سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تینوں دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتے ہو۔ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ (دنوں کی رخصت) کا مطالبہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں زیادہ رخصت دے دیتے۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دنوں کی اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات کی رخصت دی، اللّٰہُ کی قسم! اگر سائل مزید سوال کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دنوں کی رخصت دے دینی تھی۔
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔…میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