TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

موزوں پر مسح کرنے کے ابواب - موزوں پر مسح کرنے کے ابواب - Book 15 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 15 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

32 Hadith · 7 Chapters
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۲۵)۔عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ ہَمَّامٍ قَالَ: بَالَ جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِؓ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقِیْلَ لَہُ: تَفْعَلُ ھٰذَا وَقَدْ بُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، قَالَ اِبْرَاہِیْمُ: فَکَانَ یُعْجِبُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثُ لِأَنَّ اِسْلَامَ جَرِیْرٍ کَانَ بَعدَ نُزُوْلِ الْمَائِدَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۴۷)
ہَمَّام کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ کسی نے ان سے کہا: آپ یہ مسح کر رہے ہیں، جبکہ آپ نے تو پیشاب بھی کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند آتی تھی، کیونکہ سیدنا جریرؓ سورۂ مائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
Takhreej
(۷۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۷، ومسلم: ۲۷۲(انظر: ۱۹۲۳۴)
Explanation
فوائد:… سورۂ مائدہ سے مراد یہ آیت ہے: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ} اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی یہ آیت ۵ھ میں غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر نازل ہوئی اور سیدنا جریر ۱۰ ھ میں مسلمان ہوئے تھے۔ بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے موزوں پر مسح کرنے والی احادیث کو اس آیت کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے اور اس آیت میں دیئے گئے حکم کی بنا پر پاؤں کو صرف دھویا جائے اور موزوں پر مسح کرنے کی گنجائش نہ دی جائے۔ جب صحابہ کرام کو سیدنا جریرؓ کی مذکورہ بالا حدیث کا علم ہوا کہ وہ تو ۱۰ ؁ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اِس آیت کے نزول کے بعد بھی مسح کو جاری رکھا تھا، اس لیے اُن کو سیدناجریر ؓ کی حدیث بہت پسند آتی تھی، کیونکہ اس سے ان کا وہم دور ہو گیا تھا۔
725
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْخُفَّینِ، فَاسْأَلُوْا ہَؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسَحَ قَبْلَ نُزُوْلِ الْمَائِدَۃِ أَو بَعْدَ نُزُوْلِ الْمَائِدَۃِ، وَاللّٰہِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَۃِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلٰی ظَہْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاۃِ أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۹۷۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں پر مسح کیا، یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن ان لوگوں سے پوچھو تو سہی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ مائدہ کے نزول سے پہلے مسح کیا یا بعد میں، اللہ کی قسم ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ مائدہ کے بعد مسح نہیں کیا، مجھے تو موزوں پر مسح کرنے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند ہے کہ جنگل میں کسی راہ گیر کی کمر پر ہاتھ پھیر لوں۔
Takhreej
(۷۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عطاء بن السائب کان قد اختلط۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۲۸۷ (انظر: ۲۹۷۵)
726
Zaeef
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۲۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ أَ نَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ بِالْعِرَاقِ حِیْنَ یَتَوَضَّأُ، فَأَنْکَرْتُ ذَالِکَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ لِیْ: سَلْ أَبَاکَ عَمَّا أَنْکَرْتَ عَلَیَّ مِنْ مَسْحِ الْخُفَّینِ، قَالَ: فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: اِذَا حَدَّثَکَ سَعْدٌ بِشَیْئٍ فَلَا تَرُدَّ عَلَیہِ، فَاِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ جب وہ وضو کرتے تو موزوں پر مسح کرتے تھے، میں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا، پھر ہوا یوں کہ جب ہم سیدنا عمر بن خطابؓ کے پس جمَعَ ہوئے تو انھوں نے مجھے کہا: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مجھ پر جو انکار کیا تھا، ذرا اس کے بارے میں اپنے باپ سے پوچھو۔ پس میں نے یہ بات اپنے باپ سیدنا عمر ؓ کے لیے ذکر کی، انھوں نے جواباً کہا: جب سیدنا سعد ؓتم کو کوئی چیز بیان کریں تو اس کا ردّ نہ کیا کرو، کیونکہ بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ موزوں پر مسح کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۲ (انظر: ۸۷، ۸۸)
Explanation
فوائد:… اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی صحابی کسی قول و فعل پر انکار کرے تو ضروری نہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ثابت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ انکار کرنے والے کو اس سنت کا علم نہ ہو سکا ہو۔ جب سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو حدیث ِ مبارکہ کا پتہ چلا تو انھوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور مسلمان کو یہی کچھ زیب دیتا ہے۔
