TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیت اور عمل میں اخلاص - نیت اور عمل میں اخلاص - Book 151 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 151 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 21 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

21 Hadith · 5 Chapters
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۴)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی، فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗلِدُنْیَایُصِیْبُھَا، اَوِ امْرَاَۃٍیَنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸ )
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔
Takhreej
(۸۸۸۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱، ومسلم: ۱۹۰۷ (انظر: ۱۶۸)
Explanation
فوائد: …یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔ نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔ اس باب میں نیت کی دوسری قسم کو واضح کرنا مطلوب ہے، یہ دعوی کرنا ممکن ہے کہ سب سے مشکل عمل نیت اور ارادے کو اخلاص پر برقرار رکھنا ہے۔ جہاد، سخاوت اور حج جیسے بیش قیمت اعمال نیت کے فتور کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں۔ امام سفیان ثوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔ امام عبد اللہ بن مبارک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: رُبَّ عَمَلٍ صَغِیْرٍ تُعَظِّمُہٗالنِّیَّۃُ وَرُبَّ عَمَلٍ کَبِیْرٍ تُصَغِّرُہُ النِّیَّۃُ۔ … کتنے ہی چھوٹے چھوٹے عمل ہیں کہ نیت ان کو بڑا بنا دیتی ہے اوربہت سارے بڑے بڑے عمل ہیں کہ نیت ان کو چھوٹا بنا دیتی ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: تَعَلَّمُوْا النِّیَّۃَ فَاِنَّھَا اَبْلَغُ مِنَ الْعَمَلِ۔… نیت کو بھی سیکھو، کیونکہیہ عمل سے زیادہ اہمیت والی ہے۔ کسی نے نافع بن حبیب سے کہا: کیا آپ فلاں جنازے میں حاضر نہیں ہوں گے؟ انھوں نے کہا: ذرا ٹھیرو، میں نیت کر لو، پھر انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہا: جی چلیے۔ (ان اقوال کے لیے ملاحظہ ہو: جامع العلوم والحکم: ۱/ ۱۳)
8884
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُبْعَثُ النَّاسُ۔)) وَرُبَمَا قَالَ شَرِیْکٌ ((یُحْشَرُ النَّاسُ)) عَلٰی نِیَّاتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۹ )
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو (قیامت والے دن) ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Takhreej
(۸۸۸۵) تخریج:صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۲۹ (انظر: ۹۰۹۰)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کی وضاحت درج ذیل حدیث سے ہو گی: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس قوم کے سارے افراد اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ (صحیح بخاری: ۷۱۰۸، صحیح مسلم: ۲۸۷۹) یعنی ایسے عذاب کا لازمی نتیجہیہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ سب سے ناراض ہوتا ہے، بلکہ ایسی بستی میں بعض لوگ نیک ہوتے ہیں، بعض زیادہ برے، بعض کم برے، بعض مجبور، بعض رضامند، اس لیے ہر ایک کو قیامت والے دن اس کی عملی صلاحیت اور نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
8885
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْجُوَیْرِیَۃِ، اَنَّ مَعْنَ بْنَ یَزِیْدَ حَدَّثَہٗ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَا وَاَبِیْ وَجَدِّیْ وَخَطَبَ عَلَیَّ فَاَنْکَحَنِیْ وَخَاصَمْتُہٗاِلَیْہِ فَکَانَ اَبِیْیَزِیْدُ خَرَجَ بِدَنَانِیْرَیَتَصَدَّقُ بِھَا فَوَضَعَھَا عَنْدَ رَجُلٍ فِیْ الْمَسْجِدِ فَاَخَذْتُھَا فَاَتَیْتُہٗبِھَافَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اِیَّاکَ اَرَدْتُّ بِھَا فَخَاصَمْتُہٗاِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَکَ مَا نَوَیْتَیَایَزِیْدُ! وَلَکَ یَا مَعْنُ! مَا اَخَذْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۴)
۔ سیدنا معن بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیلیہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
Takhreej
(۸۸۸۶) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱۴۲۲(انظر: ۱۵۸۶۰)
Explanation
