TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Book 154 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 154 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 167 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

167 Hadith · 19 Chapters
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
۔ (۸۹۸۵)۔ عَنْ وَابِصَۃَیَعْنِی ابْنَ مَعْبَدٍ الْاَسَدِیَّ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ لا اَدَعَ شَیْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ اِلَّا سَاَلْتُہُ عَنْہُ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَیَسْتَفْتُوْنَہُ، فَجَعَلْتُ اَتَخَطَّاھُمْ، فَقَالُوْا: اِلَیْکَیَا وَابِصَۃُ! عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: دَعْوْنِیْ فَاَدْنُوَ مِنْہُ فَاِنَّہُ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ اَنْ اَدْنُوَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((دَعُوْا وَابِصَۃَ، اُدْنُ یَا وَابِصَۃُ!)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا۔ قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی قَعَدْتُّ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: ((یَا وَابِصَۃُ! اُخْبِرُکَ اَوْ تَسْاَلُنِیْ؟ )) قُلْتُ: لا بَلْ اَخْبِرْنِیْ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُنِیْ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَجَمَعَ اَنَامِلَہُ فَجَعَلَ یَنْکُتُ بِھِنِّ فِیْ صَدْرِیْ وَیَقُوْلُ: ((یَا وَابِصَۃُ! اسْتَفْتِ قَلْبَکَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَکَ۔ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ۔ اَلْبِرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِی الصَّدْرِ، وَاِنْ اَفْتَاکَ النَّاسُ وَاَفْتَوْکَ۔))(مسند احمد: ۱۸۱۶۹)
۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔
Takhreej
(۸۹۸۵) تخریج:اسنادہ ضعیف من اجل الزبیر ابی عبد السلام، ثم ھو منقطع بینہ و بین ایوب، أخرجہ الدارمی: ۲۵۳۳، وابویعلی: ۱۵۸۶(انظر: ۱۸۰۰۶)
8985
Zaeef
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
۔ (۸۹۸۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟)) فَقُلْتُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَاجِئْتُ اَسْاَلُکَ عَنْ غَیْرِہِ، فَقَالَ: ((الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَہُ صَدْرُکَ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ، وَاِنِْ اَفَتَاکَ عَنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۶۲)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔
Takhreej
(۸۹۸۶) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب کسی کام کے بارے میں انشراح صدر نہ ہو، بلکہ شک وشبہ سا پیدا ہو رہا ہو اور اس کے گناہ ہونے کا وہم پڑ رہا ہو تو اس کو ترک کر دینا چاہیے۔
8986
Zaeef
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
۔ (۸۹۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِمَا یَحِلُّ لِیْ وَیُحَرَّمُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَصَعَّدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَوَّبَ فِی النَّظْرِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِرُّ مَاسَکَنَتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَاطْمَاَنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَالْاِثْمُ مَالَمْ تَسْکُنْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَلَمْ یَطْمَئِنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَاِنْ اَفْتَاکَ الْمُفْتُوْنَ۔)) وَقَالَ: ((لاتَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْاَھْلِیِّ وَلا ذَا نَابٍ مِّنَ السِّبَاعِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۹۴)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔
Takhreej
(۸۹۸۷) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۵۸۵ (انظر: ۱۷۷۴۲)
Explanation
فوائد:… مطلع ہونے والے لوگوں سے مراد معاشرے کے وہ باوقار اور فاضل لوگ ہیں، جن سے شرم محسوس کی جاتی ہے۔ بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔ ان احادیث ِ مبارکہ میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہییا اتنا شعور یا اتنا ذوق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکییا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ علامہ عبیداللہ مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں،یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے۔ ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوییا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا ہے اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق پڑھے لکھے لوگوں نے کہا کہ وہ تو کوئی فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیکیا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اسی خصلت میں پنہاں نہیں ہے۔ عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کو سمجھیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تقاضے پورے کریں۔
8987
Sahih
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
۔ (۸۹۸۸)۔ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟ فَقَالَ: ((اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ النَّاسُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۸۳)
۔ سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔
Takhreej
(۸۹۸۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۲۳۸۹ (انظر: ۱۷۶۳۳)
8988