727
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۲۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَی ابْنُ عُمَرَ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَاِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ ہَذَا؟ فَقَالَ سَعْدٌ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ ؓ، فَقَالَ سَعْدٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اَفْتِ ابْنَ أَخِیْ فِی الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ، فَقَالَ عُمَرُ ؓ: کُنَّا وَنَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَمْسَحُ عَلٰی خِفَافِنَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ؓ: وَاِنْ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَولِ؟ فَقَالَ عُمَرُ ؓ: نَعَمْ وَاِنَ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَالِکَ یَمْسَحُ عَلَیْہِمَا مَا لَمْ یَخْلَعْہُمَا وَمَا یُوَقِّتُ لِذَالِکَ وَقْتًا، قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: فَحَدَّثْتُ بِہِ مَعْمَرًا فَقَالَ: حَدَّثَنِیْہِ أَیُّوْبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷)
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے سیدنا سعد ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھ کر کہا: تم لوگ بھی یہ مسح کرتے ہو؟ انھوںنے کہا: جی ہاں۔ پھر جب ہم سیدنا عمرؓ کے پاس جمع ہوئے تو سیدنا سعد ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے بھتیجے (ابن عمر) کو موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فتوی دو۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اگرچہ بندہ پیشاب اور پائخانہ سے فارغ ہو کر آیا ہو؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، اگرچہ وہ پیشاب اور پائخانہ کر کے آیا ہو۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ؓ جب تک موزے اتارتے نہیں تھے، اس وقت تک ان پر مسح کرتے رہتے تھے اور اس کے لیے وقت کی کسی مقدار کا تعین بھی نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۲۸) تخریج: اسناداھ صحیحان علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۴۶(انظر: ۲۳۷)
Explanation
فوائد:… موزوں پر مسح کرنے کے لیے مدت مقرر کی گئی ہے جس کا تذکرہ باب توقیت مدۃ المسح کے تحت آ رہا ہے۔ چونکہ صحیح روایات مرفوعہ اس بارے موجود ہیں۔ اس لیے ابن عمرؓ کا عمل ہمارے لیے حجت نہیں۔
728
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۲۹)۔عَنْ بِلَالٍ ؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْمُوْقَیْنِ وَالْخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۱۴)
سیدنا بلالؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۷۲۹) تخریج: انظر الحدیث رقم: ۶۷۹
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر ۶۷۹کی شرح میں مُوْق کی وضاحت ہو چکی ہے۔
729
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۰)۔عَنْ عُمَرَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ الْحَدَثِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی الْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸)
سیدنا عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو ٹوٹ جانے کے بعد وضو کیا اور اس میں موزوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۷۳۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۴، والبزار: ۲۶۳(انظر: ۱۲۸)
730
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۱)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ فِی السَّفَرِ۔ (مسند أحمد: ۳۸۷)
سیدنا عمرؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سفر میں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۷۳۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
731
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۲)۔عَنْ عَمْرِوبْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْخِمَارِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۸۴۹)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۷۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۵ (انظر: ۲۲۴۸۲)
732
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۳)۔عَنْ بِلَالٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: امْسَحُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَسَحَ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْخِمَارِ)۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۸۹)
سیدنا بلالؓ سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: موزوں اور پگڑی پر مسح کرو۔ (ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا )۔
Takhreej
(۷۳۳) تخریج: حدیث صحیح من فعلہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، لا مِن قولہ، و أخرجہ مسلم: ۲۷۵ بلفظ: مسح رسول اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ علی الخفین والخمار۔ (انظر: ۲۳۸۸۴، ۲۳۸۹۲)