فوائد:… سیدنایزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے محتاج پر صدقہ کرنے کی نیت سے ایک آدمی کو وکیل بنا کراپنے دینار اس کے پاس رکھ دیئے اور اس کو مطلق طور پر اجازت دے دی، جب وہی رقم بیٹے نے وصول کر لی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی وصولی کو نافذ کر دیا، کیونکہ وہ فقراء میں داخل تھا۔ مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق، معن نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ (بلوغ الامانی، زیر مطالعہ حدیث) حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے فرمایا: اس جھگڑے سے مراد معن اور اس کے باپ یزید کے درمیان صدقہ کے حوالے سے ہونے والی بحث ہے۔ جس میں آپ نے معن کے ضرورت مند ہونے کی وجہ سے اس کے صدقہ پکڑنے کو درست قرار دیا۔ (فتح الباری ج۳، ص ۲۹۲) (عبداللہ رفیق)
8886
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۷)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ ابْنُ عَمٍّ لِیْ) مَا اَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ مِنْ اِنْسَانٍ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّیْ اِلَی الْقِبْلَۃِ اَبْعَدَ بَیْتًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ، قَالَ: فَکَانَیَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ کُلَّھُنَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہٗ: لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہٗفِیْ الرَّمْضَائِ وَالظَّلْمَائِ(زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ : وَیَقِیْکَ مِنْ ھَوَامِّ الْاَرْضِ) قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اُحِبُّ اَنَّ بَیْتِیْیَلْزَقُ بِمَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ بَیْتِیْ مُطَنَّبٌ بِبَیْتِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : فَمَا سَمِعْتُ کَلِمَۃً اَکْرَہَ اِلَیَّ مِنْھَا) قَالَ: فَاَخْبَرْتُ رَسْوُلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہٗعَنْذٰلِکَفَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لِکَیْمَایُکْتَبَ اَثَرِیْ وَرُجُوْعِیْ اِلٰی اَھْلِیْ وَ اِقْبَالِیْ اِلَیْہِ قَالَ: ((اَنْطَاکَ اللّٰہُ ذَالِکَ کُلَّہٗ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَہٗبِکُلِّخُطْوَۃٍ دَرَجَۃً)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ: ((لَکَ مَا نَوَیْتَ اَوْ قَالَ لَکَ اَجْرُ مَا نَوَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۳۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک چچا زاد بھائی تھا، میرا خیال ہے کہ مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں میں اس کا گھر سب سے زیادہ دور تھا، لیکن اس کے باوجود وہ تمام نمازوں میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر ہوتا تھا، ایک دن میں نے اسے کہا: اگر تم کوئیگدھا خرید لو، تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو سکو اور کیڑے مکوڑوں سے بچ سکو، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد ِ نبوی کے ساتھ ملا ہوا ہو، ایک روایت میں ہے: مجھے تو یہ بات بھی خوش نہیں کرتی کہ میرا گھر اللہ کے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس کییہ بات مجھے سب سے زیادہ بری لگی، بہرحال میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلا دی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! (میں چاہتا ہوں کہ جب میں مسجد کی طرف) آؤں اور پھر اپنے اہل کی طرف واپس جاؤں تو میرے قدموں کے یہ سارے نشانات لکھے جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سارا کچھ عطا کر دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اس شخص کے لیے ہر قدم کے بدلے درجہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تونے نیت کی ہے، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس اجر کی تو نے نیت کی ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
Takhreej
(۸۸۸۷) تخریج:أخرجہ مسلم: ۶۶۳ (انظر: ۲۱۲۱۴)
8887
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤِمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ اِذْ ضَحِکَ فِیْ مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: (( اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِیْیَؤُمُّوْنَ ھٰذَا الْبَیْتَ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدِ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوْا البَیْدَائَ خُسِفَ بِھِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی،یَبْعَثُھُمُ اللّٰہِ عَلٰی نِیَّاتِھِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَیَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِھِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَھُمُ الطَّرِیْقُ، مِنْھُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیّلِ، وَالْمَجْبُوْرُ، یَھْلِکُوْن مَھْلِکًا وَاحِدًا وَیَصْدُرُوْنَ مَصَادِرَ شَتّٰی۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۴۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے کہ اچانک نیند میں ہی مسکرانے لگے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا: ا ے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ (پر چڑھائی کرنے کا) قصد کریں گے، ان کا ہدف وہ قریشی شخص ہو گا، جو حرم میں پناہ لے چکا ہو گا، یہ لوگ جب بیداء مقام تک پہنچیں گے تو اِن سب کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن (قیامت والے دن) ان کے نکلنے کی جگہیں الگ الگ ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کا ان کے نیتوں کے مطابق حشر کرے گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰاِن کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا اور ان کی نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں گے، یہ کیسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک راستے پر جمع ہو گئے ہوں گے، وگرنہ ان میں بعض بصیرت والے ہوں گے، بعض مسافر ہوں گے اور بعض مجبور ہوں گے، لیکن سب ایک ہلاکت گاہ میں ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف مقامات سے نکلیں گے۔
Takhreej
(۸۸۸۸) تخریج:اسنادہ صحیح۔ أخرجہ بنحوہ مسلم: ۲۸۸۴ (انظر: ۲۴۷۳۹)
Explanation
فوائد:… مسافر سے مراد وہ آدمی ہے، جو اس لشکر کا حصہ نہیں ہو گا، بلکہ ویسے وہاں سے گزر رہا ہو گا یا راستہ ایک ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ چل رہا ہو گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظالم، باغی اور گمراہ لوگوں کی مجلسوں سے دور رہنا چاہیے، تاکہ ان کے برے اثر سے محفوظ رہا جا سکے، البتہ دین کی تبلیغیا کسی اشد ضرورت کے وقت ان کے پاس جانا جائز ہے، لیکن مقصود پورا ہونے کے بعد واپس چلا جانا چاہیے۔
8888
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ مَنْ کَانَ فِیْھِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتے ہیں، تو اس میں جو افراد بھی ہوں، سب اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Takhreej
(۸۸۸۹) تخریج:أخرجہ البخاری: ۷۱۰۸، ومسلم: ۲۸۷۹ (انظر: ۵۸۹۰)
Explanation
فوائد:… دراصل ان احادیث میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے: { وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوںپرواقع نہیں ہو گا، جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوں گے۔ :(سورۂ انفال: ۲۵) ان نصوص کا مفہوم یہ ہے کہ جب فرمانبردار لوگ عذاب کے آنے تک نافرمانوں میں ٹھہرے رہتے ہیں تو پھر وہ آنے والے عذاب سے بچ نہیں سکتے، ہاں اگر وہ اِس عذاب کے آنے سے پہلے نکل جائیں تو وہ بچ جائیں گے، یہ ایسے ہی ہے، جیسے سابقہ انبیاء پر ایمان لانے والے لوگ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کی روشنی میں اپنے نبیوں کے ساتھ نکل جاتے تھے۔ واللہ اعلم
8889
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۹۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُصَابُ بِبَلَائٍ فِیْ جَسَدِہِ، اِلَّا اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَلَائِکَۃَ الَّذِیْنَیَحْفَظُوْنَہٗ، فَقَالَ: اُکْتُبْوْا لِعَبْدِیْ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ مَا کَانَ یَعْمَلُ مِنْ خَیْرٍ، مَا کَانَ فِیْ وِثَاقِیْ۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی جسمانی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نیکیاں) لکھنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں: میرا بندہ جب تک میری (آزمائش کی) قید میں ہے، تم اس وقت تک اس کے شب و روز کے نیکیوں کے معمولات لکھتے رہو۔
Takhreej
(۸۸۹۰) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۰، والدارمی: ۲/ ۳۱۶، والحاکم: ۱/ ۳۴۸ (انظر: ۶۴۸۲)
8890
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۹۱)۔ عَنْ عَائشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَامِنْ رَجُلٍ تَکُوْنُ لَہٗسَاعَۃٌ مِنَ اللَّیْلِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: صَلاۃٌ مِنَ اللَّیْلِ) یَقُوْْمُھَا فَیَنَامُ عَنْھَا، اِلَّا کُتِبَ لَہُ اَجْرُ صَلَاتِہِ، وَکَانَ نَوْمُہُ عَلَیْہِ صَدَقَۃً تُصُدِّقَ بِہٖعَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو کچھ وقت کے لیے قیام کرتا ہو، جب وہ اس قیام سے سو جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس پر صدقہ ہوتی ہے، جو صدقہ اس پر کر دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۱) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۱۳۱۴، والنسائی: ۳/ ۲۵۷ (انظر: ۲۴۳۴۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو درداء سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَتٰی فِرَاشَہُ وَہُوَ یَنْوِی أَنْ یَقُومَ فَیُصَلِّیَ مِنْ اللَّیْلِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ حَتّٰییُصْبِحَ کُتِبَ لَہُ مَا نَوٰی وَکَانَ نَوْمُہُ صَدَقَۃً عَلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ۔)) … جو آدمی اپنے بستر پر آیا، جبکہ اس کی نیتیہ ہو کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا، لیکن اس کی آنکھ اس پر غالب آگئی،یعنی وہ سویا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو اس نے قیام کے بارے میں جو نیت کی تھی، اس کا ثواب اس کے لیے لکھ دیا جائے گا، اور یہ نیند اس کے ربّ کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گی۔ (ابن ماجہ: ۲۴۴) یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، لیکنیہ اس شخص کے لیے ہے جس کی اتفاقاً آنکھ لگ گئییا کسی شرعی عذر کی وجہ سے اس کا قیام رہ گیا۔
8891
Sahih
نیت کے بارے میں باب
۔ (۸۸۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ: رَبِّ! ذَاکَ عَبْدُکَ یُرِیْدُ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً وَھُوَ اَبْصَرُ بِہٖ،فَقَالَ: اُرْقُبُوْہُ،فَاِنْعَمِلَھَافَاکْتُبُوْھَا لَہُ بِمِثْلِھَا، وَاِنْ تَرَکَھَا فَاکْتُبُوْھَا لَہُ بِحَسَنَۃٍ، اِنَّمَا تَرَکَھَا مِن جَرَّایَ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے کہتے ہیں: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ برائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ وہ زیادہ جاننے والا ہوتا ہے، پس وہ کہتا ہے: انتظار کرو، اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کر تو تم اس کے لیے ایک برائی لکھ لو اور اگر وہ اس کو ترک کر دے تو اس وجہ سے تم اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو، اس نے صرف میری وجہ سے اسے ترک کیا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۲) تخریج:أخرجہ مسلم ۱۲۹(انظر: ۸۲۱۹)
8892
Sahih
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
۔ (۸۸۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَخْلَصَ قَلْبَہُ لِلْاِیْمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَہُ سَلِیْمًا، وَلِسَانَہُ صَادِقًا، وَنَفْسَہُ مُطْمَئِنَّۃً، وَخَلِیْفَتَہُ مُسْتَقِیْمَۃً، وَجَعَلَ اُذُنَہُ مُسْتَمِعَۃً، وَعَیْنَہُ نَاظِرَۃً، فَاَمَّا الْاُذُنُ فَقِمْعٌ، وَالْعَیْنُ مُقِرَّۃٌ لِمَا یُوْعِی الْقَلْبُ، وَقَدْ اَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَہُ وَاعِیًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۳۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جس نے ایمان کے لیے دل میں اخلاص پیدا کر لیا اور اپنے دل کو صحیح و سالم ، زبان کو سچا، نفس کو (اعمال صالحہ پر) ثابت قدم رہنے والا، اپنے طریقے کو راہِ راست والا، اپنے کان کو سننے والا اور اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنا لیا۔ صورتحال یہ ہے کہ کان (دل کی معلومات کا) ذریعہ ہے اور آنکھ دل کے یاد کیے ہوئے امور کو برقرار رکھنے والی ہے، اور تحقیق وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جو اپنے دل کو یاد کرنے والا بنا لیتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وخالد بن معدان کان یرسل، ولم یذکروا فی الرواۃ عن ابی ذر، ولم یصرح بسماعہ من ابی ذر، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۱۰۸، والطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۱۴۱ (انظر: ۲۱۳۱۰)
8893
Zaeef
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
۔ (۸۸۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُالِٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۸۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وخالد بن معدان کان یرسل، ولم یذکروا فی الرواۃ عن ابی ذر، ولم یصرح بسماعہ من ابی ذر، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۱۰۸، والطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۱۴۱ (انظر: ۲۱۳۱۰)
Explanation
فوائد:… تقوی، خلوص، مختلف جواہر اور معرفت کے خزانوں کا مرکز دل ہے، اسی طرح بندے کا کمال عمل صالح میں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں صورت اور مال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
8894
Sahih
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
