TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8827 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
سورۃ الاعلیٰ سورۂ اعلی کی فضیلت اور اس کے ابتدائی حصے کی تفسیر کا بیان
۔ (۸۸۲۷)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ نِ الْجُہَنِیِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} [الواقعۃ: ۷۴] قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ)، لَمَّا نَزَلَتْ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} [الأعلی: ۱] قَالَ: ((اجْعَلُوْھَا فِیْ سُجُوْدِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ}… اپنے ربّ عظیم کے نام کی تسبیح بیان کرو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اس کے مضمون کو اپنے رکوع میں پڑھنے کے لئے مقرر کر لو۔ اور جب یہ آیت اتری {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی}… اپنے بلند و بالا رب کے نام کی تسبیح بیان کرو۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے مضمون کو اپنے سجدوں کے لیے مقرر کر لو۔
8827
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۸۲۷) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۶۹، وابن ماجہ: ۸۸۷ (انظر: ۱۷۴۱۴)

Related Chapters

1,409
1
(87) SURAT AL-ALA (The Most High)
سورۃ الاعلی کی تفسیر
Sahih Bukhari
2
سورۂ فاتحہ کی تفسیر اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
3
سورۃالزلزال سورۂ زلزال کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
4
سورۃ قریش سورۂ قریش کی تفسیر اور قریش کے قصے کا بیان
Musnad Ahmad
5
سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
6
سورۃالمسد سورۂ مسد کے شانِ نزول اور اس کی تفسیر کا بیان
Musnad Ahmad
7
سورۃ الفلق سورۃ الفلق کی فضیلت اور تفسیر کا بیان
Musnad Ahmad
8
باب: سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ البقرہ کی آخری آیات کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ آل عمران کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ الکہف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ یاسین کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ الدخان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ الاخلاص «قل هو الله أحد» کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
8780
۔ (۸۷۸۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ نِ الْجُہَنِیِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} [الواقعۃ: ۷۴] قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ)، لَمَّا نَزَلَتْ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} [الأعلی: ۱] قَالَ: ((اجْعَلُوْھَا فِیْ سُجُوْدِ کُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ}… اپنے ربّ عظیم کے نام کی تسبیح بیان کرو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اس اس کے مضمون کو اپنے رکوع میں پڑھنے کے لئے مقرر کر لو۔ اور جب یہ آیت اتری {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی}… اپنے بلند و بالا رب کے نام کے ساتھ تسبیح بیان کرو۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے مضمون کو اپنے سجدوں کے لیے مقرر کر لو۔
Musnad Ahmad
2528
۔ (۲۵۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَلَّکُمْ سَتُدْرِکُوْنَ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ صَلَاۃً لِغَیْرِ وَقْتِہَا فَاِذَا أَدْرَکْتُمُوْھُمْ فَصَلُّوا فِی بُیُوْتِکُمْ فِی الْوَقْتِ الَّذِی تَعْرِفُوْنَ ثُمَّ صَلُّوا مَعَہُمْ وَاجْعَلُوْھَا سُبْحَۃً)) (مسند احمد: ۳۶۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تم ایسے لوگوں کو پا لو جو نماز کو اس کے وقت سے ٹال کر پڑھیں گے، اگر واقعی ان کو پا لو تو گھروں میں ہی اپنی پہچان کے مطابق وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر ان کے ساتھ بھی ادا کرلینا اور اِس کو نفل سمجھ لینا۔
Musnad Ahmad
8777
۔ (۸۷۷۷)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَقَلِیلٌ مِنْ الْآخِرِینَ} [الواقعۃ: ۱۳۔ ۱۴] شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، فَنَزَلَتْ: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَثُلَّۃٌ مِنْ الْآخِرِینَ} [الواقعۃ: ۳۹۔۴۰] فَقَالَ: ((اَنْتُمْ ثُلُثُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، بَلْ اَنْتُمْ نِصْفُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَتُقَاسِمُوْنَہُمُ النِّصْفَ الْبَاقِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۶۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَقَلِیلٌ مِنْ الْآخِرِینَ}… (سبقت لے جانے والوں) کا بہت بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے گا اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، پس یہآیات نازل ہوئیں: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَثُلَّۃٌ مِنْ الْآخِرِینَ} … (دائیں ہاتھ والوں کا) جم غفیر اگلوں میں سے ہے اور بہت بڑی جماعت پچھلوں میں سے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جنت والوں میں سے تیسرا حصہ ہو گے، بلکہ اہل جنت کا نصف حصہ تم ہو گے اور باقی نصب میں بھی تم ان کے حصہ دار ہو گے۔
Musnad Ahmad
8778
۔ (۸۷۷۸)۔ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} [الواقعۃ: ۳۰]، عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ شَجَرَۃًیَسِیرُ الرَّاکِبُ فِی ظِلِّہَا مِائَۃَ عَامٍ لَا یَقْطَعُہَا۔))، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَ خْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَ بَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَیَقُولُ أَ بُو ہُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُ وْا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰۶)
۔ قتادہ اللہ تعالی کے اس فرمان {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}… اور لمبے لمبے سایوں میں کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سائے میں ایک سو سال چلے گا، پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے تھے: اگر چاہتے ہو تو اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھ لو: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}… اور لمبے لمبے سایوں میں
Musnad Ahmad
8779
۔ (۸۷۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ قَالَ: (({وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} [الواقعۃ: ۳۴] وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ ارْتِفَاعَہَا کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ، وَإِنَّ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ لَمَسِیرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔)) (مسند احمد:)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} … اور اونچے اونچے بستروں میں ہوں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: ان کی بلندی اتنی ہو گی، جیسے آسمان اور زمین کے درمیان بلندی ہے، جبکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔
Musnad Ahmad
8782
۔ (۸۷۸۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَاَ: {فَرُوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ} [الواقعۃ: ۸۹]۔ (مسند احمد: ۲۶۳۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھا: {فَرُوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ} (یعنی رائ پر ضمہ پڑھا)۔