۔ (۸۵۱۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ، وَلَمْ یَکُنْیُصَلِّی صَلَاۃً أَ شَدَّ عَلٰی أَصْحَابِ النَّبِیِِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْہَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَہَا صَلَاتَیْنِ وَبَعْدَہَا صَلَاتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۳۱)
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھاتے تھے اور یہی نماز صحابہ کرام پر سب سے زیادہ سخت تھی، پس یہ آیت نازل ہوئی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: کیونکہ دو نمازیں اس سے پہلے ہیں اور دو نمازیں اس کے بعد ہیں۔
Takhreej
(۸۵۱۲) تخریج: اسنادہ صحیح أخرجہ ابوداود: ۴۱۱ (انظر: ۲۱۵۹۵)
Explanation
فوائد:… صلاۃ وسطی کے معانی افضل نماز کے ہیں۔ اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ الصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی سے مراد نماز ظہر ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ نمازِ ظہر حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ کے عام حکم میں داخل ہو، بہرحال سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ اس سے مراد نمازِ ظہر ہے، لیکن دوسری مرفوع روایات میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اس سے مراد نمازِ عصر ہے۔ اس باب میں درج ذیل آیت کا بکثرت استعمال ہو گا، اس لیے اس کو ترجمہ سمیت ذہن نشین کر لیں: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُومُوْا لِلّٰہِ قَانِتِینَ}… نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کی اور اللہ تعالی کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۸)
8512
Sahih