۔ (۸۸۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، قَالَ: بَلَغَنِیْ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِیْ عَبْدَہُ الْمُؤُمِنَ بِالْحَسَنَۃِ الْوَاحِدَۃِ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَۃٍ، قَالَ: فَقُضِیَ اَنِّی اِنْطَلَقْتُ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا فَلَقِیْتُہُ فَقُلْتُ:بَلَغَنِیْ عَنْکَ حَدِیْثٌ اَنَّکَ تَقُوْلُ: سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِیْ عَبْدَہُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَۃِ اَلْفَ اَلْفٍ حَسَنَۃٍ۔))؟ قَالَ: اَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَا بَلْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعِطِیْہِ اَلْفَيْ اَلْفِ حَسَنَۃٍ۔)) ثُمَّ تَلَا {یُضَاعِفْھَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} فَقَالَ: اِذَا قَالَ {اَجْرًا عَظِیْمًا} فَمَنْ یَّقْدِرُ قَدْرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۰)
۔ ابو عثمان کہتے ہیں: مجھے یہ بات موصول ہوئی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یوں کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کے عوض دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر ہوا یوں کہ مجھے حج یا عمرہ کرنے کا موقع مل گیا، پس میں گیا اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: مجھے تمہارے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی کہ تم کہتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کی وجہ سے دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، (یہ حدیث تو میں نے بیان نہیں کی)، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اللہ تعالیٰ اس نیکی کو بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر ِ عظیم عطا کرتا ہے۔ اب کون ہے جو اجر ِ عظیم کا اندازہ کر سکے۔
Takhreej
(۸۸۹۵) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۰۷۶۰)
Explanation
فوائد:… بہرحال اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھ کر اجر میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃًیُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا۔}… اللہ تعالیٰ ذرا برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو گی تو وہ اس کو بڑھا دے گا اور اپنی طرف سے اجرِ عظیم بھی عطا کرے گا۔ (سورۂ نسائ: ۴۰)
8895
Zaeef
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
۔ (۸۸۹۶)۔ (وَعَنْہُ فِیْ رِوَایِۃٍ اُخْرٰی بِنَحْوِہِ وَفِیْھَا) فَقَالَ (یَعْنِیْ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): وَمَا اَعْجَبَکَ؟ فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَیُضَاعِفُ الْحَسَنَۃَ اَلْفَيْ اَلْفِ حَسَنَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۲)
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کس چیز نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کی قسم ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بیس لاکھ گنا تک بڑھا دیتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
8896
Zaeef
برائی کا عزم اور نیت کر لینے کا بیان
۔ (۸۸۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْھِمَا، فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہٗ،فَالْقَاتِلُوَالْمَقْتُوْلُفِی النَّارِ۔)) قِیْلَ: ھٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ: ((قَدْ اَ رَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۷۱۱)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: یہ تو قاتل ہے، لیکن مقتول (کے جہنم میں جانے) کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔
Takhreej
(۸۸۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱، ۶۸۷۵، ومسلم: ۲۸۸۸ (انظر: ۲۰۴۳۹)
Explanation
فوائد:… جب آدمی گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے،بلکہ اس کا ارتکاب کرنے کے لیے کوشش شروع کر دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس طرح کے مجرم کی ہی ہوتی ہے، اگرچہ وہ گناہ اس سے سرزد نہ ہو پائے، ہاں اگر وہ اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کا معاملہ اور ہو گا۔
8897
Sahih
خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
۔ (۸۸۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَحْسَنَ اَحَدُکُمْ اِسْلَامَہٗ،فَکُلُّحَسَنَۃٍیَعْمَلُھَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَیِّئَۃٍیَّعْمَلُھَا تُکْتَبُ لَہٗبِمِثْلِھَا،حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو اس کی کی ہوئی ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کی کی ہوئی ہر برائی کو اس کی مثل ہی لکھا جاتا ہے، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جا ملتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۸) تخریج:أخرجہ البخاری: ۴۲، ومسلم: ۱۲۹ (انظر: ۸۲۱۷)