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمْرِہِ، وَاَنْ یُزَادَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، فَلْیَبَرَّ وَالِدَیْہِ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمییہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔
Takhreej
(۸۹۸۹) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۳۴۰۱)
Explanation
فوائد:… عمر بڑھنے سے مراد برکت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۴۹)
8989
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا یَجْزِیْ وَلَدٌ وَالِدَہُ، اِلَّا اَنْ یَجِدَہُ مَمْلُوْکًا، فَیَشْتَرِیَہُ فَیُعْتِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
Takhreej
(۸۹۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۱۰(انظر: ۷۵۷۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اس اعتبار سے غلام بھی میت کی طرح ہوتا ہے کہ اس کو تصرف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اس لیے اس کی آزادی اس کی زندگی کی طرح ہے، پس جس آدمی نے اپنے باپ کو آزاد کیا، تو گویا اس نے اپنے باپ کو زندہ کر دیا، جیسے اس کا باپ اس کی زندگی کا سبب بنا تھا، گویا اس نے باپ کے احسان کا جواب دے دیا۔
8990
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْصَاہُ بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ (مِنْھَا) ((وَلا تَعُقَّنَّ وَالِدَیْکَ وَاِنْ اَمَرَاکَ اَنْ تَخْرُجَ مِنْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیتیہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔
Takhreej
(۸۹۹۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر لم یدرک معاذا، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۳۷۱، ۴۰۳۴(انظر: ۲۲۰۷۵)
8991
Zaeef
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: جِئْتُ لِاُبَایِعُکَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی عَلَی الْھِجْرَۃِ) وَتَرَکْتُ اَبَوَیَّیَبْکِیَانِ، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِلَیْھِمَا، فَاَضْحِکْہُمَا کَمَا اَبْکَیْتَھُمَا۔)) وَاَبٰی اَنْ یُبَایِعَہُ۔ (مسند احمد: ۶۸۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔
Takhreej
(۸۹۹۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر لم یدرک معاذا، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۳۷۱، ۴۰۳۴(انظر: ۲۲۰۷۵)
8992
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِذْ اَقْبَلَ رَجُلٌ مِّنْ ھٰذَا الشِّعْبِ، فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ اَرَدْتُّ الْجِھَادَ مَعَکَ اَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ اَبْوَیْکَ اَحَدٌ حَيٌّ ؟)) قَالَ: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کِلَاھُمَا، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِبْرَرْ اَبَوَیْکَ۔)) قَالَ: فَوَلّٰی رَاجِعًا مِّنْ حَیْثُ جَائَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔
Takhreej
(۸۹۹۳) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۴۹ (انظر: ۶۵۲۵)
Explanation
فوائد:… جہاد اہم فریضۂ اسلام اور بڑا مشکل عمل ہے، لیکن جہاد کی رغبت رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ پہلے امیر کو اپنے گھر والوں کی صورتحال سے آگاہ کرے۔
8993
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَریْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلاً جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَأْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ؟ فَقَالَ: ((أَحَیٌّ وَالِدَاکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۴)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔
Takhreej
(۸۹۹۴) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے اور دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور یہ سند بھی اہل علم کے ہاں ضعیف ہوتی ہے۔ ہاں بعض میں ابن لہیعہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ روایت صحیحیا حسن ہے تو مذکورہ وجہ ضعف کا انجبار ہونا چاہیے ورنہ اسے صحیحیا حسن کہنا ٹھیک نہیں۔(عبداللہ رفیق)
8994
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ھَاجَرَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَجَرْتَ الشِّرْکَ، وَلٰکِنَّہُ الْجِھَادُ، ھَلْ بِالْیَمَنِ اَبَوَاکَ ؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَذِنَا لَکَ؟۔)) قَالَ: لا، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ اِلٰی اَبَوَیْکَ فَاسْتَاْذِنْھُمَا فَاِنْ فَعَلا وَ اِلَّا فَبَرَّھُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔
Takhreej
(۸۹۹۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۲۵۳۰ (انظر: ۱۱۷۲۱)
8995
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاھِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَدْتُّ الْغَزْوَ وَجِئْتُکَ اَسْتَشِیْرُکَ ؟ فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((الْزَمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّۃَعِنْدَ رِجْلِھَا۔)) ثُمَّ الثَّانِیَۃَ، ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِیْ مَقَاعِدَ شَتّٰی کَمِثْلِ ھٰذَا الْقُوْلِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۳)
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤںکے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔
Takhreej
(۸۹۹۶) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۱، وابن ماجہ: ۲۷۸۱(انظر: ۱۵۵۳۸)
Explanation
فوائد:… اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی خدمت کرنے میں اس کے پاؤں کے نیچے روندی جانے والی مٹی بن جا، یعنی ماں کی جائز خواہش کو دوسری مخلوقات کی خواہشات سے مقدم سمجھ کر پہلے اس کو پورا کیا جائے۔