733
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۴)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ (الْأَسْلَمِیِّ) عَن أَبِیْہِ، أَنَّ النَّجَاشِیَّ أَہْدٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُفَّیْنِ أَسْوَدَیْنِ سَاذَجَیْنِ فَلَبِسَہُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۳۶۹)
سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کالے رنگ کے دو سادے موزے بطورِ تحفہ بھیجے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ پہنے اور وضوکرتے وقت ان پر مسح کیا۔
Takhreej
(۷۳۴) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۵، وابن ماجہ: ۵۴۹، ۳۶۲۰۰، والترمذی: ۲۸۲۰ (انظر: ۲۲۹۸۱)
734
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَاصٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ: ((لَا بَأْسَ بِذَالِکَ)) (مسند أحمد: ۱۴۵۲)
سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۸۲، وعلقہ البخاری بصیغۃ الجزم بعد الحدیث رقم ۲۰۲ (انظر: ۱۴۵۲)
735
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۶)۔عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا أَیُّوْبَ نَزَعَ خُفَّیْہِ فَنَظَرُوْا اِلَیْہِ فَقَالَ: أَمَا اِنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلَیْہِمَا وَلٰکِنِّیْ حُبِّبَ اِلَیَّ الْوُضُوْئُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۷۱)
علی بن مدرک کہتے ہے: میں نے سیدنا ابو ایوبؓ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے موزے اتار دیئے، جب لوگوں نے (اعتراض کی نگاہ سے) دیکھا تو انھوں نے کہا: خبردار! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن مجھے پاؤں کو دھونا پسند ہے۔
Takhreej
(۷۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ الطبرانی: ۴۰۴۰، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۶، والبیھقی: ۱/ ۲۹۳، وعبد الرزاق: ۷۶۹ (انظر: ۲۳۵۷۴)
736
Sahih
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
۔ (۷۳۷)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِؓ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: رَأَیْتُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! صَنَعْتَ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ، قَالَ: ((عَمَدًا صَنَعْتُہُ یَا عُمَرُ)) (مسند أحمد: ۲۳۳۶۱)
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فتح مکہ والے دن وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کہا: اے اللّٰہُ کے رسول! آپ نے آج ایسا کام کیا ہے، جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمر! میں نے عمداً ایسے کیا ہے۔
Takhreej
(۷۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۱۵
Explanation
فوائد:… موزوں پر مسح کرنا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے تواترکے ساتھ ثابت ہے، حدیث نمبر (۶۷۴) کے باب کی احادیث میںموزوں اور جرابوں پر مسح کرنے کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
737
Sahih
موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
۔ (۷۳۸)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا أَنْزِ عُ خُفَّیْکَ؟ قَالَ: ((لَا، اِنِّیْ أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِیًا بَعْدُ۔)) ثُمَّ صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند أحمد:۱۸۳۲۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کووضو کروایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے موزوں پر بھی مسح کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے موزوں اتار نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: جی نہیں، جب میں نے یہ پہنے تھے تو میرے پاؤں پاک تھے اور اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ فجر ادا کی۔
Takhreej
(۷۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۶، ۵۷۹۹، ومسلم: ۲۷۴ (انظر: ۱۸۱۴۱)
Explanation
فوائد:… میرے پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ ان الفاظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جن موزوں کو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو، ان پر مسح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بعد میں ان کو اتارا نہ گیا ہو۔
738
Sahih
موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
۔ (۷۳۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ سَافَرَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَادِیًا فَقَضٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاہُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّیْہِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِیْحًا بَعْدَ ذَالِکَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! نَسِیْتَ لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ: ((کَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِیْتَ، بِھٰذَا أَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۲۶)
