْتُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولٰی، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ: ((اِقْرَأْ۔)) فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ} فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} قَالَ زَیْدٌ: فَأَ لْحَقْتُہَا، فَوَاللّٰہِ! لَکَأَ نِّی أَ نْظُرُ إِلٰی مُلْحَقِہَا عِنْدَصَدْعٍ کَانَ فِی الْکَتِفِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۴)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھا تھا، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرسکون طاری ہو گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران، میری ران پر تھی، اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران سے زیادہ بھاری چیز میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی، پھر جب یہ کیفیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زید! لکھو۔ میں نے شانے کی ہڈی لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آیت لکھو {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ … أَ جْرًا عَظِیمًا} جب سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت سنی جو کہ نابینا آدمی تھے اور انھوں نے سنا کہ اس آیت میں تو مجاہدوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا ہو گا، مثلا نابینا وغیرہ؟ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی تک سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے جو سکون چھا جاتا تھا، وہ چھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پرتھی، میں نے اس سے اتنا ہی بوجھ محسوس کیا، جس طرح میں نے اس سے پہلے وحی کی حالت میں محسوس کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آیت پڑھو۔ جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ لکھو: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ}۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے یہ حصہ اس آیت کے ساتھ ملا دیا، گویا کہ اب بھی میں شانے میں اس آیت والی جگہ پر پھٹن کا نشان دیکھ رہا ہوں۔
Takhreej
(۸۴۰۳) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۵۰۷، ۳۹۷۵ (انظر: ۲۱۶۶۴)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … 95-4 ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی تکلیف والے نہیں اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ (سورۂ نسائ: ۹۵) جو آیت پہلے نازل ہوئی، اس میں مطلق طور پر مجاہدین کی فضیلت بیان کی گئی، پھر سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوال پر جو حصہ نازل ہوا، اس میں معذور لوگوں کو مستثنی قرار دیا۔
8403
Sahih
عہد ِ نبوی میں کندھوں کی ہڈیوں اور سفید پتھروں پر قرآن مجید کی کتابت کا بیان
۔ (۸۴۰۴)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ شُمَاسَۃَ اَخْبَرَہٗ: اَنَّزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ اِذْ قَالَ: ((طُوْبٰی لِلشَّامِ)) قِیْلَ: وَلِمَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((اِنَّ مَلَائِکَۃَ الرَّحْمَۃِ بَاسِطَۃٌ اَجْنِحَتَہَا عَلَیْہٖ)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۳)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے کپڑے کے ٹکڑوں میں قرآن مجید کی تالیف کر رہے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کے علاقہ کے لئے خوشخبری ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔
Takhreej
(۸۴۰۴) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۹۵۴(انظر: ۲۱۶۰۷)
Explanation
فوائد:… کاغذ کی قلت کی وجہ سے کپڑے پر قرآن مجید لکھا گیا۔
8404
Sahih
عہد ِ نبوی میں کندھوں کی ہڈیوں اور سفید پتھروں پر قرآن مجید کی کتابت کا بیان
۔ (۸۴۰۵)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ رَجُلًا کَانَ یَکْتُبُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَدْ کَانَ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِینَایَعْنِی عَظُمَ، فَکَانَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُیُمْلِی عَلَیْہِ {غَفُورًا رَحِیمًا} فَیَکْتُبُ {عَلِیمًا حَکِیمًا} فَیَقُولُ لَہُ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: ((اکْتُبْ کَذَا وَکَذَا اکْتُبْ کَیْفَ شِئْتَ۔)) وَیُمْلِی عَلَیْہِ {عَلِیمًا حَکِیمًا} فَیَقُولُ: أَ کْتُبُ {سَمِیعًا بَصِیرًا} فَیَقُولُ: ((اکْتُبْ کَیْفَ شِئْتَ۔)) فَارْتَدَّ ذَلِکَ الرَّجُلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ وَقَالَ: أَ نَا أَ عْلَمُکُمْ بِمُحَمَّدٍ إِنْ کُنْتُ لَأَ کْتُبُ مَا شِئْتُ، فَمَاتَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْأَ رْضَ لَمْ تَقْبَلْہُ۔)) و قَالَ أَ نَسٌ: فَحَدَّثَنِی أَ بُو طَلْحَۃَ: أَ نَّہُ أَ تَی الْأَرْضَ الَّتِی مَاتَ فِیہَا ذَلِکَ الرَّجُلُ فَوَجَدَہُ مَنْبُوذًا، فَقَالَ أَ بُو طَلْحَۃَ: مَا شَأْنُ ہَذَاالرَّجُلِ؟ قَالُوْا: قَدْ دَفَنَّاہُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْہُ الْأَ رْضُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور جو آدمی سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھ لیتا تھا،وہ ہم میں بڑی قدر و منزلت والا سمجھا جاتا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو{غَفُورًا رَحِیمًا} تو وہ {عَلِیمًا حَکِیمًا} لکھتا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے فرماتے: ایسے ایسے لکھ، چلو جیسے تیری مرضی لکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو {عَلِیمًا حَکِیمًا} لکھواتے، لیکن وہ کہتا: میں تو {سَمِیعًا بَصِیرًا} لکھوں گا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس طرح تو چاہتا ہے لکھ لے۔ پھر ہوا یوں کہ وہ آدمی اسلام سے مرتد ہوگیا اور مشرکوں کے ساتھ جا ملا اور ان کو کہنے لگا: میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ جاننے والا ہوں میں جو چاہتا تھا، لکھ لیتا تھا۔ پھر وہ مر گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین اس کو قبول نہیں کرے گی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیانکیا کہ وہ اس علاقے میں گیا، جس میں وہ آدمی مرا تھا، انھوں نے اس کو اس حال میں دیکھا کہ اس کی میت باہر پھینکی ہوئی پڑی تھی، پس انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا کہ اس آدمی کا کیا معاملہ ہے، لوگوں نے کہا:ہم تو اس کو کئی بار دفن کر چکے ہیں، لیکن زمین اس کو قبول نہیں کرتی۔
Takhreej
(۸۴۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۱۷، ومسلم: ۲۷۸۱ (انظر: )۱۲۲۱۵
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو الہام یا وحی کے ذریعے بتلا دیا گیا ہو کہ یہ آدمی کی نیت خبیث ہے اور اللہ تعالی اس سے انتقامی کاروائی کرے گا، پھر ایسے ہی ہوا ہو، اللہ تعالیٰ کو اس نافرمانی اتنی ناپسند آئی کہ فرعون کی طرح اس کے وجود کو بھی باعث ِ عبرت بنا دیا، اللہ تعالیٰ نے زمین میں اس کی خباثت کا احساس ڈال دیا، جس کی وجہ سے زمین نے بھی اس کو قبول نہ کیا،، جبکہ زمین اس سے زیادہ بروں کو قبول کر لیتی ہے۔
8405
Sahih
عہد ِ نبوی میں کندھوں کی ہڈیوں اور سفید پتھروں پر قرآن مجید کی کتابت کا بیان
۔ (۸۴۰۵م)۔ (وَعَنْہُ مِْن طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَانْطَلَقَ ہَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَ ہْلِ الْکِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوہُ، وَقَالُوْا: ہٰذَا کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُعْجِبُوا بِہِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللّٰہُ عُنُقَہُ فِیہِمْ فَحَفَرُوْا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَ صْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَ رْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَ رْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، فَتَرَکُوہُ مَنْبُوذًا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۷)
۔ (دوسری سند)سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہمارے قبیلے بنو نجار کا ایک آدمی تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی تھی اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کاتب تھا، لیکن ہوا یوں کہ وہ (مرتدّ ہو کر) بھاگ گیا اور اہل کتاب سے جا ملا، انہوں نے اس کو بڑی شان دی اور کہاکہ یہ شخص تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کاتب تھا، سو انھیں بڑا تعجب ہوا (کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خلاف بڑی دلیل مل گئی ہے)، لیکن کچھ دنوں کے بعد ہی اللہ تعالی نے اس کا قصہ تمام کر دیا (اور وہ مر گیا)، انہوں نے اسے دفن کرنے کے لئے گڑھا کھودا اور اس میں دفن کر دیا، لیکن جب صبح ہوئی تو دیکھا گیا کہ زمین نے تو اس کو باہر پھینک دیاہے، انہوں نے دوبارہ گڑھا کھودا اور اس کو دفن کیا، لیکن جب صبح ہوئی تو پھر دیکھا گیا کہ زمین نے اس کو پھر پھینک دیا، انہوں نے پھر گڑھا کھودا اور اس کو دفن کیا، لیکن پھر وہی کچھ ہوا کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا، پس انھوں نے اس کو ایسے ہی سطح زمین پر چھوڑ دیا۔
Takhreej
(۸۴۰۵م) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں مختلف چیزوں پر قرآن مجید لکھا جاتا تھا، جیسے کاغذ، چمڑا، شانے کی ہڈی، کپڑا، کھجور کی شاخ، سفید پتھر، وغیرہ وغیرہ، البتہ ابھی تک قرآن مجید کی ایک جلد میںکتابی شکل وجود میں نہیں آئی تھی۔
8405
Sahih
سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں تالیف قرآن کا بیان
۔ (۸۴۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَ نَّ أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَ رْسَلَ إِلَیْہِ مَقْتَلَ أَ ہْلِ الْیَمَامَۃِ فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَہُ فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَ تَانِی فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ بِأَ ہْلِ الْیَمَامَۃِ مِنْ قُرَّائِ الْقُرْآنِ مِنْ الْمُسْلِمِینَ، وَأَ نَا أَخْشٰی أَ نْ یَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّائِ فِی الْمَوَاطِنِ، فَیَذْہَبَ قُرْآنٌ کَثِیرٌ لَا یُوعٰی، وَإِنِّی أَ رٰی أَ نْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَکَیْفَ أَ فْعَلُ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ، فَلَمْ یَزَلْیُرَاجِعُنِی فِی ذٰلِکَ حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ صَدْرِی، وَرَأَ یْتُ فِیہِ الَّذِی رَأٰی