۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کے بارے میں اتنا علم تو حاصل کر لو کہ جس کے ذریعے آپس میں صلہ رحمی اختیار کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں برکت ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والے تم پر رحم کریں گے، رحم (رشتہ داری) رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو ملاتا ہے، میں اس کو ملاتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا ہے، میں اس کو کاٹ دیتا ہوں ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں یہ عمل کر رہا ہو (اصل اور کامل درجے میں)، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کٹ رہا ہو تو وہ اس کو جوڑ رہا ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف ایک مدد گار ہو گا۔
۔ سیدہ دُرّہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرتھے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہترہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، سب سے زیادہ تقوی والے، سب سے زیادہنیکی کا حکم دینے والے، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رشتہ دار پر جو دل میں عداوت چھپانے والا ہو۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