سیدنا مغیرہؓ سے ہی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک وادی میں داخل ہوئے، قضائے حاجت کی اور پھر باہر تشریف لے آئے اور میرے پاس آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا، لیکن جب فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو (پیٹ میں) ہوا محسوس ہوئی، اس لیے دوبارہ لوٹ گئے پھر آپ تشریف لائے اور پھر وضو کیا، لیکن اس بار موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ بھول گئے ہیں کہ موزے نہیں اتارے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہر گزنہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، مجھے اس طرح مسح کرنے کا تو میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے۔
Takhreej
(۷۳۹) ضعیف بھذہ السیاقۃ، تفرد بھا بکیر بن عامر البجلی وھو ضعیف۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۶ (انظر: ۱۸۱۴۵)
739
Zaeef
موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
۔ (۷۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَضِّئْنِیْ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوئٍ فَاسْتَنْجٰی ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی التُّرَابِ فَمَسَحَہَا ثُمَّ غَسَلَہَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رِجْلَاکَ لَمْ تَغْسِلْہُمَا، قَالَ: ((اِنِّی أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۸۰)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس وقت باوضو تھے۔
Takhreej
(۷۴۰) اسنادہ ضعیف، ابان بن عبد اللہ البجلی فی حفظہ لین، والراوی عن ابی ھریرۃ مبھم، ویشھد لمسح الخفین احادیث اخری۔ أخرجہ الدارمی: ۶۷۸، وابویعلی: ۶۱۳۶، والبیھقی: ۱/ ۱۰۷ (انظر: ۸۶۹۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی جن موزوں پر مسح کرنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو وضو کی حالت میں پہنے۔
740
Sahih
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
۔ (۷۴۱)۔عَنْ شُرَیْحٍ بْنِ ہَانِیئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَؓعَنِ الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فَقَالَتْ: سَلْ عَلِیًّا فَاِنَّہُ أَعْلَمُ بِھٰذَا مِنِّیْ، کَانَ یُسَافِرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَلِیًّا فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِلْمُسَافِرِ ثَـلَاثَۃُ أَ یَّامٍ وَلَیَالِیْہِنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۸)
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے موزوں پر مسح کی مدت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علیؓ سے اس بارے میں سوال کرو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ پس میں نے سیدنا علی ؓ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات۔
Takhreej
(۷۴۱) تخریج: أخرجہ بنحوہ مسلم: ۲۷۶ (انظر: ۷۴۸)
741
Sahih
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
۔ (۷۴۲)۔عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّؓ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَرِیَّۃٍ فَقَالَ: ((سِیْرُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تُقَاتِلُوْنَ أَعْدَائَ اللّٰہِ وَلَا تَغْلُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا، وَلِلمُسافِرِ ثَـلَاثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہِنَّ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ اِذَا أَدْخَلَ رِجْلَیْہِ عَلٰی طُہُوْرٍ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۶۷)
سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کے راستے میں چلو، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرو، غلُوّ سے بچو، بچوں کو قتل نہ کرو، مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس نے موزے وضو کی حالت میں پہنے ہوں۔
Takhreej
(۷۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۵۷(انظر: ۱۸۰۹۴)
742
Sahih
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
۔ (۷۴۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّانَنْزِ عَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِن جَنَابَۃٍ وَلَکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۶۰)
سیدنا صفوان ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔
Takhreej
(۷۴۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۵۳۵، والنسائی: ۱/ ۹۸، وابن ماجہ: ۴۷۸(انظر: ۱۸۰۹۱)
743
Sahih
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
۔ (۷۴۴)۔ عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((یَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَـلَاثَ لَیَالٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ) وَالْمُقِیْمُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۹۵)
سیدنا خزیمہ بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک مسح کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۴) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۷، وابن ماجہ: ۵۵۳ (انظر: ۲۱۸۵۱)
744
Sahih