8996
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ ؟ قَالَ: ((اَلصَّـلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ بِھِنِّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
Takhreej
(۸۹۹۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۲۷، ۵۹۷۰، ومسلم: ۸۵ (انظر: ۳۸۹۰)
8997
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلاھُمَا عِنْدَہُ الْکِبْرُ لَمْ یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِیْ لَفْظٍ) فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔
Takhreej
(۸۹۹۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۲۷، ۵۹۷۰، ومسلم: ۸۵ (انظر: ۳۸۹۰)
Explanation
فوائد:… یہ بڑی محرومی ہے کہ آدمی اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے۔
8998
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۹۹)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَھُمَا، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ َبعْدِ ذٰلِکَ فاَبْعَدَہُ اللّٰہُ وَاَسْحَقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۳۶)
۔ سیدناابی بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔
Takhreej
(۸۹۹۹) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۳۲۱، والطبرانی فی الکبیر : ۵۴۴(انظر: ۱۹۰۲۷)
8999
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۰)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِاُمَّھَاتِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِآبائِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فَالْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۹)
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۰۰۰) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۶۱ (انظر: ۱۷۱۸۷)
9000
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۱)۔ عَنْ خِدَاشِ بْنِ سَلَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِمَوْلاہُ الَّذِیْ یَلِیْہِ، وَاِنْ کَانَتْ عَلَیْہِ فِیْہِ اَذَاۃٌ تُؤْذِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۹۷)
۔ سیدنا خداش بن سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔
Takhreej
(۹۰۰۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عبید بن علی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۵۷(انظر: ۱۸۷۹۰)
9001
Zaeef
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حِیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ اَبَرُّ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ((ثُمَّ اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُّمَّ اَبَاکَ، ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْرَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۱)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنیماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔
Takhreej
(۹۰۰۲) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۱۳۹، والترمذی: ۱۸۹۷(انظر: ۲۰۰۲۸)
Explanation
فوائد:… اگرچہ باپ پورے کنبے کا کفیل ہوتا ہے، محنت مزدوری کر کے اپنے بیوی بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے، لیکن بچے کے سلسلے میں جو شفقت بھری خدمات ماں کو سر انجام دینا پڑتی ہیں، وہ کسی کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہیں۔ نوماہ تک حمل کی صعوبتیں،ولادت کے کٹھن مراحل، بچے کو اپنی چھاتی سے خوراک مہیا کرنا، دن رات اس نگہداشت اور صفائی ستھرائی کے حقوق ادا کرنا ، اس کی تکلیف پر بے چین ہو جانا اور بچے کی ہر قسم کی تکلیف کو رفع کرنے میں اپنا سکون سمجھنا، جبکہ ہر مرحلے میں ماں شفقت کرتی ہے، بوجھ نہیں سمجھتی، اللہ اکبر۔ اگر رات کی گہری نیند والی گھڑیوں میں بچہ کسی چیز کا مطالبہ کر دے تو جو ہستی بچے کے مطالبے کو پورا کرنے میں اپنا سکون سمجھے گی، اسی کو ماں کہتے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
9002
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ اِلَّا قَوْلَہ: ((ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْربَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔
Takhreej
(۹۰۰۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۹۷۱، ومسلم: ۲۵۴۸(انظر: ۸۳۴۴)
9003
Sahih
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۰۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُسَیْدٍ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ بَدْرِیًا وَکَانَ مَوْلَاھُمْ، قَالَ اَبُوْ اُسَیْدٍ: بَیْنَمَا اَنَا جَالِسٌ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہ! ھَلْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْ بِرِّ اَبَوَیَّ شَیْئٌ بَعْدَ مَوْتِھِمَا اَبَرُّھُمَا بِہٖ؟قَالَ: ((نَعَمْخِصَالٌاَرْبَعَۃٌ، اَلصَّلاۃُ عَلَیْھُمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَھُمَا، وَاِنْفَاذُ عَھْدِھِمَا، وَاِکْرَامُ صَدِیْقِھِمَا، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ الَّتِیْ لا رَحِمَ لَکَ اِلاَّ مِنْ قِبَلِھِمَا، فَھُوَ الَّذِیْ بَقِیَ عَلَیْکَ مِنْ بِرِّھِمَا بَعْدَ مَوْتِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۶)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔
Takhreej
(۹۰۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال علی بن عبید، أخرجہ ابوداود: ۵۱۴۲، وابن ماجہ: ۳۶۶۴ (انظر: ۱۶۰۵۹)
Explanation
فوائد:… وعدوں کو نبھانے سے مراد یہ ہے کہ اگر والدین نے کسی سے مدد کرنے یا کوئی اور نیکی کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو اس کونبھانا چاہیے۔
9004
Zaeef

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.