عُمَرُ، قَالَ زَیْدٌ: وَعُمَرُ عِنْدَہُ جَالِسٌ لَا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّکَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّہِمُکَ، وَقَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاجْمَعْہُ، قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ، لَوْ کَلَّفُونِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا أَ مَرَنِی بِہِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلُونَ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۶)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ یمامہ کی لڑائی میں حفاظ کی شہادت کے سانحہ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بلایا، جب میں حاضر ہوا تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یمامہ میں حفاظِ قرآن کی شہادتیں کثرت سے ہوئی ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر حفاظ قرآن کی شہادتوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو قرآن مجید کا بیشتر حصہ ضائع ہو جائے گا اور اس کو یاد نہیں رکھا جائے گا، اس لئے میری رائے یہ ہے کہ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دے دیں، لیکن میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ میں وہ کام کیسے کروں، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا، لیکن انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے، پھر یہ اس بارے میں مجھ سے تکرار کرتے رہے ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے بھی اس رائے کو پسند کر لیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خاموش بیٹھے رہے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: اے زید! تم ایک عقلمند نوجوان اور قابل اعتماد آدمی ہو اور تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وحی بھی لکھا کرتے تھے، لہٰذا یہ خدمت تم نے ہی سرانجام دینی ہے، سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگریہ مجھے کسی پہاڑ کو سر پر اٹھانے کی تکلیف دیتے تو اس کا میرے اوپر اتنا بوجھ نہ ہوتا جو انہوں نے قرآن مجید جمع کرنے کی مجھ پر ذمہ داری ڈالی تھی، پس میں نے کہا: آپ لوگ وہ کام کس طرح کرو گے، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا، تاہم ان کی تکرار کے بعد میں نے یہ ذمہ داریقبول کر لی۔
Takhreej
(۸۴۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۷۹، ۴۹۸۶، ۴۹۸۹، ۷۱۹۱، ۷۴۵۲(انظر: ۷۶)
Explanation
فوائد:… عہد ِ نبوی میں قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا گیا تھا، جیسا کہ پچھلے باب سے ثابت ہو رہا ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں ایک جلد میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا۔ خلافت ِ صدیقی میںیمامہ کی لڑائی مدعی ٔ نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، اس میں سات سو سے زائد صحابۂ کرام شہید ہو گئے تھے، ان میں اکثر قرآن کریم کے حفاظ و قراء تھے۔ اس روایت سے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی منقبت ثابت ہوتی ہے، مؤخر الذکر نے حفاظت ِ قرآن کی رائے دی اور اول الذکر نے اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، بہرحال یہ دو ہستیاں اور ان کے معاونین {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗلَحَافِظُوْنَ} کامصداقبنتی ہیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: أَ عْظَمُ النَّاسِ اَجْرًا فِیْ الْمَصَاحِِف اَبُوْ بَکْرٍ، اِنَّ اَبَا بَکْرٍ کَانَ أَ وَّلَ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ۔ … قرآنی مصاحف کے معاملے میں لوگوں میں سب سے زیادہ اجر پانے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، بیشک سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہ پہلے شخص ہیں۔ جنھوں نے قرآن مجید کو دو جلدوں کے اندر جمع کیا۔ (فضائل القرآن لابی عبید: ص ۱۵۶، المصاحف لابن ابی داود: ص ۱۱) (گویا قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرنے کی رائے سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پیش کی، سب سے پہلے یہ کام کرنے کا حکم سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیا اور عملی طور پر سب سے پہلے سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قرآن جمع کیا)۔ (عبداللہ رفیق) حافظ ابن کثیر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے خوبصورت باتیں کرتے ہوئے کہا: فَجَمَعَ الصِّدِّیْقُ الْخَیْرَ وَکَفَّ الشُّرُوْرَ۔ … پس جناب ِ صدیق نے خیر کو جمع کر دیا اور شرور کو روک دیا۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۲۵)
8406
Sahih
سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں تالیف قرآن کا بیان
۔ (۸۴۰۷)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّہُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِیْ مَصَاحِفَ فِیْ خَلَافَۃِ أَ بِی بَـکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَکَانَ رِجَالٌ یَکْتُبُونَ وَیُمْلِی عَلَیْہِمْ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، فَلَمَّا انْتَہَوْا إِلٰی ہٰذِہِ الْآیَۃِ مِنْ سُورَۃِ بَرَائَ ۃٌ {ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ بِأَ نَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَہُونَ} [۱۲۷] فَظَنُّوا أَ نَّ ہٰذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَہُمْ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ قْرَأَ نِی بَعْدَہَا آیَتَیْنِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَ نْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُ وْفٌ رَحِیمٌ} إِلٰی {وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ} [۱۲۸۔ ۱۲۹] ثُمَّ قَالَ: ہَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَخُتِمَ بِمَا فُتِحَ بِہِ بِـ اللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَہُوَ قَوْلُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحَی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ} [الانبیائ:۲۵]۔ (مسند احمد: ۲۱۵۴۶)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں صحابہ کرام نے قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کیا، لوگ لکھتے تھے اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہیں لکھواتے تھے، جب سورۂ براء ہ کی اس آیت تک پہنچے {ثُمَّ انْصَرَفُوْا صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ بِأَ نَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَہُونَ}… پھر وہ واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔ توانھوں نے گمان کیا کہ سورت کی آخری آیت ہے، لیکن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کے بعد بھییہ دو آیتیں پڑھائی تھیں: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} … بلاشہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ پھر انھوں نے کہا: قرآن کا یہ حصہ سب سے آخر میں نازل ہوا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: پس جس توحید کے ساتھ دین کو شروع کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ اس کو ختم کیا گیا، ان کی مراد یہ اَللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ تھی، اور وہ ہے اللہ تعالی کا یہ فرمان: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحَی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ}… اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی گئی کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر میں ہی، پس تم میری عبادت کرو۔ (مذکورہ روایت کے مطابق قرآن مجید کی آیت میں لفظ یہ ہے یُوْحٰی اِلَیْہِ اس (ہر رسول) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ جبکہ ہمارے ہاں معروف قراء ت نُوْحِیْ اِلَیْہِ ہے۔ ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے۔) (عبداللہ رفیق)
Takhreej
(۸۴۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو جعفر الرازی سییء الحفظ، وقد تفرد بھذا الحدیث (انظر: ۲۱۵۴۶)
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری حصے کا مطلب یہ ہے کہ درج ذیل آیت سے معلوم ہوا کہ ہر نبی نے توحید سے اپنے دین کا آغاز کیا: {وَمَا أَ رْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا یُوحٰی إِلَیْہِ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَ نَا فَاعْبُدُونِ}… اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی گئی کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر میں ہی، پس تم میری عبادت کرو۔ (سورۂ انبیائ: ۲۵) اور اس حدیث کے مطابق سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۂ براء ۃ کی درج ذیل آیت ہے:{فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} … پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۲۹) اور اس آیت میں بھی توحید کا ذکر ہے، گویا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توحید سے آغاز کیا اور توحید پر ہی اختتام کیا۔
8407
Zaeef
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
۔ (۸۴۰۸)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَ وْ غَیْرِہِ أَ نَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: لَمَّا کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آیَۃً کُنْتُ أَ سْمَعُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہَا عِنْدَ خُزَیْمَۃَ الْأَ نْصَارِیِّ {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ} إِلٰی {تَبْدِیلًا} قَالَ: فَکَانَ خُزَیْمَۃُیُدْعَی ذَا الشَّہَادَتَیْنِ أَ جَازَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہَادَتَہُ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَقُتِلَ یَوْمَ صِفِّیْنَ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۱)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مصاحف تحریر کیے گئے تو مجھے ایک آیت نہیں مل رہی تھی، جبکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ سنا کرتا تھا، بالآخر میں نے وہ آیت سیدنا خزیمہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پائی، وہ آیتیہ تھی: {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … تَبْدِیلًا}۔سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو شہادتوں والا کہا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی شہادت کو دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صفین کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے، جبکہ وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے لڑ رہے تھے۔
