نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۴)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی، فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗلِدُنْیَایُصِیْبُھَا، اَوِ امْرَاَۃٍیَنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸ )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔
Takhreej
(۸۸۸۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱، ومسلم: ۱۹۰۷ (انظر: ۱۶۸)
Explanation
فوائد: …یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔
نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔
اس باب میں نیت کی دوسری قسم کو واضح کرنا مطلوب ہے، یہ دعوی کرنا ممکن ہے کہ سب سے مشکل عمل نیت اور ارادے کو اخلاص پر برقرار رکھنا ہے۔ جہاد، سخاوت اور حج جیسے بیش قیمت اعمال نیت کے فتور کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں۔
امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
امام عبد اللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: رُبَّ عَمَلٍ صَغِیْرٍ تُعَظِّمُہٗالنِّیَّۃُ وَرُبَّ عَمَلٍ کَبِیْرٍ تُصَغِّرُہُ النِّیَّۃُ۔ … کتنے ہی چھوٹے چھوٹے عمل ہیں کہ نیت ان کو بڑا بنا دیتی ہے اوربہت سارے بڑے بڑے عمل ہیں کہ نیت ان کو چھوٹا بنا دیتی ہے۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: تَعَلَّمُوْا النِّیَّۃَ فَاِنَّھَا اَبْلَغُ مِنَ الْعَمَلِ۔… نیت کو بھی سیکھو، کیونکہیہ عمل سے زیادہ اہمیت والی ہے۔
کسی نے نافع بن حبیب سے کہا: کیا آپ فلاں جنازے میں حاضر نہیں ہوں گے؟ انھوں نے کہا: ذرا ٹھیرو، میں نیت کر لو، پھر انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہا: جی چلیے۔ (ان اقوال کے لیے ملاحظہ ہو: جامع العلوم والحکم: ۱/ ۱۳)
8884
Sahih