TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان - نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان - نیت اور عمل میں اخلاص - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of نیت اور عمل میں اخلاص in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 3 Hadith
۔ (۸۹۰۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ، قَالا: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ، وَمَنْصُوْرٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّھُمْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نُحَدِّثُ اَنْفُسَنَا بِالشَّیْئِ، لَاَنْ یَّکُوْنَ اَحَدُنَا حُمَمَۃً اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ: فَقَالَ اَحَدُھُمَا: ((اَلْحَمْدُ ِللّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَقْدِرْ مِنْکُمْ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) اِلَّا عَلَی الْوَسْوَسَۃِ۔)) وقَالَ الْآخَرُ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ اَمْرَہُ اِلٰی الْوَسْوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی بہ نسبت یہ چیز ہمیں زیادہ پسند ہے کہ ہم کوئلہ بن جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اِس شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی طاقت دی ہے۔ ایک راوی کے الفاظیہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شیطان کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔
Takhreej
(۸۹۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۵۱۱۲، وأخرجہ بنحوہ النسائی: ۶۶۸ (انظر: ۳۱۶۱)
8902
Sahih
۔ (۸۹۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّیْ اُحَدِّثُ نَفْسِیْ لَاَنْ اَکُوْنَ اَخِرُّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَتَکَلَّمَ بِہٖ،قَالَ : فَقَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ کَیْدَہُ اِلٰی الْوَسَوَسَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہے کہ ان کے بارے میں کلام کرنے کی بہ نسبت یہ چیز مجھے زیادہ پسند لگتی ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس شیطان کے مکر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے۔
Takhreej
(۸۹۰۳) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
8903
Sahih
۔ (۸۹۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُجُوِّزَ لِاُمَّتِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِاُمَّتِیْ) عَمَّا حَدَّثَتْ فِیْ اَنْفُسِھَا اَوْ وَسْوَسَتْ بِہٖاَنْفُسُھَامَالَمْتَعْمَلْبِہٖاَوْتَکَلَّمْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان امور کو بخش دیا ہے کہ جن کا ان کو خیال آتا ہے یا وسوسہ پڑ جاتا ہے، لیکن اس وقت تک جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا ان کے بارے میں کلام نہ کرے۔
Takhreej
(۸۹۰۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۵۲۸، ۶۶۶۴، ومسلم: ۱۲۷ (انظر: ۷۴۷۰)
Explanation
فوائد:… اَلْوَسْوَسَۃ: لغوی معنی: محسوس نہ ہونے والی حرکت یا پوشیدہ آواز، جیسے زیور وغیرہ کی ہلکی جھنکار۔ اصطلاحي تعریف: شیطان کا انسان کو ورغلانے، بہکانے اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر ابھارنے کا نام ہے، یعنی وسوسہ شیطان کی طرف سے انسان کے دل میں خدا کی طرف سے اسے دی گئی قدرت کے تحت پیدا کردہ شرّ اور معصیت کا خیال و ارادہ ہے، جو شیطان کی مسلسل جدو جہد کے باعث صرف ارادہ ہی نہیں رہتا ، قصد ِ محکم اور عزیمت ِ جازمہ بن جاتا ہے، اس لیے تمام معصیتوں اور گناہوں کی جڑ یہی وسوسہ ہے،جس سے سورۂ ناس میںپناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ وسوسہ اس وقت تک معاف ہے، جب تک یہ محض خیال کی شکل میں رہے ۔ ان احادیث ِ مبارکہ کا تعلق حدیث نمبر (۸۹۰۰)میںبیان کیے گئے پہلے مرتبے سے ہے، ایسا خیال کفر اور دوسرے کبیرہ گناہوں سے متعلق بھی ہو سکتاہے۔
8904
Sahih