مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیت اور عمل میں اخلاص

نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان

۔ (۸۹۰۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالا: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ، وَمَنْصُوْرٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّھُمْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُحَدِّثُ اَنْفُسَنَا بِالشَّیْئِ، لَاَنْ یَّکُوْنَ اَحَدُنَا حُمَمَۃً اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ: فَقَالَ اَحَدُھُمَا: ((اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَقْدِرْ مِنْکُمْ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) اِلَّا عَلَی الْوَسْوَسَۃِ۔)) وقَالَ الْآخَرُ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ اَمْرَہُ اِلٰی الْوَسْوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی بہ نسبت یہ چیز ہمیں زیادہ پسند ہے کہ ہم کوئلہ بن جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اِس شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی طاقت دی ہے۔ ایک راوی کے الفاظیہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شیطان کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔

۔ (۸۹۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّیْ اُحَدِّثُ نَفْسِیْ لَاَنْ اَکُوْنَ اَخِرُّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ : فَقَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ کَیْدَہُ اِلٰی الْوَسَوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۷)

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہے کہ ان کے بارے میں کلام کرنے کی بہ نسبت یہ چیز مجھے زیادہ پسند لگتی ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس شیطان کے مکر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے۔

۔ (۸۹۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُجُوِّزَ لِاُمَّتِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِاُمَّتِیْ) عَمَّا حَدَّثَتْ فِیْ اَنْفُسِھَا اَوْ وَسْوَسَتْ بِہٖاَنْفُسُھَامَالَمْتَعْمَلْبِہٖاَوْتَکَلَّمْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۶۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان امور کو بخش دیا ہے کہ جن کا ان کو خیال آتا ہے یا وسوسہ پڑ جاتا ہے، لیکن اس وقت تک جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا ان کے بارے میں کلام نہ کرے۔