۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے آپ کو کھلائے گا، وہ تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی اولاد کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا اور جو تو اپنے خادم کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی ہے اور پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کو اس کی آزادی کی بارے میں بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو اس میں تیرے لیے زیادہ اجر ہوتا۔
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان میں سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ ، رسول اللہ کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میری عمر بڑی ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور مشقت بھی کافی کر لی ہے، اس لیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق اناج کا حکم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، وہ میری گزران کا ذریعہ تھی، لیکن پھر آپ نے واپس لے لی ہے، اگر آپ مناسبت سمجھتے ہیں تو دوبارہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کریں گے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جس کا اللہ تعالیٰ نے خُمُس کی صورت میں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، میں اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کروں گا، تاکہ آپ کے بعد کوئی آدمی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کوتقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا، میں نے ان کی زندگی میں بھی اس کو تقسیم کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا اور میں نے ان کی زندگی میں اس کو تقسیم کیا،یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا اور ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