Explanation
فوائد:… اسلام کے حسن سے مراد یہ ہے کہ وہ ظاہر و باطن سے اور اخلاص کے ساتھ اسلام میں داخل ہو۔
8898
Sahih
خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
۔ (۸۸۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا رَوٰی عَنْ رَّبِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَحِیْمٌ، مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗعَشْرَۃٌ اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ، اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗوَاحِدَۃٌ، اَوْ یَمْحُوْھَا اللّٰہُ، وَلا یَھْلِکُ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا ھَالِکٌ۔))(مسند احمد: ۲۵۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۹) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۳۱ (انظر: ۲۵۱۹)
Explanation
فوائد:… اگر نیکی اور برائی کا یہ معیار ہو اور یقینا ہے بھی تو پھر وہی ہلاک ہو سکتا ہے، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
8899
Sahih
خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
۔ (۸۹۰۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طِرِیْقٍ ثَانٍ) یَرْوِیْہِ عَنِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ، فَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، وَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ عَشْرًا اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ اَوْ اِلٰی مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یُضَاعِفَ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَھَا اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔
Takhreej
(۸۹۰۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… برائی کا خیال آنا اور عملی طور پر اس کا ارتکاب کرنا، اس کے کل چار مراتب ہیں: ۱۔ محض کسی چیز کا خیال آ جانا اور پھر اس خیال کا ختم ہو جانا، یہ محض انسان کا جبلی اور فطرتی خیال ہے ۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا ۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا ۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔
8900
Sahih
خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
۔ (۸۹۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسنداحمد: ۷۱۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے۔
Takhreej
(۸۹۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۸، ۱۳۰ (انظر: ۷۱۹۶)
8901
Sahih
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
۔ (۸۹۰۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالا: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ، وَمَنْصُوْرٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّھُمْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُحَدِّثُ اَنْفُسَنَا بِالشَّیْئِ، لَاَنْ یَّکُوْنَ اَحَدُنَا حُمَمَۃً اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ: فَقَالَ اَحَدُھُمَا: ((اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَقْدِرْ مِنْکُمْ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) اِلَّا عَلَی الْوَسْوَسَۃِ۔)) وقَالَ الْآخَرُ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ اَمْرَہُ اِلٰی الْوَسْوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی بہ نسبت یہ چیز ہمیں زیادہ پسند ہے کہ ہم کوئلہ بن جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اِس شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی طاقت دی ہے۔ ایک راوی کے الفاظیہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شیطان کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔
Takhreej
(۸۹۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۵۱۱۲، وأخرجہ بنحوہ النسائی: ۶۶۸ (انظر: ۳۱۶۱)
8902
Sahih
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
۔ (۸۹۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّیْ اُحَدِّثُ نَفْسِیْ لَاَنْ اَکُوْنَ اَخِرُّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ : فَقَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ کَیْدَہُ اِلٰی الْوَسَوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہے کہ ان کے بارے میں کلام کرنے کی بہ نسبت یہ چیز مجھے زیادہ پسند لگتی ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس شیطان کے مکر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے۔
Takhreej
(۸۹۰۳) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
8903
Sahih