Takhreej
(۸۴۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۰۷، ۴۹۸۶، ۷۴۲۵ (انظر: ۲۱۶۵۲)
Explanation
فوائد:… آیت کو گم پانے کا یہ واقعہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں پیش آیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں جو دو آیتیں گم پائی تھیں، وہ سورۂ توبہ کی آخری تھیں۔
8408
Sahih
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
۔ (۸۴۰۸م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عن خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَ نَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ یَقُولُ: فُقِدَتْ آیَۃٌ مِنْ سُورَۃِ الْأَ حْزَابِ حِینَ نَسَخْنَا الْمَصَاحِفَ، قَدْ کُنْتُ أَ سْمَعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِہَا: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ} فَالْتَمَسْتُہَا فَوَجَدْتُہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ فَأَ لْحَقْتُہَا فِی سُورَتِہَا فِی الْمُصْحَفِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۸۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم مصحف لکھ رہے تھے تو میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت نہ پائی، جب کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ سن رکھی تھی، وہ یہ آیت تھی: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ……}، جب میں نے وہ آیت تلاش کی تو اس کو سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پایا، پس میں اس کو مصحف میں اس کی سورت میں لکھ دیا۔
Takhreej
(۸۴۰۸م) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… حافظ ابن کثیر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: یہ امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب میں سے ہے کہ انھوں نے لوگوں کو قرآن مجید کی ایک قراء ت پر جمع کر دیا، تاکہ لوگوں میں اختلاف واقع نہ ہو، جبکہ ان سے پہلے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما حفاظت ِ قرآن کا اہتمام کر چکے تھے، پس ائمۂ اربعہ اور خلفائے اربعہ دین کے مصالح پر متفق تھے۔ صحیح بخاری کی درج ذیل مفصل روایت سے پوری بات سمجھ میں آ جاتی ہے: سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ نَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ وَکَانَ یُغَازِی أَ ہْلَ الشَّأْمِ فِی فَتْحِ إِرْمِینِیَۃَ وَأَ ذْرَبِیجَانَ مَعَ أَ ہْلِ الْعِرَاقِ فَأَ فْزَعَ حُذَیْفَۃَ اخْتِلَافُہُمْ فِی الْقِرَائَ ۃِ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ لِعُثْمَانَ: یَا أَ مِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! أَ دْرِکْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ قَبْلَ أَ نْ یَخْتَلِفُوا فِی الْکِتَابِ اخْتِلَافَ الْیَہُودِ وَالنَّصَارٰی، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلٰی حَفْصَۃَ أَ نْ أَ رْسِلِی إِلَیْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُہَا فِی الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّہَا إِلَیْکِ، فَأَ رْسَلَتْ بِہَا حَفْصَۃُ إِلَی عُثْمَانَ، فَأَ مَرَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ فَنَسَخُوہَا فِی الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّہْطِ الْقُرَشِیِّینَ الثَّلَاثَۃِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَ نْتُمْ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی شَیْء ٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوہُ بِلِسَانِ قُرَیْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِہِمْ فَفَعَلُوا حَتَّی إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ، رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلٰی حَفْصَۃَ وَأَ رْسَلَ إِلٰی کُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا وَأَ مَرَ بِمَا سِوَاہُ مِنْ الْقُرْآنِ فِی کُلِّ صَحِیفَۃٍ أَ وْ مُصْحَفٍ أَ نْ یُحْرَقَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَ خْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْتُ آیَۃً مِنْ الْأَ حْزَابِ حِینَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ کُنْتُ أَ سْمَعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِہَا فَالْتَمَسْنَاہَا فَوَجَدْنَاہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَ نْصَارِیِّ: {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ۔} فَأَ لْحَقْنَاہَا فِی سُورَتِہَا فِی الْمُصْحَفِ۔ حضرت حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے، اس وقت وہ اہل شام و عراق کو ملا کر آرمینۃ و آذربائیجان کو فتح کرنے کے لیے جنگ کر رہے تھے، قراء ت میں اہل عراق اور اہل شام کے اختلاف نے سیدنا حذیفہ کو بے چین کردیا، چنانچہ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے امیرالمومنین! اس امت کو پا لیجئے، قبل اس کے کہ یہیہود و نصاریٰ کی طرح کتاب میں اختلاف کرنے لگیں، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پیغام بھیجا کہ تم وہ صحیفے میرے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں تیار کر کے تم کو واپس کر دیں گے، سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ صحیفے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجوا دیئے، سیدنا عثمان نے سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سعید بن عاص اور سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو حکم دیا کہ وہ اس مصحف کی نقلیں تیار کریں اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان تینوں قریشیوں سے کہا: جب تم میں اور زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں کہیں قراء تِ قرآن میں اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کی زبان میں لکھ دینا، کیونکہ قرآن مجید قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے، پس ان لوگوں نے ایسا ہی کیا،یہاں تک کہ جب ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کرلیا گیا تو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ صحیفے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پاس بھجوا دیئے اور نقل شدہ مصاحف میں سے ایک ایک نسخہ تمام علاقوں میں بھیج دیئے اور حکم دے دیا کہ اس کے سوائے جو قرآن صحیفہیا مصاحف میں ہے، جلا دیا جائے، امام زہری نے کہا: مجھ سے خارجہ بن زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قول نقل کیا کہ میں نے مصاحف کو نقل کرتے وقت سورۂ احزاب کی ایک آیت نہ پائی، حالانکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تھا، پس جب ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ آیت مجھے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ملی، وہ یہ آیت تھی: {مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہ…} (سورۂ احزاب: ۲۳) تو ہم نے اس آیت کو اس سورت میں شامل کردیا۔ عربوں کی سہولت کے لیے قرآن مجید سات قراء ات پرنازل ہوا تھا، لیکن جب بعد میں غیر عربوں کی وجہ سے یہی رخصت اور سہولت شدید اختلاف کا سبب بنی تو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو ایک قراء ت پر جمع کر کے امت ِ مسلمہ پر احسانِ عظیم کر دیا۔
8408
Sahih
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے
۔ (۸۴۰۹)۔ عَنْ خُمَیْرِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَ نْ تُغَیَّرَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَ نْ یَغُلَّ مُصْحَفَہُ فَلْیَغُلَّہُ، فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَیْئًا جَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِینَ سُورَۃً أَ فَأَ تْرُکُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَرَأَ مِنْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِیْنَ سُوْرَۃً وَاِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَہٗذُؤَابَۃٌ فِی الْکِتَابِ۔ (مسند احمد: ۳۹۲۹)
۔ خمیر بن مالک کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں مصاحف کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم میں سے جو آدمی اپنے مصحف کی خیانت کر سکتا ہے، وہ کر لے، کیونکہ جو آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کو اپنے ساتھ لائے گا، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں، کیا میں انہیں چھوڑ دوں۔ایک روایت میں ہے: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے اس وقت ستر (۷۰) سورتیں سن لی تھیں، جب زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لکھنے کے معاملے میں ابھی تک بچہ تھا۔
Takhreej
(۸۴۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، خمیر بن مالک، لو یوثقہ غیر ابن حبان، وانفرد بالروایۃ عنہ ابو اسحاق السبیعی۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۴۳۴، وابوداود فی المصاحف : ص ۱۵ (انظر:۳۹۲۹)
Explanation
فوائد:… جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امت کو اختلاف سے بچانے کے لیے قرآن مجید کی صرف ایک قراء ت کو برقرار رکھنے اور باقی قراء توں کو جلا دینے کا حکم دیا تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان سے متفق نہ ہوئے، انھوں نے سیدنا زید کی بات اس وجہ سے کی کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمعِ قرآن کے سلسلے میں زیادہ اعتماد ان پر کیا تھا، ایک روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بعد میں اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔ ذُؤَابَۃ کے معانی بالوں کی لٹ کے ہیں، عرب بچوں کے بالوں کے ایک دو لٹیں بنا دیتے تھے، اس سے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مقصد سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بچپن ظاہر کرنا تھا۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَغْلُلْیَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔} (جوآدمی خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز کو لائے گا۔) اور پھر انھوں نے کہا: عَلٰی قِرَأَۃِ مَنْ تَأْمُرُونِی أَ نْ أَ قْرَأَ ؟ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِضْعًا وَسَبْعِینَ سُورَۃً، وَلَقَدْ عَلِمَ أَ صْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نِّی أَعْلَمُہُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَ نَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّی لَرَحَلْتُ إِلَیْہِ۔ … تم مجھے کس کی قراء ت کا اہتمام کرنے کا حکم دیتے ہو؟ میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چھہتر ستتر سورتیں پڑھی تھیں اور صحابۂ کرام بھی جانتے ہیں کہ میں اللہ تعالی کی کتاب کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، اگر مجھے کسی کے بارے میں پتہ چل جائے کہ وہ مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے تو میں اس کی طرف رخت ِ سفر باندھوں گا۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶۲) حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۹/ ۴۹) میںکہا: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خیانت کرنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا نسخہ چھپا لیا جائے تاکہ اس کو نکال کر ختم نہ کر دیا جائے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے سے متفق نہیں تھے، یا وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر انکار تو نہیں کرنا چاہتے تھے، البتہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس قراء ت کو برقرار رکھیں، جس میں ان کی خاص خوبی پائی جاتی تھی، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا مقصد پورا نہیں ہو رہا اور کسی وجۂ ترجیح کے بغیر سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کو ترجیح دی جا رہی ہے تو انھوں نے اسی قراء ت پر استمرار کو پسند کیا اور ابن ابی داود نے یہ ترجمۃ الباب قائم کیا: بَابُ رِضَی بْنِ مَسْعُوْدٍ بَعْدَ ذَلِکَ بِمَا صَنَعَ عُثْمَانُ (سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کیے پر راضی ہو جانے کا بیان) لیکن پھر انھوں نے کوئی ایسی روایت نقل نہیں کی، جو اس سرخی کے موافق ہو۔ شیخ احمد شاکر نے کہا: جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اختلاف کے ڈر سے لوگوں کو مصحف الامام پر متفق ہو جانے کا حکم دیا تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غصے میں آ گئے، جبکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انھوں نے خیانت والی مذکورہ بالا آیت کی تاویل کرنے میں خطا کی ہے، کیونکہیہ آیت خیانتیا تقسیم سے قبل مال غنیمت سے کوئی چیز لے لینے کے بارے میں ہے (جو کہ قابل مذمت چیز ہے)۔ دراصل سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس آیت کو سمجھتے تھے، ان کا مقصد اور تھا۔
8409
Zaeef
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے
۔ (۸۴۱۰)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ مِنْ أَ صْحَابِ عَبْدِاللّٰہِ وَمَا سَمَّاہُ لَنَا قَالَ: لَمَّا أَ رَادَ عَبْدُاللّٰہِ أَ نْ یَأْتِیَ الْمَدِینَۃَ جَمَعَ أَ صْحَابَہُ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ، إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ یَکُونَ قَدْ أَصْبَحَ الْیَوْمَ فِیکُمْ مِنْ أَ فْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِی أَجْنَادِ الْمُسْلِمِینَ مِنْ الدِّینِ وَالْفِقْہِ وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ، إِنَّ ہٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰی حُرُوفٍ، وَاللّٰہِ! إِنْ کَانَ الرَّجُلَانِ لَیَخْتَصِمَانِ أَ شَدَّ مَا اخْتَصَمَا فِی شَیْئٍ قَطُّ، فَإِذَا قَالَ الْقَاریِئُ: ہٰذَا أَ قْرَأَ نِی قَالَ: أَحْسَنْتَ، وَإِذَا قَالَ الْآخَرُ: قَالَ: کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ، فَأَ قْرَأَ نَا إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ وَالْبِرَّ یَہْدِی إِلَیالْجَنَّۃِ، وَالْکَذِبَ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ یَہْدِی إِلَی النَّارِ، وَاعْتَبِرُوا ذَاکَ بِقَوْلِ أَ حَدِکُمْ لِصَاحِبِہِ کَذَبَ وَفَجَرَ وَبِقَوْلِہِ إِذَا صَدَّقَہُ صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ، إِنَّ ہٰذَا الْقُرْآنَ لَا یَخْتَلِفُ وَلَا یُسْتَشَنُّ وَلَا یَتْفَہُ لِکَثْرَۃِ الرَّدِّ، فَمَنْ قَرَأَ ہُ عَلَی حَرْفٍ فَلَا یَدَعْہُ رَغْبَۃً عَنْہُ، وَمَنْ قَرَأَ ہُ عَلَی شَیْئٍ مِنْ تِلْکَ الْحُرُوفِ الَّتِی عَلَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَا یَدَعْہُ رَغْبَۃً عَنْہُ، فَإِنَّہُ مَنْ یَجْحَدْ بِآیَۃٍ مِنْہُ یَجْحَدْ بِہِ کُلِّہِ، فَإِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِ أَ حَدِکُمْ لِصَاحِبِہِ: اِعْجَلْ، وَحَیَّ ہَلًا، وَاللّٰہِ! لَوْ أَ عْلَمُ رَجُلًا أَ عْلَمَ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَلَی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّی لَطَلَبْتُہُ حَتّٰی أَ زْدَادَ عِلْمَہُ إِلٰی عِلْمِی إِنَّہٗسَیَکُونُ قَوْمٌ یُمِیتُونَ الصَّلَاۃَ فَصَلُّوا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا، وَاجْعَلُوْا صَلَاتَکُمْ مَعَہُمْ تَطَوُّعًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعَارَضُ بِالْقُرْآنِ فِی کُلِّ رَمَضَانَ، وَإِنِّی عَرَضْتُ فِی الْعَامِ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ مَرَّتَیْنِ، فَأَ نْبَأَ نِی أَ نِّی مُحْسِنٌ، وَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِینَ سُورَۃً۔ (مسند احمد: ۳۸۴۵)
