مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان

۔ (۹۰۰۹)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ، اَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِیَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ اَنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُّدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ وَالِدَیْکَ مِنْ اَحَدٍ حَيٌّ؟)) قَالَ لَہُ: مَرَّاتٍ۔ قَالَ: لا، قَالَ: ((فَاسْقِ الْمَائَ۔)) قَالَ: کَیْفَ اَسْقِیْہِ ؟ قَالَ: ((اِکفِھِمْ آلَتَہُ اِِذَا حَضَرُوْہُ وَاحْمِلْہُ اِلَیْھِمْ اِذَا غَابُوْا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۲)

۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔

۔ (۹۰۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ اُمِّیْ، (وَفِیْ لَفْظٍ: اَتَتْنِیْ اُمِّیْ) وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ، فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ اِذْ عَاھَدُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَفْتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُمِّیْ قَدِمَتْ وَھِیَ رَاغِبَۃٌ، اَفَاَصِلُھَا ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ صِلِیْ اُمَّکِ۔))(مسند احمد: ۲۷۴۵۴)

۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میری ماں میرے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک تھی،یہ اس وقت کی بات ہے، جب قریشیوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آئی ہے، اسے مجھ سے کچھ تعاون کی رغبت تھی، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔

۔ (۹۰۱۱)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَیَّ اُمِیِّ فِیْ مُدَّۃِ قُرَیْشٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ عَہْدِ قُرَیْشٍ وَمُدَّتِھِمُ الَّتِیْ کَانَتْ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مُشْرِکَۃً وَھِیَ رَاغِبَۃٌیَعْنِیْ مُحْتَاجَۃً، فَسَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمِّیْ قَدِمَتْ عَلَیَّ وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ رَاغِبَۃٌ اَفَاَصِلُھَا؟ قَالَ: ((صِلِیْ اُمَّکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۷۸)

۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔

۔ (۹۰۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا مَرَّ عَلَیْہِ وَھُمْ فِیْ طَرِیْقِ الْحَجِّ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ: اَلَسْتَ فُلانَ بْنَ فُلانٍ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَانْطَلَقَ اِلٰی حِمَارٍ کَانَ یَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ اِذَا مَلَّ رَاحِلَتَہُ، وَعِمَامَۃٍ کَانَ یَشُدُّ بِھَا رَاْسَہُ، فَدَفَعَھَا اِلٰی الْاَعْرَابِیِّ، فَلَمَّا انْطَلَقَ قَالَ لَہُ بَعْضُنَا: انْطَلَقْتَ اِلٰی حِمَارِکَ الَّذِیْ کُنْتَ تَسْتَرِیْحُ عَلَیْہِ، وَعِمَامَتِکَ الَّتِیْ کُنْتَ تَشُدُّ بِھَا رَاْسَکَ، فَاعْطَیْتَھُمَا ھٰذَا الْاَعْرَابِیَّ، وَاِنَّمَا کَانَ یَرْضٰی بِدِرْھَمٍ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَبَرَّ الْبِرِّ صِلَۃُ الْمَرْئِ اَھْلَ وُدِّ اَبِیْہِ بَعْدَ اَنْ یُوَلِّیَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۵۳)

۔ عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ ایک بدّو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرا اور ہم لوگ حج کے راستے میں تھے، انھوں نے اس بدّو سے کہا: کیا تم فلاں بن فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس گدھے کی طرف گئے، جس پر اونٹ کی سوار سے تھک جانے کے بعد کچھ راحت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، اور وہ پگڑی لی، جس سے اپنا سر باندھتے تھے، پھر یہ دونوں چیزیں بدّو کو دے دیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو ہم میں سے بعض افراد نے سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ اپنے گدھے پر آرام کرتے تھے اور پگڑی سے سر کو باندھ لیتے تھے، لیکن اب آپ نے یہ دونوں چیز اس بدو کو دے دیہیں، اس نے تو ایک درہم پر راضی ہو جاتا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بے شک سب سے بڑی نیکییہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کی محبت والے لوگوں سے صلہ رحمی کی جائے۔

۔ (۹۰۱۳)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ اَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدَیْکَ، اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَاِنَّ اَمْوَالَ اَوْلادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘

۔ (۹۰۱۴)۔ (عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوْلادَکُمْ مِنْ اَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ اَوْلادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