۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو (قیامت والے دن) ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیلیہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید رضی اللہ عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک چچا زاد بھائی تھا، میرا خیال ہے کہ مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں میں اس کا گھر سب سے زیادہ دور تھا، لیکن اس کے باوجود وہ تمام نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوتا تھا، ایک دن میں نے اسے کہا: اگر تم کوئیگدھا خرید لو، تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو سکو اور کیڑے مکوڑوں سے بچ سکو، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد ِ نبوی کے ساتھ ملا ہوا ہو، ایک روایت میں ہے: مجھے تو یہ بات بھی خوش نہیں کرتی کہ میرا گھر اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس کییہ بات مجھے سب سے زیادہ بری لگی، بہرحال میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلا دی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! (میں چاہتا ہوں کہ جب میں مسجد کی طرف) آؤں اور پھر اپنے اہل کی طرف واپس جاؤں تو میرے قدموں کے یہ سارے نشانات لکھے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سارا کچھ عطا کر دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اس شخص کے لیے ہر قدم کے بدلے درجہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تونے نیت کی ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس اجر کی تو نے نیت کی ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے کہ اچانک نیند میں ہی مسکرانے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا: ا ے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ (پر چڑھائی کرنے کا) قصد کریں گے، ان کا ہدف وہ قریشی شخص ہو گا، جو حرم میں پناہ لے چکا ہو گا، یہ لوگ جب بیداء مقام تک پہنچیں گے تو اِن سب کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن (قیامت والے دن) ان کے نکلنے کی جگہیں الگ الگ ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کا ان کے نیتوں کے مطابق حشر کرے گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰاِن کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا اور ان کی نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں گے، یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک راستے پر جمع ہو گئے ہوں گے، وگرنہ ان میں بعض بصیرت والے ہوں گے، بعض مسافر ہوں گے اور بعض مجبور ہوں گے، لیکن سب ایک ہلاکت گاہ میں ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف مقامات سے نکلیں گے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتے ہیں، تو اس میں جو افراد بھی ہوں، سب اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی جسمانی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نیکیاں) لکھنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں: میرا بندہ جب تک میری (آزمائش کی) قید میں ہے، تم اس وقت تک اس کے شب و روز کے نیکیوں کے معمولات لکھتے رہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو کچھ وقت کے لیے قیام کرتا ہو، جب وہ اس قیام سے سو جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس پر صدقہ ہوتی ہے، جو صدقہ اس پر کر دیا جاتا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے کہتے ہیں: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ برائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ وہ زیادہ جاننے والا ہوتا ہے، پس وہ کہتا ہے: انتظار کرو، اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کر تو تم اس کے لیے ایک برائی لکھ لو اور اگر وہ اس کو ترک کر دے تو اس وجہ سے تم اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو، اس نے صرف میری وجہ سے اسے ترک کیا ہے۔