۔ عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں: ہمدان کے ایک آدمی نے ہمیںبتایا، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شاگرد تھے، ان کا نام نہیں لیا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہونا چاہا تو انھوں نے اپنے شاگردں کو جمع کیا اور کہا اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ تم مسلمانوں کے لشکروں میں سے سب سے بہترین ہو، تم دین، فقہ، علم اور قرآن پڑھ رہے ہو، یہ قرآن سات قراء توں پر نازل ہوا،اللہ کی قسم! دو آدمی قرآن کے بارے میں سخت ترین جھگڑا کرتے ہیں، لیکن ایسا نہ کرنا، جب کوئی کہے کہ اس نے مجھے یوں پڑھایا ہے تو اسے کہو کہ وہ بہتر کہتا ہے، جب کوئی دوسرا کہے کہ مجھے فلاں نے اس طرح پڑھایا ہے تو تم دونوں کو بہتر کہو، کیونکہ دونوں نے علیحدہ علیحدہ قراء توں میں پڑھایا ہے، سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی جانب لے جاتی ہے، جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے، جب تم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے کہ اس نے جھوٹ بولا یا فسق و فجور کیا اور جب کسی نے سچ کہا تو اس سے کہو تو نے سچ کہا اور نیکی کی،یقینایہ قرآن نہ اختلاف پیدا کرتا ہے، نہ یہ بوسیدہ ہوتا ہے اور نہ یہ حقیر چیز ہے، چاہے کس قدر اس کا تکرار کیا جائے، جو اسے ایک قراء ت پر پڑھے، اسے بے رغبتی کرتے ہوئے نہ چھوڑے اور جواسے ان قراء توں کے مطابق پڑھے، جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تعلیم دی ہے، تو وہ انہیں بھی بے رغبتی کی وجہ سے نہ چھوڑے جوایک آیت کا انکار کرے گا، گویا اس نے اس کی تمام آیتوں کا انکار کیا، اسی طرح ان قراء توں کا معاملہ ہے، قراء ت کا اختلاف اس طرح ہے کہ جس طرح کسی نے کہا: اِعْجَلْ، وَحَیَّ ہَلًا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے علم ہو کہ جو اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرنازل کیا ہے، کوئی مجھ سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہے تو میں اسے ضرور تلاش کروں گا تا کہ اپنے علم میں اضافہ کرسکوں۔ عن قریب ایسے لوگ ہوں گے جو نمازوں کو ان کے وقت سے فوت کریں گے، لیکن تم نماز بروقت ادا کر لینا اور اگر تاخیر کرنیوالوں کے ساتھ موقع مل جائے توان کے ساتھ بھی پڑھا لینا،یہ تمہاری نفل ہو گی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر رمضان میں قرآن مجید کا دور کرتے تھے، جس سال آپ فوت ہوئے میں نے آپ پر دو مرتبہ قرآن پڑھا تھا۔ آپ نے مجھے بتایا کہ میں نے اچھا کیا ہے اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے ستر (۷۰) سورتیں سنی ہیں۔
Takhreej
(۸۴۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل من ھمدان (انظر:۳۸۴۵ )
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان شدہ درج ذیل تین امور شواہد کی بنا پر صحیح ہیں: (۱) سچائی کانیکی اور جنت کی طرف لے جانا اور جھوٹ کا برائی اور پھر جہنم کی طرف لے جانا۔ (۲) لوگوں کا نماز تاخیر سے ادا کرنا اور دوسرے لوگوں کو ایسے میں نماز کی خاص تعلیم دینا۔ (۳) سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ستر سورتوں کی تعلیم حاصل کرنا۔
8410
Zaeef
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے
۔ (۸۴۱۱)۔ عَنْ فُلْفُلَۃَ الْجُعْفِیِّ قَالَ: فَزِعْتُ فِیمَنْ فَزِعَ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ فِی الْمَصَاحِفِ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّا لَمْ نَأْتِکَ زَائِرِینَ وَلٰکِنْ جِئْنَاکَ حِینَ رَاعَنَا ہٰذَا الْخَبَرُ، فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلٰی نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سَبْعَۃِ أَ بْوَابٍ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ أَ وْ قَالَ: حُرُوفٍ، وَإِنَّ الْکِتَابَ قَبْلَہُ کَانَ یَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلٰی حَرْفٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۵۲)
۔ فلفلہ جعفی کہتے ہیں: میں بھی ان گھبرانے والوں میں سے تھا، جو قرآن کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے، سو ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم صرف ملاقات کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اس خبر نے بہت خوفزدہ کیاہے کہ (قریش کی زبان میں قرآن پڑھا جائے اور دوسرے نسخے جلا دئیے گئے ہیں۔) انہوں نے کہا: تمہارے نبی پر قرآن مجید سات قراء توں میںنازل ہوا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے والی کتابیں ایک ہی قراء ت پر نازل ہوتی تھیں۔
Takhreej
(۸۴۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، عثمان بن حسان العامری، ذکرہ ابن حبان فی الثقات ، وذکرہ البخاری فی التاریخ الکبیر ، و ابن ابی حاتم فی الجرح والتعدیل ولم یذکرا فیہ جرحا ولا تعدیلا ۔أخرجہ ابن ابی داود فی المصاحف : ص ۱۸، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۰۹۴ (انظر: ۴۲۵۲)
Explanation
فوائد:… قرآن مجید کی مختلف قراء ات کی وجہ سے جو اختلاف پیدا ہو گیا تھا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ قریش کی قراء ت کو باقی رکھا جائے اور باقی قراء توں کے وجود کو ختم کر دیا جائے، یہ خلیفۂ رسول کا ایک مستحسن فیصلہ تھا، صحابۂ کرام نے ان سے اتفاق کیا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے ان سے مختلف رہی اور وہ اس فیصلے سے متفق نہ ہوئے۔
8411
Zaeef